Mohabbat Valley

Mohabbat Valley Mohabbat Valley

A DIFFERENT KIND OF HAPPINESS ❤️گزشتہ 12 سالوں سے پاکستان میں ہم دونوں میاں بیوی نے مختلف شعبوں، اداروں، Corporate Teams...
29/08/2026

A DIFFERENT KIND OF HAPPINESS ❤️

گزشتہ 12 سالوں سے پاکستان میں ہم دونوں میاں بیوی نے مختلف شعبوں، اداروں، Corporate Teams اور عام لوگوں کے ساتھ بے شمار Training Programs کیے ہیں۔

ہر پروگرام کی اپنی خوشی ہوتی ہے—
کسی کو سیکھتے دیکھنے کی، کسی کی سوچ بدلتے دیکھنے کی، اور کسی کے اندر چھپی ہوئی صلاحیت کو جگانے کی۔

مگر آج کی صبح کچھ مختلف ہے۔

آج ہم Model Children Home, Lahore جا رہے ہیں۔

ایک ایسے نوجوانوں کے ساتھ وقت گزارنے، انہیں سننے، ان کے ساتھ سیکھنے اور انہیں زندگی کے کچھ ایسے اصول دینے کے لیے جو شاید آنے والے برسوں میں ان کے سفر کا حصہ بن جائیں۔

ہم نے اس پروگرام کی تیاری بھی اسی seriousness، dedication اور professionalism کے ساتھ کی ہے جس کے ساتھ ہم کسی بھی بڑے Corporate Program کی تیاری کرتے ہیں۔

کیونکہ ہمارے نزدیک ہر انسان ایک audience نہیں، ایک possibility ہے۔

آج ہم ان نوجوانوں کے ساتھ
Character Building، Personal Development، Life Skills، Goal Setting
اور Life Vision پر کام کریں گے—اور کوشش کریں گے کہ ان کے اندر یہ یقین پیدا ہو:

“میری circumstances میری identity نہیں ہیں؛

میری choices میرا future بنائیں گی۔”

اور شاید یہی اس سفر کی سب سے خوبصورت بات ہے…

کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب ہم دوسروں کو سکھانے جاتے ہیں،
اور واپسی پر خود کچھ نیا سیکھ کر آتے ہیں۔ ❤️

ہم دونوں کے لیے دعا کیجیے کہ آج ہماری باتیں صرف ان کے کانوں تک نہ پہنچیں،
بلکہ ان کے دل، سوچ اور مستقبل تک پہنچیں۔

Dr. Amna Nawaz & Muhammad Nawaz
Mohabbat Valley

A beautiful first day at the Rotary Club meeting in GuIberg. Dr. Amna loved the place, and we captured a little moment t...
27/08/2026

A beautiful first day at the Rotary Club meeting in GuIberg. Dr. Amna loved the place, and we captured a little moment to remember. ❤️

وہ شکریہ جو پیسوں سے نہیں خریدا جا سکتاگوجرانوالہ میں والدین کی تربیت کے ایک سیشن کے دوران میں نے والدین سے ایک ایسی کہا...
25/08/2026

وہ شکریہ جو پیسوں سے نہیں خریدا جا سکتا

گوجرانوالہ میں والدین کی تربیت کے ایک سیشن کے دوران میں نے والدین سے ایک ایسی کہانی شیئر کی جس کے بعد ہال میں ایک لمحے کے لیے عجیب سی خاموشی چھا گئی۔

میں نے ان سے کہا:

"آج میں آپ کو Parenting کا کوئی Formula نہیں بتاؤں گا۔
آج میں آپ سے صرف ایک سوال پوچھوں گا… اور شاید یہ سوال آپ کی Parenting کا پورا انداز بدل دے۔"

پھر میں نے ایک پادری کی کہانی سنائی۔

وہ شخص کئی دہائیوں تک ہسپتالوں میں لوگوں کے آخری لمحات کا گواہ رہا تھا۔ اس نے ہزاروں لوگوں کو اپنے پیاروں سے جدا ہوتے دیکھا تھا۔ اس تجربے نے اسے انسانی رشتوں کے بارے میں ایک ایسی حقیقت سکھائی جو شاید کسی کتاب میں نہیں ملتی۔

اس نے بتایا کہ جب کوئی والدین بسترِ مرگ پر ہوتے ہیں تو ان کے بچے اکثر ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ ان کے پاس آتے ہیں۔

