University Book Point

University Book Point PUBLISHER BOOKSELLER EXPOSRTER & Stationer

نبیل نود، کتابوں کا دوست، علم کا مسافرنبیل نود، بلوچستان کے ساحلی شہر اور سی پیک کے جھومر کا رہائشی، ایک ایسا نوجوان تھا...
09/04/2025

نبیل نود، کتابوں کا دوست، علم کا مسافر

نبیل نود، بلوچستان کے ساحلی شہر اور سی پیک کے جھومر کا رہائشی، ایک ایسا نوجوان تھا جس کی دنیا صرف کتابوں کے گرد گھومتی تھی۔ علم سے اس کی محبت مثالی تھی۔ وہ جامعہ جانے سے قبل "یونیورسٹی بک پوائنٹ" آتا، اور چھٹی کے وقت پھر سے کتابوں کی تلاش میں یہی رخ کرتا۔ وہ اکثر کہا کرتا،کاش ہمارے شہر میں بھی ایسا کتابوں کا مرکز ہوتا، تو ہمیں کبھی کسی چیز کی کمی نہ محسوس ہوتی۔

افسوس، علم و شعور کے اس مسافر کو 24 مارچ کو لاپتہ کر دیا گیا، اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں۔ دل دعاگو ہے کہ نبیل جلد بحفاظت اپنے گھر لوٹے، اور ایک بار پھر کتابوں کے درمیان دکھائی دے، جہاں اس کا دل بستا تھا۔

اللہ کرے کہ نبیل کا یہ غائب ہونا عارضی ہو، اور وہ اپنے خوابوں، کتابوں اور عزیزوں میں واپس آ جائے۔

09/04/2025

#کوئٹہ یونیورسٹی بک پوائنٹ،قارئین کے لیے علم کا خزانہ!

کویٹہ یونیورسٹی میں واقع "بک پوائنٹ" شہر کا واحد بک شاپ ہے جہاں اردو، بلوچی اور انگریزی ادب کے وسیع ذخیرے کے ساتھ ساتھ میڈیکل، اسلامی اور تاریخی کتب بھی دستیاب ہیں۔ قارئین کی سہولت کے لیے کتابوں پر خصوصی ڈسکاؤنٹ بھی موجود ہے۔ اب گھر بیٹھے اپنی پسندیدہ کتاب کا آرڈر کریں! رابطہ نمبر اور واٹس ایپ: 03368813838۔

#کویٹہ #یونیورسٹی #اردو #بلوچی #انگلش #کتابیں #ڈسکاؤنٹ #میڈیکل #اسلامی #تاریخی

ڈاکٹر مبارک علی کی نئے کتابیں ، اپنی من پسند کتابوں کے لیے ابھی رابطہ کریں 03368813838
09/04/2025

ڈاکٹر مبارک علی کی نئے کتابیں ، اپنی من پسند کتابوں کے لیے ابھی رابطہ کریں
03368813838

"بلوچستان کا مسئلہ" بلوچ قوم پرستی کا ایک جائزہ، اپنے موضوع پر ایک بھرپور کتاب ہے ۔ بلوچ قوم اس خطے کی تاریخ، تہذیب ، تم...
09/04/2025

"بلوچستان کا مسئلہ" بلوچ قوم پرستی کا ایک جائزہ، اپنے موضوع پر ایک بھرپور کتاب ہے ۔
بلوچ قوم اس خطے کی تاریخ، تہذیب ، تمدن ، زبان اور سیاسی تاریخ سے لبریز ہے ۔
آج کے بلوچستان کو سمجھنے میں نہایت مدد گار اور اُن حقائق کو بے نقاب کرتی ہے جو تمام لوگوں سے مخفی ہیں ۔ یہ کتاب اپنے موضوع کے حوالے سے اہم کتاب ہے ۔ یہ مصنف عنایت اللہ بلوچ کی تحقیق کا نچوڑ ہے ۔ آج کے معروضی حالات کے حقیقی پس منظر کو سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔ ابھی فون کیجیے ۔
صفحات 340، قیمت 1400،
WhatsApp 03368813838

09/04/2025

اپنی کتاب کبھی ادھار نہ دیں۔ کیوں کہ کوئی واپس نہیں کرتا۔ خود میری لائبریری میں صرف وہی کتابیں باقی ہیں جو لوگوں نے مجھے ادھار دی تھیں.

