Al Nasir Clinic

Al  Nasir Clinic Homoeo Pathic consultancy for All serious diseases

27/02/2022

High blood pressure

27/02/2022
انسانی جسم: پاک ہے خدا، خالق، خالق، فوٹوگرافر 1: ہڈیوں کی تعداد: 206 2: پٹھوں کی تعداد: 639 3: گردے کی تعداد: 2 4: دودھ ...
08/11/2021

انسانی جسم: پاک ہے خدا، خالق، خالق، فوٹوگرافر
1: ہڈیوں کی تعداد: 206
2: پٹھوں کی تعداد: 639
3: گردے کی تعداد: 2
4: دودھ کے دانتوں کی تعداد: 20
5: پسلیوں کی تعداد: 24 (12 جوڑے)
6: دل کے چیمبرز کی تعداد: 4
7: سب سے بڑی شریان: شہ رگ
8: نارمل بلڈ پریشر: 120/80 ایم ایم ایچ جی
9: خون کا پی ایچ: 7.4
10: ریڑھ کی ہڈی میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 33
11: گردن میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 7
12: درمیانی کان میں ہڈیوں کی تعداد: 6
13: چہرے پر ہڈیوں کی تعداد: 14
14: کھوپڑی میں ہڈیوں کی تعداد: 22
15: سینے میں ہڈیوں کی تعداد: 25
16: بازو میں ہڈیوں کی تعداد: 6
17: انسانی بازو میں پٹھوں کی تعداد: 72
19: قدیم ترین رکن: چمڑا
20: سب سے بڑی خوراک: جگر
21: سب سے بڑا خلیہ: مادہ بیضہ
22: سب سے چھوٹا خلیہ: سپرم سیل
23: سب سے چھوٹی ہڈی: درمیانی کان کی رکاب
24: پہلا ٹرانسپلانٹ شدہ عضو: ایک گردہ
25: پتلی آنت کی اوسط لمبائی: 7 میٹر
26: بڑی آنت کی اوسط لمبائی: 1.5 میٹر
27: نوزائیدہ بچے کا اوسط وزن: 3 کلوگرام
28: ایک منٹ میں دل کی دھڑکن: 72 بار
29: جسمانی درجہ حرارت: 37 °C
30: خون کا اوسط حجم: 4 سے 5 لیٹر
31: خون کے سرخ خلیوں کی عمر: 120 دن
32: سفید خون کے خلیات کی عمر: 10 سے 15 دن
33: حمل کی مدت: 280 دن (40 ہفتے)
34: انسانی پاؤں کی ہڈیوں کی تعداد: 33
35: ہر کلائی میں ہڈیوں کی تعداد: 8
36: ہاتھ کی ہڈیوں کی تعداد: 27
37: سب سے بڑا اینڈوکرائن غدود: تھائرائڈ گلینڈ
38: سب سے بڑا لمفیٹک عضو: تللی
40: سب سے بڑی اور مضبوط ہڈی: فیمر
41: سب سے چھوٹا پٹھوں: سٹیپیڈیئس (درمیانی کان)
41: کروموسوم نمبر: 46 (23 جوڑے)
42: نوزائیدہ بچے کی ہڈیوں کی تعداد: 306
43: خون کی واسکاسیٹی: 4.5 سے 5.5 تک
44: یونیورسل ڈونر بلڈ گروپ: O
45: یونیورسل ریسیور بلڈ گروپ: AB
46: سب سے بڑا leukocyte: monocyte
47: سب سے چھوٹی leukocyte: lymphocyte
48: خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں اضافے کو پولی گلوبولی کہتے ہیں۔
49: جسم کا بلڈ بینک ہے: تللی
50: زندگی کے دریا کو خون کہا جاتا ہے۔
51: عام خون میں کولیسٹرول کی سطح: 100 ملی گرام/ڈی ایل
52: خون کا مائع حصہ ہے: پلازما
تُو پاک ہے، اے رب، تو کتنا عظیم ہے۔
(اللہ نے سب کچھ کامل بنایا)اس سارے کارخانے کو چلانے والا بنانے والا صرف اللہ اللہ اللہ اکبر کبیرا کاپی پیسٹ

