07/07/2025
Waqas Malik Cost & Corporate Law Associates
ہم آپ کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ وفاقی بجٹ 2025-26 کی منظوری کے بعد کمپنی ملازمین کو ان کے اکاؤنٹ میں CASH جمع کرانے پر ٹیکس کی مد میں کٹوتی کر رہی ہے۔ حالیہ انکم ٹیکس ترمیم کے مطابق:
اگر کوئی ٹیکس دہندہ ویبنک یا کسی ڈیجیٹل ذرائع کے علاوہ 200,000 روپے سے زائد رقم وصول کرتا ہے تو اس رقم کا صرف 50% قابل قبول ہوگا، اور ایسی کسی ادائیگی پر تقریباً 41% اضافی ٹیکس لاگو کر دیا جائے گا۔ یعنی بمشکل طور پر ملاحظہ کردہ رقم پر 20.5% کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔
لہٰذا آپ سے سختی سے تاکید کی جاتی ہے کہ کسی بھی کمپنی اکاؤنٹ میں CASH نہ جمع کرائیں۔ بصورت دیگر ایسے کسی ٹرانزیکشن کو سیریز قابل قبول نہیں ہوں گی، اور رقم کی صورت میں جمع کروائی گئی وہ 79.5% تصور کی جائے گی، اور بقیہ رقم کا 20.5% ٹیکس میں منہا کر لیا جائے گا۔
ہمیں امید ہے کہ آپ اس معاملے کی سنجیدگی کو خاطر میں رکھتے ہوئے اس پر مکمل عمل درآمد کریں گے۔
آپ کے تعاون کا شکریہ!
📢 ٹیکس اپڈیٹ: سیکشن 21 – انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001
وفاقی حکومت نے فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے سیکشن 21 میں ایک نیا سب سیکشن 21(s) شامل کیا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی ایک انوائس کے تحت فروخت پر ادائیگی 200,000 روپے سے زائد ہو اور وہ بینکاری ذرائع (Banking Channel) یا ڈیجیٹل طریقے سے نہ کی گئی ہو، تو اس فروخت سے متعلقہ اخراجات کا صرف 50٪ ہی قابل قبول ہوگا۔
متعلقہ شق کا متن کچھ یوں ہے:
> "فروخت کے سلسلے میں دعویٰ کردہ اخراجات کا پچاس فیصد، جہاں ٹیکس دہندہ نے دو لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی بینکاری ذرائع یا ڈیجیٹل طریقے کے علاوہ کسی اور ذریعے سے وصول کی ہو، قابل قبول نہیں ہوگا۔ یہ شرط ایک انوائس کے تحت ہونے والے ایک یا زائد اشیاء یا خدمات کی فراہمی پر لاگو ہوگی۔"
---
📌 اس قانون کے نفاذ کا مقصد:
بڑی رقم کی نقد لین دین (Cash Transactions) کی حوصلہ شکنی اور بینکاری یا ڈیجیٹل ذرائع کو فروغ دینا ہے تاکہ کاروباری لین دین میں شفافیت اور دستاویزی ثبوت کو بہتر بنایا جا سکے۔
---
📌 مثال:
آپ نے ایک ہی انوائس کے تحت PKR 500,000 کی اشیاء فروخت کیں۔
گاہک نے آپ کو نقد (یا غیر بینکاری/غیر ڈیجیٹل ذرائع) سے ادائیگی کی۔
آپ نے اس انوائس سے متعلقہ PKR 300,000 کا کاروباری خرچ دعویٰ کیا۔
ایف بی آر اس میں سے 50٪ یعنی PKR 150,000 اخراجات ناقابل قبول قرار دے گا۔
نتیجتاً، آپ کی قابل ٹیکس آمدنی PKR 150,000 بڑھ جائے گی۔