Abacus Business Solutions

Abacus Business Solutions ABS Provide You a Best Solutions For Your Business Issues such as Sales and Marketing , Purchasing ,

ABS Provide You a Best Solutions For Your Business Issues such as Sales and Marketing , Purchasing , Advertising , Engineering , Product Sourcing , Administration Etc.

03/03/2024

C'mon, accept my invitation and win together!

03/03/2024
26/11/2023

Wheel on the bus go round and round

26/09/2022

ہمارے ہمسائے میں ایک بچے کو نجانے کیا ہوا، کہتا ہے کہ ٹانگ کاٹ دو!
اب آپ مجھے بتائیں کہ کیا والدین اسکی ٹانگ کٹوا دیتے؟
کٹوانی چاہیے کیوں کہ اسکا حق ہے جو چاہے اپنے لئے سوچے! وہ خود یہ اتھارٹی رکھتا ہے کہ اپنی ٹانگ کٹوا سکتا ہے جیسے عضو تناسل یا چھاتی کٹوائی جا سکتی ہے ٹرانس جینڈرز میں!
اگر آپ پاکستانی "ٹرانسجینڈر لاء" پر اسلامی نظریے سے سوچ رہے ہیں یا انسانی نظریے سے
یہ پوسٹ آپ سب کے لئے ہے۔
پیشگی معذرت یہ لمبی پوسٹ ہے! تھوڑا برداشت کیجئے!
ٹرانس جینڈر پر اتنی آگاہی آ چکی ہے کہ ہم سب کو اب علم ہے کہ ٹرانس جینڈر پیدائشی نہیں ہوتے، بلکہ ایسے انسان ہوتے ہیں جو بعد میں اپنے آپ کو دوسری جنس کا سمجھنے لگتے ہیں۔ جیسے مرد اپنے آپ کو عورت سمجھنا شروع کر دے یا عورت اپنے آپ کو مرد!
یہ سمجھتے ہیں کہ غلط جسم میں انکی روح قید ہو گئ ہے۔ (اللّه کی تخلیق پر سوال)
یہ سمجھتے ہیں کہ انکو اپنے جسم کے حصّے کٹوا کر دوسرے جینڈر میں تبدیل ہو جانا چاہیے!
پیدائشی طور پر ہمارے پاس صرف 2 ہی قسم کے جینز پائے جاتے ہیں مرد یا عورت۔ اور جنیاتی طور پر عورت XX ہوتی ہے جب کہ مرد XY ہوتا ہے۔ اچھا یہاں بہت بڑا سوال آتا ہے قدرت پر کہ کیسے XX, XY اپس میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ آپ ایک XX کروموسومز والے کو سپرم بنانے پر کیسے لگا سکتے ہیں جب یہ اس میں قابلیت ہی نہیں ہے؟؟ تو یہ تو سراسر ظلم ہے اس انسان پر جو ایسی سرجری کرواتے ہیں۔ انکو تو دماغی مسئلہ تھا جسے جینڈر ڈسمورفیا کہا جاتا ہے۔ ابھی تک ایک بھی سائنسی ریسرچ ثابت نہیں کر سکی کہ یہ ان میں پیدائشی ہوتا ہے صرف 2 سائنسی ریسیرچز نے یہ "ہائپوتھیسس" دی ہے کہ یہ پیدائشی ہی دماغ خراب ہوتا ہے مگر سائنس میں ہائپو تھیسس کی ویلیو صفر ہوتی ہے جب تک وہ ثابت نہ ہو۔ ہم اس کے مقابلے میں ان کو توجہ کا مرکز بنائیں گے جو ثابت شدہ ہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے دنیا کی ساری ٹاپ یونیورسٹیز اس بات کو ثابت کرنے میں ایڑھی چوٹی کا زور ضرور لگا رہی ہیں۔
اب آپ لوگوں کا سوال ہو گا کہ جو خنثی (intersex) ہوتے ہیں وہ کس زمرے میں آتے ہیں. انسانی انڈے کی fertilization کے 5 ہفتے بعد اپکے جینز مرد یا عورت کی نشاندہی کر لیتے ہیں مگر کچھ انسانوں میں یہ ناکام ہو جاتے ہیں اور SRY جین شائد ایکٹو ہو جاتا ہے (ہائپو تھیسس) جس کی وجہ سے ان کے سیلز نہ تو مرد ہوتے نہ عورت بلکہ ان میں یہ پوٹینشل ہوتا ہے کہ وہ مرد بھی ہو سکتے ہیں اور عورت بھی۔ اور ایسے ان میں کچھ بھی صحیح طرح نہیں بن سکتا اور ان کی جنس ادھوری رہ جاتی ہے۔ یہ جینیٹک ڈس ارڈر ہے۔ مگر ایک مکمل مرد جو بعد میں اپنے آپکو عورت ڈیکلئر کرتا ہے اور مکمّل عورت جو مرد سمجھنا شروع کر دیتی ہیں یہ ذہنی بیماری ہے اور سائنس ابھی تک ثابت کرنے سے قاصر ہے کہ یہ ان میں پیدائشی نقص تھا۔
