Imran electronics and ups

Imran electronics and ups stabilizer up to low and low to up voltage full digital available

27/12/2025

امام مسجد کی بد دُعا کا اثر
ہر مسجد میں تین چار ایسے بندے لازمی ہوتے ہیں جو
امام کے ساتھ مفت کی دشمنی پالتے ہیں
مسجد کا امام ہونا بھی عجیب منصب ہے
کوئی بھی شخص امام پر اعتراض کر سکتا ہے
اور کوئی بھی ڈانٹ ڈپٹ کا حق رکھتا ہے
امام کیسا بھی عالی مرتبہ اور عظیم کردار کا مالک کیوں نہ ہو مقتدیوں کی جلی کٹی باتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھیےجلیل القدر صحابی ہیں پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں
اور عشرہ مبشّرہ میں سے ہیں رسول اللّٰہ ﷺ جنہیں اپنا ماموں فرما رہے ہیں
ان کے حق میں قرآن کی آیتیں نازل ہو رہی ہیں واحد ایسے صحابی ہیں جن کے لئے رسول اللّٰہ ﷺ نے اپنے والد اور والدہ کو جمع کرتے ہوئے

فرمایا: فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّی

تجھ پہ میرے ماں اور باپ قربان

جن کے دل میں کسی مسلمان کے لئے بغض وحسد نہ تھا مستجاب الدّعوات تھے
رسول اللّٰہ ﷺ کی معیت میں تمام تر غزوات میں شریک ہوتے ہیں راہِ خُدا کے پہلے تیر انداز ہیں خود رسول اللّٰہ ﷺ آپ کو سالارِ لشکر مقرر فرما کر خرار کی جانب روانہ فرماتے ہیں آپ کے ہاتھ پر بہت سی فتوحات ہوئیں لیکن جب امارتِ کوفہ کے دوران مصلائے امامت پہ کھڑے ہوتے ہیں
تو کوفہ والوں کے اعتراضات کا محور بن جاتے ہیں
کوفہ والے حضرت عمر فاروقؓ کو شکایات بھجواتے ہیں اور ان میں ایک شکایت یہ بھی ہوتی ہے کہ سعد بن ابی وقاصؓ نماز ٹھیک نہیں پڑھاتے
وہ شخص جس نےنماز اللّٰہ کے نبی ﷺ سے سیکھی
اس شخص کی نماز پر دیہاتیوں کا اعتراض......

بہر حال! جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتی ہے تو عمر فاروقؓ تحقیقِ احوال کے لیے کوفہ والوں کی طرف محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ کو بھیجتے ہیں ۔۔۔
جو ایک ایک مسجد میں جا کرحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں پوچھتے ہیں
حیرت کی بات ہے
کہ شکایات کوفہ سے چل کر مدینہ منورہ تو پہنچ گئیں
لیکن محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللّٰہ بن ارقمؓ جس سے بھی سوال کرتے ہیں تو جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی تعریف ہی سننے کو ملتی ہے۔۔۔
ایک ایک مسجد میں جا کر پوچھا لیکن کسی کی طرف سے کوئی اعتراض موصول نہیں ہوا البتہ جب پوچھتے پوچھتے سلسلہ بنو عبس کی مسجد تک پہنچا تو۔۔
صرف ایک شخص "اسامہ بن قتادۃ" نامی اٹھ کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت کرتا ھے کہ آپ کی نماز ٹھیک نہیں
یہ جہاد کے سلسلے میں کوتاھی کرتے ہیں اور فیصلے میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیتے.
اعتراض کچھ بھی تھا لیکن یہاں انتہائی قابلِ توجہ بات یہ ھے کہ شکایات کوفہ سے مدینہ بھیجی گئیں لیکن کوفہ کی کسی مسجد میں ایک شخص کے علاوہ کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ملتا ۔۔
یہ حقیقت تاریخ کا حصہ اور لائقِ اعتماد کتب میں موجود ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران صرف ایک ہی ایسا آدمی ملا جسے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ پر اعتراض تھا
لیکن شکایات مدینہ بھجوائی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ اگر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول نہ کیا گیا تو فتنہ وفساد کا اندیشہ ہے اور پھر عمر فاروقؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر بھی دیا
اس حقیقت کے پشِ نظر یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا کہ
بعض اوقات صرف ایک دو افراد یا مقتدیوں کو امام سے شکایت ہوتی ہے لیکن ان کا پروپیگنڈہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ "یہ شخص اس منصب کے لائق نہیں"
میں اس مقام پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کو دل کے کانوں سے متوجہ ھونے کی دعوت دوں گا اس میں شک نہیں کہ بہت سے ائمہ مساجد لائقِ تعریف نہیں
لیکن میرے بھائیو!
کبھی آپ کی مسجد کا امام بے قصور بھی ہوتا ھے
اور آپ کے اعتراضات بے جا بھی ھوتے ہیں
ایسی حالت میں اپنی "انا" کی تسکین کے بجائے اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ سے ڈریے اور ذہن میں رکھیے کہ:
جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نےمعترض کی ناحق باتیں سنی تھیں تو اپنے ہاتھ اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے دربار میں اُٹھا کر یہ دعا کی:

اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هٰذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهٗ وَأَطِلْ فَقْرَهٗ وَعَرِّضْهٗ بِالْفِتَنِ

اے اللّٰہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور نام ونمود کی خواہش میں اٹھا ہے تو اس کی عمر کو لمبا کر اس کی محتاجی میں اضافہ کر اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔
وقت گزر گیا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معزول بھی ہو گئے پروپیگنڈہ جیت گیا
لیکن سعد بن ابی وقاصؓ کی دُعا اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں محفوظ رہی اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخص انتہائی بڑھاپے کو پہنچا اس کی بھنویں آنکھوں پر گر چکی تھیں راستے میں کھڑے ہو کر بھیک مانگتا اور جب کوئی عورت سامنے سے گزرتی تو اس کے ساتھ چھیڑخانی کرتا۔
لوگ کہتے: اے بوڑھے! تمہیں عورتوں کو چھیڑتے ہوئے حیاء نہیں آتی؟
جواب میں کہتا: میں کیا کروں؟ مجھ بڈھے کو سعد بن ابی وقاصؓ کی بد دعا لگ گئی ہے
(صحيح البخاري كتاب الأذان باب وجوب القراءة للإمام والمأموم : 755)

آج کے دور کا کوئی امام حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسا تو نہیں لیکن کسی بھی مسلمان پر ناحق اعتراضات کرتے وقت اللّٰہ تعالٰی کی پکڑ کو بھول جانا انتہائی بد نصیبی کی علامت ہے
ہم اپنے پروپیگنڈہ میں جیت سکتے ہیں
لیکن اللّٰہ جلّ جلالہٗ کے ہاں فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں ان فیصلوں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
اللّٰہ تعالٰی ہمیں مسجدوں کے نظام میں بہتری لانے کی توفیق بخشے اور مسجد کے امام، خطیب اور انتظامیہ میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اسے حتٰی المقدور نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔

16/12/2025

کوشش کریں…
جہاں سے بھی گزریں

اچھی یادیں چھوڑ کر جائیں۔

کیونکہ ممکن ہے…

دوبارہ آپ کا وہاں سے گزر نہ ہو۔

🍂✨

زندگی بہت مختصر ہے،

اور لوگ وہی یاد رکھتے ہیں

جو احساس آپ اُن کے دل میں چھوڑ کر جاتے ہیں۔

کبھی ایک مسکراہٹ،

کبھی ایک نرم جملہ،

کبھی دل جوئی،

اور کبھی محض اچھا رویہ—

کسی کے دل پر گہرا نقش بن جاتا ہے۔

💛🌿

کیا معلوم…

آپ کا بنایا ہوا کوئی لمحہ

کسی کے مشکل دن کو آسان کر جائے،

کوئی زخم بھر دے،

یا کسی ٹوٹے دل میں امید جگا دے۔

🌸🕊️

ہمیشہ نرمی اختیار کریں،

کیونکہ نرمی انسان کا نہیں،

اس کے کردار کا حسن ہوتی ہے۔

04/12/2025

حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا وہ تہجد کی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتا تھا ، باجماعت نماز پڑھاتا تھا اور شراب و زنا سے دور بھاگتا تھا لیکن انتہائی ظالم تھا جب اس کی موت آئی تو انتہائی عبرتناک موت آئی
حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اس نے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا.. وہ الله کے بندوں،اولیاء اور علماء کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا. حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں. اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں ا کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گۓ حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج، جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور انسے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا …آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھوی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔
اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سب کو محفوظ رکھے..!!
آمین"

04/12/2025

مسیلمہ کذاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا:-
" میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ حیات ظاہری میں ہیں ، آپ نبی ہیں - جب اپکا وصال ہوجاٸے تو میں نبی"
یا یہ معاہدہ کر لیں کہ
آدھے عرب کے آپ نبی
آدھے عرب کا میں نبی" - - - معاذاللہ

اسکے خط پر نبی ﷺ نے جواب میں لکھا :-
"میں تو اللہ کا رسول ہوں جب کہ تو کذاب ہے - - جھوٹا ہے"-

جب نبی پاک نے خط میں کذاب لکھا تو فرمانے لگے :-
" کون لے کے جاٸے گا یہ خط اس کذاب کے دربار میں" ۔۔

اب اسکے دربار میں جانا ہے حالات بڑے خطرناک ہیں - - - اس کے آگے بھی بندے اور پیچھے بھی بندے ہیں جان کا خطرہ بھی ہے - - ایک صحابی تھے چھابڑی فروش، سر پر ٹوکرا رکھ کے مدینے کی گلیوں میں کجھوریں بیچتے تھے - - - گیارہ بارہ بچوں کے باپ تھے جسمانی طور پر بھی کمزور تھے، کجھور کھا رہے تھے جلدی سے اٹھے ہاتھ کھڑا کر کے کہا :-

" حضور کسی اور کی ڈیوٹی نا لگائیے گا میں جاونگا" - -
جب یہ الفاظ جلد بازی میں کہے تو ان کے منہ سے کجھور کے ٹکڑے مجلس میں بیٹھے صحابہ کے چہروں پر گرے ، ایک صحابی کہنے لگے:-
" اللہ کے بندے پہلے کھجور تو کھا لے" - - - بڑی جلدی ہے تجھے بولنے کی " - - -

مسکرا کے کہنے لگے :-
"اگر کھاتے کھاتے ڈیوٹی کسی اور کی لگ گٸی تو کیا کرونگا مجھے جلدی ہے" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ اکبر)

حضورﷺ نے اپنا نیزہ دیا, گھوڑا دیا ,اور فرمایا:-
" ذرا ڈٹ کے جانا اس کذاب کے گھر" - -
وہ صحابی عقیدت سے نظریں جھکا کر کہنے لگے:-
" محبوب خدا ! آپ فکر ہی نا کریں" - - -

صحابہ کہتے ہے وہ اس طرح نکلے جیسے کوٸی جرنیل نکلتا ہے,انکا انداز ہی بدل گیا ان کے طور طریقے بدل گٸے وہ یوں نکلے جیسے کوٸی بڑا دلیر آدمی جاتا ہے - - وہ صحابی مسیلمہ کذاب کے دربار میں گٸے، وہاں ایک شحض جو بعد میں مسلمان ہوا وہ بتلاتا ہے:-
" وہ صحابی جن کا نام" حضرت حبیب بن زید " تھا جب وہاں دربار میں پہنچے تو اپنا نیزہ زور سے دربار میں گاڑ دیا

مسلمہ ٹھٹک کے کہتا ہے:-
" کون ہو "؟ - - -
آپ غراتے ہوئے فرمانے لگے:_
" تجھے چہرہ دیکھ کے پتہ نہیں چلا کہ میں رسول اللہﷺ کا نوکر ہو، ہمارے تو چہرے بتاتے ہیں کہ نبیﷺ والے ہیں ، تجھے پتہ نہیں چلا میں کون ہوں" ۔

مسلمہ کہنے لگا:-
" کیسے آٸے ہو" ؟ - - -
بے نیازی سے فرمایا :-
" یہ تیرے خط کا جواب لے کے آیا ہوں" ۔

بادشاہوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خط خود نہیں پڑھتے تھے، ساتھ ایک بندہ کھڑا ہوتا تھا وہ خط پڑھتا تھا تو مسیلمہ نے خط اس کو دیا کہ - -" پڑھو " - - جب اس نے خط پڑھا تو اسمیں یہ بھی لکھا تھا :- " تو کذاب ہے" - - -

یہ جملہ وہاں موجود سب نے سن لیا اکیلے میں ہوتا تو بات اور تھی - - وہ آگ بگولہ ہوگیا انکھیں سرخ ہوگٸیں سامنے حضرت حبیبؓ بن زید تنے کھڑے تھے، غصے سے تلوار لے کے اٹھا اور کہنے لگا:-
" تیرے نبی نےمجھے" کذاب " کہا ہے تیرا کیا خیال ہے" ۔؟؟
حبیب بن زید مسکرا کے فرمانے لگے:-
" خیال والی بات ہی کوٸی نہیں، جسے میرا نبی کذاب کہے وہ ہوتا ہی کذاب ہے - - - تو سات سمندروں کا پانی بھی بہا دے تو بھی تیرا جھوٹ نہیں دھل سکتا" - - -

مسلمہ غصے کی شدت سے کانپتے ہوئے کہنے لگا :-
" تو پیچھے پلٹ کے دیکھ ، سارے میرے سپاہی میرےپہرےدار، تلواریں , نیزے , خنجر , تیر سب تیرے پیچھے کھڑے میرے ماننے والے ہیں" ۔۔

حضرت حبیب بن زید رض فرمانے لگے:-
" میرے بارہ بچے ہیں ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو دودھ پیتے ہیں کچھ ایسے ہیں جنہوں نے ابھی چلنا نہیں سیکھا - - - میں جب رسول اللہﷺ کا پیغام لے کے نکلا تھا تو میں نے پلٹ کے بچے نہیں دیکھے تو تیرے پہرہ دار کیسے دیکھ لوں ,جو جی میں آتا ہے کر غلامان محمدﷺ جان دینے سے نہیں ڈرتے " - -

مسیلمہ نے زور سے تلوار ماری بازو کٹ کے گر گیا کہنے لگا :-
" اب بول اب تیرا کیا خیال ہے"؟؟؟
آپ فرمانے لگے:-
" تو بڑا بیوقوف ہے ہمیں آزماتا ہے، ہمیں تو بدر سے لے کر احد تک سب آزما چکے ہیں ، تو ابھی بھی خیال پوچھتا ہے، میرا خیال وہی ہے جو میرے نبی نے فرمایا" - - -

مسلمہ نےپھر تلوار ماری دوسرا ہاتھ کٹ گیاکہنے لگا:-
" میں تجھے قتل کر دونگا باز آجا
آپ فرمانے لگے:-
" تو بڑا نادان ہے ، ان کو ڈراتا ہےجو فجر کی نماز پڑھ کے پہلی دعا ہی شہادت کی مانگتے ہیں ، جو کرنا ہے کر لے" - -

مسلمہ کزاب نے تلوار گردن پر رکھی کہنے لگا:-
" میں تیری گردن کاٹ دونگا " - -
حبیب بن زید فرمانے لگے:-
" کاٹتا کیوں نہیں" - - -

روایت کرنے والا فرماتا ہے مسیلمہ کے ہاتھ کانپتے تھے - تلوار چلاٸی گردن کٹ گٸی ، ادھر مدینے میں حضورﷺ کی انکھوں میں آنسو آٸے ، صحابہ کرام رض نے پوچھا :-
" یا رسول اللہ کیا ہوا " - - -
فرمایا :-
"میرا حبیب شہید ہو گیا ہے - - - اور رب کریم نے اس کے لٸے جنت کے سارے دروازے کھول دیئے ہیں" -

کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

ایسے اچھے اچھے مضامین کے لئے
لائک شیئر اور فالو کر لیں
جزاک اللہ خیرا کثیرا

04/12/2025

موت کی چھ علامتیں جو اس کے قریب ہونے کی نشانی ہیں۔
موت کے چھ مراحل ہوتے ہیں۔
پہلا مرحلہ "یوم الموت" کہلاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب انسان کی زندگی کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ زمین پر جائیں اور انسان کی روح قبض کریں تاکہ اسے اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار کیا جا سکے۔
بدقسمتی سے، کوئی بھی اس دن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اور جب وہ دن آتا ہے، انسان کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ یہ اس کی موت کا دن ہے۔
تاہم، انسان اپنے جسم میں تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔ مثلاً مؤمن کے دل کو اس دن خوشی اور سکون ملتا ہے، جبکہ برے اعمال کرنے والے کو سینے اور دل میں دباؤ محسوس ہوتا ہے۔
اس مرحلے پر شیاطین اور جنات فرشتوں کے نزول کو دیکھتے ہیں، لیکن انسان انہیں نہیں دیکھ سکتا۔
قرآن کریم میں اس مرحلے کا ذکر یوں کیا گیا ہے:
"اور اس دن سے ڈرو جس دن تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر جان کو اس کے کیے کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔"
(سورة البقرة: 281)
دوسرا مرحلہ: روح کا تدریجی طور پر نکلنا
یہ مرحلہ پاؤں کے تلووں سے شروع ہوتا ہے۔ روح آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھتی ہے، ٹانگوں، گھٹنوں، پیٹ، ناف اور سینے سے گزرتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مقام پر پہنچتی ہے جسے "ترقی" کہا جاتا ہے۔
اس مقام پر انسان تھکن اور چکر محسوس کرتا ہے اور کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کی جسمانی طاقت ختم ہو جاتی ہے، لیکن وہ اب بھی نہیں سمجھ پاتا کہ اس کی روح جسم سے نکل رہی ہے۔
تیسرا مرحلہ: "ترقی" کا مرحلہ
قرآن کریم میں اس کا ذکر یوں آیا ہے:
"ہرگز نہیں، جب روح حلق تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا، کون جھاڑ پھونک کرے گا؟ اور وہ سمجھے گا کہ یہ جدائی کا وقت ہے۔ اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔"
(سورة القیامة: 26-29)
ترقی حلق کے نیچے کے دو ہڈیوں کو کہا جاتا ہے جو کندھوں تک پھیلتی ہیں۔
"وَقِيلَ مَنْ رَاقٍ" کا مطلب ہے کہ کون روح کو لے کر جائے گا؟
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ ڈاکٹر یا ایمبولینس بلانے یا قرآن پڑھنے کی بات کرتے ہیں، لیکن انسان ابھی بھی زندگی کی امید رکھتا ہے۔
"وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ" کا مطلب ہے کہ انسان کو موت کے قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے، لیکن وہ اب بھی بقا کی کوشش کرتا ہے۔
"وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ" یعنی روح کے نکلنے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اور جسم کے نچلے حصے بے جان ہو چکے ہیں۔
چوتھا مرحلہ: "حلقوم" کا مرحلہ
یہ موت کا آخری مرحلہ ہے، جو انسان کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کے سامنے پردے ہٹ جاتے ہیں، اور وہ اپنے ارد گرد موجود فرشتوں کو دیکھتا ہے۔
یہاں سے انسان آخرت کو دیکھنا شروع کرتا ہے:
"ہم نے تمہاری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا، آج تمہاری نظر تیز ہے۔"
(سورة ق: 22)
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"پھر کیوں نہیں جب روح حلق تک پہنچ جائے۔ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہو، اور ہم تم سے زیادہ قریب ہیں، لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔"
(سورة الواقعة: 83-85)
یہ وہ وقت ہے جب انسان اللہ کی رحمت یا غضب دیکھتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے اعمال کو اپنی نظروں کے سامنے گزرتا ہوا دیکھتا ہے، اور شیطان اسے گمراہ کرنے کی آخری کوشش کرتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
"اور کہو، اے میرے رب، میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس سے بھی کہ وہ میرے پاس آئیں۔"
(سورة المؤمنون: 97-98)
پانچواں مرحلہ: "ملک الموت" کا داخلہ
یہ مرحلہ وہ ہے جہاں انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ رحمت والوں میں سے ہے یا عذاب والوں میں سے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور جن کی روحیں فرشتے سختی سے نکالتے ہیں، ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں۔"
(سورة محمد: 27)
اگر انسان مؤمن ہے تو اس کی روح نرمی سے نکلتی ہے، جیسے پانی کا قطرہ مشکیزے سے نکلتا ہے۔
اللہ فرماتا ہے:
"اے اطمینان والی روح، اپنے رب کی طرف لوٹ، راضی اور مرضی، اور میرے بندوں میں شامل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔"
(سورة الفجر: 27-30)
چھٹا اور آخری مرحلہ
یہ مرحلہ وہ ہے جب انسان کی روح مکمل طور پر جسم سے نکل جاتی ہے۔ اگر وہ گناہ گار ہے تو کہتا ہے:
"اے میرے رب، مجھے واپس بھیج دے، تاکہ میں نیک عمل کر سکوں۔"
لیکن اللہ فرماتا ہے:
"ہرگز نہیں، یہ صرف ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اور ان کے پیچھے ایک پردہ ہے، قیامت کے دن تک۔"
(سورة المؤمنون: 99-100)
"اور موت کی سختی حق کے ساتھ آئے گی، یہی وہ ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔"
(سورة ق: 19)
یہاں مؤمن کے لیے جنت کی بشارت ہے، جبکہ گناہ گار کے لیے عذاب کی وعید۔
ایک مفسر سے پوچھا گیا کہ لوگ موت سے کیوں ڈرتے ہیں؟
انہوں نے جواب دیا:
"کیونکہ تم نے دنیا کو آباد کیا اور آخرت کو برباد کر دیا۔"
اے میرے اللّٰہ؟ ہمارے اخری خاتمہ دین اسلام پر فرما۔۔۔ (آمین)

