Alpha Bravo Charlie

Alpha Bravo Charlie The Pakistan Armed Forces are the military forces of Pakistan. پاک آرمی زندہ باد 🪖🇵🇰⚔️

Story
As the name indicates, the drama is based on the life and times of the same three characters and their friendship - Alpha, Bravo, and Charlie who are known as Faraz, Kashif, and Gulsher respectively. These are three passionate young men who wish to start their careers in the Pakistan army. In the initial episodes, ample footage is used to detail the backgrounds of every individual and the ci

rcumstances under which they enroll for the armed forces. Faraz is the Mr Perfect guy who does everything right while Gulsher is a polite and a simple minded shy person. Kashif is the original funny man responsible for providing most of the humor through his antics, pranks and mischiefs. Eventually the series morphs into a coming of age story where the lead characters realize that there is more to life than their present happy-go-lucky lifestyle as they (through the course of series) experience the true face of life in all its fragility and extremities - jealousy, heartbreaks, traumas and death. Another important character is Shahnaaz, a confident, educated and well-mannered young lady, who plays an important role in the lives of these friends. Her involvement with them in the roles of friend, wife and confidante adds reality to the series that is poignant and touching on a personal level. The main theme of the drama is that every person should lead a goal based existence and that if one has the will and the passion, a person can achieve anything.

18/07/2026

13/06/2026

پاکستان نیوی کی نئی طاقتور ترین آبدوز پی این ایس ہنگور کا کراچی پہنچنے پر شاندار استقبال۔🔥⚡⚔️🇵🇰

30/05/2026

آپریشن بیدار 98
پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے پہلے پاکستانی ہوائی حدود کی مسلسل نگرانی کو آپریشن بیدار کا نام دیا گیا۔ جس میں چاروں جانب نگرانی کے لیے چار سیکٹرز تشکیل دئیے گئے جنہیں اسلام آباد پشاور سرگودھا کوئٹہ اور کراچی سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔
نمبر 6 سکواڈرن جو کہ سی 130 طیاروں سے لیس تھا جس کا کام سامان پہنچانا تھا اس نے اس مشن کے دوران 71 مختلف فلائٹس میں 12،66،615 پاؤنڈ سامان چاغی پہنچایا۔
نمبر 7 ٹیکٹیکل اٹیک سکواڈرن جو کہ میراج طیاروں سے لیس تھا اسے مسرور ائیر بیس کراچی سے شہباز ائیر بیس جیکب آباد بلوچستان منتقل کر دیا گیا تاکہ وہ چاغی کے ایریا میں چوبیس گھنٹے ائیر ڈیفنس ڈیوٹی دے سکے۔
نمبر 9 ملٹی رول سکواڈرن جو کہ ایف 16 طیاروں سے لیس تھا اسے سرگودھا سے ہٹا کر سمنگلی ائیر بیس کوئٹہ بھیج دیا گیا تاکہ بلوچستان کے ایریا کو کوور کیا جا سکے اور رات کو ان علاقوں میں پہرہ دیا جا سکے۔
نمبر 11 سکواڈرن جو کہ ایف 16 طیاروں سے لیس تھا اسے 24 مئی کو سرگودھا سے ہٹا کر جیکب آباد بلوچستان بھیج دیا گیا۔
نمبر 14 سکواڈرن کے ایف 7 طیاروں کو چکلالہ ائیر بیس بھیج کر کہوٹہ کے علاقے کی حفاظت کا مشن دیا گیا۔
نمبر 17 سکواڈرن کے ایف 6 طیاروں کو پاکستان کے بارڈرز کے ساتھ ساتھ ہوائی پہرے داری اور گشت لگانے کی ذمہ داری دی گئی۔
اسی کے ساتھ پاکستان ائیرفورس کے پاس موجود تمام ریڈار یونٹس کو اس طرح پھیلایا گیا کہ ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی دھماکوں کی ٹیسٹ سائٹ کے آس پاس ایک مکمل گھیرا بن گیا۔
اس سارے مشن کے دوران دالبندین ائیر پورٹ نے بہت شہرت حاصل کی جو کہ چاغی سائٹ سے صرف 30 کلو میٹر دور تھا اور تمام سامان اسی چھوٹے سے ائیرپورٹ پر اتارا جاتا تھا
پاکستان کا ایٹم بم مختلف حصوں کی شکل میں دو سی 130 طیاروں کے ذریعے دالبندین پہنچا تھا۔ ان سی 130 طیاروں کو پاکستانی حدود کے اندر بھی پاکستان کے ایف 16 طیاروں نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا جو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائیلوں سے لیس تھے جبکہ اس دوران پاکستان انڈیا بارڈر کے ساتھ ساتھ ایف 7 طیارے میزائیلوں سے لیس چوبیس گھنٹے گشت لگاتے رہے تھے تاکہ کوئی بھی بیرونی طیارہ ہماری حدود میں داخل نہ ہونے پائے۔
یہ مشن اس قدر سیکرٹ تھا کہ یہ تک سوچا گیا کہ اگر ایٹم بم لے جانے والا طیارہ اغوا ہو گیا تو کیا ہو گا۔ جس پر ایف 16 کے پائلٹوں کو ایک خفیہ آرڈر جاری کیا گیا کہ اگر ایٹم بم والا سی 130 ہائی جیک ہو جائے یا پاکستانی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرے تو بنا کچھ سوچے اسے ہوا میں ہی تباہ کر دیں۔ اور اس دوران ایف 16 طیاروں کے ریڈیو آف کروا دئیے گئے تاکہ مشن کے دوران انہیں کوئی بھی کسی بھی قسم کا حکم نہ دے سکے۔ پائلٹوں کو یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ ان کے آرڈرز فائنل ہیں۔ اگر مشن کے دوران انہیں ائیر چیف بھی آرڈرز بدلنے کا حکم دے تو اسے انکار کر دیں۔
جب 30 مئی 1998 کو پاکستان کے چھٹے ایٹمی دھماکے سے زمین کانپی تو آپریشن بیدار 98 بھی کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیئے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اہم کردار ادا کیا جہاں ایک طرف انہوں نے سارا سازوسامان سائیٹ تک پہنچایا وہیں سرحدوں کی نگرانی میں بھی ہمہ وقت ،صروف رہے۔
ایسے تمام لوگوں کو آج مل کر سلام کرتے ہیں جن کی بدولت آج ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔۔۔
اللّه پاک ان تمام گمنام سپاہیوں کو خیر و عافیت دیں جنہوں نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے میں اپنا حصہ ڈالا بیشک وہ دنیا کے خوش نصیب ترین لوگ ہیں. 🇵🇰🇵🇰🇵🇰

