Exhibition Organizing Skill

Exhibition Organizing Skill Exhibition Industry is the mother of all industries. We always need to promote and introduce our products around world. I am trying to make awarenes

With sorrow Exhibition is not a subject or topic at any level in any Pakistani Collage or University.

13/08/2022

Camel Skin Lamps with Multani Naqashi.
Only in Pakistan.
We should Extend it to world.

13/01/2022

رومانیہ بخارسٹ ورانڈا مال

Admin is visiting old city Bucharest in Romania and you can also join.
26/12/2021

Admin is visiting old city Bucharest in Romania and you can also join.

Old City Bucharest night view by Kaleem Khan.

23/11/2019

ناکام بزنس مین کی 50 نشانیاں:

دنیا میں ہر 10 میں سے 8 بزنس اپنی شروعات کے پہلے 18 مہینوں کے اندر ہی فلاپ ہو جاتے ہیں۔سمال بزنس کی ناکامی کی یہ شرح براہِ راست ملکی معشت پر اثرانداز ہوتی ہے۔
* پاکستان میں Start-ups کی ناکامی کی شرح 90% ہے۔
* یعنی 10 میں سے 9 بزنس ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
* سمال بزنس ایڈمنسٹریشن (SBA) کی رپورٹ کیمطابق 66% بزنس محض دو سال تک ہی سروائیو کر پاتے ہیں۔
* باقی 24% اگلے پانچ سال کے اندر ناکام ہو جاتے ہیں۔
اگر آپ ایک ناکام بزنس مین ہیں تو کیا آپ نے کبھی ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کیا ہے؟
کیا ان وجوہات کو دور کر کے آپ ایک کامیاب بزنس مین بن سکتے ہیں؟

سمال بزنس میں ناکامی کی صورت میں ہماری معیشت ہر سال عربوں روپے کے خسارے کا بوجھ اٹھاتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی معیشت جہاں اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے اس بار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
میں نے بزنس میں ناکامی کی وجوہات ایک چیک لسٹ کی صورت میں مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ان 50 خامیوں کو دور کیے بنا آپ کبھی ایک کامیاب بزنس مین نہیں بن سکتے۔

بزنس کیا ہے؟

آکسفورڈ ڈکشنری کیمطابق

“A person146s regular occupation, profession, or trade”

افراد کے بکھرے ہوئے ہجوم اور کوششوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ان کوششوں کو ایک مثبت ،کارآمد اور منافع بخش ڈائریکشن فراہم کرنا اصل میں بزنس کہلاتا ہے۔ بزنس ایک شخص کو کئی پہلوؤں سے معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بناتا ہے۔زیرِ نظر آرٹیکل میں ہم نے ان چند پہلوؤ ں کی نشاندہی کی کوشش کی ہے جو ایک بزنس مین کی ناکامی کا سبب بنتی ہیں۔امید ہے ہماری یہ کوشش معاشرے کے ایک اہم طبقے کے لئے مفید ثابت ہوگی۔

1: مقاصد کا تعین نہ کرنا

واضح مقاصد کا تعین نہ کرنا ایک ناکام بزنس مین کی سب سے پہلی کوتاہی ہے۔اگر آپ کی منزل ہی طے نہیں تو محض چلتے رہنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ایک کامیاب بزنس مین کا ذہن واضح مقاصد کا تعین کرنا جانتا ہے۔آپ کو کیا کرنا ہے؟ اور کیوں کرنا ہے؟صرف پیسہ کمانے کے علاوہ آپ کے بزنس کے اور کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟یہ وہ چند سوال ہیں جن کا مثبت اور واضح جواب نہ صرف مقاصد کے تعین کے لئے اہم ہے بلکہ ان کے حصول کے لئے ایک بہتر لائحہ عمل ترتیب دینے میں بھی نہایت سود مند ہے۔

2: وسیع سوچ کا فقدان

ایک ناکام بزنس مین محدود سوچ کا حامل ایسا فرد ہوتا ہے جس کی سوچ ایک مخصوص دائرہ کار میں ہی گردش کرتی ہے۔وہ اپنے بزنس کو وسعت دینے کے لئے نئے ذرائع کی کھوج اور ان کے حصول میں ناکام رہتا ہے۔جبکہ ایک وسیع سوچ نئے سے نئے مواقع تلاش کرتی ہے۔ایک کامیاب بزنس مین کی یہی وسیع سوچ کاروباری وسعت کو جنم دیتی ہے۔

3: خود انحصاری Independent Nature

خود پر انحصار کرنا ایک کامیاب بزنس کی طرف اہم قدم ہے۔ایک ناکام بزنسمین میں خود اپنی کوششوں اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔یہ کمی اسے بے اطمینانی کا شکار بنائے رکھتی ہے اور وہ تمام اہم مسائل کے حل کے لئے دوسروں سے رجوع کرتا ہے۔یہ خامی بہت جلد ناکامی سے دوچار کر دیتی ہے۔

4: پرکھنے کی صلاحیت

ایک ناکام بزنس مین کی حالات و معاملات کو پرکھنے اوروقت کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت مفقود ہوتی ہے۔Judgement کی یہ صلاحیت عقل و شعور پر منحصر ہوتی ہے جسمیں کمی کی بنا پر وہ بار بار نقصان سے دوچار ہوتا ہے۔

5: ضرورت سے زیادہ پرامیدی

حالات و واقعات سے ہمیشہ بہتری کی امید رکھناایک عام آدمی کے لئے تو فائدہ مند ہو سکتا ہے مگر ایک بزنس مین کے لئے نہیں۔یاد رکھیں سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا آپ چاہتے ہیں۔خاص طور پر بزنس میں جہاں ہر قدم پر بدلتے حا لات ایک بزنس مین کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ایک کامیاب بزنس مین اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین کی پالیسیوں کی بنیادحقائق کے ادراک کی بجائے پرامیدی و خوش فہمی پر رکھی ہوتی ہے۔یہی ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی اور خوش امیدی خسارے کا سبب بنتی ہے۔

6: پروفیشنل ازم کی کمی

ایک بیوقوف اور بے ہنر بزنس مین کے اندر پروفیشنل ازم کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔یہ پروفیشنل ازم مہارت اور تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔چونکہ ایک ناکام بزنس مین میں ان دونوں چیزوں کی کمی ہوتی ہے اور اسی کمی کا اظہار وہ بزنس لائف میں کئی اہم موقع پر کر کے کامیابی کے اکثرمواقع ضائع کر لیتا ہے۔

