Sheikh Waheed Home Interior

Sheikh Waheed Home Interior Cosmetic ... Jewelary.. n Hozari items available

Al Bayader Upholstery West Riffa Bahrain
08/11/2023

Al Bayader Upholstery West Riffa Bahrain

26/12/2022
Flower Rings Available 😍😍
29/11/2020

Flower Rings Available 😍😍

Alhumdulillah we starting Soon new Business 😇😊
05/09/2020

Alhumdulillah we starting Soon new Business 😇😊

13/05/2020

😁😁

ناول:  از قلم:  قسط نمبر 6دو مہینے گزر چکے تھے مالا اور ولائے کو ساتھ عادل بھی جانتا تھا کہ ولائے اور مالا ساتھ خوش ہیں ...
31/01/2020

ناول:
از قلم:
قسط نمبر 6
دو مہینے گزر چکے تھے مالا اور ولائے کو ساتھ عادل بھی جانتا تھا کہ ولائے اور مالا ساتھ خوش ہیں سفیر اور صبا کی منگنی تھی سب تیاریوں میں مصروف تھے مالا سینٹورس مال میں شاپنگ کرنے آئی تھی

مالا کا فون بجا اس بار اس نے اٹھاتے ہوئے نہیں پوچھا کہ وہ کون ہے بس اب وہ پہچانتی تھی اور وہ بھی صرف ولائے کو ہی

کیسے ہو ولائے

کہاں ہو

سینٹورس ہوں

شاپنگ کر رہی ہو

ہاں

یار ڈارک کلر کا جوڑا لینا اور پلیز یار ہائی ہیلز لینا

ہائی ہیلز ولائے میں گر جاؤں گی

ارے پاگل لڑکی میں ہوں نہ نہیں گرنے دوں گا

ہائی تو کیا میں ذرا سی ہیل بھی نہیں پہنتی مجھ سے نہیں پہنی جاتیں

اچھا نہ لو میری جان پر ڈارک کلر کا ڈریس لینا اچھا نہ

اچھا بائے

ΔΔΔΔΔΔΔ .

اس نے پستہ رنگ کا پاؤں تک آتا فراق پہنا ہوا تھا نیچے پلین جوتے کانو میں ٹاپس پہنے بہت لائیٹ میک اپ کیے ہوۓ وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی

جب وہ صبا کو لے کہ باہر آئی تو سب دولہن کو دیکھ رہے تھے سوائے ولائے کے اس کی نظریں مالا سے ہٹنے کانام ہی نہیں لے رہیں تھیں علی جان چکا تھا کہ اسے مالا سے محبت ہو چکی ہے کیونکہ وہ شاید سب سے زیادہ ولٹئے کو جانتا تھا اتنا کہ جتنا اور کوئی نہیں وہ ولائے کو لے کر سائیڈ پر گیا

کیا ہوا کوئی مسئلہ ہے ولائے نے حیرت سے پوچھا

مسئلہ ہے کہ نہیں یہ تو تم بتاؤ گے مجھے کیا چل رہا ہے علی نے اسے چڑھانے والے انداز میں کہا

کیا کہ رہے ہو صاف بات کرو

میں مالا کا کہ رہا ہوں ولائے

مالا میری مالا

ہمممم میری مالا بھی ہو گئی علی نے ہنسنا شروع کیا

ہاں نہ

مطلب محبت ہو گئی تمہیں

محبت ہاہاہاہاہا ہر گز نہیں وہ بھی اس سے

تو اب انکار مت کر

نہیں ہوئی محبت مجھے اس سے

تمہاری آنکھیں بھی جھوٹ بول رہی ہیں

افففف تو بس آج رات کا انتظار کر

آج رات کو کیا ولائے کیا کر رہے ہو

محبت ہاہاہاہا چل اب چلیں

ΔΔΔΔΔΔΔΔ .