ان کے ذہن میں ایک سوال ہوتا ہے:

"میں اپنے والدین کو کیسے بتاؤں کہ انہوں نے میری زندگی میں میرے لیے کیا کیا؟"

اس پادری نے ایسے بچوں کو ایک عجیب مگر بہت خوبصورت مشورہ دیا:

"اپنے والدین کے پاس ایک ایک کرکے جاؤ، ان کے قریب بیٹھو اور صرف ایک ایسی چیز کے لیے ان کا شکریہ ادا کرو جس کے لیے تم دل سے سب سے زیادہ شکر گزار ہو۔"

پھر اس نے ایک بہت بڑا فرق بتایا۔

جن خاندانوں میں تعلقات اچھے نہیں تھے، وہاں بچے اکثر کہتے:

"ابو، شکریہ کہ آپ نے میری فیس ادا کی۔"
"امی، شکریہ کہ آپ نے میرے لیے کھانا بنایا۔"
"شکریہ کہ آپ نے مجھے گاڑی خرید کر دی۔"

یعنی ان کی یادوں میں والدین کی محبت زیادہ تر خرچ کیے گئے پیسوں کی شکل میں موجود تھی۔

لیکن پھر اس پادری نے کہا:

"اور جن خاندانوں میں والدین اور بچوں کے درمیان حقیقی تعلق، محبت اور اعتماد تھا، وہاں بچے ہر بار تقریباً ایک ہی بات کہتے تھے…"

میں نے یہاں آ کر والدین کی طرف دیکھا۔

اور پھر آہستہ سے کہا:

"Thank you for believing in me."

"مجھ پر یقین کرنے کے لیے شکریہ۔"

بس!

یہی وہ مقام تھا جہاں میں نے والدین سے کہا:

"یہی وہ فرق ہے جو Parenting اور صرف بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے درمیان ہے۔"

آپ اپنے بچے کو دنیا کی بہترین تعلیم دے سکتے ہیں۔
اسے مہنگا موبائل دے سکتے ہیں۔
اسے بہترین لباس، بہترین اسکول، بہترین سہولیات اور بہترین مستقبل دے سکتے ہیں۔

لیکن ایک دن، جب وہ اپنی زندگی کے سب سے مشکل مرحلے میں ہوگا، تو اسے شاید یہ سب یاد نہ رہے۔

اسے یاد ہوگا کہ:

"میرے ابو نے مجھ پر یقین کیا تھا۔"
"میری امی نے میری بات سنی تھی۔"
"جب میں ناکام ہوا تھا تو انہوں نے مجھے ناکام انسان نہیں سمجھا تھا۔"
"جب سب نے مجھ پر شک کیا تھا تو میرے والدین میرے ساتھ کھڑے تھے۔"

پھر میں نے والدین کو ایک Activity کروائی۔

میں نے ان سے کہا:

"اپنی آنکھیں بند کریں۔ اپنے بچے کو اپنے سامنے تصور کریں۔ اب فرض کریں کہ آپ کی زندگی کا آخری دن ہے اور آپ کا بچہ آپ کے پاس بیٹھا ہے۔"

پھر میں نے کہا:

"تصور کریں کہ آپ کا بچہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ سے کہتا ہے…"

"امی ابو، میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔"

اور پھر میں نے والدین سے کہا:

"اب اپنے آپ سے پوچھیں… وہ آپ کا شکریہ کس بات کے لیے ادا کرے گا؟"

ہال میں خاموشی تھی۔

میں نے دوسرا سوال کیا:

"کیا وہ آپ کا شکریہ اس لیے ادا کرے گا کہ آپ نے اسے بہت کچھ خرید کر دیا؟
یا اس لیے کہ آپ نے اسے بہت کچھ بننے میں مدد دی؟"

اور پھر تیسرا سوال:

"کیا آپ کا بچہ آج آپ کے ساتھ رہتے ہوئے خود کو محفوظ، قابلِ قدر اور قابلِ اعتماد محسوس کرتا ہے؟"

یہ سوال Parenting کے بارے میں تھا، لیکن حقیقت میں یہ والدین کے اپنے رویوں کا آئینہ تھا۔

میں نے والدین سے کہا:

آپ کے بچے کو صرف آپ کے پیسے کی ضرورت نہیں۔

اسے آپ کے وقت کی ضرورت ہے۔
آپ کی توجہ کی ضرورت ہے۔
آپ کے اعتماد کی ضرورت ہے۔
آپ کے حوصلے کی ضرورت ہے۔
اور سب سے بڑھ کر اسے یہ احساس چاہیے کہ:

