Abul HassaN official,

Abul HassaN official, This page of news

29/09/2024

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

31/03/2024

بسم اللّٰہ و باللہ ومن اللّٰہ و الی اللہ و علیٰ ملت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم فزت و ربی الکعبہ لاحول ولا قوت الاباللہ العلی العظیم ۔۔۔۔۔🏳️۔۔🏴🏳️🏴🏳️💧
یا اللہ یا رحمان یارحیم ۔۔۔
بجاہ ِ۔۔ محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم ۔۔۔،وفاطمہ سلام اللہ علیہا، والحسن والحسین سیدا اشباب اھل الجنہ۔۔۔اللہم صل علی محمد وآل محمد۔۔۔🏴۔۔۔۔
یاعلی انت منی و آنا منک۔۔ (الصحیح المستدرک الحاکم ۔الحدیث)

مؤمنین حضرات جیسا کہ حسب دستور شھادتِ نفسِ و روحِ رسول اقدس حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم ، سیدنا و مولانا امیر المؤمنین حضرت حجت اللّٰہ علی الخلق و وصی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم و خلیفہ بلا فصل حضرت امام علی علیہ السّلام کے مناسبت سے مجلس عزا کا فرش پوری دنیا میں بچھایا گیا ہے جس میں تمام انبیاء کرام علیہم السّلام کی آنکھیں اشک بار ہیں بالخصوص محمد وآل محمد علیہم السّلام جن کی اتباعِ سنت میں شریک صفر ہونےکی سعادت حاصل کرتے ہوئے کل بروز پیر مورخہ 01:04:2024 بمطابق 21 ماہِ رمضان المبارک 1445ھ شام سات بجے بعد نمازِ مغرب و افطار روزہ کے بعد بمقام الجامعہ مرکز اھل ِالتوحید ومدرسہ باقرالعلوم من شہرتِ آل محمد علیہم السّلام گوٹھ سید الحاج غوث بخش شاہ متصل نواب ولی محمد تحصیل قاضی احمد ضلع نواب شاہ سندھ میں مجلس عزا کا اہتمام کیا گیا ہے جسے مولوی ابوالحسن عبد الوھاب جعفری خطاب کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ عزوجل۔۔
تمام احباب مؤمنین کرام کو اس مغموم موقع پر شراکت داری کی دعوت دی جارہی ہے۔۔
بعدہ فی سبیل اللّٰہ نیاز کا مکمل انتظام کیا گیا ہے۔۔۔
الداعیان دین اللہ و عترت آل رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہم صل علی محمد وآل محمد♻️

سید گلاب علی شاہ۔۔
سید دادن علی شاہ۔۔
سید ارشاد علی شاہ۔
سید عبداللہ شاہ۔۔۔۔

27/03/2024

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم💧
اِنَّ الۡمُصَّدِّقِیۡنَ وَ الۡمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقۡرَضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَہُمۡ وَ لَہُمۡ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ﴿۱۸﴾۱۸۔ یقینا صدقہ دینے والے مردوں اور صدقہ دینے والی عورتوں نیز ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اللہ کو قرض حسنہ دیا ہے کئی گنا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے پسندیدہ اجر ہے۔
تفسیر آیات
۱۔ راہ خدا میں صدقہ دینا، اللہ کو قرض حسن دینا ہے۔ اس قرض حسن کا ثواب کئی گنا ہو گا۔ سورہ بقرہ آیت ۱۶۱ میں فرمایا: راہ خدا میں دیے جانے والے ایک دانے کا ثواب سات سو گنا ہے اور خاص لوگوں کے لیے اس کو بھی دو گنا کیا جائے گا تو ایک کے لیے چودہ سو گنا ہو گا۔

۲۔ وَ لَہُمۡ اَجۡرٌ کَرِیۡمٌ: ظاہر آیت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجر کریم اس کئی گنا کے علاوہ ہے۔

الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 9، صفحہ 59

22/03/2024
24/11/2023

بسم الله الرحمن الرحيم ۰
وَ اۡمُرۡ اَہۡلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَ اصۡطَبِرۡ عَلَیۡہَا ؕ لَا نَسۡـَٔلُکَ رِزۡقًا ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکَ ؕ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلتَّقۡوٰی﴿۱۳۲﴾۱۳۲۔ اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہیں، ہم آپ سے کوئی رزق نہیں مانگتے بلکہ ہم آپ کو رزق دیتے ہیں اور انجام (اہل) تقویٰ ہی کے لیے ہے۔
تفسیر آیات
۱۔ وَ اۡمُرۡ اَہۡلَکَ بِالصَّلٰوۃِ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکی زندگی میں اَہۡلَکَ کے مصداق حضرت علی علیہ السلام اور حضرت خدیجہ رضوان اللہ علیہا ہو سکتے ہیں۔

چنانچہ ابتدائے بعثت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے حضرت علی علیہ السلام اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نماز پڑھتے تھے۔ بعد میں جعفر اور زید بھی شامل ہو گئے۔ ۱؎

لہٰذا ابتدائے اسلام میں نماز کا حکم اہل بیت رسولؐ سے شروع ہوا ہے۔

۲۔ وَ اصۡطَبِرۡ عَلَیۡہَا: اقامۂ نماز میں صبر و تحمل سے کام لو۔ ابتدائے اسلام میں رسول ؐاور اہل بیت رسول کے لیے نماز پڑھنا آسان کام نہ تھا۔ مشرکین حالت نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت پر غلاظت ڈالتے تھے۔ اس طرح نماز پڑھنا صبر آزما کام تھا۔ اسی لیے حضرت ابوطالب نے جب دیکھا کہ علی علیہ السلام حضور کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں تو اپنے فرزند جعفر کو حکم دیا کہ اپنے ابن عم کے ساتھ نماز میں شریک ہو جاؤ۔۲؎

۳۔ لَا نَسۡـَٔلُکَ رِزۡقًا: نماز قائم کرنے کے حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم آپ کی نماز کے محتاج ہیں۔ نَحۡنُ نَرۡزُقُکَ آپ ہمارے محتاج ہیں اور نماز کے ذریعے آپ کی احتیاج پورا ہوتی ہے۔ یعنی نماز پڑھنا کسی کی ضرورت پوری کرنا نہیں، اپنی ضرورت پوری کرنا ہے۔

۴۔ وَ الۡعَاقِبَۃُ لِلتَّقۡوٰی: انجام ان لوگوں کا بخیر ہو گا جو بچتے رہے۔ یہ قدرتی بات ہے کہ بچنے والے بچ جاتے ہیں۔ لاابالی کرنے والے پھنس جاتے ہیں۔