مالا بات سنو ولائے نے اسے میسج کیا

"جی بولیں"

"باہر جائیں"

"آج نہیں"

نہیں آج ہی اور یہ فائینل ہے میں سات بجے آوں گا

اچھا

ولائے نے گھڑی پہ ٹائم دیکھا گھڑی پانچ بج کر بتیس منٹ بجا رہی تھی

ایک گھنٹہ اور اٹھائیس منٹ بعد ہماری زندگی بدل جائے گی مالا

ΔΔΔΔΔΔΔΔ

"مالا باہر آو"

"آئی بس"

مالا لائیٹ پنک کلر کی لانگ شرٹ نیچے ٹراؤزر پہنے ہوئی تھی ولائے کی نظز وہیں رک گئی اس نے جلد ہی خود کو کمپوز کرنا چاہا

لوکنگ بیوٹیفل

تھینکس مالا ہلکا سا مسکرائی

وہ ڈرائیو کرتا ہوا اسلام آباد کی حدود سےباہر نکل آیا

ہر طرف درخت ہی درخت تھے اور ساتھ اندھیرا اسے محسوس ہو رہا تھا کہ مالا کو خوف آ رہا ہے

ولائے

ہمممم

شہر میں جاتے ہیں مجھے اندھیرے سے بہت ڈر لگتا ہے

ولائے نے جواب دینے کہ بجائے گاڑی روک دی

مالا باہر آو وہ یہ کہ کر خود گاڑی سے اتر گیا اس کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا مگر مالا پھر بھی نہ اتری اس نے غصے سے جا کے کار ڈور کھولا اور اسے کھینچ کے باہر نکالا مالا کا موبائیل بجا اس نے نمبر دیکھا اس کی آنکھیں بھری ہوئیں تھیں اور بھائی کا نمبر دیکھ کہ اور رونا شروع کر دیا وہ اس پہلے کال اٹھاتی ولائے نے اس کا موبائیل اٹھا کے زمین پہ پٹخ دیا مالا شاکڈ سا ولائے کو دیکھا اس نے زار و قطار رونا شروع کر دیا

مالا رونا بند کرو اور ایک آنسو بھی نہیں ولائے چلایا

جھوٹ بولا ولائے آپ نے مجھ سے

ہاں بولا ہے جھوٹ کیا کر سکتی ہو تم

تم تو محبت کرتے تھے نہ مجھ سے

نہیں صرف نفرت کرتا تھا تم سے مالا نفرت مجھے اب بھی یاد ہے تم نے مجھے سب کے سامنے تھپڑ مارا تھا اب سزا کی باری ہے مالا آج کی رات یہیں گزارو اس اندھیرے میں

ولائے ولائے میں معافی مانگتی ہوں مگر مجھے اکیلا مت چھوڑ کہ جانا میں مر جاؤں گی مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے پلیز ولائے

وہ اس کے قدموں میں بیٹھے گڑگڑا رہی تھی منتیں کر رہی تھی مگر ولائے نے اسے معاف نہ کیا وہ غصے سے چلتا ہوا گاڑی میں بیٹھا اور چلانی شروع کر دی وہ جلد ہی اس کی دسترس سے دور ہو چکا تھا مالا رونے لگی اس کے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے روتے روتے اس کی آنکھو کے آگے اندھیرا چھا گیا

ΔΔΔΔΔΔΔΔ جاری
اپنی رائے ضرور دیں..

ناول: از قلم: قسط نمبر 5مسز حیدر نے مالا کو بلایا ان کو اپنے بیٹے کی محبت کھینچ لائی میں ٹھیک ہوں آنٹی آپ کیسی ہیںبیٹا ت...
31/01/2020

ناول:
از قلم:
قسط نمبر 5
مسز حیدر نے مالا کو بلایا ان کو اپنے بیٹے کی محبت کھینچ لائی

میں ٹھیک ہوں آنٹی آپ کیسی ہیں

بیٹا تم سے کچھ بات کرنی تھی بہت ضروری

جی بولیں

میں آج اک ماں تم سے یہ ریکوائسٹ کر رہی ہو کہ میرے بیٹے کو معاف کر دو مالا وہ تمہارے لیے پوری پوری رات تڑپتا ہے اس کو اس تڑپ سے رہائی دو بیٹا پلیز

ہمممممممم مالا ان سے صرف اتنا ہی کہ سکی اور وہاں سے باہر کی طرف چلی گئی

مالا کو جاتا دیکھ ولائے اس کے پیچھے گیا

وہ گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی چلانی شروع کی مالا نے گھر کے بار گاڑی روکی اور اندر چلی گئی اچانک اس کا دروازہ بجا مالا نے دروازہ کھولا تو چونک اٹھی

ولائے آپ یہاں

ہاں میں مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے

بولو جلدی

ولائے گھر کے اندر داخل ہوا مالا دروازہ بند کر کہ موڑی تو اسے زمین پر گرا ہوا پایا

یہ کیا ہے ولائے

مالا مجھے معاف کر دو میں تم سے معافی مانگتا ہوں مجھے اور سزا مت دو مالا رحم کھاو پلیز رحم کھاو مجھے معافی دے دو لگ گئی تمہاری بد دعا ہو گئی محبت ایسی محبت جس کے لیے صرف تڑپ ہی رہا ہو مالا مجھے تم سے محبت ہو گئی مالا معاف کر دو مجھے

مالا کو یاد آیا ایک رات وہ بھی تڑپی تھی گڑگڑائی تھی مگر ولائے نے معاف نہیں کیا اسے اور سزا دی

ٹھیک ہے ولائے مگر اٹھو ابھی اور معاف کیا تمہیں جاو

وہ رو رہی تھی مگر پہلی بار اس نے ولائے کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے وہ رو رہا تھا بےحد

ولائے حیدر جاو معاف کیا تمہیں

مالا تم شادی کر لو مجھ سے

سوچنا بھی مت ایسا یہاں سے جاو معاف کر دیا جاو مالا نے اسے اٹھا کے گھر سے باہر نکال دیا........................

مالا کالج کے باہر کھڑی تھی جب ولائے نے اسکے پاس آ کر گاڑی روکی کب وہ باہر نکلا تو اس کے ہاتھ میں پھل تھے چہرے پہ مسکراہٹ وہ بلیک شرٹ بلیک پینٹ اور بلیک ہی کٹ پہنے آنکھو پہ کوکلز سجائے وہ بے حد پیارا لگ رہا تھا

مائی پرنسز کالج کا پہلا دن کیسا گزرہ

آپ یہاں تک بھی پہنچ گئے

یہاں تک کا کیا مطلب جب میں مالا کے دل میں انٹر کر چکا ہوں تو یہ جگہ تو عام سی ہے

دل میں

ہاں دل میں مالا کے دل میں اب صرف ولائے کا راج ہے تم صرف میری ہو مالا ولائے کی مالا

اف کتنی فضول باتیں کرتے ہیں آپ جائیں یہاں سے

اچھا چلا جاتا ہوں پہلے یہ پھول لے لو

وہ مالا کو پھول پکڑاتا واپس ہو گیا

ΔΔΔΔΔΔΔΔ

بھائی آپ سے اک بات کرنی ہے

مالا کنفیوزڈ سی عادل کے کمرے میں داخل ہوئی

ہاں گڑیا بولو

بھائی وہ ولائے کو جانتے ہیں آپ

وہ سفیر اور زین کا کزن؟ عادل نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائیں

ہاں بھائی وہی

ہاں جانتا ہوں پر کیوں پوچھ رہیں ہیں آپ بیٹا

بھائی میں نے آج تک آپ سے کچھ نہیں چھپایا آگے بھی نہیں چھپانا چاہتی

کیا آپ اس کو پسند کرتیں ہیں؟

جی بھائی

تو کیا پرابلم ہے وہ اپنے پیرنٹس کو لائے اور ہم منع نہیں کریں گئے

سچی بھائی

یاں اب میری بہن سے آگے تو کچھ نہیں نہ مجھے

تھینکیو بھائی آئی لو یو

لو یو ٹو گڑیا

ΔΔΔΔΔΔΔΔ

مالا اعتراف کر چکی تھی کہ وہ ولائے سے کتنی محبت کرتی ہے

اچانک ولائے کی کال آنے لگ گئی مالا نے کال اٹھائی

"مالا"

"جی"

"آئی لو یو"

آپ رو رہے ہیں؟

"نہیں تو"

"آپ کی آواز سے لگ رہا ہے کے آپ رو رہے ہیں"

"Mala will you marry me?"

