Al Habib Box

Al Habib Box Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Habib Box, Business consultant, Chak No. 119 N. B, Sargodha.

07/06/2024

ایک صحرا میں ایک چھوٹا سا پرندہ رہتا تھا..
صحرا میں کوئی درخت نہ ہونے کی وجہ سے پرندہ دن بھر گرم ریت پر گھومتا پھرتا..
خدا کی طرف جاتے ہوئے ایک فرشتے نے چھوٹے پرندے کو دیکھا اور اسے ترس آیا..
اس نے جا کر پرندے سے پوچھا:
"اے چھوٹے پرندے..
تم اس تپتے صحرا میں کیا کر رہے ہو..
کیا میں تمہارے لیے کچھ کر سکتا ہوں..
چھوٹے پرندے نے کہا،
"میں اپنی زندگی سے بہت خوش ہوں..
لیکن یہ گرمی ناقابل برداشت ہے..
میرے دونوں پاؤں جل رہے ہیں..
اگر یہاں ایک درخت ہوتا تو مجھے خوشی ہوتی..
فرشتے نے کہا،
"صحرا کے وسط میں درخت اگانا میرے دائرہ کار سے باہر ہے..
میں خدا سے ملنے جا رہا ہوں..
میں اس سے پوچھوں گا کہ کیا وہ تمہاری خواہش پوری کر سکتا ہے..
فرشتے نے خدا سے پوچھا، کیا وہ پرندے کی مدد کر سکتا ہے..
خدا نے کہا،
"میں صحرا میں درخت اگا سکتا ہوں..
لیکن پرندے کی تقدیر میں درخت نہیں ہے۔ تاہم، تم پرندے کو میرا پیغام دے دینا جس سے اسے گرمی سے بچنے میں مدد ملے گی۔ پرندے سے کہنا ایک وقت میں ایک پاؤں ریت پہ رکھے اور ایک اٹھا لے..
اس طرح ایک پاؤں کو تھوڑی دیر آرام مل سکتا ہے..
پرندے سے یہ بھی کہنا کہ اپنی زندگی کی تمام اچھی باتیں یاد کرے اور ان کے لئے خدا کا شکر ادا کرے..
فرشتہ واپس وہاں آیا جہاں پرندہ تھا اور اسے خدا کی طرف سے یہ پیغام دیا..
پرندہ اس پیغام سے خوش ہوا..
اور اس نے فرشتے کا شکریہ ادا کیا..
کچھ دنوں کے بعد،
فرشتہ اسی صحرا کو پار کر رہا تھا کہ اسے ننھے پرندے کا خیال آیا..
اس نے پرندے کو صحرا کے عین وسط میں بڑے سرسبز درخت پر بیٹھے دیکھا..
فرشتہ پرندے کو آرام سے دیکھ کر خوش ہوا لیکن ساتھ ہی بہت حیران ہوا کیونکہ پرندے کی قسمت میں کوئی درخت نہیں تھا..
فرشتہ خدا سے ملنے گیا اور حیرانی سے اسے سارا ماجرا سنایا..
خدا نے جواب دیا،
"پرندے کے نصیب میں درخت نہیں تھا..
تاہم جب تم نے اسے میرا پیغام دیا..
اور اپنی زندگی کی تمام اچھی چیزوں کے لیے خدا کا شکر گزار ہونے کو کہا تو..
پرندے نے ان الفاظ کو عملی جامہ پہنایا..
اس نے اپنی زندگی کی ہر ممکن چیز کو یاد کیا اور پاک دل سے اللہ کا شکر ادا کیا..
میں پرندے کے شکر گزاری کے جزبہ سے متاثر ہوا..
اور میں نے اس کی تقدیر بدل دی..
اور اس کے لئے صحرا میں درخت اگا دیا..
ایک چھوٹی سی شکر گزاری..
ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔
یہ واقعہ حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں مجھے نہیں معلوم لیکن ایک بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہئے چاہے کتنی ہی تکلیف ملے چاہے کچھ دن تک بھوکا رہنا پڑے یا مصیبتں جھیلنی پڑے ہمیں اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہئے بے شک اللہ تعالی اپنے شکر گزار بندوں کو بہترین صلہ دیتا ہے۔
تحریر۔جاویدا