اہم نکات
۱۔ رسولؐ و اہل بیت رسولؑ نے نماز کی ابتدا کی۔

۲۔ نماز صبر آزما دور سے گذری ہے۔

۳۔ عاقبت، اہل تقویٰ کی بخیر ہے۔

الکوثر فی تفسیر القرآن: جلد 5، صفحہ 212

15/11/2023

عمامہ باندھنے کا صحیح طریقہ قرآن و حدیث کی روشنی میں۔۔۔۔ 🌹

وسمعت مشائخنا رضي الله عنهم يقولون: لا تجوز الصلاة في الطابقية ولا يجوز للمعتم أن يصلي إلا وهو متحنك .
یعنی شیخ صدوق رض نے اپنے بزرگ اساتذہ ( اصحاب الامام حسن العسکری ع ) سے نقل کیا ھے کہ عمامہ طابقیہ میں نماز باطل ھے اور جو بھی عمامے میں نماز پڑھتا ھے اس کے لئے تحت الحنک کے بغیر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔
من لا يحضره الفقيه - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ٢٦٦
1 : غدیر خم میں مولائے دوجہاں ع کا عمامہ
قال أمير المؤمنين علي صلى الله عليه وآله:
عمّمنی رسول اللّه صلّی اللّه علیه و آله یوم غدیر خمّ بعمامة، فسدل طرفها علی منکبی و قال: إنّ اللّه أیّدنی یوم بدر و حنین بملائکة معتمّین بهذه العمامة. .....عوالم العلوم ج٢- الصفحہ ١٩٩
الكافي - الشيخ الكليني - ج ٦ - الصفحة ٤٦٠
مولا ع نے فرمایا کہ غدیر خم میں رسول خدا ص نے مجھے عمامہ پہنایا اور اس کے اطراف کو کاندھوں پہ ڈال دیا اور کہا کہ الله نے بدر اور حنین کے دن ایسے فرشتوں کے ذریعے میری مدد کی جو اسی طرح کے عمامے پہنے ھوئے تھے.
2 : علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عمن ذكره، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: من تعمم ولم يتحنك فأصابه داء لا دواء له فلا يلومن إلا نفسه.
ہمارے مولا صادق آل محمد ع نے فرمایا کہ اگر کوئی عمامہ پہنے اور تحت الحنک نہ باندھے اور وہ ایسی بیماری میں مبتلا ھو جائے جس کا علاج نہ ھو تو وہ اپنے علاوہ کسی پہ ملامت نہ کرئے
(( سب سے بڑا مرض جس کا کوئی علاج نہیں وہ جہل مرکب کا مرض ھے اسی وجہ سے جو بھی عمامہ طابقیہ پہنتا ھے وہ جاھل مرکب ھوتا ھے ان کا علاح و اصلاح نا ممکن ھے ))
3 : محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن أبي همام، عن أبي الحسن عليه السلام في قول الله عز وجل: " مسومين " قال: العمايم، اعتم رسول الله صلى الله عليه وآله فسدلها من بين يديه ومن خلفه، واعتم جبرئيل فسدلها من بين يديه ومن خلفه.
الكافي - الشيخ الكليني - ج ٦ - الصفحة ٤٦١
ابی ھمام نے ہمارے مولا رضا ع سے روایت کی ھے کہ آپ سے " مسومین " کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ رسول خدا ص جب عمامے پہنتے تھے تو اس کا ایک سرا آگے کی جانب اور دوسرا سرا پیچھے کی جانب چھوڑتے تھے اور جبرائیل ع کا عمامہ بھی اسی طرح ھوتا تھا ایک سرا آگے کی طرف اور دوسرا سرا پیچھے کی طرف چھوڑا ھوتا تھا یعنی
ذوابتین والا عمامہ ۔
4 : محمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد، عن ابن فضال، عن أبي جميله، عن جابر، عن أبي جعفر عليه السلام قال: كانت على الملائكة العمايم البيض المرسلة يوم بدر.
" ہمارے امام باقر العلوم ع نے فرمایا کہ بدر کے دن فرشتوں نے ذوابتین والا سفید عمامہ پہن رکھا تھا "
5 : عدة من أصحابنا، عن أحمد بن أبي عبد الله، عن الحسين بن علي العقيلي، عن علي بن أبي علي اللهبي، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: عمم رسول الله صلى الله عليه وآله عليا عليه السلام بيده فسدلها من بين يديه وقصرها من خلفه قدر أربع أصابع ثم قال: أدبر فأدبر ثم قال:
أقبل فأقبل ثم قال: هكذا تيجان الملائكة.
رسول خدا ص نے ہمارے مولا امیر المومنین ع کو عمامہ پہنایا اور چار کھلے انگشت کے برابر پیچھے چھوڑ دیا یعنی شملہ کے طور پر اور دوسرے سرے کو آگے کی طرف چھوڑ دیا یعنی ذوابتین کے طور پر پھر فرمایا جائیں پھر فرمایا آئیں پھر فرمایا کہ فرشتوں کا عمامہ اسی طرح ھوتا ھے