کیا مطلب؟

"مالا تمہارے بغیر نہیں رہنا چاہتا اور میں جانتا ہوں کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو"

مالا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے

"میں نے آپ کے بارے میں بھائی کو بتا دیا"

"کیا بتایا تم کیا تنگ ہو مجھ سے یار صرف محبت کی تھی تم سے اور تم نے"

"نہیں آپ غلط سمجھ رہے میں نے انہیں بتا دیا کہ" اس نے ولائے کی بات کاٹتے ہوئے کہا

"کہ کیا"

"کہ میں آپ کو پسند کرتی ہوں"

یہ کی کر مالا نے فون بند کر دیا

ولائے کتنی دیر موبائیل کو بیٹھا دیکھتا رہا اس کی آنکھیں واقع برس رہیں تھیں مگر وہ انجان تھا اس کے انجام سے کے اس کے اپنے ساتھ کیا ہونے والا ہے

نہیں ولائے تمہیں نہیں رونا ابھی تو انتقام شروع ہوا ہے اور اب وقت آگیا ہے اسے سزا دینے کا تو رونے کا جواز ہی نہیں بنتا.

مگر وہ جانتا تھا کے اسے محبت ہو چکی ہے اسی لیے اب وہ وقت کا انتظار کر رہا تھا اس نے اپنے دل کی آواز کو مکمل طور پر دبا دیا

ΔΔΔΔΔ
جاری...

ناول:  از قلم:  قسط نمبر 4ولائے یونی میں سارہ کے ساتھ بیٹھا تھا جب علی اس کے پاس آیا والی یار کل لاہور آئے گا میرے ساتھ؟...
29/01/2020

ناول:
از قلم:
قسط نمبر 4

ولائے یونی میں سارہ کے ساتھ بیٹھا تھا جب علی اس کے پاس آیا

والی یار کل لاہور آئے گا میرے ساتھ؟ واکائے اٹھ کے علی کے ساتھ چلنے لگا

نہیں یار میں نہیں آسکتا مجھے کل جانا ہے کہیں والائے علی کے ساتھ چلتے ہوئے کہ رہا تھا

کدھر جانا ہے تم نے بتاؤ؟

کل تمہاری بھابی کا کالج میں پہلا دن ہے اس سے ملنے جانا ہے

کون سی بھابی؟ علی نے حیرت سے پوچھا

مالا اور کون

کیا مالا تم پاگل ہو گئے ہو یار اس مالا کے پیچھے ٹائم مت برباد کرو یار وہ عام لڑکیوں جیسی نہیں ہے

پتا ہے مجھے کہ وہ کیسی ہے اور بات رہی مالا کی تو اس کا تھپڑ ابھی نہیں بھولا میں

افففففف یار تو اس بدلہ لے رہا ہے میری مان یار ایسا مت کر

دیکھ علی تو میرا دوست ہے یا اس کا اور اگر ساتھ نہیں دینا تو چپ رہ بس

علی ولائے کو جاتے ہوۓ دیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا کہ وہ نہیں رکے گا اس لیے چپ کر گیا

ΔΔΔΔΔΔΔ .

مالا رات کو اپنے بیگ میں تمام چیزیں ڈال رہی تھی تب اس کا موبائیل بجا سکرین پہ لکھا ہوا آیا

"والائے کالنگ"

مالا نے سوچا کہ اٹھاوں کے نہیں پھر کال اٹھا لی

"کون؟"

"اتنی کمزور یاداشت ہے کیا تمہاری؟"

"ہاں جی کمزور ہے آپ جیسوں کو یاد رکھ کہ بھی کیا کرنے"

"میرے جیسوں کو یاد رکھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے بس مجھے یاد رکھو"

"کیوں کس خوشی میں"

"ہماری محبت کی خوشی میں"

"محبت"

"ہاں محبت مالا"