07/06/2024

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ

عنوان: نرالی شان کا مالک

حضرت آمنہ کے انتقال کے پانچ دن بعد ام ایمن آپ کو لے کر مکہ پہونچیں ۔ آپ کو عبدالمطلب کے حوالے کیا۔آپ کے یتیم ہوجانے کا انہیں اتنا صدمہ تھا کہ بیٹے کی وفات پر بھی اتنا نہیں ہوا تھا۔
عبدالمطلب کے لیے کعبہ کے سائے میں ایک کالین بچھایا جاتا تھا۔ وہ اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ ان کا احترام اس قدر تھا کہ کوئی اور اس قالین پر بیٹھتا نہیں تھا، چنانچہ ان کے بیٹے اور قریش کے سردار اس قالین کے چاروں طرف بیٹھتے تھے، لیکن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں تشریف لاتے تو سیدھے اس قالین پر جا بیٹھتے۔ اس وقت آپ ایک تندرست لڑکے تھے، آپ کی عمر نو سال کے قریب ہو چلی تھی، آپ کے چچا عبدالمطلب کے ادب کی وجہ سے آپ کو اس قالین سے ہٹانا چاہتے تو عبدالمطلب کہتے ;
میرے بیٹےکو چھوڑ دو، اللّٰہ کی قسم ! یہ بہت شان والا ہے۔
پھر وہ آپ کو محبت سے اس فرش پر بٹھاتے، آپ کی کمر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے، آپ کی باتیں سن سن کر حد درجے خوش ہوتے رہتے۔
کبھی وہ دوسروں سے کہتے;
ُُ میرے بیٹے کو یہیں بیٹھنے دو، اسے خود بھی احساس ہے کہ اس کی بڑی شان ہے، اور میری آرزو ہے یہ اتنا بلند رتبہ پائے جو کسی عرب کو اس سے پہلے حاصل نہ ہوا ہو اور نہ بعد میں کسی کو حاصل ہوسکے۔
ایک بار انہوں نے یہ الفاظ کہے;
" میرے بیٹے کو چھوڑ دو، اس کے مزاج میں طبعی طور بلندی ہے.... اس کی شان نرالی ہوگی"۔
یہاں تک کہ عمر کے آخری حصے میں حضرت عبدالمطلب کی آنکھیں جواب دے گئی تھیں ، آپ نابینا ہو گئے تھے۔ ایسی حالت میں ایک روز وہ اس قالین پر بیٹھے تھے کہ آپ تشریف لے آئے اور سیدھے اس قالین پر جا پہنچے۔ ایک شخص نے آپ کو قالین سے کھینچ لیا۔ اس پر آپ رونے لگے، آپ کے رونے کی آواز سن کر عبدالمطلب بے چین ہوئے اور بولے:
"میرا بیٹا کیوں رو رہا ہے "
"آپ کے قالین پر بیٹھنا چاہتا ہے... ہم نے اسے قالین سے اتار دیا ہے۔"
یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا:
"میرے بیٹے کو قالین پر ہی بٹھا دو، یہ اپنا رتبہ پہچانتا ہے، میری دعا ہے کہ یہ اس رتبے کو پہنچے جو اس سے پہلے کسی عرب کو نہ ملا ہو، اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔"
اس کے بعد پھر کسی نے آپ کو قالین پر بیٹھنے سے نہیں روکا۔‌
ایک روز بنو مدلج کے کچھ لوگ حضرت عبدالمطلب سے ملنے کے لئے آئے... ان کے پاس اس وقت آپ ﷺ بھی تشریف فرما تھے ۔بنو مدلج کے لوگوں نے آپ کو دیکھا، یہ لوگ قیافہ شناس تھے، آدمی کا چہرہ دیکھ کر اس کے مستقبل کے بارے میں اندازے بیان کرتے تھے۔انہوں نے عبدالمطلب سے کہا:
" اس بچے کی حفاظت کریں ، اس لیے کہ مقام ابراہیم پر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم کا نشان ہے، اس بچے کے پاؤں کا نشان بالکل اس نشان سے ملتا جلتا ہے، اس قدر مشابہت ہم نے کسی اور کے پاؤں کے نشان میں نہیں دیکھی... ہمارا خیال ہے... یہ بچہ نرالی شان کا مالک ہوگا.. . اس لیے اس کی حفاظت کریں ۔"
مقام ابراہیم خانہ کعبہ میں وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ معجزے کے طور پر اس پتھر پر ابراہیم علیہ السلام کے پیروں کے نشان پڑگئے تھے۔ لوگ اس پتھر کی زیارت کرتے ہیں ۔ یہی مقام ابراہیم ہے۔ چونکہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں ، اس لیے ان کے پاؤں کی مشابہت آپ میں ہونا قدرتی بات تھی۔
ایک روز حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں حجر اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ایسے میں ان کے پاس نجران کے عیسائی آگئے۔ان میں ایک پادری بھی تھا ۔ اس پادری نے عبدالمطلب سے کہا۔:
"ہماری کتابوں میں ایک ایسے نبی کی علامات ہیں جو اسماعیل کی اولاد میں ہونا باقی ہے، یہ شہر اس کی جائے پیدائش ہوگا، اس کی یہ یہ نشانیاں ہوں گی۔"
ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ کوئی شخص آپ کو لے کر وہاں آپہنچا۔ پادری کی نظر جونہی آپ پر پڑی، وہ چونک اٹھا، آپ کی آنکھوں ، کمر اور پیروں کو دیکھ کر وہ چلا اٹھا:
" وہ نبی یہی ہیں ، یہ تمہارے کیا لگتے ہیں ۔"
عبدالمطلب بولے
" یہ میرے بیٹے ہیں ۔"
اس پر وہ پادری بولا:
" اوہ! تب یہ وہ نہیں ... اس لیے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے پہلے ہوجائے گا۔
یہ سن کر عبدالمطلب بولے:
" یہ دراصل میرا پوتا ہے، اس کے باپ کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب یہ پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔"
اس پر پادری بولا:
" ہاں ! یہ بات ہوئی نا... آپ اس کی پوری طرح حفاظت کریں ۔"
عبدالمطلب کی آپ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کھانا کھانے بیٹھتے تو کہتے:
"میرے بیٹے کو لے آؤ۔"
آپ تشریف لاتے تو عبدالمطلب آپ کو اپنے پاس بٹھاتے ۔ آپ کو اپنے ساتھ کھلاتے۔
بہت زیادہ عمر والے ایک صحابی حیدہ بن معاویہ ؓ کہتے ہیں
" میں ایک مرتبہ اسلام سے پہلے، جاہلیت کے زمانے میں حج کے لئے مکہ معظمہ گیا۔وہاں بیت الله کا طواف کررہا تھا ۔ میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا، جو بہت بوڑھا اور بہت لمبے قد کا تھا۔ وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا۔اور کہہ رہا تھا، اے میرے پروردگار میری سواری کو محمد کی طرف پھیر دے اور اسے میرا دست و بازو بنادے۔میں نے اس بوڑھے کو جب یہ شعر پڑھتے سنا تو لوگوں سے پوچھا:
"یہ کون ہے؟ "
لوگوں نے بتایا یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ۔ انہوں نے اپنے پوتے کو اپنے ایک اونٹ کی تلاش میں بھیجا ہے۔ وہ اونٹ گم ہوگیا ہے، اور وہ پوتا ایسا ہے جب بھی کسی گم شدہ چیز کی تلاش میں اسے بھیجاجاتا ہے تو وہ چیز لے کر ہی آتا ہے۔ پوتے سے پہلے یہ اپنے بیٹوں کو اس اونٹ کی تلاش میں بھیج چکے ہیں ، لیکن وہ ناکام لوٹ آئے ہیں ، اب چونکہ پوتے کو گئے ہوئے دیر ہوگئی ہے، اس لئے پریشان ہے، اور دعا مانگ رہےہیں ۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اونٹ کو لئے تشریف لا رہے ہے۔عبدالمطلب نے آپ کو، دیکھ کر کہا ؛
"میرے بیٹے ! میں تمہارے لئے اس قدر فکر مند ہوگیا تھا کہ شاید اس کا اثر کبھی میرے دل سے نہ جائے۔
عبدالمطلب کی بیوی کا نام رقیہ بنت ابو سیفی تھا ۔ وہ کہتی ہیں :
قریش کئی سال سے سخت قحط سالی کا شکار تھے. بارشیں بالکل بند تھیں . سب لوگ پریشان تھے، اسی زمانے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا، کوئی شخص خواب میں کہہ رہا تھا.
اے قریش کے لوگو. تم میں سے ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے، اس کے ظہور کا وقت آ گیا ہے. اس کے ذریعے تمہیں زندگی ملے گی، یعنی خوب بارشیں ہوں گی، سرسبزی اور شادابی ہوگی تم اپنے لوگوں میں سے ایک ایسا شخص تلاش کرو جو لمبے قد کا ہو، گورے رنگ کا ہو، اس کی پلکیں گھنی ہوں ، بھنویں اور ابرو ملے ہوئے ہوں ، وہ شخص اپنی تمام اولاد کے ساتھ نکلے اور تم میں سے ہر خاندان کا ایک آدمی نکلے، سب پاک صاف ہوں اور خوشبو لگائیں ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیں پھر سب جبل ابو قیس پر چڑھ جائیں . پھر وہ شخص جس کا حلیہ بتایا گیا ہے، آگے بڑھے اور بارش کی دعا مانگے اور تم سب آمین کہو تو بارش ہو جائے گی.
صبح ہوئی تو رقیقہ نے اپنا یہ خواب قریش سے بیان کیا. انہوں نے ان نشانیوں کو تلاش کیا تو سب کی سب نشانیاں انہیں عبد المطلب میں مل گئیں ، چنانچہ سب ان کے پاس جمع ہوئے. ہر خاندان سے ایک ایک آدمی آیا. ان سب نے شرائط پوری کیں . اس کے بعد سب ابو قیس پہاڑ پر چڑھ گئے. ان میں نبی کریم ﷺ بھی تھے. آپ اس وقت نو عمر تھے. پھر عبد المطلب آگے بڑھے اور انہوں نے یوں دعا کی.
اے اللہ یہ سب تیرے غلام ہیں ، تیرے غلاموں کی اولاد ہیں ، تیری باندیاں ہیں اور تیری باندیوں کی اولاد ہیں ، ہم پر جو برا وقت آ پڑا ہے، تو دیکھ رہا ہے، ہم مسلسل قحط سالی کا شکار ہیں . اب اونٹ، گائیں ، گھوڑے، خچر اور گدھے سب کچھ ختم ہو چکے ہیں اور جانوروں پر بن آئی ہے. اس لیے ہماری یہ خشک سالی ختم فرما دے ہمیں زندگی اور سرسبزی اور شادابی عطا فرما دے