"چاہے میں کامیاب ہوں یا ناکام، میرے والدین میرے ساتھ ہیں۔"

یہی وہ Parenting ہے جسے میں Mohabbat Valley میں فروغ دینا چاہتا ہوں۔

میرا مقصد صرف یہ نہیں کہ والدین اپنے بچوں کو زیادہ اچھے طریقے سے کنٹرول کرنا سیکھیں۔

میرا مقصد یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو بہتر طریقے سے سمجھنا سیکھیں۔

صرف یہ نہیں کہ بچے ہماری بات مانیں؛
بلکہ یہ کہ بچے ہم سے اپنے دل کی بات کہنے میں محفوظ محسوس کریں۔

صرف یہ نہیں کہ ہم بچوں کے مستقبل کے لیے پیسہ جمع کریں؛
بلکہ یہ کہ ہم ان کے اندر ایسا کردار، اعتماد اور خودی پیدا کریں جو پوری زندگی ان کے ساتھ رہے۔

کیونکہ آخر میں ایک بہت بڑا سوال باقی رہ جاتا ہے:

ہم اپنے بچوں کے لیے کیا چھوڑ کر جائیں گے؟

جائیداد؟
بینک بیلنس؟
کاریں؟
کاروبار؟

یہ سب اہم ہو سکتے ہیں۔

لیکن شاید سب سے بڑی میراث یہ ہوگی کہ ہمارے بچے ایک دن دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر کہیں:

"میرے والد نے مجھ پر یقین کیا تھا۔"

"میری والدہ نے مجھے سمجھا تھا۔"

"میرے والدین نے مجھے صرف زندگی نہیں دی،
انہوں نے مجھے زندگی جینا سکھایا تھا۔"

اور شاید یہی Parenting کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

بچے کو دنیا کی ہر چیز دے دینا کامیاب Parenting نہیں۔
بچے کے دل میں یہ یقین پیدا کر دینا کہ
"میں قابلِ قدر ہوں، میں قابلِ اعتماد ہوں، اور میرے والدین کو مجھ پر یقین ہے" —
یہ اصل تربیت ہے۔

Mohabbat Valley
میں میری کوشش یہی ہے کہ والدین بچوں کی صرف ضروریات پوری کرنے والے والدین نہ رہیں، بلکہ ان کی شخصیت، کردار اور مستقبل کے معمار بنیں۔

کیونکہ کچھ چیزیں پیسوں سے خریدی جا سکتی ہیں…
لیکن "مجھ پر یقین کرنے کے لیے شکریہ" —
یہ صرف ایک خوبصورت رشتے سے کمایا جا سکتا ہے۔
Mohabbat Valley

24/08/2026

دنیا کو Impress کرتے کرتے خود کو Lose نہ کر دیں!
Mohabbat Valley

سفرِ منزل کا آغاز — سیالکوٹ کی طرف! 🚗✨آج ڈاکٹر آمنہ اور میں لاہور میں واقع محبت ویلی ہیڈ آفس سے سیالکوٹ کی طرف روانہ ہو ...
23/08/2026

سفرِ منزل کا آغاز — سیالکوٹ کی طرف! 🚗✨

آج ڈاکٹر آمنہ اور میں لاہور میں واقع محبت ویلی ہیڈ آفس سے سیالکوٹ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔ ❤️

یہ صرف ایک سفر نہیں، بلکہ ایک خاندان کے ایک سالہ
Life Mastery — Family Personal Development Journey
کا آغاز ہے۔

جب بھی ہم کسی فیملی کے ساتھ ایک سال کا سفر طے کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہم ان کا
TNA — Training Need Analysis
کرتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں:
بچے آج کہاں کھڑے ہیں؟
والدین کہاں کھڑے ہیں؟
فیملی کے رشتے، عادات، سوچ اور زندگی کہاں کھڑی ہے؟
اور وہ ایک سال بعد کہاں پہنچنا چاہتے ہیں؟

پھر موجودہ حالت اور مطلوبہ منزل کے درمیان موجود GAP کو identify کرکے، پورے ایک سال
Family Coaching، Personal Development
اور Life Mastery کے ذریعے اس خاندان کو ان کے Desired Goals تک پہنچانے کا سفر شروع ہوتا ہے۔

آج اس خوبصورت سفر کا پہلا دن سیالکوٹ میں ہے، اور اس کے بعد گوجرانوالہ بھی ہمارے سفر کا حصہ ہوگا۔

سیالکوٹ اور گوجرانوالہ!
ہم آ رہے ہیں… ایک خاندان کے ساتھ ایک سال کی تبدیلی، ترقی اور خوشحال زندگی کا سفر شروع کرنے۔ 🌱❤️

Mohabbat Valley — Building Better Individuals, Stronger Families & Meaningful Lives.

