05/08/2026
محسن نقوی جیسے رپورٹر ، شہباز شریف جیسے غبی ، عمران نیازی جیسے کرکٹر لوفر وغیرہ اگر اسٹبلشمنٹ میں اتنی جگہ بنا لیتے ہیں کہ وزارت اعظمی تک پہنچ جاتے ہیں یا اس کے قریب قریب تو مولانا فضل الرحمان صاحب جیسے زیرک سیاستدان کیلئے کیا مشکل ہے جو اعلیٰ صدارتی عہدہ نہ لے لیں —- بس مسئلہ اتنا سا ہے کہ کچھ لوگ اپنا ایک معیار رکھتے ہیں اپنی ایک حد مقرر کرتے ہیں اپنی اقدار و روایات رکھتے ہیں —- وہ کسی بھی مفاد کے لئے اپنی روایات اقدار اور معیار سے خود کو نہیں گراتے اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ اعلیٰ عہدوں تک کم ظرف پہنچ جاتے ہیں لیکن اعلیٰ نسل اور صفات کے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں — !
مولانا فضل الرحمان صاحب نام ہے “معیار” کا اور اسی وجہ سے ہمیں ان سے محبت ہے✍🏻