اناطول فرانس

مقبول ناصر اور "کسیپّ" – بلوچی افسانوی ادب کا درخشاں باببلوچی زبان و ادب میں جتنے بھی درخشاں اور نمایاں کام ہوئے ہیں، ان...
01/03/2025

مقبول ناصر اور "کسیپّ" – بلوچی افسانوی ادب کا درخشاں باب

بلوچی زبان و ادب میں جتنے بھی درخشاں اور نمایاں کام ہوئے ہیں، ان میں مقبول ناصر کی کاوشوں کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ان کی پہلی افسانوی کتاب "مقبول ناصر کسیپّ" کی اشاعت بلوچی ادب کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ مقبول ناصر نہ صرف ایک باصلاحیت کہانی نویس (کسہ کار) ہیں بلکہ ایک فعال صحافی بھی ہیں۔ ان کی تحریریں گہرے مشاہدے اور وسیع تجربے کی عکاس ہوتی ہیں، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

یہ کتاب صرف ایک افسانوی مجموعہ نہیں بلکہ مقبول ناصر کے فنی و فکری سفر کی وضاحت بھی کرتی ہے۔ اس میں کہانی اور کہانی نویس کو ایک ہی سطح پر رکھا گیا ہے، جہاں "مقبول ناصر" خود کہانی لکھنے والے بھی ہیں اور "کسیپّ" ایک ایسا کردار ہے جو کہانی کے اندر اپنی شناخت بناتا ہے۔ یہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ وہ کہانی کو ایک زندہ تجربہ سمجھتے ہیں اور اس میں حقیقت کے رنگ بھرتے ہیں۔

ادبی حلقوں میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ افسانہ نگار نوجوانوں کے جذبات و احساسات کے ترجمان ہوتے ہیں۔ اگر بلوچی زبان میں دیکھا جائے تو اس روایت کو اے آر داد، ڈاکٹر حنیف شریف، مقبول ناصر، اور ڈاکٹر ناگمان نے برقرار رکھا ہے۔ مقبول ناصر کا نام اس فہرست میں شامل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک ایسے لکھاری ہیں جو اپنی تحریر کے ذریعے سماجی و معاشرتی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔

ان کی تحریروں میں گہری فکری سوچ، مشاہداتی قوت، اور تجزیاتی انداز نمایاں ہیں۔ وہ نہ صرف مسائل کی جڑوں تک پہنچتے ہیں بلکہ یہ بھی دکھاتے ہیں کہ وہ کیسے پیدا ہوتے ہیں، کیسے پروان چڑھتے ہیں، اور پھر کیسے حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہی عنصر ان کی تحریروں کو دیگر افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتا ہے۔

کتاب کے عنوان "مقبول ناصر کسیپّ" پر غور کیا جائے تو اس میں "کسیپّ" کا اضافہ کسی عام کردار کا نام نہیں بلکہ ایک گہری علامت ہے۔ بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ "کسیپّ" بلوچی ثقافت، دیومالائی روایات اور معاشرتی اقدار کے امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ وہ کردار ہے جو کہانی کو ایک نیا زاویہ دیتا ہے اور قاری کو ایک منفرد فکری سفر پر لے جاتا ہے۔

مشہور بلوچی افسانہ نگار ڈاکٹر حنیف شریف نے اس کتاب کے حوالے سے کہا ہے کہ:
"مقبول ناصر کوڈ ورڈز استعمال کرتا ہے، جنہیں سمجھنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا۔"

یہی وہ فنی مہارت ہے جو مقبول ناصر کو جدید بلوچی افسانہ نگاری میں ایک نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔

یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ "مقبول ناصر کسیپّ" کی اشاعت سے پہلے ہی اس پر تبصرے شروع ہو چکے تھے۔ بہت سے قارئین اور ناقدین اس کے مفہوم، اندازِ تحریر، اور فکری گہرائی پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مقبول ناصر کی کتاب کو ایک سنجیدہ ادبی کام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور لوگ اس کے موضوعات، علامات اور زبان پر غور و فکر کر رہے ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مقبول ناصر کی زیادہ تر زندگی کتابوں میں گزرتی ہے۔ وہ ایک سنجیدہ، سلجھا ہوا، اور فکری نوجوان ہیں، جو ادب سے بے حد لگاؤ رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں سطحی نہیں بلکہ سماجی، سیاسی اور نفسیاتی مسائل کو گہرائی میں جا کر بیان کرتی ہیں۔