کینسر بیماری نہیں بلکہ بے حسی ہے !                                                               اوش اسٹیٹ میڈیکل یونیور...
04/11/2020

کینسر بیماری نہیں بلکہ بے حسی ہے ! اوش اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی ، ماسکو ، روس کے کینسر کے ماہر۔ گپتا پرساد ریڈی (بی وی) کہتے ہیں کہ کینسر کوئی مہلک بیماری نہیں ہے ، بلکہ لوگ اس سے صرف بے حسی کی وجہ سے ہی مر جاتے ہیں۔
ان کے مطابق ، اگر صرف دو طریقوں پر عمل کیا جائے تو کینسر ختم ہوسکتا ہے۔ طریقے یہ ہیں: -
1_ پہلے ہر طرح کی چینی کھانا چھوڑ دیں۔ کیونکہ ، اگر آپ کو اپنے جسم میں شوگر نہیں ملتی ہے تو ، کینسر کے خلیات قدرتی یا قدرتی طور پر ختم ہوجائیں گے۔
2 _ اس کے بعد ایک گلاس گرم پانی میں ایک لیموں کا چمچ مکس کریں۔ اس لیموں ملا ہوا گرم پانی کو خالی پیٹ پر صبح تین بجے صبح کھانے سے پہلے پی لیں۔ کینسر ختم ہو جائے گا۔
میری لینڈ کالج آف میڈیسن کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کیموتھریپی سے ہزار گنا بہتر ہے۔
3۔ روزانہ صبح اور رات تین چمچ نامیاتی ناریل کا تیل کھائیں ، اس سے کینسر کا علاج ہوگا۔
شوگر سے گریز کرنے کے بعد درج ذیل میں سے کسی بھی دو معالجے میں سے ایک لیں۔ کینسر آپ کو تکلیف نہیں دے سکتا۔ تاہم ، غفلت یا بے حسی کا کوئی عذر نہیں ہے۔
نوٹ کریں کہ لوگوں کو کینسر سے بچانے کے لئے۔ گپتا پرساد گذشتہ پانچ سالوں سے اس معلومات کو سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے پھیلارہا ہے۔
انہوں نے سب کو جاننے کا موقع فراہم کرنے کے لئے اس معلومات کو پھیلانےکی درخواست کی۔
انہوں نے کہا ، "میں نے اپنا کام کیا۔ اب آپ اپنا کام کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو کینسر سے بچائیں! کینسر کے ماہر گپتا پرساد ریڈی نہ صرف ایک ڈاکٹر ہیں بلکہ ایک مسیحا بھی ہیں! Cancer is not a disease but anesthesia! Oncologist at Osh State Medical University, Moscow, Russia. Gupta Prasad Reddy (BV) says that cancer is not a deadly disease, but people die from it only due to indifference.
According to him, cancer can be eliminated if only two methods are followed. The methods are: -
1_ Quit all kinds of sugar food first. Because, if you don't get sugar in your body, the cancer cells will die naturally or naturally.
2. Then mix a lemon chip in a glass of warm water. Drink warm water mixed with this lemon on an empty stomach at 3 o'clock in the morning before eating. The cancer will be gone.
A study by the Maryland College of Medicine found that it is a thousand times better than chemotherapy.
3. Eat three tablespoons of organic coconut oil daily in the morning and at night, it will cure cancer.
Take one of the following two treatments after avoiding diabetes. Cancer can't hurt you. However, there is no excuse for negligence or indifference.
Note that to protect people from cancer. Gupta Prasad has been disseminating this information through various means including social media for the last five years.
He asked for the information to be disseminated to provide an opportunity for everyone to know.
He said, "I did my job. Now do your job and save the people around you from cancer! Oncologist Gupta Prasad Reddy is not only a doctor but also a Messiah!"

