Dr sajjad Ahmad

Directions

Dr sajjad Ahmad Child Specialist

21/09/2026

سیریبرل پالسی (Cerebral Palsy) کی تشخیص کے بعد والدین کا سب سے عام سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا ان کا بچہ مستقبل میں خود چل سکے گا یا نہیں۔ اگرچہ ہر بچے کی حالت مختلف ہوتی ہے اور حتمی رائے صرف تفصیلی طبی معائنے کے بعد ہی دی جا سکتی ہے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچے میں عمر کے ساتھ حاصل ہونے والی مختلف صلاحیتیں مستقبل میں بچے میں خود سے چلنے کے امکانات کے بارے میں اہم اشارے فراہم کر سکتی ہیں۔

بچے میں مثبت علامات، جو چلنے کے بہتر امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہیں:

اگر بچہ دو سال کی عمر تک بغیر سہارے کے بیٹھنا سیکھ جائے تو یہ ایک حوصلہ افزا علامت سمجھی جاتی ہے۔ بغیر سہارے بیٹھنے کی صلاحیت جسمانی توازن اور پٹھوں کے کنٹرول کی بہتر نشوونما کو ظاہر کرتی ہے، اور ایسے بچوں میں بعد میں چلنے کے امکانات عموماً زیادہ ہوتے ہیں۔

اگر بچہ دو سال کی عمر تک کسی چیز یا فرنیچر کو پکڑ کر کھڑا ہو سکے تو یہ بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹانگوں میں وزن برداشت کرنے کی صلاحیت اور جسمانی کنٹرول بہتر ہو رہا ہے، جو چلنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

اگر بچہ تین سال کی عمر تک چند قدم خود چل سکے تو مستقبل میں مکمل طور پر خود سے چلنے کے امکانات کافی بہتر ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچے عموماً وقت کے ساتھ مزید اعتماد اور مہارت کے ساتھ چلنا سیکھ لیتے ہیں۔

وہ علامات جو چلنے کے امکانات کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں:

اگر بچہ دو سال کی عمر تک اپنی گردن سنبھالنے کے قابل نہ ہو تو یہ دماغ اور پٹھوں کے کنٹرول میں نمایاں دشواری کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسے بچوں میں آزادانہ چلنے کے امکانات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں، اگرچہ ہر بچے میں صورتحال مختلف ہوتی ہے۔

اگر بچہ تین سال کی عمر تک بغیر سہارے نہ بیٹھ سکے تو یہ توازن اور جسمانی کنٹرول میں زیادہ متاثر ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے بچوں کو چلنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے زیادہ وقت، علاج اور بحالی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اگر بچہ تین سے چار سال کی عمر تک سہارے کے ساتھ بھی کھڑا نہ ہو سکے تو یہ ٹانگوں کی طاقت، توازن اور حرکت کے کنٹرول میں نمایاں مشکلات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایسے بچوں میں آزادانہ چلنے کے امکانات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں۔

یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ تمام علامات صرف عمومی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ سیریبرل پالسی کے ہر بچے کی حالت، دماغی چوٹ کی نوعیت، بیماری کی شدت اور علاج کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ بعض بچے توقع سے بہتر ترقی کرتے ہیں جبکہ بعض کو زیادہ وقت اور بحالی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے کسی بھی بچے کے مستقبل اور چلنے کے امکانات کے بارے میں حتمی رائے صرف ایک ماہر چائلڈ نیورولوجسٹ کے تفصیلی معائنے کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

20/09/2026
19/09/2026

بچے کو بخار ہو تو پیناڈول یا بروفین دینے کے فوراً بعد تھرمامیٹر چیک کرنا اور 10، 15 یا 20 منٹ میں بخار کم نہ ہونے پر پریشان ہونا بہت عام ہے۔

لیکن جلدی سے دوسری خوراک دینا بالکل درست نہیں۔

پیناڈول (Paracetamol) یا بروفین (Ibuprofen) دینے کے بعد عموماً تقریباً 30 منٹ میں اثر شروع ہونا چاہیے، جبکہ اگلے 1–2 گھنٹوں میں بخار میں کمی اور بچے کی بے آرامی میں بہتری زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ دوا دینے کے بعد بخار فوراً 37°C ہو جائے۔