کچھ لوگ کہہ کر رہے ہیں کہ دھماکہ تو ہوگیا اب جوان اپر بندوک لے کر کیوں کھڑا ہے؟ 📍جب کہ ان حالات میں یہ جوان ڈائریکٹ خطرے...
25/05/2026

کچھ لوگ کہہ کر رہے ہیں کہ دھماکہ تو ہوگیا اب جوان اپر بندوک لے کر کیوں کھڑا ہے؟ 📍
جب کہ ان حالات میں یہ جوان ڈائریکٹ خطرے میں اونچائی پر کھڑا ہے۔
تو ان کو بتائیں کہ دہشت گردوں کا مقصد عوامی ہجوم کو نشانہ بنانا ہوتا ہے اور وہ بھی اس وقت جب کیمرے آن ہوں تو ان کے لئے یہ زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے
۱۔ پہلے ایک اٹیک کیا جائے پھر وہاں حجوم ہوگا اور کیمرے بھی آن ہوں گے تو دوبارہ ٹارگٹ کر کے ملک میں انتشار ، افراتفری اور غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی جائے۔
۲۔ اٹیک کے بعد وہاں فوج اجاتی ہے تو فوج کا ایک اپنا سکیورٹی سیسٹم ہوتا ہے ۔
۳۔یہ سنائپر ہے اور سنائپر فوری ایک جگہ کھڑا ہوکر قریبی پہاڑی اور انچی عمارتوں پر اپنی نظریں گھاڑ لیتا ہے کے وہاں تک زمینی فوج کو پہنچے سے پہلے ہی کنٹرول کیا جائے۔
اور بھی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ان کو بتا دوں اسے وقت میں جو فوج امن لانے کی کوسش کر رہی ہے، خوارجی کی بجائے اس فوج کے خلاف بیانہ بنانے کا ان کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا البتہ ان خوارجی جہنمیوں کے ساتھی ضرور قرار دیئے جائیں گے۔

ہم بھی ترے بیٹے ہیں ذرا دیکھ ہمیں بھی،اے خاک وطن تجھ سے شکایت نہیں کرتے! 🇵🇰شاعر: خورشید اکبروطن پر ایسی ہزاروں جانیں قرب...
25/05/2026

ہم بھی ترے بیٹے ہیں ذرا دیکھ ہمیں بھی،
اے خاک وطن تجھ سے شکایت نہیں کرتے! 🇵🇰
شاعر: خورشید اکبر
وطن پر ایسی ہزاروں جانیں قربان

23/05/2026

پاکستان آرمی کے زیر انتظام نامعلوم مقام پر ایئر ڈیفنس یونٹس کی مشقوں کی فوٹیج۔،🔥⚡🚀
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ"البيضا" نام سے مُنعقدہ مشکوں کے دوران پوائنٹ ایئر ڈیفنس اور شارٹ ٹو میڈیم ایئر ڈیفنس یونٹس جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے نظر آرہے ہیں،🔥⚡🚀

17/05/2026

یہ لیفٹنٹ حمزہ ہے
اس کی عمر 22 سال ہے
یہ پنجاب کا رہنے والا ہے
اسے دو گولیاں لگی ہیں، زخمی ہے، اس کے ارد گرد جو نرسنگ اسٹاف موجود ہے وہ پٹھان ہے.
اس کے ساتھ جو دیگر جوان زخمی ہوئے اس میں کشمیری، پٹھان اور بلوچ ہیں.
یہ اپنے ارد گرد موجود نرسنگ اسٹاف سے کہہ رہا یے یار تم جوانوں کو چھوڑ کر سب میرے ساتھ لگے ہو اور نرسنگ اسٹاف کہہ رہا ہے نہیں سر انہیں بھی دیکھ رہے ہیں
دوسری طرف ایک سندھی کپتان اور ایک پنجابی میجر ڈاکٹر جوانوں کے ساتھ ہیں اور حمزہ کو نرسنگ اسٹاف دیکھ رہا ہے.
پاکستان پر یہ جو جنگ اور شورش مسلط ہے
یہ کثیر جہتی ہے. کوئی اس کو Isolation میں دیکھے گا تو، پہلے دکھی ہوگا، پھر مضطرب ہوگا اور بالآخر بیانیہ سازی کے مخالف کیمپ کا حصہ بن جائے گا۔
جو راہ راست پر رہنا چاہتا ہے وہ اس جنگ کو سمجھے، ہمہ جہتی پیرائے میں.

Address

Rahimyar Khan
64200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alpha Bravo Charlie posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Alpha Bravo Charlie:

Shortcuts

Share