10/11/2025

شیخ کا انصاف-----
ایک عربی شہری، اپنے گاؤں کے دوست کا پہلی مرتبہ مہمان ہوا۔ میزبان گھرانہ چھ افراد پہ مشتمل تھا۔ ایک میزبان، ایک اس کی اہلیہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔
پہلے روز میزبان دوست نے رات کھانے میں ایک مرغ مسلم کا اہتمام کیا۔ قدیم عربی روایت کے مطابق میزبان نے مہمان سے کہا:
" جناب محترم۔ آپ مہمان، آپ ہی اسے تقسیم کیجئیے گا"
مہمان نے کہا:
" چلیں، اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو میں ہی تقسیم کئیے دیتا ہوں"
مہمان نے مرغ مسلم کی سری کاٹی، میزبان کی جانب بڑہا دی اور کہا:
” محترم، آپ گھر کے سربراہ، سر سربراہ کو ہی زیب دیتا ہے“
مرغے کا پچھلا حصہ کاٹا اور کہا:
” دستور کے مطابق ایک عورت ہی پیچھے گھر کی رکھوالی کرتی ہے، سو یہ آپ کی اہلیہ کے لیے۔
مرغ کے دونوں بازو کاٹے، دونوں بیٹوں کو ایک ایک دے دیا:
”بیٹے باپ کے بازو ہوتے ہیں"
پھر دونوں بیٹیوں کی جانب دیکھا اور کہا:
”بیٹیاں ہر گھر کے وقار کی بنیاد ہیں، خاندان کی عزت انہی پر کھڑی ہوتی ہے“
مرغ کے دونوں پاؤں علیحدہ کئیے، دونوں کو دے دیے، مسکرایاے اور کہا:
” مہمان کی عزت افزائی کا شکریہ, یہ جو تھوڑا بچ گیا، مہمان کا ہوا“
میزبان کچھ بول نہ سکا۔ اگلے روز اپنی بیوی سے کہا:
" آج آپ 5 مرغے ذبح کریں گی"
کھانے پر میزبان نے کہا:
" حضور۔۔۔ آج انہیں سب افراد میں برابر برابر تقسیم کر دیں"
مہمان نے پوچھا:
" جفت میں یا طاق میں؟"
میزبان نے کہا:
" اج طاق میں"
دوست مہمان نے تھال سے ایک مرغا اٹھایا، میاں بیوی کے سامنے رکھا اور کہا:
" یہ ایک مرغ، ایک حصہ آپ کا، ایک آپ کی اہلیہ کا، یہ کل ہو گئے تین"
مہمان نے دوسرا مرغہ اٹھایا اور فرمایا:
“ یہ مرغا ایک،، دو بیٹے آپ کے، کل ملا کے بن گئے تین"
پھر میزبان نے تیسرا مرغا اٹھایا اور کہا:
“ یہ مرغا ایک، دو بیٹیاں آپ کی، یہ کل ملا کر ہوے پورے تین”
اب تھال میں دو مرغے باقی رہ گئے تھے، مہمان نے انہیں اپنے سامنے رکھے اور کہا:
“ یہ مرغے دو، ایک میں، یہ ہو گئے تین”
میزبان مہمان کا انصاف دیکھ کر ہکا بکا تھا۔ اگلے روز 5 مرغیاں روسٹ کی گئیں۔ دسترخوان بچھا، میزبان نے بھنی پانچوں مرغیاں مہمان کے سامنے رکھیں اور مہمان سے کہا:
" آج بھی تقسیم تم ہی کرو گے مگر، اب جفت میں"
مہمان نے کہا:
" لگتا ہے آپ میرے انصاف سے کچھ ناراض ہیں"
مہمان نے طشتری سامنے رکھی۔
ایک مرغی اٹھائی اور کہا:
” یہ مرغی ایک، ایک ماں دو بیٹیاں آپ کی، ہوے کل ملا کر چار“
مہمان نے دوسری مرغی اٹھائی اور کہا:
” یہ مرغی ایک، ایک آپ، دو بیٹے آپ کے، تو کل ملا کر چار ہوے"
باقی رہ گئیں تھیں تین مرغیاں۔ اپنی جانب کھسکا لیں:
” یہ مرغیاں تین اور ایک میں، کل ملا کر ہو گئے چار“
مہمان مسکرایا، بے بسی کی تصویر بنے میزبانوں کی جانب دیکھا، چھت کی جانب دیکھا اور کہا:
”یا اللہ... تیرا لاکھ لاکھ شکر، تو نے مجھے انصاف کرنے کی توفیق بخشی"

10/11/2025

ہزاروں سالوں سے ان پڑھ نائی بچوں کے ختنے کرتے ا رہے
ہیں ۔کسی نے بچے کا عضو نہیں کاٹا ۔ گجرات کے مشہور سرجن نے بچے کا عضو کاٹ دیا۔
ہزاروں سالوں سے ان پڑھ دایاں زچگی سے کروڑوں بچے نارمل پیدا کروا چکی ہیں ۔ پھر پڑھی لکھی ڈاکٹرز آ گئیں اور عورتوں کے پیٹ کا کر بچے پیدا کرنے شروع کر دئے۔
ہزاروں سالوں سے ان پڑھ جراح ٹوٹی ہڈیوں کو ٹھیک کرتے اور جوڑتے آ رہے ہیں ۔ پھر آرتھوپیڈک سرجن آ گئے۔ اور لوگوں کی ٹانگیں اور پاوں کاٹنے شروع کر دئے۔
ہزاروں سالوں سے لوگ سرما لگاتے آ رہے تھے ۔اور 90 سال تک بنا عینک کے دیکھتے تھے۔ پھر پڑھے لکھے ڈاکٹر آئی سپیشلسٹ آ گئے۔اور 5 سال کے بچوں کو عینک لگ گئی۔
ہزاروں سال سے لوگ منوں کے حساب سے گڑ کھاتے آ رہے ہیں۔ اور فٹ پاتھ پہ بیٹھے ان پڑھ بندے سے دانت لگاتے رہتے تھے۔ کسی کو کینسر نیہں ہوا۔
آج لاکھوں روپے لگا کر جدید مشینری سے علاج ہوتا ہے۔ اور پھر بھی دانتوں کا کینسر بن جاتا ہے۔
ہزاروں سالوں سے گردے اور پتے کی پھتری کو حکیم ایک پڑی سے نکال لیتے تھے۔ اب جدید ترین ٹیکنالوجی سے پتہ اور گردہ ہی نکال لیا جاتا ہے۔
ہزاروں سالوں سے بچے ماں کا دودھ یا اوپر والا دودھ پیتے ائے ہیں اور بغیر ڈبے کے صحت مند رہے ہیں ماشاءاللہ
لیکن اب ڈبہ لگا دیا گیا ہے جو کہ والدین کے لیے بوجھ بن چکا ہے اور کمپنیوں کے لیے چاندی۔
اب میڈیکل سائنس نے کیا ترقی کی ہے۔
سمجھ سے بالا تر ہے۔
ہر سرکاری و پرائیویٹ ہسپتال میں پاؤں رکھنے کی جگہ نیہں ۔ 1 سال کے بچے سے لے کر 90 سال تک سب مریض بنے ہوۓ ھیں۔