7: لیڈ ٹائم مینجمنٹ Lead-time management

وہ Gap جوکنزیومر کے آرڈر سے لیکر مطلوبہ پروڈکٹ یا سروس کی ڈلیوری پر محیط ہوتا ہے کسی بزنس یا کمپنی کا لیڈ ٹائم کہلاتا ہے۔

Lead Time Reduction کسی بزنس یا کمپنی کی کامیابی کا نہایت اہم نقطہ ہے۔ایک ناکام بزنس مین اس نقطہ پر کبھی فوکس نہیں کرتا۔جو ایک بزنس مین کی غیرذمہ داری کی علامت ہے۔

8: عوامی رجحان سے ناواقفیت

ایک کامیاب بزنس مین ہمیشہ جدید اور بدلتے ہوئے عوامی رجحانات سے باخبر رہتا ہے اور ان کو مدِنظر رکھ کر اقدامات کرتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین بدلتے ماحول اور جدید رجحانات سے ناواقفیت کی بنا پر محض اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کرتا ہے

9: مستقل مزاجی کا فقدان

مستقل مزاجی کسی بھی معاملے میں کامیابی کی اہم سیڑھی ہے ۔ ایک ناکام بزنس مین کے اندرمستقل مزاجی کا سخت فقدان پایا جاتا ہے۔ محض وقتی اور چھوٹی چھوٹی ناکامیوں سے مایوس ہو کر وہ اپنی حکمتِ عملی اور فیصلے بدلتا رہتا ہے اور کبھی ایک مستقل سوچ پر قائم نہیں رہتا۔

10: اجنبیوں کو ویلکم کریں

اجنبیوں کو خوش آمدید کہنا اور ان سے اچھے تعلقات قائم کرنا ایک بزنس مین کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔اس سے بزنس کے نئے زاویوں اور رجحانات کا پتہ چلتا ہے۔مگر ایک ناکام بزنس مین اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔بلکہ وہ ایک قسم کے Fear of unknownمیں مبتلا ہوتا ہے۔

11: مارکیٹ سے ناواقفیت

پروڈکٹ ایویلیوایشن،کسٹمر وائس،ریسورسز اینڈ فائینینسنگ وغیرہ مارکیٹ کے اہم پہلو ہیں۔ایک ناکام بزنس مین کبھی مارکیٹ سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتا۔یہ ادھوری واقفیت اس کی ناکامی کا بڑا سبب ہوتی ہے۔

12: غیر منصفانہ لین دین Unfair Dealings

Unfair Dealingیا دیانتداری کی عدم موجودگی بزنس مین کی ناکامی کا نہایت افسوسناک پہلو ہے۔بزنس کی یہ تیکنیک وقتی طور پر تو فائدہ مند ہو سکتی ہے مگر ایک دیر پا کامیابی کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ایک ناکام بزنس مین اپنی بددیانتی کی بدولت مارکیٹ میں ایک معیاری ساکھ نہیں بنا پاتا اور با لآخر ناکامی سے دو چار ہو جاتا ہے۔

13: لوکیشن Location

کسی بزنس کی کامیابی بہت حد تک ایک اچھی لوکیشن کے انتخاب پر بھی انحصار کرتی ہے۔ ایک کامیاب بزنس مین ایک بہترین لوکیشن کا انتخاب کر نا اور اس کے مطابق ایک بہتر فریم ورک تشکیل دینا جانتا ہے۔ جبکہ ایک مناسب لوکیشن کا اندازہ نہ کر پاناایک ناکام بزنس مین کی اہم خاصیت ہوتی ہے۔اسی خاصیت کی بنا پر وہ بعض اوقات ترقی کے اہم مواقع گنوا بیٹھتا ہے۔

14: نا ا ہل انتظامیہ Lack of Management

ایک ناکام بزنس مین کے اندر مینجمینٹ کی صلاحیت ناپید ہوتی ہے۔وہ ایک مناسب بزنس سٹریٹیجی مرتب کرنے اور اس پر عمل درآمد میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔اپنے ماتحت لوگوں کی کارکردگی کے حوالے سے وہ ایک پروپر شیڈول وضع کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ یہ Mismanagement بزنس مین کی نااہلی کا ثبوت اور اس کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔

15: کسٹمر کا اطمینان Customer Satisfaction

ایک بہتر کسٹمر سروس کی فراہمی ایک بہتر کیش فلو کا سبب بنتی ہے اور ایک اچھا کیش فلو ہی ایک کامیاب بزنس کی بنیاد بنتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین کی محدود سوچ صرف ارننگ تک ہی محدود ہوتی ہے جبکہ پروڈکٹس یا سروسز کا بہتر معیار جو ایک اچھی ارننگ کی ضمانت ہے اس کے لئے قابلِ ترجیح نہیں ہوتا۔

16: ادھوری بزنس پلاننگ

کسی بزنس میں کامیابی ایک معقول اور Long-term planning کا تقا ضا کرتی ہے۔ایک بیوقوف بزنس مین چونکہ دور اندیشی کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے اس لئے وہ ایک دیر پا اور جامع حکمتِ عملی تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے۔یہی ناقص پلاننگ کسی نا کسی مرحلے پر ناکامی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

17: ترقی پسند سوچ کا فقدان

ترقی پسند سوچ کا فقدان ایک ناکام بزنس مین کی اہم نشانی ہے۔اپنی محدود سوچ یا ناکامی کے خوف کی بنا پر وہ کبھی اپنے بزنس کے ایک مخصوص حدود اربع کو کراس کرنے کی کوشش نہیں کرتا جبکہ 21ویں صدی کے تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات ایک جدید اور ترقی پسند سوچ کا تقاضا کرتے ہیں۔

18: مالی ریسورسز کی کمی

ایکStart-upکے لئے مالی سپورٹ جسم میں روح کی حثییت رکھتی ہے۔بزنس کی شروعات اس لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔تاہم ایسے ہر مرحلے میں کچھ ریسورسز ایسے ضرور موجود رہتے ہیں جو fundingکے حوالے سے بہترین وسیلہ بن سکتے ہیں۔ایک کامیاب بزنس مین نشیب و فراز کے ان مراحل میں با آسانی ایسے ذرئع کھوجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین میں یہ صلاحیت مفقود ہوتی ہے۔