25/08/2020

*آپ کے اعضاء کب ڈرتے ہیں..؟؟*

1۔ *معدہ(Stomach)*
اس وقت ڈرا ہوتا ہے جب آپ صبح کا ناشتہ نہیں کرتے ۔

2۔ *گردے(Kidneys)* اس وقت خوفزدہ ہوتے ہیں جب آپ 24 گھنٹے میں 10 گلاس پانی نہیں پیتے۔

3۔ *پتہ( Gall bladder )* اس وقت پریشان ہوتا ہے جب آپ رات 11بجے تک سوتے نہیں اور سورج طلوع سے پہلے جاگتے نہیں ہیں

4۔ *چھوٹی آنت(small intestines )* اس وقت تکلیف محسوس کرتی ہے جب آپ ٹھنڈے مشروبات پیتے ہیں اور باسی کھانا کھاتے ہیں ۔

5۔ *بڑی میں آنت(Large intestine)* اس وقت خوفزدہ ہوتی ہے جب زیادہ تلی ہوئی یا مصالحہ دار چیز کھاتے ہیں


6۔ *پھیپھڑے ( Lungs )* اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں جب آپ دھواں دھول سگریٹ بیڑی سے آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں ۔

7۔ *جگر(Liver)* اس وقت خوفزدہ ہوتا ہے جب آپ بھاری تلی ہوئی خوراک اور فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں ۔

8۔ *دل(Heart )* اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتا ہے جب آپ زیادہ نمکین اور کولیسٹرول والی غذا کھاتے ہیں

9۔ *لبلبہ(Pancreas )* لبلبہ اس وقت بہت ڈرتا ہے جب آپ کثرت سے مٹھائی کھاتے ہیں اور خاص کر جب وہ فری دستیاب ہو۔

10۔ *آنکھیں(Eyes )* اس وقت تنگ آ جاتی ہیں جب اندھیرے میں موبائل اور کمپیوٹر پر ان کی تیز روشنی میں کام کرتے ہیں ۔

11۔ *دماغ(Brain )* اس وقت بہت دکھی ہوتا ہے جب آپ منفی negative سوچتے ہیں ۔

اپنے جسم کے اعضاء کا خیال رکھئے اور ان کو خوفزدہ مت کیجیئے۔

*یاد رکھئے یہ اعضاء مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں.

ناصر

29/03/2020

ایلو پیتھی میں اس کا علاج نہیں لیکن ہومیو پیتھی سے مدد لی جاسکتی ہے

کرونا وائرس (Covid 19)کی وباءنے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے، چین، ایران، اٹلی، قطر، انگلینڈ، امریکا الغرض کوئی بھی ملک اس وبا سے محفوظ نہیں ہے، تاحال اس پر مکمل قابو پانے میں ایلوپیتھک طریق علاج ناکام نظر آتا ہے، کہا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کا اصل ٹارگٹ پھیپھڑے (Lungs) ہیں، اس کے حملے کی ابتدا معمولی نزلہ، زکام، کھانسی ،بخار سے ہوتی ہے اور پھر پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں، مروجہ طریقہ علاج میں عام طور پر لوگ نزلہ زکام وغیرہ کے لیے ایلوپیتھک ٹیبلیٹس وغیرہ استعمال کرتے ہیں،فوری آرام نہ آئے تو اسپتالوں اور ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہیں اور وہ مختلف ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں جن میں بعض اوقات خاصی تاخیر بھی ہوتی ہے اور کبھی کبھی یہ تاخیر مرض کی شدت میں اضافے کا باعث بن جاتی ہے۔

اب تک کہ مشاہدات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اس وائرس کا حملہ چوں کہ پھیپھڑوں پر ہوتا ہے لہٰذا متاثرہ افراد کو سانس لینے میں دقت کا سامنا ہوتا ہے، ایسی صورت میں اگر فوری طور پر درست دوا استعمال ہوجائے تو صورت حال پر قابو پانا نہایت آسان ہوجائے گا اور یہ صرف ہومیو پیتھی کے ذریعے ہی ممکن ہے کیوں کہ ایلوپیتھک طریقہ علاج میں ابھی تک اس کی ویکسین یا کوئی اور دوا دریافت نہیں ہوئی ہے، بہت سے لوگ یہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ جب جدید ایلوپیتھک طریق علاج میں اس کی کوئی دوا موجود نہیں ہے تو ہومیو پیتھی میں کہاں سے آگئی، یہ سوال کرنے والے اکثر افراد درحقیقت ہومیو پیتھک طریقہ علاج کی بنیادی تھیوری سے ناوافق ہیں ۔