ابھی یہ دعا مانگ ہی رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی. وادیاں پانی سے بھر گئیں لیکن اس بارش میں ایک بہت عجیب بات ہوئی اور وہ عجیب بات یہ تھی کہ قریش کو یہ سیرابی ضرور حاصل ہوئی مگر یہ بارش قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کی قریبی بستیوں میں بالکل نہ ہوئی. اب لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کیا بات ہوئی. ایک قبیلے پر بارش اور آس پاس کے سب قبیلے بارش سے محروم.... تمام قبیلوں کے سردار جمع ہوئے، اس سلسلے میں بات چیت شروع ہوئی. ایک سردار نے کہا.
ہم زبردست قحط اور خشک سالی کا شکار ہیں جب کہ قریش کو اللہ تعالٰی نے بارش عطا کی ہے اور یہ عبد المطلب کی وجہ سے ہوا ہے اس لیے ہم سب ان کے پاس چلتے ہیں ، اگر وہ ہمارے لیے دعا کر دیں تو شاید اللہ ہمیں بھی بارش دے دے.
یہ مشورہ سب کو پسند آیا، چنانچہ یہ لوگ مکہ معظمہ میں آئے اور عبد المطلب سے ملے. انہیں سلام کیا پھر ان سے کہا.
اے عبد المطلب ہم کئی سال سے خشک سالی کے شکار ہیں ہمیں آپ کی برکت کے بارے میں معلوم ہوا ہے، اس لیے مہربانی فرما کر آپ ہمارے لیے بھی دعا کریں ، اس لیے کہ اللہ نے آپ کی دعا سے قریش کو بارش عطا کی ہے.
ان کی بات سن کر عبد المطلب نے کہا.
اچھی بات ہے میں کل میدان عرفات میں آپ لوگوں کے لیے بھی دعا کروں گا.
دوسرے دن صبح سویرے عبد المطلب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے. ان کے ساتھ دوسرے لوگوں کے علاوہ ان کے بیٹے اور اللہ کے رسول ﷺ بھی تھے. عرفات کے میدان میں عبد المطلب کے لیے ایک کرسی بچھائی گئی. وہ اس پر بیٹھ گئے، نبی کریم ﷺ کو انہوں نے گود میں بٹھا لیا، پھر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی.
اے اللہ، چمکنے والی بجلی کے پروردگار، اور کڑکنے والی گرج کے مالک، پالنے والوں کے پالنے والے، اور مشکلات کو آسان کرنے والے. یہ قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کے لوگ ہیں ، یہ بہت پریشان ہیں ، ان کی کمریں جھک گئی ہیں ، یہ تجھ سے اپنی لا چاری اور بے کسی کی فریاد کرتے ہیں اور جان و مال کی بربادی کی شکایت کرتے ہیں پس اے اللہ، ان کے لیے خوب برسنے والے بادل بھیج دے اور آسمان سے ان کے لیے رحمت عطا فرما تاکہ ان کی زمینیں سرسبز ہو جائیں اور ان کی تکالیف دور ہو جائیں .
عبد المطلب ابھی یہ دعا کر ہی رہے تھے کہ ایک سیاہ بادل اٹھا، عبد المطلب کی طرف آیا اور اس کے بعد اس کا رخ قبیلہ قیس اور بنو مضر کی بستیوں کی طرف ہو گیا. یہ دیکھ کر عبد المطلب نے کہا.
اے گروہ قریش اور مضر جاؤ تمہیں سیرابی حاصل ہو گی.
چنانچہ یہ لوگ جب اپنی بستیوں میں پہنچے تو وہاں بارش شروع ہو چکی تھی.
آپ سات سال کے ہو چکے تھے کہ آپ کی آنکھیں دکھنے کو آگئیں . مکہ میں آنکھوں کا علاج کرایا گیا لیکن افاقہ نہ ہوا. عبد المطلب سے کسی نے کہا.
عکاظ کے بازار میں ایک راہب رہتا ہے وہ آنکھوں کی تکالیف کا علاج کرتا ہے.
عبد المطلب آپ کو اس کے پاس لے گئے. اس کی عبادت گاہ کا دروازہ بند تھا. انہوں نے اسے آواز دی. راہب نے کوئی جواب نہ دیا. اچانک عبادت گاہ میں شدید زلزلہ آیا. راہب ڈر گیا کہ کہیں عبادت خانہ اس کے اوپر نہ گر پڑے. اس لئے ایک دم باہر نکل آیا.
اب اس نے آپ کو دیکھا تو چونک اٹھا. اس نے کہا.
اے عبد المطلب. یہ لڑکا اس امت کا نبی ہے. اگر میں باہر نہ نکل آتا تو یہ عبادت گاہ ضرور مجھ پر گر پڑتی. اس لڑکے کو فوراً واپس لے جاؤ اور اس کی حفاظت کرو. کہیں یہودیوں یا عیسائیوں میں سے کوئی اسے قتل نہ کر دے.
پھر اس نے کہا
اور رہی بات ان کی آنکھوں کی... تو آنکھوں کی دعا تو خود ان کے پاس موجود ہے.
عبد المطلب یہ سن کر حیران ہوئے اور بولے.
ان کے اپنے پاس ہے، میں سمجھا نہیں . ہاں . ان کا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگائیں .
انہیں نے ایسا ہی کیا، آنکھیں فوراً ٹھیک ہو گئیں .
پرانی آسمانی کتابوں میں آپ کی بہت سی نشانیاں لکھی ہوئی تھیں . اس کی تفصیل بہت دلچسپ ہے.