19: محنت و لگن کا فقدان

محنت ولگن کی کمی ایک ناکام بزنس مین کی وہ خاصیت ہے جو اسے کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیتی۔بزنس ایک ذمہ داری کا نام ہے جس کو احسن طریقے سے نبھانا ایک کامیاب بزنس مین کی پہچان ہے۔مگر ایک ناکام بزنس مین اپنے ان فرائض سے غفلت کا مرتکب ہوتا ہے۔

20: ٹائم مینجمنٹ Time Management

ناقص Time Management کے سبب ایک ناکام بزنس مین ہمیشہ وقت کی قلت کا شکار رہتا ہے۔حالات و معاملات کو ڈیل کرتے وقت وہ اس بات کا تعین نہیں کر پاتا کہ کون سی چیز زیادہ وقت اور توجہ کی متقاضی ہے۔اس کا بہت سا وقت جو نہایت اہم اور ضروری معاملات پر خرچ ہونا چاہیے تھا غیر اہم معاملات کی نظر ہو جاتا ہے۔

21: غیر سنجیدہ رویہ

عقل و شعور کی کمی غیر سنجیدہ رویے کو جنم دیتی ہے۔بعض اوقات حد سے زیادہ خود اعتمادی بھی اس رویے کا سبب بنتی ہے۔بزنس جیسے اہم معاملے میں غیر سنجیدہ رویہ کامیابی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ایک ناکام بزنس مین تمام معاملات میں ایسے ہی غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کرتا ہے۔

22: نئے مواقع کی تلاش

نئے مواقع کی تلاش کسی بزنس کی کامیابی کے لئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین نئے مواقع کی تلاش اور ان کی پہچان کی صلاحیت نہیں رکھتا۔بزنس مین کا یہ رویہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی بزنس ایکٹیویٹی کا دائرہ کارتنگ کرتا چلا جاتا ہے۔

23: تخلیقی سوچ کی کمی

ایک تخلیقی سوچ بزنس کی روایتی حد بندیوں سے نکل کر نئی تیکنیکس وضع کر سکتی ہے۔سٹیو جوبز نے کہا تھا’جدت ہی وہ خوبی ہے جو ایکLeader اور ایک Followerمیں فرق واضح کرتی ہے۔یاد رکھیے بزنس کی کامیابی آپ کی ڈگریوں یا تعلیم پر نہیں بلکہ آپ کی ذہانت و مہارت پر انحصار کرتی ہے۔بِل گیٹس کہتا ہے’میں کسی یونیورسٹی کا پوزیشن ہولڈر نہیں ہوں لیکن یونیورسٹیوں کے کئی پوزیشن ہولڈرز میرے ملازمین میں شامل ہیں‘۔

24: ریسرچ اور نالج کا فقدان Lack of Research and knowledge

ایک ناکام بزنس میں مارکیٹ ریسرچ اور نالج کو کبھی اہمیت نہیں دیتا۔وہ نئے رجحانات سے بے خبر رہتا ہے۔مارکیٹ میں متعارف کرائے جانیوالی جدید پروڈکٹس اور سروسز ایک بزنس مین کے لئے نئی راہیں کھولتی ہیں۔مگر ایک ناکام بزنس مین اپنی غیر تحقیقی سوچ کی بنا پر ان امکانات سے بے خبر رہتا ہے۔

25: سماجی تعلقات Social Contacts

معاشرتی و سماجی کونٹیکٹ کسی بزنس کی کامیابی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ناکام بزنس مین Social Contactsکی اہمیت سے ناواقف ہوتا ہے۔اس کے معاشرتی و سماجی روابط محدود ہوتے ہیں۔اپنی اسی کمی کی وجہ سے وہ اپنے بزنس کو ایک وسیع پلیٹ فارم مہیا نہیں کر پاتا۔

26: ’انا پرستی‘ آپ کی کامیابی کی دشمن

انا پرستی ایک ناکام بزنس مین کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔یہ اس کے پبلک ریلشنز کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ اور اس کے تعلقات کو محدود کر دیتی ہے جبکہ ایک کامیاب بزنس مین نہایت ملنسار اور سوشل ہوتا ہے۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ اس کے اچھے مراسم قائم ہوتے ہیں جوبزنس کے ایک وسیع نیٹ ورک کے قیام میں مددگار ہو سکتے ہیں۔

27: سٹینڈرڈائزیشن Standardization

پروڈکٹس یا سروسز کی تیاری و فراہمی میں جدید اور سٹینڈرڈ تیکنیکس کا استعمال Standardization کہلاتا ہے۔ پروڈکٹس کی یہ سٹینڈرڈائزیشن ہی کسی بزنس یا کمپنی کو مقابلے کی دوڑ میں شامل کرتی ہے۔ ایک ناکام بزنس مین ایسی کسی تیکنیک کے استعمال اورایپلیکیشن کی ضرورت محسوس نہیں کرتاجس کے نتیجے میں اس کے بزنس یا کمپنی کا معیار گرتا چلا جاتا ہے۔

28: ادھوری سیل سٹرٹیجی Imperfect Sales Strategy

سیل سٹریٹیجی کسی کمپنی کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے اور تمام تر پروفٹ کا دار ومدار اسی پالیسی ہر ہوتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین مارکیٹ،کسٹمرز اور لوکیشن کی مناسبت سے ایک بہتر سیلز پالیسی تشکیل دینے میں بیوقوفی اور نا تجربہ کاری کا مظاہرہ کرتا ہے۔

29: ان ٹارگٹڈ اپروچ ٹو کسٹمر Untargeted Approach to Customers

پوٹینشل کسٹمرز تک رسائی بزنس مین کی اہم کامیابی ہوتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین اپنی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سیلز اور پروموشن کے اہم مواقع ضائع کر بیٹھتا ہے

30: کوالٹی آف سروس Quality of Service

پروڈکٹس اور سروسز کی بہتر کوالٹی بزنس میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ناکام بزنس مین معیاری کوالٹی جیسے اہم معاملے کو نظرانداز کیے رکھتا ہے۔اور یہ غفلت بالآخر اس کی ناکامی پر منتج ہوتی ہے۔