Mohabbat Valley

22/08/2026

آپ کا دماغ طاقتور لوگوں کی بات کیوں مان لیتا ہے؟ یہ راز جان لیں! آپ سے اوپر بیٹھا شخص اگر غلط ہو تو؟ بس یہ ایک اصول یاد رکھیں!
Mohabbat Valley

21/08/2026

کاروبار میں صرف اچھا ہونا کافی نہیں… صحیح وقت پر صحیح جگہ موجود نہ ہوں، تو آپ کا گاہک کوئی اور لے جائے گا!
Mohabbat Valley

19/08/2026

زندگی میں کچھ بھی اچانک نہیں اُگتا… جو بویا جاتا ہے، وہی وقت کے ساتھ باہر آتا ہے!

ٹرین چھوٹ گئی ہے… زندگی نہیں!ساہیوال سے بسوں کے دھکے کھاتے ہوئے سفر کرنے سے لے کر آج دنیا کے مختلف شہروں، بہترین ہوٹلوں،...
18/08/2026

ٹرین چھوٹ گئی ہے… زندگی نہیں!
ساہیوال سے بسوں کے دھکے کھاتے ہوئے سفر کرنے سے لے کر آج دنیا کے مختلف شہروں، بہترین ہوٹلوں، ریزورٹس، جزائر، ساحلوں، پہاڑوں اور خوبصورت مقامات تک پہنچنے کا سفر کسی ایک دن میں نہیں ہوا۔

سیمینار ہال میں خاموشی تھی۔

میرے سامنے کچھ والدین بیٹھے تھے۔ چہروں پر تھکن تھی، آنکھوں میں پریشانی تھی اور لہجوں میں وہ شکستگی جسے شاید وہ کئی مہینوں سے اپنے اندر اٹھائے پھر رہے تھے۔

کسی کا بچہ میٹرک میں کم نمبرز لے آیا تھا، کوئی فیل ہوگیا تھا، کسی کا بچہ پڑھائی میں مسلسل پیچھے جا رہا تھا، اور کسی والدین کو یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب کیا کیا جائے؟

سوالات بہت تھے۔

جوابات کم۔

ایک والد نے تقریباً بے بسی کے انداز میں کہا:

"سر! ہمارے بچے کی تو ٹرین ہی چھوٹ گئی ہے۔"

یہ جملہ میں پہلی مرتبہ نہیں سن رہا تھا۔

میں نے پوچھا:

"ٹرین چھوٹ جانے سے آپ کی کیا مراد ہے؟"

انہوں نے کہا:

"بس سر! اب کیا ہوسکتا ہے؟ وقت نکل گیا۔ بچہ فیل ہوگیا۔ دوسرے بچے آگے نکل گئے۔ اب یہ کہاں جائے گا؟"

میں نے کچھ لمحے انہیں دیکھا اور پھر کہا:

"ٹرین چھوٹ گئی ہے تو کیا ہوا؟ یہ دنیا کی آخری ٹرین تھوڑی تھی!"

ہال میں خاموشی مزید گہری ہوگئی۔

میں نے کہا:

زندگی میں ہم سب کی کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی ٹرین چھوٹتی ہے۔

کسی کا امتحان خراب ہوجاتا ہے۔

کسی کا کاروبار ڈوب جاتا ہے۔

کسی کی نوکری چلی جاتی ہے۔

کسی کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔

کسی کے خواب بکھر جاتے ہیں۔

کسی کے ہاتھ سے دولت نکل جاتی ہے۔

کسی کو وہ موقع نہیں ملتا جس کا وہ برسوں انتظار کر رہا تھا۔

کسی کی صحت، کسی کی جوانی، کسی کا وقت، کسی کی امید—کچھ نہ کچھ زندگی میں ہاتھ سے نکلتا ضرور ہے۔

مگر سوال یہ نہیں کہ ٹرین چھوٹی کیوں؟

اصل سوال یہ ہے:

ٹرین چھوٹنے کے بعد آپ وہیں کھڑے رہیں گے یا اگلا راستہ تلاش کریں گے؟

میں نے والدین سے کہا:

میں بھی ایک وقت میں ساہیوال سے بسوں پر سفر کیا کرتا تھا۔

دھکے کھاتا تھا۔

کبھی کنڈکٹر اٹھا دیتا تھا۔

کبھی بس پر لٹک کر سفر کرنا پڑتا تھا۔

کبھی چھت پر بیٹھ کر۔

سفر آسان نہیں تھا۔

مگر ایک بات طے تھی:

منزل تک پہنچنا ہے۔

اگر ایک بس نکل گئی تو دوسری تلاش کرنی ہے۔

اگر بس نہیں ملی تو کوئی اور سواری ڈھونڈنی ہے۔

اگر راستہ بند ہے تو سمت بدلنی ہے۔

اگر گاڑی دستیاب نہیں تو اپنی گاڑی بنانی ہے۔

کیونکہ جس شخص نے منزل کا فیصلہ کرلیا ہو، وہ راستے کی شکل کو اپنی قسمت نہیں بننے دیتا۔

وہ راستہ بدل سکتا ہے۔

رفتار بدل سکتا ہے۔

سواری بدل سکتا ہے۔

حکمتِ عملی بدل سکتا ہے۔

مگر منزل کا خواب نہیں چھوڑتا۔

میں نے ان بچوں سے بھی کہا جو حالیہ امتحانات میں ناکام ہوئے ہیں:

"آپ فیل ہوئے ہیں، ختم نہیں ہوئے۔"

ایک امتحان میں کم نمبر آ جانا آپ کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں۔

ایک نتیجہ آپ کی قابلیت کا آخری ثبوت نہیں۔

ایک ناکامی آپ کی شناخت نہیں۔

اور میٹرک کا رزلٹ آپ کی پوری زندگی کا رزلٹ نہیں ہے۔

آپ کو صرف ایک کام کرنا ہے:

دوبارہ کھڑے ہونا ہے۔

لیکن دوبارہ کھڑا ہونا صرف جذباتی تقریر سن لینے سے نہیں ہوگا۔

اپنے آپ سے سچے سوالات پوچھنے ہوں گے:

میں کہاں غلط ہوا؟

میں نے کیا نہیں سیکھا؟

مجھے کیا سیکھنا چاہیے؟

میری کون سی عادت مجھے پیچھے لے گئی؟

مجھے کون سی نئی عادت بنانی ہے؟

مجھے کتنی محنت کرنی ہوگی؟

مجھے کس سے سیکھنا ہوگا؟

مجھے کتنی بار ناکام ہونے کے باوجود دوبارہ کوشش کرنی ہوگی؟

اور سب سے اہم:

کیا میں اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہوں؟

کیونکہ "میری ٹرین چھوٹ گئی" کہنے کے بعد اکثر انسان اپنے ذہن کے اندر ایک پوری پریس کانفرنس شروع کردیتا ہے۔

وہ خود کو بتاتا ہے:

میں قصوروار نہیں ہوں۔

میرے بچے نے پوری کوشش کی تھی۔

اساتذہ اچھے نہیں تھے۔

اکیڈمی اچھی نہیں تھی۔

زمانہ خراب تھا۔

دوست غلط تھے۔

قسمت ساتھ نہیں تھی۔

میرے ساتھ زیادتی ہوئی۔

دوسروں نے مجھے آگے نہیں بڑھنے دیا۔

اور پھر آخر میں ایک خطرناک جملہ آتا ہے:

"اب کچھ نہیں ہوسکتا۔"

یہ جملہ انسان کو ناکامی سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔

ناکامی آپ کو ایک بار گراتی ہے۔

لیکن "اب کچھ نہیں ہوسکتا" کا یقین آپ کو زمین پر بٹھا دیتا ہے۔

اور پھر انسان اٹھنے کی کوشش بھی چھوڑ دیتا ہے۔

محبت ویلی کے سیمینار میں میری کوشش یہی تھی کہ میں والدین کو صرف تسلی نہ دوں، بلکہ ان کے اندر دوبارہ امکان کا احساس پیدا کروں۔

میں نے کہا:

آپ کے بچے کا نتیجہ خراب آیا ہے؟

ٹھیک ہے۔

اب اگلا سوال یہ ہے:

ہم اس نتیجے کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں؟

شرمندہ ہونا ہے؟

بچے کو طعنے دینے ہیں؟

اس کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرنا ہے؟

اسے ناکام کہہ کر اس کے اندر کا حوصلہ بھی ختم کرنا ہے؟

یا پھر اسے اپنے پاس بٹھا کر کہنا ہے:

"بیٹا! ایک امتحان میں تم ہارے ہو، زندگی میں نہیں۔ آؤ، دوبارہ شروع کرتے ہیں۔"

بچے کو سب سے پہلے یہی جملہ سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسے یہ یقین چاہیے کہ:

"میرے والدین میرے نتیجے سے نہیں، مجھ سے محبت کرتے ہیں۔"

اور والدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچے کو صرف کتابیں، فیس، اکیڈمی، موبائل، موٹر سائیکل، کپڑے اور سہولتیں دینا کافی نہیں۔

اسے سمت بھی چاہیے۔

اسے کردار چاہیے۔

اسے عادتیں چاہیے۔

اسے ذمہ داری چاہیے۔

اسے ناکامی برداشت کرنا سیکھنا چاہیے۔

اسے سوال پوچھنا سیکھنا چاہیے۔

اسے دوبارہ کوشش کرنا سیکھنا چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر اسے یہ سیکھنا چاہیے کہ:

زندگی میں کبھی کبھی ٹرین چھوٹ جاتی ہے، لیکن سفر ختم نہیں ہوتا۔

میں نے والدین سے کہا:

آپ نے اپنے بچوں کے لیے بہت کچھ کیا ہوگا۔

اپنی خواہشیں قربان کی ہوں گی۔

اپنا پیسہ لگایا ہوگا۔

اچھے کپڑے دیے ہوں گے۔

اچھی خوراک دی ہوگی۔

ٹیوشن لگوائی ہوگی۔

اکیڈمی بھیجی ہوگی۔

مگر اب ایک اور سرمایہ کاری کیجیے۔

اپنا وقت۔

اپنی توجہ۔

اپنی تربیت۔

اپنی گفتگو۔

اپنی مثال۔

کیونکہ بچے صرف ہماری باتیں نہیں سنتے، وہ ہماری زندگی پڑھتے ہیں۔

اگر والدین خود ہر ناکامی کے بعد بیٹھ جائیں گے تو بچے دوبارہ کیسے کھڑے ہوں گے؟

اگر والدین ہر مشکل پر کہیں گے "اب کچھ نہیں ہوسکتا" تو بچے امکان پر کیسے یقین کریں گے؟

اگر والدین ہر ناکامی کا ذمہ دار کسی دوسرے کو قرار دیں گے تو بچے اپنی ذمہ داری کیسے سیکھیں گے؟

اس لیے میں نے کہا:

اپنے بچے کی ٹرین چھوٹنے پر ماتم نہ کریں۔ اگلی ٹرین تلاش کریں۔

اور اگر اگلی ٹرین بھی نہ ملے تو راستہ تلاش کریں۔

راستہ نہ ملے تو راستہ بنائیں۔

راستہ بنانے کے لیے ہنر چاہیے تو ہنر سیکھیں۔

ہمت چاہیے تو ہمت پیدا کریں۔

علم چاہیے تو علم حاصل کریں۔

اور اگر ضرورت پڑے تو اپنی سمت بدل دیں۔

لیکن وہیں کھڑے نہ رہیں۔

کیونکہ زندگی ان لوگوں کے لیے نئے راستے کھولتی ہے جو چلتے رہتے ہیں۔

کون جانتا ہے؟

آج جو بچہ میٹرک میں فیل ہوا ہے، کل وہ اپنی کسی ایسی صلاحیت میں دنیا کا بہترین انسان بن جائے جس کا اسے آج خود بھی اندازہ نہیں۔

کون جانتا ہے؟

آج جس نوجوان کو کوئی معمولی سمجھ رہا ہے، کل وہ سینکڑوں لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرے۔

کون جانتا ہے؟

آج جس والدین کو لگ رہا ہے کہ سب کچھ ختم ہوگیا، کل وہی اپنے بچے کو کامیابی کی نئی منزل تک لے جانے کی مثال بن جائیں۔

میں خود اس سفر کا گواہ ہوں۔

ساہیوال سے بسوں کے دھکے کھاتے ہوئے سفر کرنے سے لے کر آج دنیا کے مختلف شہروں، بہترین ہوٹلوں، ریزورٹس، جزائر، ساحلوں، پہاڑوں اور خوبصورت مقامات تک پہنچنے کا سفر کسی ایک دن میں نہیں ہوا۔