یمن میں ایک قبیلہ حمیر تھا. وہاں ایک شخص سیف بن یزن تھا. وہ سیف حمیری کہلاتا تھا. کسی زمانے میں اس کے باپ دادا اس ملک پر حکومت کرتے تھے لیکن پھر حبشیوں نے یمن پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا. وہاں حبشیوں کی حکومت ہو گئی. ستر سال تک یمن حبشیوں کے قبضے میں رہا، جب یہ سیف بڑا ہوا تو اس کے اندر اپنے باپ دادا کا ملک آزاد کرانے کی امنگ پیدا ہوئی، چنانچہ اس نے ایک فوج تیار کی. اس فوج کے ذریعے حبشیوں پر حملہ کیا اور انہیں یمن سے بھگا دیا. اس طرح وہ باپ دادا کے ملک کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گیا، وہاں کا بادشاہ بن گیا. یہ یمن عرب کا علاقہ تھا. جب اس پر حبشیوں نے قبضہ کیا تھا تو عربوں کو بہت افسوس ہوا. 70 سال بعد جب یمن کے لوگوں نے حبشیوں کو نکال باہر کیا تو عربوں کو بہت خوشی ہوئی. ان کی خوشی کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انہی حبشیوں نے ابرہہ کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی تھی. چاروں طرف سے عربوں کے وفد سیف کو مبارک باد دینے کے لیے آنے لگے.
قریش کا بھی ایک وفد مبارک دینے کے لیے گیا. اس وفد کے سردار عبد المطلب تھے. یہ وفد جب یمن پہنچا تو سیف اپنے محل میں تھا. اس کے سر پر تاج تھا، سامنے تلوار رکھی تھی اور حمیری سردار اس کے دائیں بائیں بیٹھے تھے. سیف کو قریش کے وفد کی آمد کے بارے میں بتایا گیا، اسے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ کس رتبے کے ہیں . اس نے ان لوگوں کو آنے کی اجازت دے دی. یہ وفد دربار میں پہنچا. عبد المطلب آگے بڑھ کر اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے. انہوں نے بات کرنے کی اجازت چاہی، سیف نے کہا.
اگر تم بادشاہوں کے سامنے بولنے کے آداب سے واقف ہو تو ہماری طرف سے اجازت ہے
تب عبد المطلب نے کہا.
اے بادشاہ، ہم کعبہ کے خادم ہیں ، اللہ کے گھر کے محافظ ہیں ، ہم آپ کو مبارکباد دینے آئے ہیں . یمن پر حبشی حکومت ہمارے لیے بھی بوجھ بنی ہوئی تھی. آپ کو مبارک ہو، آپ کے اس کارنامے سے آپ کے بزرگوں کو بھی عزت ملے گی اور آنے والی نسلوں کو بھی وقار حاصل ہو گا.
سیف ان کے الفاظ سن کر بہت خوش ہوا، بے اختیار بول اٹھا.
اے شخص تم کون ہو، کیا نام ہے تمہارا؟
انہوں نے کہا.
میرا نام عبد المطلب بن ہاشم ہے.
سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا.
تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو.
عبد المطلب کی والدہ مدینے کے قبیلے خزرج کی تھیں اور خزرج کا قبیلہ دراصل یمن کا تھا. اس لیے سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا، تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو. پھر اس نے کہا.
ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں ، آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں .
اس کے بعد قریش کے وفد کو سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرا دیا گیا. ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی... یہاں تک کہ ایک ماہ گزر گیا. ایک ماہ کی مہمان نوازی کے بعد سیف نے انہیں بلایا. عبد المطلب کو اپنے پاس بلا کر اس نے کہا.
اے عبد المطلب، میں اپنے علم کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز تمہیں بتا رہا ہوں ، تمہارے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں ہر گز نہ بتاتا، تم اس راز کو اس وقت تک راز ہی رکھنا جب تک کہ خود اللہ تعالٰی اس راز کو ظاہر نہ فرما دے. ہمارے پاس ایک پوشیدہ کتاب ہے وہ پوشیدہ رازوں کا ایک خزانہ ہے. ہم دوسروں سے اس کو چھپا کر رکھتے ہیں . میں نے اس کتاب میں ایک بہت عظیم الشان خبر اور ایک بڑے خطرے کے بارے میں پڑھ لیا ہے... اور وہ آپ کے بارے میں ہے.
عبد المطلب یہ باتیں سن کر حد درجے حیرت زدہ ہوئے اور پکار اٹھے.
میں سمجھا نہیں ، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں .
سنو، عبد المطلب، جب تہامہ کی وادی یعنی مکہ میں ایسا بچہ پیدا ہو جس کے دونوں کندھوں کے درمیان بالوں کا گچھا (یعنی مہر نبوت) ہو تو اسے امامت اور سرداری حاصل ہو گی اور اس کی وجہ سے تمہیں قیامت تک کے لیے اعزاز ملے گا، عزت ملے گی.
عبد المطلب نے یہ سن کر کہا.
اے بادشاہ. اللہ کرے آپ کو بھی ایسی خوش بختی میسر آئے، آپ کی ہیبت مجھے روک رہی ہے، ورنہ میں آپ سے پوچھتا کہ اس بچے کا زمانہ کب ہو گا.
بادشاہ نے جواب میں کہا.