31: لیڈرشپ کا فقدان

کامیاب بزنس مین اصل میں ایک اچھا لیڈر ہوتا ہے جو اپنے بزنس اور اپنے ماتحت کام کرنے والے افراد کی درست رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔وہ حالات و معاملات کی درست سمت کا تعین کر سکتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین کے اندر لیڈرشپ کی یہ صلاحیت سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔

32: سپلائی چین Supply Chain

سپلائر سے کسٹمر تک کسی پروڈکٹ یا سروس کی منتقیلی ایک آرگنائزڈ سسٹم کا تقاضا کرتی ہے جسکی عدم موجودگی سے تجارتی نظام بدنظمی کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی بدنظمی با لآخر خسارے کا سبب بنتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین اس پہلو کی طرف سے بھی لاپروائی کا مظاہرہ کرتا ہے۔یا پھر اس میں اس کی صلاحیت یہ موجود نہیں ہوتی۔

33: سورس آف انفارمیشن کی عدم موجودگی

مارکیٹ کے مسائل،کسٹمر ٹرینڈزاوردوسری کمپنیوں کے رجحانات اور طریقہ کار کے بارے میں معلومات ایک بزنس مین کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔یہ معلومات کئی طرح کے مسائل کی شناخت اور نئے مواقع کی تلاش میں مددگار ہوتی ہیں۔ایک ناکام بزنس مین کو معلومات کے ذرائع کی اہمیت کا اندازاہ نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے مناسب انتظام کی کوشش کرتا ہے۔

34: لائسنسز Licensing

پروڈکٹ،سروس یا اپنے بزنس آئیڈیاز کی Licensing ایک انتہائی اہم امر ہے جو کئی طرح کے مسائل سے بچاتا ہے۔ایک ناکام بزنس3 مین اپنی کم علمی یا محض سستی کی وجہ سے اس امر میں غفلت برتتا ہے۔جبکہ ایک کامیاب بزنسمین ایسے تمام اصول و قوانین پر عمل پیرا ہوتا ہے۔

35: سیلف ایجوکیشن

سیلف ایجوکیشن ایک بزنس مین کے لئے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔بزنس میگیزینز اور آن لائن بزنس ٹریننگ پروگرامز بزنس کے نئے رجحانات اور تیکنیکس سے آگاہ کرتے ہیں۔مگر ایک ناکام بزنس مین اپنی سیلف ایجوکیشن کا کوئی پلان تشکیل نہیں دیتا۔یہ لاعلمی اسے بزنس کی دنیا میں پیچھے دھکیلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

36: اپنے مشن سے وابستگی

کمپنی یا بزنس کے لئے ایک پراثر حکمتِ عملی ترتیب دینے کے لئے بزنس مین کے ذہن میں ایک واضح مشن ہونا ضروری ہے۔یہ مشن ایک گائیڈلائن کا کام کرتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین کو اول تو مشن کا ادراک ہی نہیں ہوتا اور ہو بھی تو وہ اپنے مشن سے وابستگی کو اہمیت نہیں دیتا۔

37: کاروباری حریفوں کا تجزیہ Competitors Analysis

بزنس کے میدان میں اپنے مدِمقابِل بزنس مینوں کی پروڈکٹس اور سروسز کے معیار اور ان کی بزنس کی تیکنیکس کے بارے میں معلومات نہایت اہمیت رکھتی ہے۔مقابلے کی اس دوڑ میں ایک بزنس مین کی خامی دوسرے کی خوبی بن جاتی ہے۔ایک ناکم بزنس مین اس امر میں بھی کوتاہی برتتا ہے اور دوسرں کی نسبت خسارے میں رہتا ہے۔

38: ترجیحات کا تعین

یاد رکھیے کچھ چیزیں ارجنٹ ہوتی ہیں جبکہ کچھ اِمپورٹینٹ ہوتی ہیں۔ایک کامیاب بزنس مین ان دونوں میں فرق کرنا بخوبی جانتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کرپاتاکہ کونسا معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے ۔اس ناسمجھی کی وجہ سے بہت سے ضروری اور فوری حل طلب مسائل غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

39: ناقص یادداشت

بزنس میں کامیابی ایک بہترین یادداشت کا تقاضا کرتی ہے۔ایک کامیاب بزنس مین اچھے حافظے کا مالک ہوتا ہے اور نہایت باریک نقاط کو بھی ذہن نشیں رکھتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین اچھی یاد داشت کا مالک نہیں ہوتا۔اسی خامی کی وجہ سے بہت سی چھوٹی چھوٹی اہم چیزیں اگنور ہو جاتی ہیں۔

40: حساب کتاب میں لاپرواہی Deficient Accounting

حساب کتاب جیسے اہم معاملے میں بھی ایک ناکام بزنس مین لاپروائی اور بے دھیانی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ایسی کمپنی کا اکاؤنٹینگ سیکشن غفلت کا شکار ہوتا ہے۔ اس غفلت کا براہِ راست اثر کمپنی کے بجٹ پر پڑتا ہے۔

41: موقع شناسی

ایک کامیاب بزنس مین کی سب سے اہم خوبی موقع شناسی ہوتی ہے وہ مشکلات کے ہجوم میں بھی ایک سنہری موقعے کی پہچان کی صلاحت رکھتا ہے جبکہ ایک ناکام بزنس مین اپنی اس ناشناسی کی وجہ سے کئی اہم مواقع گنوا بیٹھتا ہے۔

42: تفریح کے لئے وقت نہ نکالنا

اکثر ناکام بزنس مینوں کے پاس تفریح کے لئے بھی وقت نہیں ہوتا۔مسلسل کام ذہنی تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے اور کارکردگی کو متاثر کرتا ہے ۔کامیاب بزنس مین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین مسلسل کام کر کے ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔

43: بچت کی بہتر تیکنیکس سے ناواقفیت

ایک بزنس مین کے لئے خریداری نہیں بلکہ خریداری کا طریقہ کار زیادہ اہم ہوتا ہے۔ایک کامیاب بزنس مین ہمیشہ نقد اخراجات سے گریز کرتا ہے۔وہ بارٹر سسٹم کو اپناتا ہے اور اشیاء کے بدلے اشیاء کے لین دین کو اہمیت دیتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین بچت کے طور طریقے اپنانے کی کوشش نہیں کرتا اور غیر ضروری اخراجات کی روک تھام کے لئے اقدامات نہیں کرتا ۔یہ روش اسے بہت جلد مالی بحران کا شکار بنا دیتی ہے۔