جن میں بھی جینڈر ڈیسمورفیا ہو جاتا ہے اسکو 2-1 سال تک Endocrinologist ہارمونز دیتے ہیں۔ عورت میں ایسٹروجن پایا جاتا ہے اور مرد میں ٹیسٹوسٹیرون۔ مرد کو ایسٹیروجن دیا جاتا ہے تا کہ اس میں جسمانی تبدیلیاں کی جائیں۔ یہ ہارمون تھراپی کے بعد سرجری کی جاتی ہے۔ اور اس کے بعد بھی اپکو سائیکولوجیکل ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرہ قبول نہیں کرتا اور ایسے افراد میں %50 لوگوں کو ڈپریشن ہوتا ہے اور %26 لوگ خودکشی کر لیتے ہیں۔
ڈپریشن مایوسی کی طرف لے جاتی ہے اور برائی کا گڑھ بن جاتی ہے۔ کئی ایسی سائنسی رپورٹس آ چکی ہیں جس میں یہ واضح ہے کہ ان کی سوچ ایسی اس لئے ہو جاتی ہے کیوں کہ ان پر والدین کی طرف سے ظلم ہوتا ہے یہ اپنے ساتھیوں کی طرف سے ہتک آمیز رویہ! جس کہ نتیجہ میں یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہمارا جینڈر بدل جاۓ تو ہم زیادہ خوش رہ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال کسی حد تک بھی جا سکتی ہے جس میں ڈپریشن کی انتہائی حد شامل ہے۔ اور پھر جب والدین اور ڈاکٹر اس چیز کو سپورٹ کرتے ہیں اور بچے کو ٹرانس جینڈر بنا دیتے ہیں تو یہ نہ صرف قدرت کے قانون کے خلاف جنگ ہے بلکہ آپ نے ایک انسانی جسم کے ساتھ بھی کھیلا ہے۔ کیا وہ یہ کہتا کہ میری ٹانگ کاٹ دو تو اپ والدین اور ڈاکٹر کاٹ دیتے؟
ایسے لوگوں کا علاج کیا ہونا چاہیے اگر کوئی اپنے آپ کو دوسری جنس کا سمجھتا ہے تو اس کا علاج سائیکولوجیکل ہی ہے۔ ایک ماہر نفسیات سے تھراپیز لی جائیں۔ ماں باپ بہترین تواجہ دیں اور پیار کی جو کمی وہ دوسری جنس میں تلاش کر رہے ہیں وہ ماں باپ پوری کریں۔
پھر ایک منٹ آپ سوچ کر تو دیکھیں کہ یہ کیسی کیسی معاشرتی بیماریوں کا سبب بنے گا!
عورت مرد بنے گی اور مرد عورت بنے گا تو انکے پبلک غسل خانوں کا کیا ہو گا!؟
مرد سے پردے کا کیا ہو گا؟
مرد کا حصّہ اسلام میں دوگنا ہے جب کہ عورت کا ایک! یہ تو فسادات کی لمبی فہرست شروع ہو جاۓ گی۔
اور سب سے بڑا مسئلہ
شادی!!!!!
عورت عورت سے شادی کرے گی اور مرد مرد سے! کیا یہ قوم لوط کا فعل نہیں؟ یا اب آپ نے اسلام میں یہ جائز دے دیا ہے؟؟ کون ہیں آپ جائز قرار دینے والے؟ نیا اسلام نکالنے والے؟
اللّه نے اپنے قانون میں ایسا کچھ بھی ردوبدل قبول نہیں کرنا!
انسانیت کے تحت بھی یہ قابل قبول نہیں ہے آپ کو اتنا تو اندازہ ہو جانا چاہیے اب تک!
پھر
پاکستان میں حالات مزید مختلف ہیں۔ یہاں پر ایسی سرجریز کے تحت تبدیل ہونے والے چند ایک ہیں مگر مرد کے بھیس میں عورت اور عورت کے بھیس میں مرد اپنی من موجیں کر رہے ہیں۔ اور لعنت ہے ان درباری گنڈوں پر جنہوں نے "Self Perceived" جینڈر ائڈینٹی کا نام دی کر کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ آپ کی مرضی ہے تو جائیں نادرا اور عورت بن جائیں اور کریں ایک اسلامی ملک میں قانونی طریقے سے ہم جنس پرستی۔
واہ بھائی واہ!!
معذرت میری تلخ باتوں کے لئے! مگر آپ اپنی آنکھیں نہیں کھولنا چاہتے تو یقین کریں اللّه نے آپ کے لئے پہلے قرآن مجید میں کہہ رکھا ہے۔
" 02-سورۃ البقرہ-آیت نمبر 171)
ترجمہ: " یہ لوگ بہرے، گونگے، اندھے ہیں سو انہیں کوئی سمجھ نہیں"

اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آیات کافروں کے لئے ہیں اور ہم نام نہاد مسلمانوں کے لئے نہیں تو تب بھی میں کلئیر کر دوں کہ اللّه کے احکامات نہ ماننے والوں کو کافر کہا جاتا ہے نادرا کے شناختی کارڈ پر مسلمان لکھنے سے ہم مسلمان ڈکلیر نہیں ہو جاتے۔
پاکستان کے ٹرانس جینڈر قانون میں مسئلہ کیا ہے جس پر ہم اتنا چیخ رہے ہیں۔
1۔ self perceived gender identity
یہ کسی باقاعدہ اصول کے تحت ہونی چاہیے۔ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیے۔
2۔ transgender word should be changed with intersex word.
آخر میں، میں آپکو ایک یاد دہانی مزید کرانا چاہوں گی بطور مسلمان!

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس کسی نے برائی دیکھی پھر اسے اپنے ہاتھ سے دور کر دیا تو وہ بری ہو گیا، اور جس میں ہاتھ سے دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے زبان سے دور کر دی ہو تو وہ بھی بری ہو گیا، اور جس میں اسے زبان سے بھی دور کرنے کی طاقت نہ ہو اور اس نے اسے دل سے دور کیا ۱؎ تو وہ بھی بری ہو گیا اور یہ ایمان کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے“۔
اپنے ایمان کے آخری درجے کو بچا لیں!! خدا راہ پلیز!
اور بھی لکھنا چاہتی ہوں میں!!
جب یہ فتنہ عنقریب بہت پھیلے گا تو ہمارے ہی بچوں کے ساتھ اسکول میں ٹرانس جینڈر سوچ والے بچے پڑھ رہے ہوں گے چونکہ قانونی آزادی ہے تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ کتنی جلدی ہم تک پہنچ سکتا ہے! یہ سائنسی اعتبار سے ثابت شدہ ہے کہ بچے اپنے ساتھیوں کا اثر لیتے ہیں تو ہمارے گھر کا رخ کرنے میں اس فتنے کو کتنی دیر لگے گی؟؟؟
کیا ہمارے گھر محفوظ ہیں؟
کیا ہم یہ برداشت کریں گے کہ ہمارا بچہ بھی ٹرانس جینڈر ہو جاۓ یا شائد مستقبل میں اسکی شادی کسی ٹرانس جینڈر سے ہو جاۓ؟؟
پھر!
اپکی خاموشی کتنی دور تک جا سکتی ہے؟
سوچیں!!
ڈاکٹر زرین زہرا

Links:
Transgender Law of Pakistan

29/08/2022

Chinese Rescue Team

28/08/2022

کافی عرصہ پہلے ہمارے ایک سابق وزیراعظم سنگاپور کے دورے پر گئے اور بابائے سنگاپور لی کو آن یو کے ساتھ ملاقات کی (جو 2015 میں انتقال کرچکے ہیں).

گفتگو کے آغاز میں لی کو آن یو نے انکشاف کیا وہ مختلف حیثیتوں سے 8 مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں لہٰذا وہ پاکستان کے جغرافیے، رسم و رواج اور لوگوں سے پوری طرح واقف ہیں.

سابق وزیراعظم نے ان سے پوچھا ”کیا آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان بھی کبھی سنگا پور بن جائے گا“
لی کو آن نے ذرا دیر سوچا اور انکار میں سر ہلا دیا، ان کا رد عمل خاصا سفاک، کھرا اور غیر سفارتی تھا. حاضرین پریشان ہو گئے، لی کو آن یو ذرا دیرخاموش رہے اور پھر بولے
”اس کی تین وجوہات ہیں“
وہ رکے اور پھر بولے ”پہلی وجہ آئیڈیالوجی ہے،
آپ لوگوں اور ہم میں ایک بنیادی فرق ہے‘ آپ اس دنیا کو عارضی سمجھتے ہیں، آپ کا خیال ہے آپ کی اصل زندگی مرنے کے بعد شروع ہو گی، چنانچہ آپ لوگ اس عارضی دنیا پر توجہ نہیں دیتے، آپ سڑک، عمارت، سیوریج سسٹم، ٹریفک اور قانون کو سنجیدگی سے نہیں لیتے،
جبکہ ہم لوگ اس دنیا کو سب کچھ سمجھتے ہیں لہٰذا ہم اس دنیا کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنا رہے ہیں“
وہ رکے اور ذرا دیر بعد بولے ”آپ خود خود فیصلہ کیجئے کہ جو لوگ اس دنیا پر یقین ھی نہ رکھتے ہوں‘ وہ اسے خوبصورت کیوں بنائیں گے؟

دوسری وجہ‘ آپ لوگوں کی زندگی کے بارے میں اپروچ درست نہیں،
میں پیشے کے لحاظ سے وکیل ہوں، ہندوستان کی تقسیم سے پہلے میں اس علاقے میں پریکٹس کرتا تھا. میرے موکل کلکتہ سے کراچی تک ہوتے تھے‘
میں نے ان دنوں ہندو اور مسلمان کی نفسیات کو بڑے قریب سے دیکھا ھے‘
میرے پاس جب کوئی ہندو کلائنٹ آتا تھا اور میں کیس کے جائزے کے بعد اسے بتاتا تھا کہ تمہارے کیس میں جان نہیں‘ تم اگر عدالت میں گئے تو کیس ہار جاﺅ گے،
تو وہ میرا شکریہ ادا کرتا تھا اور مجھ سے کہتا تھا‘ آپ مہربانی فرما کر میری دوسری پارٹی سے صلح کرا دیں‘ میں اس کی صلح کرا دیتا تھا اور یوں مسئلہ ختم ہو جاتا تھا
جبکہ اس کے مقابلے میں جب کوئی مسلمان کلائنٹ میرے پاس آتا تھا اور میں اسے صلح کا مشورہ دیتا تو اس کا جواب بڑا دلچسپ ہوتا تھا‘
وہ کہتا تھا وکیل صاحب آپ کیس دائر کریں میں پوری زندگی مقدمہ لڑوں گا‘ میرے بعد میرے بچے لڑیں گے اور اس کے بعد ان کے بچے لڑیں گے“.
لی کو آن یو رکے اور مسکرا کر بولے ”میرا تجربہ ہے جو قومیں اپنی نسلوں کو ورثے میں مقدمے اور مسئلے دیتی ہوں وہ کبھی ترقی نہیں کیا کرتیں.

اور تیسری اور آخری وجہ آپ کی "فوج" ہے،
آپ کے ملک میں فوج مضبوط اور سیاستدان کمزور ہیں اور مجھے پوری دنیا میں آج تک کوئی ایسا ملک نہیں ملا جس نے فوجی اثر میں رہ کر ترقی کی ہو“
وہ رکے اور دوبارہ بولے ”فوجی اور سیاستدان کی سوچ میں بڑا فرق ہوتا ہے، فوجی مسئلہ پیدا کرتا ہے جبکہ سیاستدان مسئلے حل کرتے ہیں،
فوجی کی زندگی کا صرف ایک اصول ہوتا ہے‘ زندگی یا موت'
جبکہ سیاستدان جیو اور جینے دو کے فلسفے پر کاربند ہوتے ہیں،
فوجی کو زندگی میں مر جاﺅ یا مار دو کی ٹریننگ دی جاتی ہے
جبکہ سیاستدان کو صلح، مذاکرات اور نرمی کی تربیت ملتی ہے.
چنانچہ میرا تجربہ ہے جس ملک میں حکومت اور سیاست فوج کے پاس ہو
وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرتا.
منقول

17/08/2022

Crazy Dance

Address

Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abacus Business Solutions posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Abacus Business Solutions:

Share