08/04/2023
کاش ہم کھل کے زندگی کرتے
عمر گزری ہے خودکشی کرتے
بجلیاں اس طرف نہیں آئیں
ورنہ ہم گھر میں روشنی کرتے
کون دشمن تری طرح کا تھا؟
اور ہم کس سے دوستی کرتے؟
بجھ گئے کتنے چاند سے چہرے
بدل کے صحرا میں چاندنی کرتے
عشق اجرت طلب نہ تھا ورنہ
ہم ترے در پہ نوکری کرتے
اس تمنا میں ہو گئے رسوا
ہم بھی جی بھر کے عا شقی کرتے
حسن اس کا نہ کھل سکا محسن
تھک گئے لوگ شاعری کرتے