44: پبلک مینیجمنٹ سکِلز

بزنس اصل میں کئی افراد کی کوششوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے اور ان کی مشترکہ کوششوں سے ایک مفید نتیجہ برآمد کرنے کا نام ہے۔ایک کامیاب بزنس مین کے اندر لوگوں کی ایک بھیڑ کو ایک آرگنائزڈ گروپ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین پبلک مینجمینٹ کے اس ہنر سے نا آشنا ہوتا ہے۔

45: سٹاف کا انتخاب Policy Staff Hiring

کمپنی کے کلچر،انوائرنمنٹ اور ڈیمانڈ کے مطابق معقول اور قابل افراد کا انتخاب ایک اہم امر ہے۔ایک ناکام بزنس مین کسی فرد کو ہائر کرتے وقت اس کی خوبیوں، خامیوں اور اس کے اندر موجود پوٹینشل کا صیح اندازہ نہیں کر پاتا۔یہ ناموزوں ہائرنگ بزنس پر اثر انداز ہوتی ہے۔

46: سٹاف ٹرینگ Staff Training

کسی کمپنی یا آرگنائزیشن کی انویسٹمنٹ کا ایک بڑا حصہ سٹاف پر خرچ ہوتا ہے ۔لہٰذا سٹاف کی ہائرنگ اور ٹریننگ کے مناسب انتظامات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔کامیاب بزنس مین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے کہاایک قابل مگر ناتجربہ کار شخص کو ایک بہتر ماحول اور ٹریننگ فراہم کر کے ایک بہتر آؤٹ پٹ لیا جا سکتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین ان اہم عوامل کا ادراک نہیں رکھتا۔

47: آفس کے بے حساب اخراجات

آفس کے اخراجات نہایت توجہ طلب اور ضروری عوامل میں شامل ہیں ۔ایک ناکام بزنس مین کو نہ تو ان اخراجات کا صیح اندازہ ہوتا ہے اور نہ وہ ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اسطرح بہت سے چھوٹے چھوٹے مگر غیر ضروری اخراجات بجٹ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

48: ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی Over Confidence

ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کسی بھی امر میں ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین Over Confidenceکا شکار ہوتا ہے۔وہ حالات کو مدِنظر رکھنے کی بجائے اپنی سوچ کو مدِ نظر رکھ کر فیصلے کرتا ہے جو نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

49: بزنس نیٹ ورک کا قیام

ایک مناسب بجٹ کے اندررہتے ہوئے اپنے بزنس کو مارکیٹ کرنا ایک کامیاب بزنس مین کا سب سے بڑا ہنر ہے جس کوبروئے کار لا کروہ ایک بہتر اور منافع بخش بزنس نیٹ ورک کی تشکیل کرتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین کارآمد اور مفید نیٹ ورک کے قیام میں ناکام رہتا ہے اور اس کا بہت سا بزنس پوٹینشل غیر نتیجہ خیز سرگرمیوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔

50: جدید ذرائع سے ناواقفیت

ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے اس دور میں بزنس کو وسعت دینے اور زیادہ منافع بخش ذرائع کی تلاش کے لئے جدید طریقہ کار کو اپنانا ایک کامیاب بزنس مین کی نشانی ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین بزنس کے روایتی طور طریقوں کا پابند بنا رہتا ہے اور اپنے نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے لئے آسان اور تیز ترین ذرائع کو استعمال میں نہیں لاتا۔

آپ کونسی غلطی کرتے ہیں اسے پہچانیں اور درست کریں.
Copy.

10/01/2019

Risk Management
ایک میمن ﻧﯿﻮﯾﺎﺭﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﮏ ﮐﮯ ﮐﺎﺅﻧﭩﺮ ﭘﺮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ؛ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﮈﺍﻟﺮ ﮐﺎ ﻗﺮﺽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ , ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﮮ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﻨﮏ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ , ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﻗﻢ ﻟﻮﭨﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺿﻤﺎﻧﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺮﺝ ﻧﮩﯿﮟ۔
میمن ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﻟﺰ ﺭﺍﺋﺲ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﭼﺎﺑﯿﺎﮞ ﺑﻨﮏ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯾﮟ۔ ﺑﻨﮏ ﻧﮯ ﻣﺘﻌﻠﻘﮧ ﺳﯿﮑﻮﺭﯾﭩﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﮧ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻏﺬﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ میمن ﮐﯽ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﻻﮐﮫ ﮈﺍﻟﺮ ﻣﺎﻟﯿﺖ ﮐﯽ ﮐﺎﺭ ﺟﯿﺴﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ڈﺍﻟﺮ ﮐﺎ ﻗﺮﺿﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ میمن ﮐﯽ ﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺑﻠﮉﻧﮓ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﻨﯽ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﭘﺎﺭﮐﻨﮓ ﻻﭦ ﻣﯿﮟ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻨﮏ ﮐﺎ ﻋﻤﻠﮧ میمن ﮐﯽ ﺍﺱ ﺣﻤﺎﻗﺖ ﭘﺮ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔
ﺩﻭ ﮨﻔﺘﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪمیمن ﺳﻔﺮ ﺳﮯ ﻟﻮﭨﻨﮯ ﭘﺮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺑﻨﮏ ﭘﮩﻨچا ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﮈﺍﻟﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 15.41 ﮈﺍﻟﺮ ﺍﻧﭩﺮﺳﭧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻟﻮﻥ ﺳﯿﮑﺸﻦ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ میمن ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﺎﺭﮐﻨﮓ ﻻﭦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﺪﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮔﺎﮌﯼ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ۔
ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ میمن ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ : ﮨﻢ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺑﻨﮏ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﭼﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ , ﺁﭖ ﮐﯽ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭨﺮﺍﻧﺰﯾﮑﺸﻨﺰ ﺳﮯ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﻗﺮﺽ ﮐﯽ ﻗﻄﻌﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ , ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺗﯽ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ.؟
میمن ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺍﺱ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮍﮮ ﻧﯿﻮﯾﺎﺭﮎ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ ﺟﮩﺎﮞ 15.41 ﮈﺍﻟﺮ ﻟﯿﮑﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﺩﻭ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﮮ.؟

