21/09/2026
سیریبرل پالسی (Cerebral Palsy) کی تشخیص کے بعد والدین کا سب سے عام سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا ان کا بچہ مستقبل میں خود چل سکے گا یا نہیں۔ اگرچہ ہر بچے کی حالت مختلف ہوتی ہے اور حتمی رائے صرف تفصیلی طبی معائنے کے بعد ہی دی جا سکتی ہے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچے میں عمر کے ساتھ حاصل ہونے والی مختلف صلاحیتیں مستقبل میں بچے میں خود سے چلنے کے امکانات کے بارے میں اہم اشارے فراہم کر سکتی ہیں۔
بچے میں مثبت علامات، جو چلنے کے بہتر امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہیں:
اگر بچہ دو سال کی عمر تک بغیر سہارے کے بیٹھنا سیکھ جائے تو یہ ایک حوصلہ افزا علامت سمجھی جاتی ہے۔ بغیر سہارے بیٹھنے کی صلاحیت جسمانی توازن اور پٹھوں کے کنٹرول کی بہتر نشوونما کو ظاہر کرتی ہے، اور ایسے بچوں میں بعد میں چلنے کے امکانات عموماً زیادہ ہوتے ہیں۔
اگر بچہ دو سال کی عمر تک کسی چیز یا فرنیچر کو پکڑ کر کھڑا ہو سکے تو یہ بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹانگوں میں وزن برداشت کرنے کی صلاحیت اور جسمانی کنٹرول بہتر ہو رہا ہے، جو چلنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
اگر بچہ تین سال کی عمر تک چند قدم خود چل سکے تو مستقبل میں مکمل طور پر خود سے چلنے کے امکانات کافی بہتر ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچے عموماً وقت کے ساتھ مزید اعتماد اور مہارت کے ساتھ چلنا سیکھ لیتے ہیں۔
وہ علامات جو چلنے کے امکانات کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں:
اگر بچہ دو سال کی عمر تک اپنی گردن سنبھالنے کے قابل نہ ہو تو یہ دماغ اور پٹھوں کے کنٹرول میں نمایاں دشواری کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسے بچوں میں آزادانہ چلنے کے امکانات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں، اگرچہ ہر بچے میں صورتحال مختلف ہوتی ہے۔
اگر بچہ تین سال کی عمر تک بغیر سہارے نہ بیٹھ سکے تو یہ توازن اور جسمانی کنٹرول میں زیادہ متاثر ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے بچوں کو چلنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے زیادہ وقت، علاج اور بحالی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اگر بچہ تین سے چار سال کی عمر تک سہارے کے ساتھ بھی کھڑا نہ ہو سکے تو یہ ٹانگوں کی طاقت، توازن اور حرکت کے کنٹرول میں نمایاں مشکلات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایسے بچوں میں آزادانہ چلنے کے امکانات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ تمام علامات صرف عمومی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ سیریبرل پالسی کے ہر بچے کی حالت، دماغی چوٹ کی نوعیت، بیماری کی شدت اور علاج کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ بعض بچے توقع سے بہتر ترقی کرتے ہیں جبکہ بعض کو زیادہ وقت اور بحالی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے کسی بھی بچے کے مستقبل اور چلنے کے امکانات کے بارے میں حتمی رائے صرف ایک ماہر چائلڈ نیورولوجسٹ کے تفصیلی معائنے کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی