Ghalla Mandi Harappa

Ghalla Mandi Harappa For the farmers of Harappa, for sale of agricultural commodities, the wheat mill in 1978, four acres

غلہ منڈی ہڑپہ ناکام کیوں ہوئی؟
اللہ دتہ اے ڈی

ہڑپہ کے کسانوں کو زرعی اجناس کی فروخت کے لیے 1978 میں غلہ منڈی چار ایکڑ دو کنال دو مرلہ رقبے پر باقاعدہ گورنمنٹ کی منظوری سے قائم ہوئی۔دکانوں کے لئے رقبہ ایک ایکڑ ایک کنال چھ مرلے، پھڑوں کے لئے رقبہ ایک ایکڑ چار کنال ایک مرلہ، سڑکوں کے لیے رقبہ ایک ایکڑ تین کنال چار مرلے، دفتر کے لئے رقبہ37 مرلے، مسجد کے لئے رقبہ37 مرلے اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے ک

ے لئے رقبہ51 مرلے مختص کیا گیا۔58 بڑے اور 22 چھوٹے پلاٹوں کی نیلامی کا عمل مختلف ادوار 1979،1983،1990 میں مکمل ہوا اور کروڑوں روپے کی لاگت سے ترقیاتی کام مکمل ہونے پر خریداروں نے تعمیرات مکمل کر کے زرعی اجناس کی خریداری شروع کر دی۔غلہ منڈی کے قیام پر کسان اور محنت کش بھی خوش تھے کیونکہ کسانوں کو اپنی زرعی اجناس کی فروخت کے لیے دوسرے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑتا تھا اور محنت کشوں کو بھی گھر بیٹھے روزگار مل گیا۔انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث غلہ منڈی میں کسانوں کو ان کی اجناس کے صیح ریٹ نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے غلہ منڈی میں اپنی اجناس فروخت کرنا ترک کر دی۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کاشتکاروں کیطرف سے اجناس نہ ملنے پر مجبورا آڑھتیوں نے آڑھتوں کو تالے لگا کر بازار میں دکانیں کھولنا پڑیں تو کئی آڑھتیں بیچ کر چلے گئے اور ایک بار پھر دور دراز کا سفر محنت کشوں کا مقدر بن گیا۔انتظامیہ مارکیٹ کمیٹی نے بھی مثبت حکمت عملی بنانے کی بجائے دفتر کو تالے لگا کر غلہ منڈی کو ہمیشہ کے لئے اپنی غفلت کی سپرد کر دیا۔ غلہ منڈی میں مویشی باندھ کر باڑہ میں تبدیل کر دیا گیا جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگ گئے منڈی کے صحن میں جڑی بوٹیاں اور جنگلی پودے اگنے سے غلہ منڈی کچرا منڈی بن گئی۔مناسب دیکھ بھال نہ ہونے سے غلہ منڈی میں موجود 80 کی تعداد میں چھوٹی بڑی آڑھتیں اور دفتر مارکیٹ کمیٹی نے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بھوت بنگلوں کی شکل اختیار کر لی۔شہری چوہدری منیر احمد ساجد نے اس گھمبیر مسئلے پر 22 مئی 2017 کو وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری پنجاب کے آن لائن شکایات سیل میں درخواست گزاری جس پر چیف سیکرٹری پٹیشن سیل نے کاروائی کے لئے افسران مجاز سپیشل سیکرٹری برائے ایگری کلچرل مارکیٹنگ پنجاب اور ڈپٹی کمشنر ساہیوال کو بھجوا دی۔

بعدازاں عمل درآمد کے لئے چئیرمین اور سیکرٹری مارکیٹ کمیٹی ساہیوال کے سپرد کر دی گئ جس پر انتظامیہ حرکت میں آئی اور غلہ منڈی کے گرد خلاف ضابطہ خریداری زرعی اجناس کرنے والوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔غلہ منڈی پر آئی زیڈ بھٹی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی ساہیوال کا مؤقف ہے کہ مذکورہ خریدار زرعی اجناس کاشتکاروں کا استحصال اور گورنمنٹ کے محاصل کی ادائیگی نہیں کرتے ہیں جو غلہ منڈی کی ناکامی کا باعث بھی بنے ہوئے ہیں اور انکے خلاف دفعہ 144 کے نفاذ کےلئے ڈپٹی کمشنر ساہیوال سے درخواست کی گئی ہے۔انتظامیہ کی اس کاروائی کے بعد چند ایک آڑھتیوں نے اپنی آڑھتوں کی تعمیرومرمت کر کے نام لکھوا کر خریداری اجناس شروع کی تھی جو چند روز تک ہی جاری رہ سکی۔ مگر انتظامیہ کی جانب سے سب آفس مارکیٹ کمیٹی غلہ منڈی ہڑپہ کے ابھی تک تالے نہ کھولنا غلہ منڈی کی بحالی میں عدم دلچسپی اورہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جو عوام کےلئے سخت مایوسی کا باعث ہے۔