مثلاً بچے کا بخار 39°C ہے اور دوا دینے کے بعد کچھ دیر میں 38°C یا 38.2°C ہو جاتا ہے اور بچہ پہلے سے بہتر محسوس کر رہا ہے تو صرف اس وجہ سے دوبارہ دوا دینے کی ضرورت نہیں کہ بخار ابھی مکمل ختم نہیں ہوا۔

اصل چیز صرف تھرمامیٹر کا نمبر نہیں، بچے کی حالت ہے۔
بچہ پانی یا دودھ پی رہا ہے؟ سانس ٹھیک ہے؟ پیشاب مناسب آ رہا ہے؟ پہلے سے زیادہ آرام دہ اور فعال ہے؟ یہ سب چیزیں بھی دیکھیں۔

سب سے عام غلطی یہ ہے کہ دوا کا اثر شروع ہونے سے پہلے ہی دوبارہ خوراک دے دی جاتی ہے۔ پیناڈول کے فوراً بعد دوبارہ پیناڈول یا بروفین کے فوراً بعد دوبارہ بروفین نہ دیں۔ ہر دوا کے درمیان مناسب وقفہ ضروری ہے اور خوراک ہمیشہ بچے کے وزن اور دوا کی طاقت کے مطابق ہونی چاہیے۔

اسی طرح پیناڈول اور بروفین کو خود سے ایک ساتھ نہ دیں۔ اگر ایک دوا کے بعد بھی بچہ بہت بے آرام ہو تو دوسری دوا کا فیصلہ بچے کی حالت کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ پیناڈول اور بروفین بخار کی وجہ کا علاج نہیں کرتیں۔ ان کا اثر ختم ہونے کے بعد بخار دوبارہ بڑھ سکتا ہے اور یہ لازماً بیماری کے بگڑنے کی علامت نہیں۔

آسان اصول:
دوا دیں → تقریباً 30 منٹ انتظار کریں → بچے کی حالت دیکھیں → جلدی سے دوسری خوراک نہ دیں۔

اگر بخار کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی غنودگی یا بے ہوشی، دورہ، گردن اکڑنا، مسلسل الٹی، شدید پانی کی کمی، بہت کم پیشاب، دبانے سے غائب نہ ہونے والے دانے یا تیزی سے بگڑتی ہوئی حالت ہو تو فوری طبی معائنہ کروائیں۔

خاص طور پر تین ماہ سے کم عمر بچے میں 38°C یا اس سے زیادہ بخار فوری طبی معائنے کا تقاضا کرتا ہے۔

اگر یہ معلومات آپ کو مفید لگی ہوں تو دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں اور بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

🎯📝Arrhythmias made easy 🩺🏥✅Arrhythmias ️✅Bradyarrhythmias ️✅️Heart block ✅️Tachyarrythmia ✅Supraventricular tachycardia ...
19/09/2026

🎯📝Arrhythmias made easy 🩺🏥
✅Arrhythmias
️✅Bradyarrhythmias
️✅️Heart block
✅️Tachyarrythmia
✅Supraventricular tachycardia
️✅️Atrial fibrillation
✅️Atrial flutter