ایسے مریضوں کو چاہیے کہ حفظ ماتقدم کے طور پر مشہور ہومیوپیتھک میڈیسن بیسی لینم (Basilinum) حفظ ماتقدم کے طور پر خود بھی استعمال کریں اور اپنے بچوں کو بھی استعمال کرائیں، بچوں کو استعمال کرانے کے لیے بیسی لینم 200پوٹینسی میں ایک خوراک یعنی 5 قطرے آدھا کپ پانی میں ڈال دیں اور پھر اس کے تین حصے کرلیں جو 15, 15 منٹ یا آدھے آدھے گھنٹے کے وقفے سے بچوں کو پلادیں، خصوصاً تین سال سے 15 سال کی عمر تک کے بچوں کے لےے یہی طریقہ اختیار کریں، شیرخوار بچوں کو اگر وہ ماں کا دودھ پیتے ہوں تو ماں کو 200 یا 1000 طاقت میں صرف ایک خوراک استعمال کرادیں جب کہ بڑوں کے لیے 1M کی پوٹینسی بھی اسی طریقے کے مطابق استعمال کرانے سے کسی بھی قسم کی ایگری ویشن کا خطرہ نہیں رہے گا۔

اس حوالے سے دوسری اہم ترین دوا انفلوینزینم ہے(Influenzinum)، یہ بھی ایک نوسوڈ ہے جو انفلوینزا کے جراثیم سے بنایا گیا ہے، خیال رہے کہ موجودہ کرونا وائرس درحقیقت انفلوینزا ہی کی جدید شکل ہے۔

کرونا وائرس کی ابتدا اٹلی کے ایک گاو ¿ں کرونا سے ہوئی ، 1918 ءمیں اسی گاو ¿ں سے ایک وبا شروع ہوئی تھی، یہ اسپین تک پہنچی اور پھر پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اس وباءکا شکار 5 کروڑ افراد ہوئے، وباءکو انفلوئنزا کا نام دیا گیا اور اس وائرس کو کرونا وائرس کہا گیا، کرونا کا لفظ ”کراو ¿ن (Crown) “ سے ہے جس کے معنی تاج کے ہیں، اسی زمانے میں ہومیو پیتھی کے ماہرین نے اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ویکسی نیشن کے طور پر انفلوینزینم (Influenzinum) نامی دوا تیار کی تھی، یہ دوا بازار میں آسانی سے دستیاب ہے، خاص طور پر مسعود لیبارٹری لاہور کی تیار کردہ دوا آسانی سے مل سکتی ہے، اسے 1M یعنی ایک ہزار طاقت میں استعمال کرنا بہتر ہوگا، اس کا کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہوگا بلکہ یہ ایسے لوگوں کے لیے بھی مفید ہے جو دائمی طور پر نزلہ ، زکام اور بخار یا کھانسی وغیرہ کا شکار رہتے ہیں، بچوں کے لیے 200 کی پوٹینسی استعمال کرنا بہتر ہوگا، 1M کی خوراک ایک مہینے میں ایک بار کافی ہوگی جب کہ 200 کی خوراک ایک ہفتے میں ایک بار دینا چاہیے۔