یہ راستہ قدم بہ قدم بنا۔

کبھی بس سے۔

کبھی ٹرین سے۔

کبھی مشکل سے۔

کبھی پیدل۔

اور کبھی ایسے مواقع بھی آئے جب لگا کہ شاید راستہ ختم ہوگیا ہے۔

لیکن راستہ ختم نہیں ہوا تھا۔

صرف میری اگلی سواری ابھی سامنے نہیں آئی تھی۔

یہ فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔

موقع کا ختم ہونا اور امکانات کا ختم ہونا ایک چیز نہیں۔

آپ کی ایک نوکری ختم ہوسکتی ہے۔

ایک کاروبار ختم ہوسکتا ہے۔

ایک امتحان خراب ہوسکتا ہے۔

ایک موقع نکل سکتا ہے۔

ایک منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے۔

لیکن جب تک آپ کے اندر سیکھنے کی صلاحیت، کوشش کرنے کی طاقت، سوچنے کی آزادی اور دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ زندہ ہے، امکانات ختم نہیں ہوئے۔

اسی لیے میں والدین سے کہتا ہوں:

اپنے بچوں کو صرف کامیابی کے لیے تیار نہ کریں، انہیں ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھنے کے لیے بھی تیار کریں۔

کیونکہ زندگی میں گارنٹی یہ نہیں کہ آئندہ کبھی آپ کی ٹرین نہیں چھوٹے گی۔

گارنٹی صرف اتنی ہے:

ٹرین چھوٹنے کے بعد بھی امکانات کی ایک پوری دنیا آپ کے سامنے کھڑی ہوسکتی ہے۔

بس شرط یہ ہے کہ آپ اسٹیشن پر بیٹھ کر رونا شروع نہ کردیں۔

اٹھیں۔

دیکھیں۔

سوچیں۔

پوچھیں۔

سیکھیں۔

سمت بدلیں۔

اور چل پڑیں۔

دنیا ان لوگوں کی منتظر نہیں جو صرف بہترین موقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

دنیا ان لوگوں کے لیے راستے کھولتی ہے جو خود کو تیار کرتے ہیں۔

انتظار کے بجائے تیاری کیجیے۔

شکایت کے بجائے حکمتِ عملی بنائیے۔

ماتم کے بجائے موقع تلاش کیجیے۔

بہانے کے بجائے ذمہ داری قبول کیجیے۔

اور اپنے بچوں سے ایک وعدہ کیجیے:

"اگر تم گر گئے تو ہم تمہیں اٹھائیں گے، لیکن تمہیں دوبارہ چلنا خود سیکھنا ہوگا۔"

والدین سے بھی ایک گزارش ہے:

اپنے بچے کو اس کے رزلٹ سے مت پہچانیے۔

وہ فیل ہوا ہے، مگر وہ ناکام انسان نہیں ہے۔

اس کے نمبر کم ہیں، مگر اس کی قیمت کم نہیں ہوگئی۔

اس کا ایک امتحان خراب ہوا ہے، مگر اس کی پوری زندگی کا امتحان ابھی باقی ہے۔

اور بچوں سے میری صرف ایک بات ہے:

اپنے والدین کے انتظار کو مزید طویل مت کیجیے۔

وہ آپ کو دوبارہ کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی کا فیصلہ دوسروں کے ہاتھ میں نہ دیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ آپ صرف ڈگری نہیں، ایک قابلِ قدر انسان بنیں۔

اور یاد رکھیے:

جب آپ اپنی زندگی سنوارتے ہیں تو صرف آپ کی زندگی نہیں بدلتی۔

آپ کے والدین کا سر فخر سے بلند ہوتا ہے۔

آپ کے بہن بھائیوں کو حوصلہ ملتا ہے۔

آپ کے دوستوں کو راستہ ملتا ہے۔

آپ کے علاقے کو مثال ملتی ہے۔

اور شاید کسی دن آپ کی کہانی کسی ایسے شخص تک پہنچتی ہے جو آج اسی جگہ کھڑا ہے جہاں آپ کبھی کھڑے تھے۔

پھر وہ آپ کی طرف دیکھ کر کہتا ہے:

"اگر یہ دوبارہ کھڑا ہوسکتا ہے، تو میں بھی ہوسکتا ہوں۔"