ان کی کتاب میں مختلف سماجی اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے، جن میں انسانی نفسیات، سماجی ناہمواری، اور زندگی کے پیچیدہ فلسفے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں ادبی لطافت کے ساتھ ساتھ فکری گہرائی بھی نظر آتی ہے۔

"مقبول ناصر کسیپّ" محض ایک کتاب نہیں بلکہ بلوچی ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف کہانی اور کہانی نویس کے رشتے کو ایک نیا مفہوم دیتی ہے، بلکہ بلوچی افسانہ نگاری کو بھی ایک نئے زاویے سے متعارف کراتی ہے۔

مقبول ناصر کی تحریریں سماجی حقیقت پسندی، فکری گہرائی، اور جدید اسلوب کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کی تحقیقی نگاہ، منفرد طرزِ بیان، اور الفاظ کے چناؤ کی مہارت انہیں بلوچی ادب کے نمایاں افسانہ نگاروں میں شمار کراتی ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ "مقبول ناصر کسیپّ" کی اشاعت بلوچی افسانوی ادب میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، اور آنے والے وقتوں میں اس کی اہمیت مزید بڑھتی جائے گی۔




#کسیپّ






"بلوچستان اکیڈمی کی شائع کردہ کتابیں جلد یونیورسٹی بک پوائنٹ پر دستیاب ہوں گی! 📚✨ آپ بھی کتابیں پڑھیں اور اپنے دوستوں کو...
01/03/2025

"بلوچستان اکیڈمی کی شائع کردہ کتابیں جلد یونیورسٹی بک پوائنٹ پر دستیاب ہوں گی! 📚✨ آپ بھی کتابیں پڑھیں اور اپنے دوستوں کو تحفہ دیں۔ علم کی روشنی پھیلائیں اور دوسروں کو بھی علم کا تحفہ دیں۔

#کتابیں #علم #بلوچستاناکیڈمی "

بلوچی زبان و ادب کی ترقی میں فضل بلوچ کا کرداربلوچی زبان و ادب کے فروغ میں ہمیشہ سے چند ادارے اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں...
27/02/2025

بلوچی زبان و ادب کی ترقی میں فضل بلوچ کا کردار

بلوچی زبان و ادب کے فروغ میں ہمیشہ سے چند ادارے اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں، جن میں اور جیسے ادارے نمایاں ہیں۔ یہ ادارے بلوچی زبان کی ترقی اور ترویج کے لیے سرگرم ہیں، اور ان کے ذریعے کئی ادبی کاموں کی تخلیق اور ترجمہ کیا گیا ہے۔ ان اداروں کا مقصد نہ صرف زبان کی ترقی کو یقینی بنانا تھا بلکہ بلوچی ادب کو دوسرے زبانوں میں بھی متعارف کرانا تھا تاکہ اس کا پیغام دیگر علاقوں تک پہنچ سکے۔

آج بھی، یہ دو ادارے بلوچی زبان کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں، اور ان کی کوششوں کا شمار کیا جاتا ہے۔ ان اداروں کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے بہت سے بلوچی زبان کے اہم شاعروں، ادیبوں اور افسانہ نگاروں کے کاموں کو دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔

اسی تسلسل میں، نے بلوچستان کے معروف شاعر، ادیب محروم مبارک قاضی کی کتاب کا ترجمہ #فضل بلوچ کی مدد سے کیا ہے۔ یہ ترجمہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے محروم مبارک قاضی کے تخلیقی کام کو دیگر زبانوں میں پڑھنے والوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

فضل بلوچ، جو خود ایک صاحبِ قلم اور اہم ترجمہ نگار ہیں،انہوں نے بلوچی زبان سے جتنے بھی اہم اشعار، افسانے اور ناول ترجمہ کیے ہیں، ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ بلوچی ادب کی قدر و قیمت کو دیگر زبانوں تک پہنچایا جائے۔ ان کا مقصد نہ صرف بلوچی ادب کو محفوظ کرنا ہے بلکہ اس کی روح اور تخلیق کو ایک عالمی سطح پر تسلیم کرانا بھی ہے۔

