Tax Consultancy Sangla Hill

Tax Consultancy Sangla Hill Income tax consultant

📢 ایف بی آر سالانہ ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کا آغاز ہو چکا ہے!اپنا ٹیکس ریٹرن بروقت جمع کروائیں اور غیر ضروری جرمانوں سے بچ...
15/08/2026

📢 ایف بی آر سالانہ ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کا آغاز ہو چکا ہے!
اپنا ٹیکس ریٹرن بروقت جمع کروائیں اور غیر ضروری جرمانوں سے بچیں۔ ⚠️
🔹 ایکٹو ٹیکس فائلر بننے کے لیے ٹیکس ریٹرن جمع کروانا لازمی ہے۔
🔹 پہلے ایکٹو فائلر سے جلد اپنا ریٹرن جمع کروائیں۔
🔹 حکومت کی جانب سے ایکٹو ٹیکس فائلر نہ بننے پر فیس 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کر دی گئی ہے۔
🔹 ایک بار فائلر بننے کے بعد اگر ریٹرن جمع نہ کروایا تو دوبارہ ایکٹو فائلر بننے کے لیے 25,000 روپے فیس جمع کروانا ہوگی۔
🛡️ کسی بھی دشواری سے بچنے کے لیے آج ہی اپنا ٹیکس ریٹرن جمع کروائیں۔
📞 رابطہ کریں: 7499901-0300

11/08/2026

✅ ٹیکس ریٹرن 2026 کی فائلنگ شروع ہو چکی ہے!
اگر آپ ٹیکس ریٹرن 2026 جمع کروانا چاہتے ہیں یا فائلر بننا چاہتے ہیں تو آج ہی ہم سے رابطہ کریں۔

ہماری خدمات:

✔️ انکم ٹیکس ریٹرن 2026 فائلنگ
✔️ نئے فائلرز کی رجسٹریشن (NTN)
✔️ تنخواہ دار ملازمین، کاروباری افراد اور فری لانسرز کے لیے ٹیکس خدمات
✔️ ایف بی آر سے متعلق رہنمائی اور مشاورت

📞 رابطہ کریں:

Whatsapp.03007499901

جسٹس مسرت ہلالی کے الوداعی ریفرنس میں اٹارنی جنرل خود تو شریک نہ ہوئے، البتہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ذریعے اپنا پیغام بجھ...
07/08/2026

جسٹس مسرت ہلالی کے الوداعی ریفرنس میں اٹارنی جنرل خود تو شریک نہ ہوئے، البتہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے ذریعے اپنا پیغام بجھوایا۔ لکھا کہ “جسٹس مسرت ہلالی نے 9 اور 10 مئی ملزمان کیلئے فوجی عدالتیں بحال کیں لیکن غیر مشروط طور پر نہیں، بلکہ حکومت کو پابند کیا کہ وہ ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ افراد کو 45 دنوں کے اندر ہائی کورٹ میں آزادانہ اپیل کا حق دے”۔ وفاقی حکومت نے اس عرصے میں آئینی ترامیم تو پاس کروا لیں، مگر 457 دن گزر جانے کے بعد بھی فیصلے پر عمل نہ کیا اور اپیل کا حق نہ دیا۔ دیدہ دلیری دیکھئے کہ اٹارنی جنرل اسی حکومتی ڈھٹائی اور ملکی تاریخ کے اس سیاہ فیصلے کو جج صاحبہ کا کارنامہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔

چیف سیکریٹری پنجاب زاھد اختر زمان کے نام پی ایم ایس آفیسر طارق اعوان کا کھلا خط۔ ملک طارق اعوان کو تین سال سے بغیر کسی و...
06/08/2026

چیف سیکریٹری پنجاب زاھد اختر زمان کے نام پی ایم ایس آفیسر طارق اعوان کا کھلا خط۔ ملک طارق اعوان کو تین سال سے بغیر کسی وجہ کے او ایس ڈی رکھا گیا ھے۔ او ایس ڈی رکھنے کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ ملک طارق نے سول سروس پر اپنی کتاب میں سول سروس میں۔ خرابیوں کی نشاندھی کی ھے۔ جس کے پاداش وہ تین سال سے او ایس ڈی ہیں۔ انھوں نے اپنی کتابیں بھی چیف سیکریٹری کو گفٹ کی ہیں کہ وہ انھیں خود بھی پڑھ لی۔ اور اگر وہ غلط ہیں تو منظرہ بھی کر لیں۔ جان بوجھ کر او ایس ڈی رکھنے کی کوئی منطق سمجھ نہیں آئی ۔

04/08/2026

"پچھلے سال تو 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس سال اتنی فیس کیوں؟

یہ سوال صرف ایک کلائنٹ کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں ٹیکس ریٹرن کے بارے میں موجود ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

لوگ اکثر ریٹرن فائل کرواتے وقت صرف فیس دیکھتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی ریٹرن میں کیا ڈکلیئر کیا جا رہا ہے، کیا چھوڑا جا رہا ہے اور مستقبل میں اس کے قانونی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