یہی اس کا زمانہ ہے، وہ اسی زمانے میں پیدا ہو گا یا پیدا ہو چکا ہے اس کا نام محمد ہو گا، اس کی والدہ کا انتقال ہو جائے گا، اس کے دادا اور چچا اس کی پرورش کریں گے. ہم بھی اس کے آرزو مند رہے کہ وہ بچہ ہمارے ہاں پیدا ہو، اللہ تعالٰی اسے کھلے عام ظاہر فرمائے گا اور اس کے لیے ہم میں سے (یعنی مدینے کے قبیلے خزرج میں ) اس نبی کے مددگار بنائے گا (ہم میں سے اس نے اس لیے کہا کہ خزرج اصل میں یمن کے لوگ تھے) ان کے ذریعے اس نبی کے خاندان اور قبیلے والوں کو عزت حاصل ہو گی اور ان کے ذریعے اس کے دشمنوں کو ذلت ملے گی اور ان کے ذریعے وہ تمام لوگوں سے مقابلہ کرے گا اور ان کے ذریعے زمین کے اہم علاقے فتح ہو جائیں گے. وہ نبی رحمان کی عبادت کرے گا، شیطان کو دھمکائے گا. آتش کدوں کو ٹھنڈا کرے گا (یعنی آگ کے پجاریوں کو مٹائے گا) بتوں کو توڑ ڈالے گا، اس کی ہر بات آخری فرمان ہو گی، اس کے احکامات انصاف والے ہوں گے، وہ نیک کاموں کا حکم دے گا، خود بھی ان پر عمل کرے گا، برائیوں سے روکے گا، ان کو مٹا ڈالےگا ۔
عبد المطلب نے سیف بن یزن کو دعا دی۔پھر کہا۔
کچھ اور تفصیل بیان کریں ۔
بات ڈھکی چھپی ہے اور علامتیں پوشیدہ ہیں مگر اے عبد المطلب اس میں شبہ نہیں کہ تم اس کے دادا ہو۔
عبد المطلب یہ سن کر فوراً سجدے میں گر گئے اور پھر سیف نے ان سے کہا۔
اپنا سر اٹھاؤ،اپنی پیشانی اونچی کرو،اور مجھے بتاؤ، جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے،کیا تم نے ان میں سے کوئی علامت اپنے ہاں دیکھی ہے؟
اس پر عبد المطلب نے کہا۔
ہاں میرا ایک بیٹا تھا،میں اسے بہت چاہتا تھا،
میں نے ایک شریف اور معزز لڑکی آمنہ بنت وہب عبد مناف سے اس کی شادی کر دی،وہ میری قوم کے انتہائی باعزت خاندان سے تھی،اس سے میرے بیٹے کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا،میں نے اس کا نام محمد رکھا،اس بچے کا باپ اور ماں دونوں فوت ہو چکے ہیں ۔اب میں اور اس کا چچا ابو طالب اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔
اب سیف نے ان سے کہا۔
میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے،وہ واقعہ اسی طرح ہے۔ اب تم اپنے پوتے کی حفاظت کرو،اسے یہودیوں سے بچائے رکھو،اس لیے کہ وہ اس کے دشمن ہیں ،یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالٰی ہر گز ان لوگوں کو ان پر قابو نہیں پانے دے گا اور میں نے جو کچھ آپ کو بتایا ہے،اس کا اپنے قبیلے والوں سے ذکر نہ کرنا،مجھے ڈر ہے کہ ان باتوں کی وجہ سے ان لوگوں میں حسد اور جلن نہ پیدا ہو جائے۔یہ لوگ سوچ سکتے ہیں ،یہ عزت اور بلندی آخر انہیں کیوں ملنے والی ہے یہ لوگ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے اگر یہ لوگ اس وقت تک زندہ نہ رہے تو ان کی اولادیں یہ کام کریں گی اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ اس نبی کے ظہور سے پہلے ہی موت مجھے آ لے گی تو میں اپنے اونٹوں اور قافلے کے ساتھ روانہ ہوتا اور ان کی سلطنت کے مرکز یثرب پہنچتا،کیونکہ میں اس کتاب میں یہ بات پاتا ہوں کہ شہر یثرب ان کی سلطنت کا مرکز ہوگا، ان کی طاقت کا سرچشمہ ہو گا،ان کی مدد اور نصرت کا ٹھکانہ ہو گا اور ان کی وفات کی جگہ ہوگی اور انہیں دفن بھی یہیں کیا جائے گا اور ہماری کتاب پچھلے علوم سے بھری پڑی ہے۔مجھے پتا ہے اگر میں اسی وقت ان کی عظمت کا اعلان کروں تو خود ان کے لیے اور میرے لیے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔یہ ڈر نہ ہوتا تو میں اسی وقت ان کے بارے میں یہ تمام باتیں سب کو بتا دیتا۔عربوں کے سامنے ان کی سربلندی اور اونچے رتبے کی داستانیں سنا دیتا،لیکن میں نے یہ راز تمہیں بتایا ہے....تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کسی کو نہیں بتایا۔
اس کے بعد اس نے عبد المطلب کے ساتھیوں کو بلایا،ان میں سے ہر ایک کو دس حبشی غلام،دس حبشی باندیاں اور دھاری دار یمنی چادریں ،بڑی مقدار میں سونا چاندی،سو سو اونٹ اور عنبر کے بھرے ڈبے دییے۔پھر عبد المطلب کو اس سے دس گنا زیادہ دیا اور بولا۔
سال گزرنے پر میرے پاس ان کی خبر لے کر آنا اور ان کے حالات بتانا۔
سال گزرنے سے پہلے ہی اس بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔
عبد المطلب اکثر اس بادشاہ کا ذکر کیا کرتے تھے،آپ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو عبد المطلب کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح ایک عظیم سرپرست کا ساتھ چھوٹ گیا۔اس وقت عبد المطلب کی عمر 95 سال تھی۔تاریخ کی بعض کتابوں میں ان کی عمر اس سے بھی زیادہ لکھی ہے۔
جس وقت عبد المطلب کا انتقال ہوا۔آپ ان کی چارپائی کے پاس موجود تھے،آپ رونے لگے،عبد المطلب کو عجون کے مقام پر ان کے دادا قصی کے پاس دفن کیا گیا۔
مرنے سے پہلے انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے بیٹے ابو طالب کے حوالے کیا۔اب ابو طالب آپ کے نگران ہوئے۔انہیں بھی آپ سے بے تحاشا محبت ہو گئی۔ ان کے بھائی عباس اور زبیر بھی آپ کا بہت خیال رکھتے تھے۔پھر زبیر بھی انتقال کر گئے تو آپ کی نگرانی آپ کے چچا ابو طالب ہی کرتے رہے۔
انہیں بھی نبی کریم ﷺ سے بہت محبت تھی۔جب انہوں نے آپ کی برکات دیکھیں ، معجزے دیکھے تو ان کی محبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ یہ مالی اعتبار سے کمزور تھے۔دو وقت سارے گھرانے کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تھا۔لیکن جب نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ کھانا کھاتے تو تھوڑا کھانا بھی ان سب کے لیے کافی ہو جاتا۔سب کے پیٹ بھر جاتے۔اسی لیے جب دوپہر یا رات کے کھانے کا وقت ہوتا تو اور سب دسترخوان پر بیٹھتے تو ابو طالب ان سے کہتے۔
ابھی کھانا شروع نہ کرو،میرا بیٹا آ جائے پھر شروع کرنا۔
پھر آپ تشریف لے آتے اور ان کے ساتھ بیٹھ جاتے۔آپ کی برکت اس طرح ظاہر ہوتی کہ سب کے سیر ہونے کے بعد بھی کھانا بچ جاتا،اگر دودھ ہوتا تو پہلے نبی کریم ﷺ کو پینے کے لیے دیا جاتا،پھر ابو طالب کے بیٹے پیتے،یہاں تک کہ ایک ہی پیالے سے سب کے سب دودھ پی لیتے،خوب سیر ہو جاتے اور دودھ پھر بھی بچ جاتا،ابو طالب کے لیے ایک تکیہ رکھا رہتا تھا،وہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے،رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تو آ کر سیدھے اس تکیے کے ساتھ بیٹھ جاتے،یہ دیکھ کر ابو طالب کہتے۔
میرے بیٹے کو اپنے بلند مرتبے کا احساس ہے۔
ایک بار مکہ میں قحط پڑ گیا،بارش بالکل نہ ہوئی،لوگ ایک دوسرے سے کہتے تھے،لات اور عزی سے بارش کی دعا کرو،کچھ کہتے تھے تیسرے بڑے بت منات پر بھروسہ کرو،اسی دوران ایک بوڑھے نے کہا۔
تم حق اور سچائی سے بھاگ رہے ہو،تم میں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی نشانی موجود ہے، تم اسے چھوڑ کر غلط راستے پر کیوں جا رہے ہو۔
اس پر لوگوں نے اس سے کہا۔
کیا آپ کی مراد ابو طالب سے ہے؟
اس نے جواب میں کہا۔
ہاں میں یہی کہنا چاہتا ہوں ۔
اب سب لوگ ابو طالب کے گھر کی طرف چلے،وہاں پہنچ کر انہوں نے دروازے پر دستک دی،تو ایک خوبصورت آدمی باہر آیا،اس نے تہبند لپیٹ رکھا تھا، سب لوگ اس کی طرف بڑھے اور بولے۔
اے ابو طالب،وادی میں قحط پڑا ہے،بچے بھوکے مر رہے ہیں ،اس لیے آؤ اور ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔
چنانچہ ابو طالب باہر آئے،ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی تھے،آپ ایسے لگ رہے تھے جیسے اندھیرے میں سورج نکل آیا ہو،ابو طالب کے ساتھ اور بھی بچے تھے لیکن انہوں نے آپ ہی کا بازو پکڑا ہوا تھا، اس کے بعد ابو طالب نے آپ کی انگلی پکڑ کر کعبے کا طواف کیا۔یہ طواف کر رہے تھے اور دوسرے لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے،جہاں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا لیکن پھر اچانک ہر طرف سے بادل گھر گھر کر آنے لگے،اس قدر زور دار بارش ہوئی کہ شہر اور جنگل سیراب ہو گئے۔
ابو طالب ایک بار ذی الحجاز کے میلے میں گئے،یہ جگہ عرفات سے تقریباً 8 کلو میٹر دور ہے۔ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ بھی تھے،ایسے میں ابو طالب کو پیاس محسوس ہوئی۔انہوں نے آپ سے کہا۔
بھتیجے،مجھے پیاس لگی ہے۔
یہ بات انہوں نے اس لیے نہیں کہی تھی کہ آپ کے پاس پانی تھا....بلکہ اپنی بے چینی ظاہر کرنے کے لیے کہی تھی۔چچا کی بات سن کر آپ فورا سواری سے اتر آئے اور بولے۔
چچا جان آپ کو پیاس لگی ہے۔
انہوں نے کہا۔
ہاں بھتیجے۔پیاس لگی ہے۔
یہ سنتے ہی آپ نے ایک پتھر پر اپنا پاؤں مارا۔