10/01/2019



بے روزگاری اور کم سرمائے کا رونا رونے والوں کے لیے بہترین تحریر لازمی پوری پڑھیں
ایک دفعہ ایک صحابی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ امداد کے طالب ہوئے
اس کا واضح مطلب معاشی مجبوریوں کا حل بھی در نبوت سے ملتا تھا جبھی اس نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پہ حاضری دی اور آپ نے اس کی بات کو غور سے سننے کے بعد ان سے دریافت فرمایا۔
” تمہارے پاس کوئی چیز بھی ہے“؟
وہ بے چارے اتنے غریب و نادار تھے کہ جواب میں انہوں نے عرض کیا
” میرے پاس صرف ایک ٹاٹ ہے،
جس کے ایک حصہ کو اوڑھ لیتا ہوں اور دوسرے کو بچھاتا ہوں۔
اس کے سوا ایک پیالہ بھی ہے،
جس میں پانی پیتا ہوں۔“
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اسی پیالے اور ٹاٹ کو لے آؤ۔
اس کا مطلب کسی کام کی بنیاد رکھنے کے لئے لازمی ہے کہ اس میں جس قدر ہو سکے ذاتی سرمایہ لگایا جائے تاکہ وہ کاروبار پھل پھول سکے--اب چاہے وہ سرمایہ کم ہی کیوں نہ ہو اسی میں ہی ترقی کا راز چھپا ہے
بالاخر وہ صحابی اپنا ٹاٹ اور پیالہ لے کر آئے، دیکھنے والوں نے دیکھا اور دنیا دنگ رہ گئی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم خود اس پیالہ اور ٹاٹ کو اپنے ہاتھ میں لے کر،
اس کا نیلام کرنے کھڑے ہو گئے اور پکارنے لگے۔
من یشتر ھذین؟
ان دونوں کو کون خریدتا ہے ؟؟
ایک صاحب نے کہا:
انا آخذھما بدرھم․
میں لیتا ہوں ایک درہم میں--'
اس کا مطلب اگر اشیاء کو بیچنے کی نوبت آئے تو آواز لگانا ، پکارنا ، صدا دینا ،
متوجہ کرنا تجارت کا حصہ ہے اور پیغمبر کے اسی عمل سے منڈی کی تجارت کا جواز ملتا ہے اور صحابی کا ان اشیاء کے لئے قیمت پہ راضی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ نیلام ہونے پہ اگر کسی شے کی قیمت آپ کو سمجھ آرہی ہو تو بغیر چھوئے جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پہ خریدا جا سکتا ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی الله علیہ وسلم نے پھر حاضرین کو مخاطب کیا:
من یزید علی درھم؟ ایک درہم پر اضافہ کون کرتا ہے؟
اور لوگوں کو اس طرف توجہ دلوائی بالآخر دو درہم پر بولی ختم ہو گئی--
اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اگر آپ کو پروڈکٹ کی قیمت زیادہ مل رہی ہو تو آپ بیچ سکتے ہیں ، خریدار دیکھنا چاہئے ، اگر قیمت بڑھتی نظر آئے تو فروخت کرنے میں مضائقہ نہیں
بالآ خریدار کو ٹاٹ اور پیالہ دے دیا گیا اور دو درہم جو قیمت میں وصول ہوئے تھے وہ حاجت مند انصاری کے حوالے کرکے ارشاد فرمایا
"ایک درہم سے اناج خریدکر اپنے گھر والوں کودو اوردوسرے درہم سے ایک کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آو "
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر کائنات سرمائے کی کمیت کے مطابق مشورہ بھی دیا کرتے تھے ، اور مشورہ میں انویسٹمنٹ اور انویسٹر کی گھریلو ضروریات کو بھی مدنظر رکھا کرتے تھے --
بزنس کنسلٹنٹ کی حیثیت سے معاشیات کے طالب علم کو سیرت کے اس پہلو سے ضرور واقف ہونا چاہئے
حضرت انس رضی اللہ عنہ جو اس روایت کے راوی ہیں، فرماتے ہیں کہ جس وقت انصاری صحابی نے کلہاڑی لاکر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں دستہ ڈالا
اس سے صاف ظاہر ہے کہ پیغمبر بزنس کی بنیاد رکھنے والے بھی ہیں ، ان کی ذات ستودہ صفات نے نہ صرف بزنس کی طرف توجہ دلائی بلکہ اس کے لئے کاروبار بھی تجویز فرمایا اور کاروبار کے آغاز کے لئے اپنے مبارک ہاتھوں سے بنیاد بھی رکھی اور فرمایا
"اس کلہاڑی کو لے جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کاٹ کر لاؤ اور اس کو بیچو اور پندرہ روز کے بعد پھر مجھ سے ملنا "
وہ چلے گئے اور پندرہ دن بعد جب خدمت مبارک میں حاضر ہوئے تو وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کہہ رہے تھے
" ان پندرہ دنوں میں دس درہم آمدنی ہوئی، جس میں سے چند درہم کے تو کپڑے خریدے گئے اور چند درہم کا غلہ مول لیا گیا"
اس کا مطلب کہ پیغمبر دوعالم ایک مشاق کنسلٹنٹ کی حیثیت سے فیڈ بیک پراسس بھی لیتے تھے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ بزنس کس نہج پہ جا رہا ہے اور کس طرح کے اخراجات ہو رہے ہیں ؟؟ کیپیٹل کتنا ہے؟؟ اور اس کا مصرف کہاں ہوا ہے ؟؟
انصاری صحابی کی یہ بات سن کر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دمک اُٹھا اور فرمایا:
” یہ بہتر ہے اس سے کہ تم قیامت کے روز بھیک کا داغ اپنے چہرے پر لگائے ہوئے آؤ"
اس آخری بات سے پیغمبر نے تجارتی عمل کی تعریف کی ہے کہ بلا رنگ ونسل اور حیل وحجت خریدو اور بیچو اور جو حاصل ہو اسے اپنے مصرف میں لاو ، شرم اور جھجھک کو ایک طرف رکھتے ہوئے چھوٹے سے چھوٹا بزنس بھی کرنا پڑجائے تو پیچھے مت ہٹو بلکہ میدان عمل میں کود پڑو یہی کامیابی کی معراج ہے.