دیگر ادویات

اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں اور یوٹیوب پر ایک ویڈیو کے ذریعے ہم نے ہومیو پیتھک کی مشہور و مایہ ناز میڈیسن ایکونائٹ نیپلس 30 کا تذکرہ کیا تھا اور عرض کیا تھا کہ یہ ہومیوپیتھی کا امرت دھارا ہے اسے ہر گھر میں ہونا چاہیے، اچانک کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو پہلی دوا کے طور پر اسی کو استعمال کرنا چاہیے، کسی بھی مرض کی شدت میں یہ دوا جلدی جلدی یعنی ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے بھی دہرائی جاسکتی ہے، ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی نوعیت کی تکلیف یا بیماری میں اگر اس دوا کو فوری استعمال کرلیا جائے تو مسئلہ 50% کنٹرول میں آجاتا ہے اور مرض کوئی پیچیدہ صورت اختیار نہیں کرپاتا، اس کے استعمال کا ایک اور شاندار طریقہ جو فرانس کے ڈاکٹر جھار کا ہے، نہایت قابل توجہ ہے، ہر قسم کی بیماریوں کے لیے ایک ڈھال کا کام دیتا ہے، فوری طور پر ایکونائٹ 30 پوٹینسی کی ایک خوراک یعنی دو قطرے ڈائریکٹ زبان پر ڈال دیں اور اس کے بعد ایک اونس پانی میں چند قطرے دوا کے ڈال کر ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے ایک ایک چمچہ پانی مریض کو پلاتے رہیں، یقین رکھیں مرض کا زور ٹوٹ جائے گا ، شدید بخار کی صورت میں 15,15 منٹ کے وقف سے یا پانچ ، پانچ منٹ کے وقفے سے ایک ایک چمچہ پانی پلاتے رہیں تو بخار بھی کنٹرول میں آجائے گا، یہ طریقہ ہمارا مجرب ہے۔

یاد رکھیے ہومیو پیتھی کو ”علاج بالمثل“ کہا جاتا ہے گویا اس طریقہ علاج میں کسی مرض کی کوئی دوا نہیں ہے بلکہ دوا کا انتخاب مریض کی علامات (Simtums) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، ایکونائٹ کی بنیادی علامت کسی بھی بیماری کا اچانک حملہ ہے، اگر خدا نخواستہ ہارٹ اٹیک کا مسئلہ بھی درپیش ہو تو یہ دوا اسے بھی فوری طور پر کنٹرول کرسکتی ہے، اسی اصول کی بنیاد پر ہومیو پیتھی کی دیگر دوائیں بھی استعمال کی جائیں تو کرونا وائرس کے حملے سے سو فیصد نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

ہم ذیل میں ایسی ادویات کے نام لکھ رہے ہیں جو خاص طور پر نزلہ، زکام، کھانسی اور خاص طور پر سانس لینے میں دقت یا پھیپھڑوں کی خرابیوں سے متعلق ہےں، اگر یہ دوائیں آپ کے گھر میں موجود ہیں تو آپ فوری طور پر ہر قسم کی ایمرجنسی کنٹرول کرسکتے ہیں اور ایسے مریضوں کا علاج بھی کرسکتے ہیں جو کرونا وائرس کا شکار ہوں۔

ایکونائٹ نیپلس 30 یا 200 یا 1M

جیسا کہ پہلے عرض کیا تھا کہ یہ ہومیو پیتھی کا امرت دھارا ہے گویا کسی بھی مرض کی ابتدا میں فوری طور پر اس کا استعمال نہایت مفید اور مددگار ثابت ہوتا ہے، معمولی نوعیت کے انفیکشن کو یہ فوری طور پر ختم کرکے صحت کو بحال کردیتی ہے، اس دوا کی ایک خاص علامت موت کا خوف ہے یعنی مریض کو یہ یقین ہوجائے کہ وہ اب بچے گا نہیں ، اس کی موت یقینی ہے ایسی صورت میں ایکونائٹ 1000 طاقت (1M) کی ایک خوراک فوری طور پر دیں تو ان شاءاللہ موت کا خوف ختم ہوجائے گا، خیال رہے کہ انفلوینزا یا موجودہ وائرس موت کا خوف پیدا کر رہا ہے، اگر یہ خوف موجود نہ ہو تو مریض کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا، جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں ایک ایسے مریض کا ذکر کیا ہے جو اٹلی میں اس وائرس کا پہلا شکار تھا لیکن اسے اس وائرس سے پھیلنے والی وبا کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا، اس نے اپنے نزلہ زکام اور بخار وغیرہ کا علاج معمول کے مطابق کیا اور ٹھیک ہوگیا، گویا اس وبا کا شکار افراد اگر کسی خوف کا شکار نہ ہوں تو انھیں کوئی خطرہ نہیں ہوگا مگر صورت حال اتنی خراب ہوچکی ہے کہ اس وبا کا خوف پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے مریضوں کو ایکونائٹ 1M کی ایک یا ایک سے زیادہ خوراک ضرور استعمال کرانی چاہئیں۔