6 : علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن النوفلي، عن السكوني، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله العمايم تيجان العرب.
وروي أن الطابقية عمة إبليس لعنه الله .
علی بن ابرھیم نے اپنی سند سے ہمارے مولا صادق آل محمد ع سے روایت کی ھے کہ آپ نے فرمایا " کہ رسول خدا ص نے فرمایا ھے کہ عمامہ عربوں کا تاج ھے " اور یہ بھی روایت کی ھے کہ عمامہ طابقیہ ابلیس کا عمامہ ھے ۔
7 : أبو علي الأشعري، عن بعض أصحابه، عن علي بن الحكم رفعه إلى أبي عبد الله عليه السلام قال: من خرج من منزله معتما تحت حنكه يريد سفرا لم يصبه في سفره سرق ولا حرق ولا مكروه.
ہمارے مولا صادق آل محمد ع نے فرمایا کہ اگر کوئی سفر پر نکلتے وقت تحت الحنک کے ساتھ عمامہ باندھ کر نکلے تو اس سفر میں اسے کوئی چوری ، آگ یا کوئی بھی صدمہ نہیں پہنچے گا
8 : عدة من أصحابنا، عن سهل بن زياد، عن موسى بن جعفر البغدادي، عن عمرو بن سعيد عن عيسى بن حمزة، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: من اعتم فلم يدر العمامة تحت حنكه فأصابه ألم لا دواء له فلا يلومن إلا نفسه
ہمارے مولا صادق آل محمد ع نے فرمایا اگر کوئی عمامہ باندھے اور ٹھوڑی کے نیچے سے تحت الحنک گزار کر نہ رکھے اور اسے لا علاج کوئی مرض لگ جائے تو اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرئے (( سب سے بڑا لا علاج مرض جہل مرکب ھے ))
من لا يحضره الفقيه - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ٢٦٥
9 : سأل يونس بن يعقوب أبا عبد الله عليه السلام " عن الرجل يصلي وعليه البرطله فقال: لا يضره ".
وسمعت مشائخنا رضي الله عنهم يقولون: لا تجوز الصلاة في الطابقية ولا يجوز للمعتم أن يصلي إلا وهو متحنك .
من لا يحضره الفقيه - الشيخ الصدوق - ج ١ - الصفحة ٢٦٦
ہمارے مولا صادق آل محمد ع سے پوچھا گیا کہ کیا ٹوپی میں نماز پڑھنا کیسا ھے ؟ آپ ع نے فرمایا کہ کوئی اشکال نہیں ھے
شیخ صدوق رح فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بزرگوں کو فرماتے ھوئے سنا ھے کہ عمامہ طابقیہ میں نماز پڑھنا جائز نہیں ھے اور کسی کے لئے بھی جائز نہیں کہ جب عمامہ باندھ کر نماز پڑھے تو تحت الحنک کے بغیر نماز پڑھے ۔
10 : وروى عمار الساباطي عن أبي عبد الله عليه السلام أنه قال: " من خرج في سفر لم يدر العمامة تحت حنكه فأصابه ألم لا دواء له فلا يلومن إلا نفسه " .
عمار ساباطی نے ہمارے مولا صادق آل محمد ع سے روایت کی ھے کہ آپ نے فرمایا کہ " اگر کوئی سفر پر نکلے اور عمامے کا سرا ٹھوڑی کے نیچے سے گزار کر نہ نکلے ( یعنی تحت الحنک نہ باندھے ) اور سفر میں ایسے مرض لاحق ہو۔۔۔۔

اللہم صل علی محمد و آل محمد ۔۔۔

اللہ تعالیٰ محمد و آل محمد علیھم السّلام کی سیرت طیبہ پر اکتفا و عمل کی توفیق عطا فرمائے 🤲🌹

11/11/2023

‏امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف:

ہمارے شیعوں کو جنہیں خدا نے اطاعت کی توفیق دی ہے اگر ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے اور اپنے وعدے کو پورا کرتے تو میرے ظہور میں تاخیر نہیں ہوتی

بحار الانوار، ج 53 ص 176

11/11/2023
‏امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف:ہمارے شیعوں کو جنہیں خدا نے اطاعت کی توفیق دی ہے اگر ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے او...
11/11/2023

‏امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف:

ہمارے شیعوں کو جنہیں خدا نے اطاعت کی توفیق دی ہے اگر ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے اور اپنے وعدے کو پورا کرتے تو میرے ظہور میں تاخیر نہیں ہوتی

بحار الانوار، ج 53 ص 176

Address

District Sukkur
Rohri

Telephone

+923003146253

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abul HassaN official, posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Abul HassaN official,:

Share