بے روزگاری اور کم سرمائے کا رونا رونے والوں کے لیے بہترین تحریر لازمی پوری پڑھیں
ایک دفعہ ایک صحابی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور کچھ امداد کے طالب ہوئے
اس کا واضح مطلب معاشی مجبوریوں کا حل بھی در نبوت سے ملتا تھا جبھی اس نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پہ حاضری دی اور آپ نے اس کی بات کو غور سے سننے کے بعد ان سے دریافت فرمایا۔
” تمہارے پاس کوئی چیز بھی ہے“؟
وہ بے چارے اتنے غریب و نادار تھے کہ جواب میں انہوں نے عرض کیا
” میرے پاس صرف ایک ٹاٹ ہے،
جس کے ایک حصہ کو اوڑھ لیتا ہوں اور دوسرے کو بچھاتا ہوں۔
اس کے سوا ایک پیالہ بھی ہے،
جس میں پانی پیتا ہوں۔“
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اسی پیالے اور ٹاٹ کو لے آؤ۔
اس کا مطلب کسی کام کی بنیاد رکھنے کے لئے لازمی ہے کہ اس میں جس قدر ہو سکے ذاتی سرمایہ لگایا جائے تاکہ وہ کاروبار پھل پھول سکے--اب چاہے وہ سرمایہ کم ہی کیوں نہ ہو اسی میں ہی ترقی کا راز چھپا ہے
بالاخر وہ صحابی اپنا ٹاٹ اور پیالہ لے کر آئے، دیکھنے والوں نے دیکھا اور دنیا دنگ رہ گئی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم خود اس پیالہ اور ٹاٹ کو اپنے ہاتھ میں لے کر،
اس کا نیلام کرنے کھڑے ہو گئے اور پکارنے لگے۔
من یشتر ھذین؟
ان دونوں کو کون خریدتا ہے ؟؟
ایک صاحب نے کہا:
انا آخذھما بدرھم․
میں لیتا ہوں ایک درہم میں--'
اس کا مطلب اگر اشیاء کو بیچنے کی نوبت آئے تو آواز لگانا ، پکارنا ، صدا دینا ،
متوجہ کرنا تجارت کا حصہ ہے اور پیغمبر کے اسی عمل سے منڈی کی تجارت کا جواز ملتا ہے اور صحابی کا ان اشیاء کے لئے قیمت پہ راضی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ نیلام ہونے پہ اگر کسی شے کی قیمت آپ کو سمجھ آرہی ہو تو بغیر چھوئے جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پہ خریدا جا سکتا ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی الله علیہ وسلم نے پھر حاضرین کو مخاطب کیا:
من یزید علی درھم؟ ایک درہم پر اضافہ کون کرتا ہے؟
اور لوگوں کو اس طرف توجہ دلوائی بالآخر دو درہم پر بولی ختم ہو گئی--
اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اگر آپ کو پروڈکٹ کی قیمت زیادہ مل رہی ہو تو آپ بیچ سکتے ہیں ، خریدار دیکھنا چاہئے ، اگر قیمت بڑھتی نظر آئے تو فروخت کرنے میں مضائقہ نہیں
بالآ خریدار کو ٹاٹ اور پیالہ دے دیا گیا اور دو درہم جو قیمت میں وصول ہوئے تھے وہ حاجت مند انصاری کے حوالے کرکے ارشاد فرمایا
"ایک درہم سے اناج خریدکر اپنے گھر والوں کودو اوردوسرے درہم سے ایک کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آو "
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر کائنات سرمائے کی کمیت کے مطابق مشورہ بھی دیا کرتے تھے ، اور مشورہ میں انویسٹمنٹ اور انویسٹر کی گھریلو ضروریات کو بھی مدنظر رکھا کرتے تھے --
بزنس کنسلٹنٹ کی حیثیت سے معاشیات کے طالب علم کو سیرت کے اس پہلو سے ضرور واقف ہونا چاہئے
حضرت انس رضی اللہ عنہ جو اس روایت کے راوی ہیں، فرماتے ہیں کہ جس وقت انصاری صحابی نے کلہاڑی لاکر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں دستہ ڈالا
اس سے صاف ظاہر ہے کہ پیغمبر بزنس کی بنیاد رکھنے والے بھی ہیں ، ان کی ذات ستودہ صفات نے نہ صرف بزنس کی طرف توجہ دلائی بلکہ اس کے لئے کاروبار بھی تجویز فرمایا اور کاروبار کے آغاز کے لئے اپنے مبارک ہاتھوں سے بنیاد بھی رکھی اور فرمایا
"اس کلہاڑی کو لے جاؤ اور لکڑیاں کاٹ کاٹ کر لاؤ اور اس کو بیچو اور پندرہ روز کے بعد پھر مجھ سے ملنا "
وہ چلے گئے اور پندرہ دن بعد جب خدمت مبارک میں حاضر ہوئے تو وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے کہہ رہے تھے
" ان پندرہ دنوں میں دس درہم آمدنی ہوئی، جس میں سے چند درہم کے تو کپڑے خریدے گئے اور چند درہم کا غلہ مول لیا گیا"
اس کا مطلب کہ پیغمبر دوعالم ایک مشاق کنسلٹنٹ کی حیثیت سے فیڈ بیک پراسس بھی لیتے تھے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ بزنس کس نہج پہ جا رہا ہے اور کس طرح کے اخراجات ہو رہے ہیں ؟؟ کیپیٹل کتنا ہے؟؟ اور اس کا مصرف کہاں ہوا ہے ؟؟
انصاری صحابی کی یہ بات سن کر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دمک اُٹھا اور فرمایا:
” یہ بہتر ہے اس سے کہ تم قیامت کے روز بھیک کا داغ اپنے چہرے پر لگائے ہوئے آؤ"
اس آخری بات سے پیغمبر نے تجارتی عمل کی تعریف کی ہے کہ بلا رنگ ونسل اور حیل وحجت خریدو اور بیچو اور جو حاصل ہو اسے اپنے مصرف میں لاو ، شرم اور جھجھک کو ایک طرف رکھتے ہوئے چھوٹے سے چھوٹا بزنس بھی کرنا پڑجائے تو پیچھے مت ہٹو بلکہ میدان عمل میں کود پڑو یہی کامیابی کی معراج ہے.

If you want start new business of natural stones tiles, than like this page and inbox us. Www.facebook.com/SandstonesTil...
04/11/2017

If you want start new business of natural stones tiles, than like this page and inbox us.
Www.facebook.com/SandstonesTiles /

Create an account or log into Facebook. Connect with friends, family and other people you know. Share photos and videos, send messages and get updates.