02/11/2025

Celebrating my 5th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

01/11/2025

40 سال کی عمر تک آپ کو یہ سب چیزیں سیکھ لینی چاہییں اور اپنے پہ اپپلائی کر لیں۔ ضرور پڑھیں

1. کوئی آپ سے زیادہ پیسے کماتا ہے۔ یہ وہ اپنے لئے کماتا ہے اس لئے اس ریس میں نہ پڑیں۔ آپ اپنی زندگی پہ فوکس رہیں۔

2. خلفشار (distraction) کامیابی کا سب سے بڑا قاتل ہے۔ یہ آپ کے دماغ کو جامد اور تباہ کر دیتا ہے۔

3. ایسے لوگوں سے مشورہ نہ لیں جو وہاں نہیں جہاں تک آپ جانا چاہتے ہیں۔

4. کوئی بھی آپ کو مسائل سے نکالنے نہیں آ رہا۔ آپ کی زندگی 100% آپ کی ذمہ داری ہے۔

5. آپ کو موٹیویشن کے لئے سو کتابیں بھی کم ہیں۔ البتہ اگر آپ ڈسپلن اختیار کریں اور ایکشن لیں تو وہی کافی ہو گا۔

6. پریشان نہ ہوں اگر آپ ڈاکٹر، انجینئر، وکیل نہیں بن سکے۔ اگر چیز بیچنا سیکھ جاتے ہیں تو آپ صرف اگلے 90 دنوں میں زیادہ پیسہ کما سکتے ہیں۔

7. کوئی بھی آپ کی پرواہ نہیں کرتا۔ لہذا شرم، جھجھک چھوڑیں، باہر جائیں اور اپنے مواقع خود پیدا کریں۔

8. اگر آپ کسی کو اپنے سے زیادہ ذہین پاتے ہیں، تو اس کے ساتھ کام کریں، مقابلہ نہ کریں۔

9. تمباکو نوشی کا آپ کی زندگی میں 0 فائدہ ہے۔ یہ عادت صرف آپ کی سوچ کو کم کرے گی اور آپ کی توجہ کو کم کرے گی۔

10. سکون سب سے بری لت ہے اور ڈپریشن کا سستا ٹکٹ۔ اپنی طاقت آزماؤ اور ہر روز خود کو چلینج کریں۔

11. لوگوں کو اس سے زیادہ نہ بتائیں جس کی انہیں جاننے کی ضرورت ہے، اپنی رازداری کا احترام کریں۔

12. ہر قیمت پر شراب سے پرہیز کریں۔ اپنے حواس کھونے اور احمقانہ کام کرنے سے بدتر کوئی چیز نہیں۔

13. اپنے معیار کو بلند رکھیں اور کسی چیز کے لیے بس نہ کریں صرف اس لئے کہ وہ آسانی سے دستیاب ہے۔

14. آپ جو خاندان بناتے ہیں وہ اس خاندان سے زیادہ اہم ہے جس سے آپ آتے ہیں۔

15. خود کو 99.99% ذہنی مسائل سے بچانے کے لیے ذاتی طور پر کسی سے کچھ نہ لینے کی اپنی تربیت کریں۔

25/09/2025

اللہ تعالیٰ نے رزق کے 16 دروازے مقرر کئے ہیں اور اس کی چابیاں بھی بنائی ہیں جس نے یہ چابیاں حاصل کرنیں وہ کبھی تنگدست نہیں رہے گا

1 پہلا دروازہ نماز ہے جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ان کے رزق میں برکت اٹھا دی جاتی ہے وہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی پریشان رہتا ہے

2 دوسرا دروازہ استغفار ہے جو انسان زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے توبہ کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے کبھی اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا

3 تیسرا دروازہ صدقہ ہے ، اللہ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے کر رہے گا، انسان جتنا دوسروں پر خرچ کرے گا اللہ اسے دس گنا بڑھا کر دے گا

4 چوتھا دروازہ تقویٰ اختیار کرنا ہے جو لوگ گناہوں سے دور رہتے ہیں اللہ اس کیلئے آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں

5 پانچواں دروازہ کثرت نفلی عبادت ہے جو لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کرتے ہیں اللہ ان پر تنگدستی کے دروازے بند کر دیتے ہیں اللہ کہتا ہے اگر تو عبادت میں کثرت نہیں کرے گا تو میں تجھے دنیا کے کاموں میں الجھا دوں گا، لوگ سنتوں اور فرض پر ہی توجہ دیتے ہیں نفل چھوڑ دیتے ہیں جس سے رزق میں تنگی ہوتی ہے

