13/09/2026
اسلام میں کسی ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ سورۃ المائدہ (آیت 32) میں ارشاد ہے کہ جس نے کسی کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔ یہ اسلام میں شرک کے بعد سب سے بڑے گناہوں (کبیرہ گناہ) میں سے ایک ہے، جس کی سزا دنیا میں قصاص (قانونِ بدلہ) یا موت اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔ اگر کوئی انسان گھر سے نکلتا ہے کسی کو قتل کرنے کے ارادے سے تو وہ ہزار بار سوچے کہ اس کا کیا گناہ ہے اس نے اپ کا کیا بگاڑا ہے اور یہ سوچ ہے اگر میں کسی کو قتل کرتا ہوں تو ان کے بچوں پہ کیا گزرے گا ان کے والدین پہ کیا گزرے گا ان کی بیوی پہ کیا گزرے گا مظلوم کی آہ اور بے گناہ کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا، اور ظالم کو اس دنیا میں یا آخرت کے کٹہرے میں اپنے کیے کا حساب ضرور چکانا پڑتا ہے۔ قاتل کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ وقتی غصے یا دشمنی میں صرف ایک جسم کی جان نہیں لیتا، بلکہ پورے خاندان کی خوشیاں، سکون اور سہارا ہمیشہ کے لیے چھین لیتا ہے۔اپنے کردار کو ایسا مضبوط اور ذہین بنانا جو دوسروں کے قاتلانہ منصوبوں اور سازشوں سے محفوظ رہے، ایک بہترین کہانی کے لیے بہت ضروری ہے۔ ذرا سوچیے سینر نائب صدر پختون جرگہ راولپنڈی بخت روان اس شاندار خطاب میں بہت بڑی فلسفہ اور لوگوں کے لیے نصیحت موجود تھا