یہی اصل کامیابی ہے۔

اس لیے اگر آج آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی ٹرین چھوٹ گئی ہے تو ایک لمحہ رک کر خود سے کہیں:

"ہاں، شاید ایک ٹرین چھوٹ گئی ہے۔
لیکن میرا سفر ابھی باقی ہے۔"

پھر اٹھیں۔

اپنی سمت طے کریں۔

اپنی نئی سواری تلاش کریں۔

ضرورت پڑے تو اپنی گاڑی خود بنائیں۔

اور چل پڑیں۔

کیا خبر؟

جس منزل کے لیے آپ برسوں پریشان رہے، ایک دن وہی منزل آپ کے قدموں تک چل کر آ جائے۔

محبت ویلی کا پیغام یہی ہے:

زندگی کا ایک نتیجہ آپ کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتا۔
ایک ٹرین کا چھوٹ جانا سفر کا اختتام نہیں ہوتا۔
اصل شکست تب ہوتی ہے جب انسان دوبارہ اٹھنے سے انکار کردے۔

تو آج فیصلہ کیجیے:

میں شکایت نہیں کروں گا۔
میں بہانہ نہیں بناؤں گا۔
میں اپنی ذمہ داری قبول کروں گا۔
میں سیکھوں گا۔
میں خود کو تیار کروں گا۔
اور میں دوبارہ چل پڑوں گا۔

کیونکہ شاید…

آپ کی اگلی ٹرین پہلے سے زیادہ خوبصورت سفر کی طرف جا رہی ہو۔
Mohabbat Valley

17/08/2026

عثمان افتخار — سعودی عرب سے محبت ویلی تک

میرا نام عثمان افتخار ہے اور میں سعودی عرب میں رہتا ہوں۔
محبت ویلی سے ہمارا تعلق کچھ پرانا ہے، اور نواز بھائی سے رابطہ بھی پہلے سے تھا۔ ہمیشہ دل میں یہ خواہش تھی کہ جب پاکستان آئیں تو محبت ویلی ضرور آئیں اور کچھ وقت یہاں گزاریں۔

اس بار ہم نے یہ پروگرام بک کیا… اور سچ کہوں تو جو توقع لے کر آئے تھے، اس سے کہیں زیادہ خوبصورت تجربہ لے کر واپس جا رہے ہیں۔

یہاں آ کر ہمیں صرف فنانس سیکھنے کا موقع نہیں ملا، بلکہ اپنے بچوں کے ساتھ Emotions کو سمجھنے، مختلف Activities کے ذریعے Family Bonding بہتر کرنے، اور اپنی Health اور Lifestyle کے بارے میں جاننے کا بھی موقع ملا۔

سب سے خوبصورت چیز یہ رہی کہ ہمیں مختلف Homeschooling Mothers اور دوسری Families کے ساتھ ملنے، بات کرنے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملا۔
یہ Connections شاید اس پروگرام کی سب سے قیمتی یادوں میں سے ایک ہیں۔

ہم دونوں میاں بیوی دل سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ محبت ویلی صرف ایک جگہ نہیں، ایک Experience ہے۔

ہم ان شاء اللہ دوبارہ آئیں گے۔
جب بھی چھٹیوں پر پاکستان آئیں گے، محبت ویلی سے ضرور Connect کریں گے اور کوشش ہوگی کہ یہاں کے Programs کا حصہ بنیں۔

اور سب سے بڑی بات…
ہم یہاں سے صرف کچھ نئی معلومات لے کر نہیں جا رہے، بلکہ نئی سوچ، نئی توانائی، نئے Connections اور اپنی Family کے لیے بہت سی خوبصورت یادیں لے کر جا رہے ہیں۔

اگر آپ بھی اپنی فیملی کے ساتھ کچھ ایسا وقت گزارنا چاہتے ہیں جہاں آپ سیکھیں بھی، Grow بھی کریں، اپنے بچوں کو سمجھیں بھی اور ایک دوسرے کے قریب بھی آئیں… تو محبت ویلی ضرور آئیں۔

ہم تو دوبارہ آنے کا ارادہ لے کر جا رہے ہیں۔ ❤️

— عثمان افتخار
Saudi Arabia
Mohabbat Valley

Address

Chak No. 129/9L
Sahiwal
57000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923009696529

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mohabbat Valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mohabbat Valley:

Shortcuts

Share