اس کتاب کا ترجمہ کی محنت کا عکاس ہے، جس کے ذریعے بلوچی ادب کی جمالیات اور معاشرتی پیغام کو عالمی سطح پر پہنچایا جا رہا ہے۔ اس ترجمے کے ذریعے نہ صرف بلوچی ادب کو ایک نیا منظر نامہ ملے گا، بلکہ دیگر زبانوں کے قارئین بھی اس ادب کے لذت سے آگاہ ہو سکیں گے۔

فضل بلوچ کی کاوشوں کے ذریعے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بلوچی ادب نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت کو تسلیم کرایا ہے۔ ان کی محنت اور لگن کا یہ عمل ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں بلوچی زبان اور ادب کو اپنی اصل شکل میں محفوظ اور عالمی سطح پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔
یہ کتاب آن لائن میں دستیاب ہے قیمت صرف 500 روپے

@

یونیورسٹی بک پوائنٹ میں نئی کتابیں دستیاب ہیں ، گھر بیٹھیں اور اپنے من پسند کتابیں منگوائیں ، 03368813838
22/02/2025

یونیورسٹی بک پوائنٹ میں نئی کتابیں دستیاب ہیں ، گھر بیٹھیں اور اپنے من پسند کتابیں منگوائیں ،
03368813838

مظہر الاسلام کا نیا ناول، کتاب کی بکنگ کے لیے رابطہ کریں 03368813838
17/01/2025

مظہر الاسلام کا نیا ناول، کتاب کی بکنگ کے لیے رابطہ کریں
03368813838

شمارا اے کتاب آن لائن ء دست کپیت ، بس لھتیں کاپی پشکپتگ اگاں کسے اے کتاب ء زورگ ء جب و واھگ داریت گڈا نزدیکی بکنت ، ،
07/01/2025

شمارا اے کتاب آن لائن ء دست کپیت ، بس لھتیں کاپی پشکپتگ اگاں کسے اے کتاب ء زورگ ء جب و واھگ داریت گڈا نزدیکی بکنت ، ،

02/01/2025

کتابوں کی دکانیں،زوال کی داستان اور نئی راہیں

کتابیں علم و شعور کی بنیاد ہیں، لیکن کوئٹہ جیسے شہروں میں کتابوں کی دکانوں کی کم ہوتی تعداد ایک فکر انگیز حقیقت بن چکی ہے۔ جہاں کبھی یہ دکانیں علم کا خزانہ ہوتی تھیں، اب ان کا وجود ختم ہوتا جا رہا ہے۔
اس زوال کی بڑی وجہ کتابوں کی اشاعت کی بدلتی روایت ہے۔ پہلے اشاعتی ادارے اور دکاندار کتابوں کے بیچنے اور خریدنے کا مشترکہ ذریعہ تھے، لیکن اب ۔۔۔۔ کتابوں کی شائع کرنے لگے ہیں۔ یہ عمل بظاہر آزادی کا عکاس ہے، لیکن اس سے کتب فروشی کی صنعت پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔

جب کتابوں کی اشاعت اور فروخت ایک جیسے ہاتھوں میں ہوگی، تو دکانوں کا دائرہ کم ہوتا جائے گا۔ نتیجتاً، نئی کتابیں پڑھنے والے مزید محروم رہیں گے اور علم کی رسائی مشکل ہو جائے گی۔

صرف دکان دار اور اشاعتی اداروں سے علم ہے اس مہنگائی کے دور میں کس طرح کی اشاعت اور کتاب کی معیار اور کس قیمت پر کتابیں خریدیں گے تو۔۔۔۔

Address

University Book Point UoB Saryab Road
Quetta
87300

Opening Hours

Monday 08:00 - 20:40
Tuesday 08:00 - 20:40
Wednesday 08:00 - 20:40
Thursday 08:00 - 20:40
Friday 08:00 - 20:00
Saturday 02:00 - 17:00
Sunday 02:00 - 17:00

Telephone

+923108215377

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when University Book Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to University Book Point:

Share