18/09/2026

آج ایک بچے کو دیکھا، جو چلنے میں دشواری کے ساتھ آیا تھا۔ بچے کی معائنہ کے دوران ایک اہم پہلو یہ تھا کہ میں نے اس کی کمر کے تفصیلی معائنہ پر نچلے حصے میں غیر معمولی بال (abnormal hairs) دیکھے گئے، جو اکثر ایک چھپی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے مسئلے کی نشانی ہو سکتے ہیں۔
مزید تشخیص کے لیے ایم آر آئی کروائی گئی، جس سے پتا چلا کہ بچے کی ریڑھ کی ہڈی اور سپائنل کارڈ میں بعض خامیاں موجود ہیں، ہرام مغز یا سپائنل کارڈ جڑی ہوئ ہےجس سے بچے میں یہ سب مسائل آرہے ہیں۔ یہ بروقت تشخیص اس لیے بہت اہم ہے کہ اگر اس کو نظر انداز کیا جائے تو پاؤں کی حرکت، محسوس کرنے کی حس، اور مثانے اور آنت کے کنٹرول پر مستقل اثر پڑ سکتا ہے۔
ریڑھ کی ہڈی کے مسائل بعض اوقات جلد پر چھپے ہوئے علامات کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ ان علامات میں کمر پر بالوں کا چھوٹا گچھا، سرخ نشان، گڑھا، یا دیگر غیر معمولی دھبےشامل ہیں۔ والدین اور ڈاکٹرز کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ صرف جلد کی نشانی نہیں، بلکہ اندرونی ریڑھ کی ہڈی کی بیماری کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
اس طرح کے مریضوں میں مختلف مسائل دیکھنے کو مل سکتے ہیں، جن میں مثانے اور آنت کے کنٹرول کا متاثر ہونا، مختلف سنسری مسائل جیسے پاوں یا ٹانگوں میں محسوس نہ ہونا یا جلن، اور بعض اوقات ہڈی یا پٹھوں میں درد شامل ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مسائل مستقل ہو سکتے ہیں۔
ایسے کیسز میں مریض کو نیوروسرجری کے لیے ریفر کیا جاتا ہے تاکہ سپائنل کارڈ کی کمر کی ہڈی سے جڑے ہوئ جگہ کو الگ کیا جا سکے ۔ سرجری کے بعد مریض کی حالت کی نگرانی، فزیوتھراپی، اور نیورولوجیکل فالو اپ ضروری ہیں تاکہ ٹانگوں کی حرکت اور محسوس کرنے کی حس میں بہتری آئے اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ والدین کو یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ ابتدائی شناخت، جلد کی علامات پر توجہ، اور بروقت تشخیص سے بچوں کی زندگی مکمل اور نارمل بنائی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

17/09/2026

نوزائیدہ بچے کو سردی سے بچانا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اتنے زیادہ کپڑے پہنا دیے جائیں کہ بچہ پسینے میں بھیگ جائے۔ ہمارے ہاں اکثر نومولود کو کئی تہوں میں لپیٹ دیا جاتا ہے، سر پر موٹی ٹوپی، اوپر کمبل اور پھر رضائی بھی ڈال دی جاتی ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ جتنا زیادہ گرم رکھیں گے، بچہ اتنا ہی محفوظ رہے گا، لیکن نوزائیدہ کو بہت زیادہ گرم کرنا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

نوزائیدہ بچے کا جسم بڑوں کی نسبت درجہ حرارت کو خود کنٹرول کرنے میں کم ماہر ہوتا ہے، اس لیے اسے مناسب گرم رکھنا ضروری ہے۔ لیکن بچے کے لیے کپڑوں کی کوئی ایک مقررہ تعداد نہیں کہ ہر موسم اور ہر گھر میں اتنے ہی کپڑے پہنائے جائیں۔ عام اصول یہ ہے کہ بچے کو اسی ماحول میں موجود ایک بالغ شخص سے تقریباً ایک تہہ زیادہ کپڑے پہنائے جا سکتے ہیں، مگر اس کے ساتھ بچے کے جسم کی حالت بھی دیکھنا ضروری ہے۔

یہ جانچنے کے لیے کہ بچہ بہت گرم تو نہیں ہو رہا، صرف اس کے ہاتھ اور پاؤں کو چھونا کافی نہیں۔ نوزائیدہ کے ہاتھ پاؤں نسبتاً ٹھنڈے محسوس ہو سکتے ہیں اور یہ لازماً جسم کے ٹھنڈا ہونے کی علامت نہیں۔ بچے کی گردن، سینہ یا پیٹھ کو چھو کر اندازہ کرنا زیادہ مفید ہے۔ اگر وہاں بہت زیادہ گرمی یا پسینہ محسوس ہو تو بچے کو ایک تہہ کم کپڑے پہنائیں۔