19/06/2017

ﺗﺍﻧﭩﺮﻧﯿﺸﻨﻞ ﭘﺮﯾﺲ ﺍﯾﺠﻨﺴﯽ۔ 2017 ﺀ ‏) ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ ﻣﺎﻧﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮨﮯ۔ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ
ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ ﭘﺮ 25 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﺰﮦ ﻓﺮﯼ، ﻭﯾﺰﮦ ﺁﻥ ﺍﺭﺍﺋﯿﻮﻝ ﯾﺎ ﺍﯼ ﻭﯾﺰﮮ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﺖ
ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 29 ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ 6 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﻐﯿﺮ ﻭﯾﺰﺍ ﮐﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ
ﺩﺍﺧﻠﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﻣﯿﻨﯿﮑﺎ، ﮨﯿﭩﯽ، ﻣﺎﺋﯿﮑﺮﻭﻧﯿﺸﯿﺎ، ﺳﯿﻨﭧ
ﻭﯾﻨﺴﯿﻨﭧ ﻭ ﮔﺮﯾﻨﺎ، ﭨﺮﯾﻨﯿﮉﺍ ﮈﻭ ﭨﻮﺑﺎﮔﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻧﻮﺍﺗﻮ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔ ﮈﻭﻣﯿﻨﯿﮑﺎﮐﺮﯾﺒﯿﻦ
ﺟﺰﺍﺋﺮ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﻠﮏ ﮨﮯ، ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ 21 ﺩﻥ ﺑﻐﯿﺮ ﻭﯾﺰﺍ ﮐﮯ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯽ
ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮨﮯ۔ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﻠﮏ ﻣﺎﻧﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﻌﯿﺸﺖ ﻣﺴﺘﺤﮑﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮐﮯ
ﻣﻮﺍﻗﻊ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺷﮩﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﺧﺮﯾﺪ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﮐﻢ ﮨﮯ۔
ﺳﺴﺘﮯ ﺗﺮﯾﻦ
ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﻄﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ 230 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 206 ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﺱ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ 26 ﻧﻤﺒﺮ ﭘﺮ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ 74 ﮨﺰﺍﺭ ﺳﮯ
ﺯﺍﺋﺪ ﮨﮯ۔ﮨﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﺒﯿﻦ ﺟﺰﺍﺋﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﮏ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞﭙﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﻐﯿﺮ ﻭﯾﺰﺍ ﮐﮯ
ﺗﯿﻦ ﻣﺎﮦ ﺗﮏ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ - ﺳﺴﺘﮯ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﻄﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ
ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ 230 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 148 ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﻭﮌ 5 ﻻﮐﮫ
ﮨﮯ، ﺟﮩﺎﮞ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﯾﻮﻝ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺭﻗﺒﮧ 27,750
ﺳﮑﻮﺍﺋﺮ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮨﮯ۔ﻣﺎﺋﯿﮑﺮﻭﻧﯿﺸﯿﺎ ﺑﺤﺮﺍﻟﮑﺎﮨﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺰﺍﺋﺮ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﻣﻠﮏ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻭﯾﺰﺍ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﺗﮏ ﺭﮨﻨﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺭﻗﺒﮧ 702
ﺳﮑﻮﺍﺋﺮ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ 2016 ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ 5 ﮨﺰﺍﺭ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮐﯽ ﺟﺎﭼﮑﯽ
ﮨﮯ۔
ﻣﻌﯿﺸﺖ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺳﺴﺘﮯ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﻄﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ
ﺷﻤﺎﺭ 230 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 216 ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻣﺰﯾﺪ 8 ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ
ﺑﻮﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻭﺍﻗﻊ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﻠﮏ ﺳﯿﻨﭧ ﻭﯾﻨﺴﯿﻨﭧ ﻭ
ﮔﺮﯾﻨﺎﮈﺍﺋﻨﺰ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﻐﯿﺮ ﻭﯾﺰﺍ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﺗﮏ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺳﺴﺘﮯ
ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﻄﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ 230 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 202 ﭘﺮ
ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻣﮑﻤﻞ
ﺭﻗﺒﮧ ﺻﺮﻑ 389 ﺳﮑﻮﺋﺮ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﮨﮯ۔ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ 102,350 ﺍﻓﺮﺍﺩ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ
ﮨﮯ۔ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﻣﻠﮏ ﭨﺮﯾﻨﯿﮉﺍﮈ ﻭ ﭨﻮﺑﺎﮔﻮ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ 1,220,479 ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ
ﺯﺑﺎﻥ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺮﯾﺒﯿﻦ ﮨﻨﺪﺳﺘﺎﻧﯽ، ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ، ﮨﺴﭙﺎﻧﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻨﯽ
ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﻮﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ﭨﺮﯾﻨﯿﮉﺍﮈ ﻭ ﭨﻮﺑﺎﮔﻮ ﮐﺎ ﺭﻗﺒﮧ 5,128 ﺳﮑﻮﺋﺮ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ
ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺳﺴﺘﮯ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﻄﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ 230 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ
111 ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﻐﯿﺮ ﻭﯾﺰﺍ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﺗﮏ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ
ﮨﯿﮟ۔ﻭﺍﻧﻮﺍﺗﻮ ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻭﺍﻗﻊ ﺟﺰﺍﺋﺮ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﻣﻠﮏ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮦ ﺗﮏ
ﺑﻐﯿﺮ ﻭﯾﺰﺍ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔ﺳﺴﺘﮯ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﻄﻮﮞ ﮐﯽ
ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ 230 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 207 ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ 12,189 ﺳﮑﻮﺋﺮ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ

26/01/2017

بزنس ٹپ
رسک منیجمنٹ
کوئی بھی کاروبار شروع کرنے سے پہلے اس میں رسک کی شرح دیکھو اور اسے کم سے کم کرنے کی کوشش کرو ویسے تو ہر کام میں رسک ہوتا ہے مگر رسک کو کم سے کم سطح پر لانے کو رسک منیجمنٹ کہتے ہیں
رسک کو کم کرنے کے لیے ٹائم منیجمنٹ ضروری ہے جتنا کم ٹائم لگے گا رسک اتنا ہی کم ہوگا
کلیم خان

Address

Rawalpindi
47040

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Exhibition Organizing Skill posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Exhibition Organizing Skill:

Share