اس حوالے سے نواحی گاؤں چکنمبر 147 نو ایل کے رہائشی کاشتکار مقبول احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلہ منڈی غیر فعال ہونےکی وجہ سے ہمیں اپنی اجناس ساہیوال سے تقریباً 25 کلو میٹر، چیچہ وطنی سے تقریباً 25 کلو میٹر، اور عارفوالا تقریباً 58 کلو میٹر کا طویل سفر طے کر کے منڈی میں بذریعہ ٹریکٹر ٹرالی یا ٹرک وغیرہ لیجانا پڑتی ہیں۔ جس سےحاصل ہونے والا منافع کرایوں کی مد میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کئی بار گاڑی کی خرابی یا دوران سفر بارش سے اجناس بھیگنے سے ناقابل تلافی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر غلہ منڈی بحال ہو جائے تو ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہ ہو گی۔انجمن تاجران ہڑپہ کے صدر میاں طارق جاوید نے کہا ہے کہ اگر انتظامیہ آج بھی اپنا مجرمانہ رویہ ترک کر دے تو غلہ منڈی کی اصلی حالت واپس آ سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غلہ منڈی ہڑپہ کی بحالی سے سینکڑوں دیہات کے کسانوں کی مشکلات آسان ہوں گی اور لوگوں کو روزگار میسر آئے گا۔'عرصہ دراز سے قائم غلہ منڈی انتظامیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے بھینسوں کے باڑے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ، جھاڑیاں اور دکانوں کو لگے تالے اس کی زبوں حالی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔'چک نمبر 109/7 آر کے رہائشی عوامی و سماجی کارکن چوہدری طارق گجر کا کہنا ہےکہ منتخب عوامی نمائندوں نے بھی عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے اور اپنے مفادات کو ہی مقدم رکھا جن کو غلہ منڈی کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے تھا مگر انکی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔اہلیان علاقہ نے صدر اور وزیراعظم سے غلہ منڈی کی حالت زار پر نوٹس لیکر اصلی حالت میں واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہر ترقی کی منازل طے کر سکے۔
23 نومبر 2017 | 4:14 دن
اللہ دتہ اے ڈی
اللہ دتہ اے ڈی کا تعلق ہڑپہ سے ہے۔ سماجی مسائل پر لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

Daily Ausaf Lahore Dated 22-08-2019
22/08/2019

Daily Ausaf Lahore Dated 22-08-2019

Daily Khabrain Lahore 29-12-2018
29/12/2018

Daily Khabrain Lahore 29-12-2018

05/11/2018

Ghalla Mandi Harappa Report 04-11-2018 7News

05/11/2018

Ghalla Mandi Harappa Report 04-11-2018

السلام علیکم جناب عزت مآب ڈپٹی کمشنر ساہیوال میاں محمد زمان وٹو صاحب گزارش ہے کہ درخواست متذکرہ برائے مناسب احکامات ارسا...
30/09/2018

السلام علیکم جناب عزت مآب ڈپٹی کمشنر ساہیوال میاں محمد زمان وٹو صاحب گزارش ہے کہ درخواست متذکرہ برائے مناسب احکامات ارسال خدمت ہے خصوصی شفقت فرمائی جائے تاکہ جناح ٹاون ہڑپہ اسٹیشن کی کئ سالوں سے ویران ہوئی پڑی غلہ منڈی کی بحالی کا دیرینہ سلگتا ہوا مسئلہ حل ہوسکے۔ ۔۔ چوہدری منیر احمد ساجد ۔۔ جناح پریس کلب رجسٹرڈ ہڑپہ

Public Service Message
16/09/2018

Public Service Message

Address

Nearest Harappa Textile Mills, Nai Wala Road Harappa, Tehsil & District: Sahiwal
Sahiwal
57000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghalla Mandi Harappa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ghalla Mandi Harappa:

Share