آرسینکم البم(Arsenicum album) 30

آرسینکم البم سفید سنکھیا سے بنائی گئی ہے، ہومیو پیتھی کی نہایت اہم دواو ¿ں میں اس کا شمار ہے، اس دوا میں بھی موت کا خوف موجود ہے لیکن یقینی نہیں ہے جیسا کہ ایکونائٹ میں ہے، مریض کو وہم سا ہوتا ہے کہ میں مر بھی سکتا ہوں، اس دوا کی دیگر علامات میں نزلہ، زکام، کھانسی ، دم کشی یعنی سانس لینے میں دشواری اور پیاس کے ساتھ بے چینی نمایاں ہے، آرسینک کا مریض حلق خشک ہونے کی وجہ سے تھوڑا توڑا پانی بار بار پیتا رہتا ہے لیکن پورا گلاس بھر کر پینا ضروری نہیں سمجھتا، یہ اس دوا کی خاص اور نمایاں علامت ہے، مزید یہ کہ ٹھنڈی ہوا سے اور ٹھنڈی چیزوں کے استعمال سے مرض کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے، بند کمرے میں اسے آرام ملتا ہے، نزلہ زکام کی صورت میں ناک میں خارش ہوتی ہے، چھینکیں، آنکھوں سے پانی آنا، سانس پھولنا بھی اس دوا کی نمایاں علامات ہیں، بیماری خوا کچھ بھی ہو ان علامات کی بنیاد پر یہ دوا استعمال کرائی جائے تو فوری طور پر صحت بحال ہونے لگتی ہے، اس دوا کو بار بار جلدی جلدی دہرانا نہیں چاہیے، کم از کم چار چار گھنٹے کے وقفے سے ایک خوراک دیں اور جیسے جیسے بہتری نمایاں ہو، اب خوراک کا وقفہ مزید بڑھادیں۔

ایلیم سیپا 30 (Allium Cepa)

یہ دوا سُرخ پیاز سے تیار کی گئی ہے اور عام طور پر سردی کے موسم میں ہونے والے نزلہ زکام میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے، پیاز چھیلنے سے جو علامات ظاہر ہوتی ہیں وہی اس کے نزلے میں بھی پائی جاتی ہیں، گلا بیٹھ جاتا ہے، ناک سے پتلی رطوبت بہتی ہے جس میں تیزابیت ہوتی ہے، آنکھوں سے اکثر پانی بہتا ہے لیکن اس میں تیزی نہیں ہوتی اور وہ آنکھوں میں سرخی پیدا نہیں کرتا، مرض کی شدت بند کمرے میں ہوتی ہے جب کہ کھلی ہوا میں مریض کو آرام ملتا ہے، کھانسی میں دن رات کا کوئی فرق نہیں ہوتا، ہر وقت میں گلے میں خراش ہوتی ہے جو کھانسی پیدا کرتی ہے،رات کو سونے کے بعد آنکھیں بند ہونے کی وجہ سے یہ مواد گلے میں گرنے لگتا ہے یا پھیپھڑوں میں چلا جاتا ہے جس سے کھانسی ہونے لگتی ہے اور مریض اٹھ جاتا ہے،بعض اوقات شدید کھانسی کے دورے ہوتے ہیں، مریض کانوں کی تکلیف میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں اس دوا کی تکلیفات دائیں سے بائیں طرف منتقل ہوتی ہیں، آرام کرنے سے تکلیف بڑھتی ہے اور حرکت سے کم ہوتی ہے، زکام کے ساتھ سر میں درد بھی ہوتا ہے جو خصوصاً دائمی کن پٹی میں شدت سے محسوس ہوتا ہے اور پیشانی تک پھیل جاتا ہے، ایلیم سیپا کا زکام بائیں نتھنے سے شروع ہوکر دائیں طرف منتقل ہونے کا رجحان رکھتا ہے، اگر مریض میں یہ علامات موجود ہوں تو ایلیم سیپا 30 کم از کم چوبیس گھنٹے تین تین گھنٹے کے وقفے سے استعمال کرائیں۔