6 چھٹا دروازہ حج اور عمرہ کی کثرت کرنا ، حدیث میں آتا ہے حج اور عمرہ گناہوں اور تنگدستی کو اس طرح دور کرتے ہین جس طرح آگ کی بھٹی سونا چاندی کی میل دور کر دیتی ہے

7 ساتواں دروازہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا ایسے رشتہ داروں سے بھی ملتے رہنا جو آپ سے قطع تعلق ہوں

8 آٹھواں دروازہ کمزوروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے غریبوں کے غم بانٹنا، مشکل میں کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے

9 نواں دروازہ اللہ پر توکل ہے جو شخص یہ یقین رکھے کہ اللہ دے گا تو اسے اللہ ضرور دے گا اور جو شک کرے گا وہ پریشان ہی رہے گا

10 دسواں دروازہ شکر ادا کرنا ہے انسان جتنا شکر ادا کرے گا اللہ رزق کے دروازے کھولتا چلا جائے گا

11 گیارہواں دروازہ ہے گھر میں مسکرا کر داخل ہونا ،، مسکرا کر داخل ہونا سنت بھی ہے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ رزق بڑھا دوں گا جو شخص گھر میں داخل ہو اور مسکرا کر سلام کرے

12 بارہواں دروازہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ہے ایسے شخص پر کبھی رزق تنگ نہین ہوتا

13 تیرہواں دروازہ ہر وقت باوضو رہنا ہے جو شخص ہر وقت نیک نیتی کیساتھ باوضو رہے تو اس کے رزق میں کمی نہیں کرتی

14 چودہواں دروازہ چاشت کی نماز پڑھنا ہے جس سے رزق میں برکت پڑھتی ہے حدیث میں ہے چاشت کی نماز رزق کو کھینچتی ہے اور تندستی کو دور بھگاتی ہے

15 پندرہوان دروازہ ہے روزانہ سورہ واقعہ پڑھنا ۔۔ اس سے رزق بہت بڑھتا ہے

16 سولواں دروازہ اللہ سے دعا مانگنا جو شخص جتنا صدق دل سے اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کو بہت دیتا ہے

22/09/2025

دنیا سے رحلت فرمانے سے 3 روز قبل جبکہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے،

ارشاد فرمایا
کہ
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"

تمام ازواج مطہرات
جمع ہو گئیں۔
تو
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے
دریافت فرمایا:
کیا
تم سب
مجھے اجازت دیتی ہو
کہ
بیماری کے دن
میں
عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"

سب نے کہا
اے اللہ کے رسول
آپ کو اجازت ہے۔

پھر
اٹھنا چاہا
لیکن اٹھہ نہ پائے
تو
حضرت علی ابن ابی طالب
اور
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے
اور
نبی علیہ الصلوة والسلام کو
سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔

اس وقت
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو
اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو
گھبرا کر
ایک دوسرے سے پوچھنے لگے

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟

چنانچہ
صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور
مسجد نبوی میں
ایک رش لگ گیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا
پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ
میں نے اپنی زندگی میں
کسی کا
اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور
فرماتی ہیں:

"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور
اسی کو
چہرہ اقدس پر پھیرتی

کیونکہ
نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ
میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ
محترم اور پاکیزہ تھا۔"

مزید
فرماتی ہیں
کہ حبیب خدا
علیہ الصلوات والتسلیم
سے
بس یہی
ورد سنائی دے رہا تھا
کہ
"لا إله إلا الله،
بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"

اسی اثناء میں
مسجد کے اندر
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔

نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
یہ
کیسی آوازیں ہیں؟

عرض کیا گیا
کہ
اے اللہ کے رسول!
یہ
لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔

ارشاد فرمایا کہ
مجھے ان کے پاس لے چلو۔
پھر
اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن
اٹھہ نہ سکے
تو
آپ علیہ الصلوة و السلام پر
7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے،
تب
کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا
تو
سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔

یہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا
آخری خطبہ تھا
اور
آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔

فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید
تمہیں
میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"

ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں،
تم سے
میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے،

اللہ کی قسم گویا کہ
میں یہیں سے
اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،

اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر
تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر
دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے،
کہ
تم اس (کے معاملے) میں
ایک دوسرے سے
مقابلے میں لگ جاؤ گے

جیسا کہ
تم سے پہلے
(پچھلی امتوں) والے لگ گئے،
اور
یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے گی
جیسا کہ
انہیں ہلاک کر دیا۔"

پھر
مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،
اللہ سےڈرو۔
نماز کے معاملے میں
اللہ سے ڈرو،

(یعنی عہد کرو
کہ نماز کی پابندی کرو گے،
اور
یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)

پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو،

میں تمہیں
عورتوں سے
نیک سلوک کی
وصیت کرتا ہوں۔"

مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔!
ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا
کہ
دنیا کو چن لے
یا اسے چن لے
جو
اللہ کے پاس ہے،
تو
اس نے اسے پسند کیا جو
اللہ کے پاس ہے"

اس جملے سے
حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد
کوئی نہ سمجھا حالانکہ
انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ
وہ
تنہا شخص تھے
جو
اس جملے کو سمجھے اور
زارو قطار رونے لگے
اور
بلند آواز سے
گریہ کرتے ہوئے
اٹھہ کھڑے ہوئے
اور
نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔

"ہمارے باپ دادا
آپ پر قربان،
ہماری
مائیں آپ پر قربان،
ہمارے بچے آپ پر قربان،
ہمارے مال و دولت
آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں
اور
یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے
کہ
انہوں نے
نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کر دی؟