میرے پاس اب تک جتنی ریٹرنز ریویو اور درستگی کے لیے آئیں، ان میں اکثر میں بنیادی غلطیاں موجود تھیں۔

کسی کے Assets درست ڈکلیئر نہیں تھے، کسی کے مکمل Assets ظاہر نہیں کیے گئے، کسی کی Wealth Statement میں مطابقت نہیں تھی، کسی کی آمدن اور اخراجات کا حساب درست نہیں تھا، جبکہ بعض کیسز میں گزشتہ سالوں کا ریکارڈ بھی صحیح طریقے سے carry forward نہیں کیا گیا تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی افراد کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا ٹیکس ریکارڈ خراب کر رہے ہیں۔

صرف اس لیے کہ کسی نے پچھلے سال 2 ہزار روپے میں ریٹرن فائل کردی تھی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریٹرن درست، مکمل یا قانونی طور پر محفوظ بھی تھی۔

Income Tax Return صرف ایک فارم نہیں۔
یہ آپ کی آمدن، اثاثہ جات، سرمایہ کاری، اخراجات اور مالی حیثیت کا سرکاری ریکارڈ ہے۔

آج چند ہزار روپے کی فیس بچانے کے لیے اگر آپ غلط یا نامکمل ریٹرن فائل کروا لیتے ہیں، تو کل یہی غلطی Tax Notice، Audit، Wealth Reconciliation یا Assets کے ذرائع کی وضاحت کی صورت میں آپ کے لیے کہیں زیادہ مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

سستی ریٹرن اور درست ریٹرن میں فرق سمجھیں۔

ایک ذمہ دار Tax Professional کا کام صرف ریٹرن submit کرنا نہیں، بلکہ کلائنٹ کے مکمل ٹیکس پروفائل، Assets، Wealth Statement اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے درست اور ذمہ دارانہ طریقے سے ریٹرن تیار کرنا ہے۔

اپنے ٹیکس ریکارڈ کو چند ہزار روپے کے لیے خطرے میں نہ ڈالیں۔

کم فیس نہیں، درست اور محفوظ ٹیکس کمپلائنس کو ترجیح
دیں۔

03/08/2026

خاتون سے جائیداد خریدتے وقت بیع نامہ یا انتقال میں خاتون کے بھائی، باپ یا شوہر کو گواہ ضرور رکھیں۔

تقسیم کی کاروائی میں تاخیر کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کاروائی ہوگی بورڈ آف ریونیو پنجاب کا بڑا اقدام: 60 دن میں پارٹیشن ...
01/08/2026

تقسیم کی کاروائی میں تاخیر کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کاروائی ہوگی
بورڈ آف ریونیو پنجاب کا بڑا اقدام: 60
دن میں پارٹیشن کیس کا فیصلہ نہ کرنے والے تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں کے خلاف پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی کا آغاز

بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ایک اہم مراسلہ جاری کرتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) ایکٹ 2026 کی دفعہ 142-A پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اس قانون کے مطابق:
✅ ہر پارٹیشن (تقسیمِ اراضی) کیس کا فیصلہ درخواست یا متعلقہ تاریخ سے 60 دن کے اندر کرنا لازمی ہے۔
✅ غیر ضروری التواء کی حوصلہ شکنی کے لیے فریقین سے مقررہ اخراجات وصول کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایک وقت میں 3 دن سے زیادہ کا التواء نہیں دیا جا سکتا۔
✅ اگر ریونیو افسر 60 دن میں فیصلہ نہ کر سکے تو کیس کلکٹر (سب ڈویژن) کو منتقل ہوگا۔
✅ کلکٹر 30 دن کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کے ساتھ تاخیر کی ذمہ داری بھی متعین کرے گا اور متعلقہ تحصیلدار/نائب تحصیلدار کے خلاف Punjab Employees Efficiency, Discipline & Accountability (PEEDA) Act, 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی کی سفارش کرے گا۔
بورڈ آف ریونیو نے تمام اضلاع کو ہدایت دی ہے کہ جہاں مقررہ مدت گزر چکی ہو اور فیصلے نہ ہوئے ہوں، وہاں ذمہ دار ریونیو افسران کا ڈیٹا فوری طور پر مرتب کرکے محکمانہ کارروائی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کو بھیجا جائے۔
یہ احکامات Competent Authority کی منظوری سے جاری کیے گئے ہیں اور انہیں Top Priority Basis پر نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ اقدام زیر التواء پارٹیشن مقدمات کے جلد فیصلے، عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی اور ریونیو نظام میں جوابدہی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

01/08/2026

The new Income Tax Return 2026 provides the tax authorities with far more structured and comprehensive data for AI-based verification and automated cross-matching. Therefore, taxpayers and tax consultants should exercise extreme care while preparing and filing their returns, ensuring that all disclosures are complete, accurate, and properly reconciled to minimize the risk of future notices, audits, or disputes.

FILING 2026 STARTED
26/07/2026

FILING 2026 STARTED

Address

Sangla Hill

Telephone

+923338316441

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tax Consultancy Sangla Hill posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share