آرم ٹرائی فائلم 30 (Arum Triphyllum)

یہ دوا ایک سبزی سے تیار کی جاتی ہے جو کدّو اور شلجم کے مشابہ ہوتی ہے اور جنگلوں میں کثرت سے اگتی ہے، اس میں شدید خراش اور سنسناہٹ پیدا کرنے والا زہر پایا جاتا ہے، جسم کے کسی حصے کو ذرا بھی چھو جائے تو وہاں بے انتہا سنسناہٹ ہونے لگتی ہے جن مریضوں کے مزاج میں سنسناہٹ اور زود حسی کی علامت پائی جاتی ہے ان کی دوسری تکلیفیں بھی اس دوا سے ٹھیک ہوجاتی ہیں، اکثر یہ بات تجربے میں آئی ہے کہ ناک کی شدید کھجلی جو سخت بے چین کرتی ہے اس کا بھی یہی علاج ہے، ناک کی اندرونی خارش بسا اوقات نزلے پر منتج ہوتی ہے، ایسے بچے کو ہر وقت ناک کریدیں اور اندرونی جھلیوں کو زخمی کرلیں ان کے لیے بھی اس دوا کو یاد رکھنا چاہیے، زبان ، گلے اور ناک میں پیدا ہونے والی کھجلی جس کے ساتھ سنسناہٹ بھی پایا جائے اس دوا کی خاص علامت ہے، نزلاتی تکلیفوں میں اگر آنکھوں میں خارش ہو اور پانی بہے ، اوپر کے پپوٹوں میں لرزہ ہو تو آرم ٹرائی فائلم سے فائدہ ہوسکتا ہے، اس کا نزلہ بہت شدید ہوتا ہے اور مسلسل بہہ بہہ کر دماغ کو کھوکھلا کردیتا ہے، ناک سے بے حد پانی بہتا ہے اور سخت خارش ہوتی ہے، گلے میں یہ خارش اور سنسناہٹ لمبے عرصے تک رہے تو فالجی اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں اور سنسناہٹ کے بجائے بے حسی پیدا ہوجاتی ہے،گلے کے غدود متورم ہوجاتی ہیں، منہ اور حلق میں گھٹن، کچا پن، دکھن اور جلن کا احساس ہوتا ہے، پھیپھڑے دکھتے ہیں، اندرونی جھلیوں میں سنسناہٹ کی وجہ سے یا کھجلی ہوگی یا دکھنے لگیں گے، یہ دوا عام طور پر چہرے ، سر اور ناک کے بائیں حصے پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے، چھاتی کی تکلیفوں کے دوران پیشاب کم مقدار میں آتا ہے، اگر مریض میں یہ علامات موجود ہوں تو آرم ٹرائی فائلم تین تین گھنٹے کے وقفے سے 30 طاقت میں ضرور دیں۔

برائیونیا البا 30 (Bryonia)

خشکی اور بے چینی اس دوا کی بنیادی علامت ہے، کھانسی ، ٹھسکے دار، وقفے وقفے سے اٹھنے والی ، سینے میں گھٹن ، کھانستے وقت سینے میں تکلیف، پیاس کی شدت، حرکت سے تکالیف کا بڑھنا، ایسی صورت میں یہ دوا استعمال کی جاسکتی ہے۔