Gaining subscribers on YouTube requires a combination of creating quality content, optimizing your channel, engaging wit...
19/03/2024

Gaining subscribers on YouTube requires a combination of creating quality content, optimizing your channel, engaging with your audience, and promoting your videos. Here are some tips to help you grow your subscriber base:

1. **Create Compelling Content:** Produce high-quality, engaging, and valuable content that resonates with your target audience. Whether it's tutorials, vlogs, reviews, or entertainment, make sure your videos are well-made and provide value to viewers.

2. **Optimize Your Channel:** Optimize your channel by creating an attractive channel banner, writing a compelling channel description, and choosing a clear and memorable channel name. Use relevant keywords in your video titles, descriptions, and tags to improve search visibility.

3. **Be Consistent:** Consistency is key to building a loyal subscriber base. Stick to a regular upload schedule so your audience knows when to expect new content from you.

4. **Engage with Your Audience:** Respond to comments, answer questions, and interact with your audience to build a sense of community. Encourage viewers to subscribe to your channel and turn on notifications for new uploads.

5. **Collaborate with Other YouTubers:** Collaborating with other YouTubers in your niche can expose your channel to a new audience. Look for opportunities to collaborate on videos, shout-outs, or joint projects.

6. **Promote Your Videos:** Share your videos on your social media platforms, website, blog, and other online communities to increase visibility. Consider running targeted ads on YouTube or other platforms to reach a wider audience.

7. **Create Compelling Thumbnails:** Design eye-catching thumbnails that grab viewers' attention and accurately represent the content of your videos. Use bold fonts, vibrant colors, and clear imagery to make your thumbnails stand out.

8. **Optimize for Search and Discovery:** Use relevant keywords in your video titles, descriptions, and tags to improve search visibility. Create playlists to organize your content and encourage binge-watching.

9. **Offer Value to Viewers:** Provide valuable information, entertainment, or solutions to your viewers' problems. Make sure your content is unique, informative, and engaging to keep viewers coming back for more.

10. **Track Your Performance:** Monitor your channel analytics to track your subscriber growth, audience demographics, and video performance. Use this data to identify trends, understand your audience better, and refine your content strategy.

By following these tips and staying persistent, you can gradually increase your subscriber count and build a successful YouTube channel.

Increasing the reach of your page involves several strategies to engage your audience and attract more follower...
17/03/2024

Increasing the reach of your page involves several strategies to engage your audience and attract more followers. Here are some tips:

1. **Post High-Quality Content:** Share engaging, relevant, and visually appealing content that resonates with your audience. This can include images, videos, blog posts, and infographics.

2. **Be Consistent:** Post regularly to keep your audience engaged and active. Consistency helps build trust and keeps your page visible in people's news feeds.

3. **Use Facebook Insights:** Utilize Facebook Insights to understand your audience demographics, preferences, and behaviors. This data can help you tailor your content to better suit your audience.

4. **Interact with Your Audience:** Respond to comments, messages, and questions promptly. Engage with your followers by asking questions, running polls, and encouraging discussions.

5. **Promote Your Page:** Promote your page through your website, email newsletters, other social media platforms, and offline marketing materials.

6. **Collaborate with Influencers:** Partner with influencers or other pages in your niche to reach a wider audience and gain exposure.

7. **Use Facebook Ads:** Invest in Facebook advertising to reach specific demographics, target audiences, and promote your page and content effectively.

8. **Host Contests and Giveaways:** Organize contests, giveaways, or sweepstakes to encourage engagement and attract new followers.

9. **Optimize Your Page:** Optimize your page by using relevant keywords in your page name, about section, and posts to improve searchability and reach.

10. **Monitor and Adapt:** Monitor your page's performance regularly and adapt your strategies based on what works best for your audience. Experiment with different types of content, posting times, and engagement tactics to see what yields the best results.

By implementing these strategies consistently, you can increase the reach and visibility of your page and grow your audience over time.

The future of technology will be very bright and diverse. Some possible areas include:1. **Artificial Intelligence:** Th...
17/03/2024

The future of technology will be very bright and diverse. Some possible areas include:

1. **Artificial Intelligence:** The use of artificial intelligence will continue to grow, providing us with new scientific tools to improve life and bring innovation to various fields.

2. **Transportation:** Along with the advancement of technology, transportation will improve, such as hyperloop trains, zero-emission vehicles, and the development of autonomous cars.

3. **Healthcare:** With the advancement of science and technology, we will have better healthcare facilities, such as genomic medicine and diagnostic techniques.

4. **Environmental Conservation:** Technology is being used to protect the environment and promote human development, such as reducing the use of non-renewable resources, developing renewable energy, and reducing plastic usage.

5. **Education:** Technology advancement will change the way we educate, such as online learning platforms, virtual reality, and interactive web content.

These are just a few examples, the future of technology will be filled with innovation and improvement.

17/03/2024

DeepMind کی تحقیقات کی وسیع سطح پر زیادہ تر مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے میدان میں ہوتی ہے۔ ان کی مصنوعی ذہانت کے ماخذ کا مرکزی موضوع ہے اور وہ مختلف اقسام کی ذہانت کے ماڈل بناتے ہیں جو عقلمندی، تصمیم لینے کی صلاحیت، اور مشابہت سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ان کے اہم تحقیقات میں شامل ہیں:

1. AlphaGo: DeepMind نے Go کھیل میں عالمی چیمپئن کو ہرانے والا مصنوعی ذہانتی نظام AlphaGo تیار کیا۔

2. AlphaZero: ایک اور مصنوعی ذہانتی نظام جس نے کھیلوں میں خود سیکھنے کی قابلیت کو ظاہر کیا۔

3. مصنوعی عقلیات: DeepMind کے مقصد میں مصنوعی عقلیات کی توسیع شامل ہے، جو کہ انسانی عقلیات کی عملکرد کو سمجھنے اور نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

4. ہسپتالوں میں DeepMind Health: DeepMind نے مشاورتی سروسز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تحقیق کی ہے تاکہ ہسپتالوں میں بہترین صحت کی دیکھ بھال ممکن ہو۔

یہ تحقیقات کسی بھی ایک مخصوص موضوع کے بارے میں ہوسکتی ہیں جیسے کہ عقلیات، کھیل، یا صحت کی دیکھ بھال، لیکن عموماً DeepMind کے مقصد مصنوعی ذہانت اور عقلیاتی علوم میں ترقی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

Address

Chak No. 119 N. B
Sargodha
40100

Telephone

+3256607208

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Habib Box posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Habib Box:

Share