اس پر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع
ان الفاظ میں فرمایا:

"اے لوگو۔۔۔!
ابوبکر کو چھوڑ دو
کہ
تم میں سے ایسا کوئی نہیں
کہ جس نے
ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو
اور
ہم نے
اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو،
سوائے ابوبکر کے،
کہ
اس کا بدلہ
میں نہیں دے سکا۔
اس کا بدلہ
میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔

مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں،

سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ
جو کبھی بند نہ ہوگا۔"

آخر میں
اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے
آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے،
تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔

اور
آخری بات
جو ممبر سے اترنے سے پہلے
امت کو
مخاطب کر کے
ارشاد فرمائی
وہ
یہ کہ:"اے لوگو۔۔۔!
قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو
میرا سلام پہنچا دینا۔"

پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو
دوبارہ سہارے سے
اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔

اسی اثناء میں
حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے
اور
ان کے ہاتھ میں مسواک تھی،

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
مسواک کو دیکھنے لگے لیکن
شدت مرض کی وجہ سے
طلب نہ کر پائے۔

چنانچہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں
اور
انہوں نے
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے کر
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے
دہن مبارک میں رکھ دی،

لیکن
حضور صلی اللہ علیہ و سلم
اسے استعمال نہ کر پائے
تو
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم
صلی اللہ علیہ وسلم سے
مسواک لے کر
اپنے منہ سے نرم کی اور
پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی
تاکہ دہن مبارک
اس سے تر رہے۔

فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو
نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے
پیٹ میں گئی
وہ
میرا لعاب تھا،
اور
یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا
کہ
اس نے وصال سے قبل میرا
اور
نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"

اُم المؤمنين
حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں
اور
آتے ہی رو پڑیں
کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ
نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا
کہ
جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم
انکے ماتھے پر
بوسہ دیتے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
اے فاطمہ! "
قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے
ان کے کان میں
کوئی بات کہی
تو
حضرت فاطمہ
اور
زیادہ رونے لگیں،

انہیں اس طرح روتا دیکھ کر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
پھر فرمایا
اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں
کوئی بات ارشاد فرمائی
تو
وہ خوش ہونے لگیں

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد
میں نے
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا
کہ
وہ کیا بات تھی
جس پر روئیں
اور
پھر خوشی کا اظہار کیا تھا؟

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں
کہ
پہلی بار
(جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔

جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب
انہوں نے
مجھے بے تحاشا روتے دیکھا تو
فرمانے لگے: "فاطمہ!
میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے
تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر
میں خوش ہوگئی۔۔۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
سب کو
گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ!
میرے قریب آجاؤ۔۔۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی
اور
ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے
وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔

(میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء
اور
صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)

صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں
سمجھ گئی
کہ
انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"

جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله!
ملَکُ الموت
دروازے پر کھڑے
شرف باریابی چاہتے ہیں۔
آپ سے پہلے
انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"

آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"

ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے،
اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله!
مجھے اللہ نے
آپ کی چاہت جاننے کیلئے بھیجا ہے
کہ
آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں
یا
الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"

فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے،
مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"

ملَکُ الموت
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے
سرہانے کھڑے ہوئے
اور
کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف
جو
غضبناک نہیں۔۔۔!"

سیدہ عائشہ
رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا،
اور
سر مبارک
میرے سینے پر
بھاری ہونے لگا،
میں
سمجھ گئی
کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔

مجھے اور تو
کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں
اپنے حجرے سے نکلی اور
مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔

"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!
رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"

مسجد آہوں
اور
نالوں سے گونجنے لگی۔
ادھر
علی کرم الله وجہہ
جہاں کھڑے تھے
وہیں بیٹھ گئے
پھر
ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔

ادھر
عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ
معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔

اور
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ
تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار!
جو کسی نے کہا
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں،
میں
ایسے شخص کی
گردن اڑا دوں گا۔۔۔!

میرے آقا تو
الله تعالی سے
ملاقات کرنے گئے ہیں
جیسے
موسی علیہ السلام
اپنے رب سے
ملاقات کوگئے تھے،

وہ لوٹ آئیں گے،
بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔!
اب جو
وفات کی خبر اڑائے گا، میں
اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"

اس موقع پر
سب سے زیادہ ضبط، برداشت
اور صبر کرنے والی شخصیت
سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔
آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے،
رحمت دوعالَم
صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر
سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔

کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه

(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔!
ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!
ہائے میرا محبوب۔۔۔!
ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر
آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر
بوسہ دیا
اور کہا:"یا رسول الله!
آپ پاکیزہ جئے
اور
پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے
اور خطبہ دیا:
"جو
شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی
عبادت کرتا ہے سن رکھے

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور
جو الله کی عبادت کرتا ہے
وہ جان لے
کہ الله تعالی شانہ کی ذات
ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"

سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔

عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر
میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں
اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ
نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"

پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."

(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ
اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے،
ہائے میرے پیارے بابا جان،
کہ
ہم جبریل کو
ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔

میں نے آج تک
اس سے اچّھا پیغا م کبھی پوسٹ نہیں کیا۔

اسلۓ
آپ سے گزارش ہے
کہ
آپ اسے پورا سکون
و اطمینان کے ساتھ پڑھۓ۔
ان شاء اللہ,
آپکا ایمان تازہ ہو جاۓ گا۔“🌹

Address

Sarwat Market Sambrial
Sambrial

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Telephone

+923330493537

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imran electronics and ups posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Imran electronics and ups:

Share