بچے کو بہت زیادہ گرم رکھنے سے اس کا جسم غیر ضروری طور پر گرم ہو سکتا ہے اور نیند کے دوران SIDS یعنی اچانک شیر خوار بچے کی موت کے خطرے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سوتے وقت بچے کو موٹے کمبلوں، بھاری رضائیوں یا ایسی تہوں میں لپیٹنا مناسب نہیں جن سے اس کا چہرہ ڈھکنے یا جسم زیادہ گرم ہونے کا امکان ہو۔

خصوصاً بچے کے سر اور چہرے کو ڈھانپ کر نہ سلائیں۔ گھر کے اندر سوتے ہوئے عموماً ٹوپی کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ سر کے ذریعے جسم کی حرارت خارج ہوتی ہے اور بہت زیادہ ڈھانپنے سے بچہ زیادہ گرم ہو سکتا ہے۔ کمبل استعمال کرنا ہو تو وہ ہلکا ہو اور بچے کے سینے سے نیچے تک ہو، لیکن اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ مناسب لباس یا محفوظ سلیپنگ بیگ استعمال کیا جائے جو چہرے تک نہ آئے۔

دوسری طرف اگر موسم بہت سرد ہو تو بچے کو بالکل ہلکے کپڑوں میں چھوڑ دینا بھی درست نہیں۔ نوزائیدہ کا جسم بہت زیادہ ٹھنڈا ہونے کی صورت میں بھی مشکل میں پڑ سکتا ہے۔ اگر بچہ غیر معمولی طور پر ٹھنڈا محسوس ہو، دودھ کم پئے، بہت سست ہو جائے یا اس کا جسم مسلسل ٹھنڈا رہے تو اسے گرم ماحول میں مناسب طریقے سے لانے کے ساتھ طبی معائنہ بھی ضروری ہو سکتا ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بخار کو صرف کپڑے اتار کر یا بچے کو ٹھنڈا کر کے علاج کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر نوزائیدہ کا جسم گرم محسوس ہو تو درجہ حرارت تھرمامیٹر سے چیک کرنا چاہیے۔ خاص طور پر تین ماہ سے کم عمر بچے میں بخار کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور طبی مشورہ ضروری ہوتا ہے۔

سردی سے بچانے کا بہترین طریقہ بچے کو تہہ در تہہ لپیٹ دینا نہیں، بلکہ موسم کے مطابق مناسب لباس، مناسب کمرے کا درجہ حرارت اور بچے کی گردن یا سینے کی گرمی کو دیکھنا ہے۔ اگر بچہ پرسکون ہے، دودھ ٹھیک پی رہا ہے، پسینہ نہیں آ رہا اور اس کا جسم نہ بہت گرم ہے نہ غیر معمولی طور پر ٹھنڈا، تو عموماً لباس مناسب ہے۔

نوزائیدہ کو محفوظ رکھنے کے لیے صرف یہ سوچنا کافی نہیں کہ "بچے کو سردی نہ لگے"؛ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اسے ضرورت سے زیادہ گرمی بھی نہ دی جائے۔ مناسب گرمی اور ضرورت سے زیادہ گرمی کے درمیان فرق سمجھنا بھی نوزائیدہ کی دیکھ بھال کا اہم حصہ ہے۔

اگر یہ معلومات آپ کو مفید لگی ہوں تو دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں اور بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