لارو سیراسس (Laurocerasus)30

بنیادی طور پر یہ دوا امراض قلب میں بہت کام آتی ہے، اچانک خوف اور دہشت کی وجہ سے یا گہرے غم کے نتیجے میں جسم کانپنے لگ جائے تو یہ دوا فوری فائدہ دیتی ہے، اس کا مریض خواب میں ڈر کر یا کسی اجنبی کو اچانک سامنے دیکھ کر خوف سے کانپنے لگتا ہے، جب بھی کوئی ہیجانی کیفیت ہو تو خوف غالب آجاتا ہے ، جسم ٹھنڈا اور نیلا ہوجاتا ہے، بعض دفع ایسے شخص کو مرگی کے دورے بھی پڑنے لگتے ہیں، ایسے مریضوں کے دل کے نچلے حصے کے عضلات کمزور پڑجاتے ہیں اور دل کی کمزوری کے باعث پھیپھڑوں پر دباو ¿ پڑتا ہے اور پانی جمع ہونے لگتا ہے جس سے مریض کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہوجاتا ہے، ڈاکٹر عموماً ایسے مریضوں کو دمے کی تیز دوائیں اور ان ہلر وغیرہ دیتے ہیں لیکن لمبے عرصے تک استعمال کرنے سے آخر یہ زہریلی دوائیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں ، لاروسیراسس ان ہلر سے بچانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اس کی خاص علامت سانس لینے میں دشواری، دم گھٹنا، سینے کا تنگ ہونا، ایک دم گھٹن کا احساس جیسے دل کو کچھ ہوگیا ہے، ان سب کا مو ¿ثر علاج یہ دوا ہے، دل کی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہونے والی کھانسی جو بار بار اٹھے ، سانس کی کمی کی وجہ سے خون میں آکسیجن کی کمی ، چہرے پر نیلاہٹ یا چہرا زرد پڑجائے تو یہ دوا بہت کارآمد ہوتی ہے، خیال رہے کہ اس دوا کے استعمال کی ضرورت اس صورت میں ہوسکتی ہے جب کرونا وائرس کا شکار مریض آخری اسٹیج میں داخل ہوجائے یعنی پھیپھڑے بہت زیادہ متاثر ہوجائیں اور وہ شدید خوف زدہ بھی ہو، ابتدا میں یہ دوا دینے کی غلطی نہ کریں۔

آرسینک آئیوڈائڈ 3x (Arsenic Iodid)

خیال رہے کہ آرسینک آئیڈائڈ پھیپھڑوں کا ٹانک ہے مگر افسوس پاکستان میں یہ دوا آسانی سے دستیاب نہیں ہے اور اگر دستیاب ہے تو معیاری نہیں ہے،مریض کو سانس لینے میں دقت ہوتی ہے، زیادہ گرمی یا زیادہ سردی دونوں برداشت نہیں ہوتی، نزلہ زکام، جسم میں حرارت زیادہ اس دوا کی علامت ہے۔

ایپی کاک (IPECAC) تر کھانسی، متلی، الٹی۔

رسٹاکس (Rhustox) آرام کرتے ہوئے طبیعت خران ہونا، بخار، سر میں درد، بدن میں درد۔

اسپونجیا (Spongia) شدید نوعیت کی تشنجی کھانسی عام طور پر رات میں زیادہ ہوتی ہے، مریض کے لیے سونا مشکل ہو۔

لوبیلیا انفلاٹا (Lobilia inflata) پرانے دمے کے مریض یا جنہیں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہو ، سانس پھولنے کی شکایت۔

سباڈیلا (Sabadilla) نزلہ پانی کی طرح بہے اور شدید چھینکیں، آنکھوں سے پانی انا
ڈاکٹر جی آر ناصر

Address

AL NASIR MEDICAL CENTRE. Chowk Azmat E Mustfa Sarai Alamgir
Sarai Alamgir
92

Opening Hours

Monday 09:00 - 14:00
Tuesday 09:00 - 14:00
Wednesday 09:00 - 14:00
Thursday 09:00 - 14:00
Friday 09:00 - 12:30

Telephone

03005435839

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Nasir Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Nasir Clinic:

Share