15/09/2026

زیادہ تر والدین کے لیے EEG کروانے کے بعد سب سے پہلا مرحلہ رپورٹ کو دیکھنا ہوتا ہے۔ عام طور پر EEG مکمل ہونے کے بعد آپ کو ایک پرنٹ شدہ رپورٹ ملتی ہے، جس میں ایک صفحہ ایسا ہوتا ہے جس پر نتیجہ یا خلاصہ لکھا ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ چند مزید صفحات ہوتے ہیں جن میں مختلف لکیریں بنی ہوتی ہیں۔ یہ لکیریں دراصل بچے کے دماغ میں پیدا ہونے والی برقی سرگرمی کی ریکارڈنگ ہوتی ہیں، جو سر کی جلد پر لگے الیکٹروڈز کے ذریعے محفوظ کی جاتی ہیں۔ یہ لکیریں ڈاکٹر کے لیے دماغ کی کارکردگی کو سمجھنے کا ذریعہ بنتی ہیں، مگر عام والدین کے لیے ان کو خود سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔
اکثر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر EEG رپورٹ نارمل آ جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے کو کوئی بیماری نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نارمل رپورٹ کا مطلب یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اس وقت دماغ میں کوئی واضح غیر معمولی برقی سرگرمی ریکارڈ نہیں ہوئی، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بچے کو مرگی یا دوروں کا مسئلہ بالکل نہیں ہو سکتا۔ چونکہ EEG زیادہ تر دورے کے درمیان کیا جاتا ہے، اس لیے بعض بچوں میں مرگی ہونے کے باوجود رپورٹ نارمل آ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے EEG کو ہمیشہ بچے کی علامات، دورے کی ویڈیو، اور مکمل طبی تاریخ کے ساتھ ملا کر دیکھا جاتا ہے۔
اسی طرح اگر EEG رپورٹ میں غیر معمولی برقی سرگرمی لکھی ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچے کو لازماً دورے پڑتے رہیں گے یا مسئلہ بہت شدید ہے۔ بعض بچوں میں ایسی تبدیلیاں نظر آ سکتی ہیں مگر عملی طور پر دورے کم یا بالکل نہیں ہوتے۔ اس لیے رپورٹ کے الفاظ سے گھبرانے کے بجائے ضروری ہے کہ اسے ماہر چائلڈ نیورولوجسٹ سے تفصیل سے سمجھا جائے۔
اکثر والدین یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا EEG بار بار کروانے کی ضرورت ہوتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر بچے میں بار بار EEG کروانا ضروری نہیں ہوتا۔ EEG عام طور پر تشخیص میں مدد کے لیے کیا جاتا ہے، علاج کے دوران روزمرہ نگرانی کے لیے نہیں۔ اگر بچہ دواؤں کے ساتھ ٹھیک چل رہا ہو اور دورے کنٹرول میں ہوں تو بار بار EEG کی ضرورت نہیں پڑتی۔ البتہ بعض صورتوں میں، جیسے دوروں کی نوعیت بدل جائے، دوبارہ دورے شروع ہو جائیں، یا علاج کے بارے میں نیا فیصلہ کرنا ہو، تو EEG دوبارہ کیا جا سکتا ہے۔
مرگی کی دوائیں بند کرنے سے پہلے EEG کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ جب بچہ کافی عرصے تک دوروں سے محفوظ رہے اور دوا کم یا بند کرنے کا منصوبہ ہو، تو اس وقت EEG کر کے دماغ کی برقی سرگرمی دیکھی جاتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر رپورٹ نارمل ہو تو دوا کم کرنے کا فیصلہ نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، جبکہ غیر معمولی رپورٹ کی صورت میں دوا جاری رکھنے یا مزید احتیاط کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ EEG رپورٹ وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے۔ ایک ہی بچے کی مختلف عمر میں کی گئی رپورٹس مختلف ہو سکتی ہیں۔ بعض بچوں میں ابتدا میں غیر معمولی سرگرمی نظر آتی ہے جو عمر کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے، جبکہ بعض میں نارمل رپورٹ کے باوجود مستقبل میں دورے آ سکتے ہیں۔ اسی لیے EEG رپورٹ کو کبھی بھی اکیلے فیصلہ کن نہ سمجھا جائے۔
آخر میں والدین کے لیے سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ EEG رپورٹ ایک تشخیصی ذریعہ ہے، مکمل فیصلہ نہیں۔ رپورٹ کے نمبروں، اصطلاحات یا لکیروں سے خود نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے ہمیشہ ماہر چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کیا جائے۔ بچے کی مجموعی حالت، نشوونما، دوروں کی تفصیل اور رپورٹ سب مل کر ہی درست علاج اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

Address

Tufail Medical Center Naya Mahala Opposite Anty Para Hotel Liquat Road
Sheikhupura
39650

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr sajjad Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share