مالا نے فون بند کر دیا شاید اس بات کو تسلیم کرنا مشکل تھا مالا کے لیے لیکن وہ اپنے اندر کی تبدیلیاں محسوس کر چکی تھی مگر اسے اس تبدیلی کا معلوم نہیں تھا مگر یہ محبت تھی تو اسے وقت چاہیے تھا کیونکہ وہ اس دنیا کا واحد شخص تھا جسے مالا کو محبت ہو گئی تھی..................................
وہ جو میں کہ نہیں سکتا اسے میں فرض کرتا ہوں
چلو میں فرض کرتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے

ولائے اللہ کرے تمہیں کسی سے محبت ہو جائے اور تمہاری محبت تمہیں کبھی نہ ملے یہ میری بدعا ہے

ولائے کے کانوں میں بار بار یہ آواز گونج رہی تھی

ولائے اللہ کرئے تمہیں محبت ہو جائے چپ کر جاؤ مالا چپ

بلکل چپ مت دو بد دعا مجھے چپ کر جاو

ولائے اپنے کمرے میں چلا رہا تھا

چپ کر جاو مالا چپ چپ چپ کر جاو

ولائے کی ماں اس کی چیخیں سن کر ولائے کے کمرے میں داخل ہوئیں

ولائے کیا ہوا کیوں چلا رہے ہو بیٹا

اپنے بیٹے کو زمین پر تڑپتا دیکھ کر ان کی روح تڑپ اٹھی آخر کو ولائے ان کا ایک ہی بیٹا تھا حریم اور ولائے بے حد لاڈلے تھےاسی وجہ سے وہ بگڑ گیا تھا مگر پچھلے چند سالوں سے وہ اس کی اس حالت سے بہت پریشان تھیں

ماما مالا کو کہیں نہ کہ چپ کر جائے وہ مجھے بد دعا دے رہی ہے

ولائے مالا نہیں ہے یہاں

ماما آپ کو آواز کیوں نہیں آرہی ماما اس کو ڈر لگتا ہے اندھیرے سے اور میں اسے وہیں چھوڑ آیا ماما میں قاتل ہوں مالا کی خوشیوں کا مالا کی فیملی کا ماما

ولائے میرے بیٹے وہ سب اک حادثہ تھا اس بات کو تسلیم کرو ان کی موت میں تمہارا کوئی ہاتھ نہیں

ماما ہے ساری غلطی میری ہے صرف میری ماما آپ مالا کو کہیں نہ کہ معاف کر دے مجھے میں اس سے بے حد محبت ہے مجھے رہکرے اس کرب سے ماما وہ

ولائے تم نے اپنی دوائی لی آج نہیں نہ میں جانتی ہوں نہیں کی

وہ اٹھیں اور اپنےبیٹے کو اس کی دوائی دی اور لیٹا دیا تھوڑی ہی دیر لگی تھی اسے سونے میں

ΔΔΔΔΔΔΔΔ وہ بلیک کلر کا سوٹ پہنے بے حد خوبصورت لگ رہا تھا جب اس نے مالا کو ہال میں آتا دیکھا اس کی نظریں وہیں پہ رک گئیں وہ مہرون رنگ کی میکسی پہنے ساھ مہرون رنگ کا کلچ اور مہرون ہی ہائی ہیلز پہنے وہ کوئی پری لگ ہری تھی ولائے اسے دیکھ کر پلکیں چھپکنا بھول گیا

مالا کیسی ہو

مسز حیدر نے مالا کو بلایا ان کو اپنے بیٹے کی محبت کھینچ لائی

میں ٹھیک ہوں آنٹی آپ کیسی ہیں

بیٹا تم سے کچھ بات کرنی تھی بہت ضروری

جی بولیں....

جاری..
اپنی رائے ضرور دیں...

ناول: از قلم:  قسط نمبر 3مالا کو زرمینہ بوا نے آکر اٹھایا "مالا اٹھ جائیں حسن صاحب اور عادل صاحب آپ کا ناشتے پر انتظار ک...
21/01/2020

ناول:
از قلم:
قسط نمبر 3
مالا کو زرمینہ بوا نے آکر اٹھایا

"مالا اٹھ جائیں حسن صاحب اور عادل صاحب آپ کا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں"

مالا نے منہ سے رضائی اتاری

" بھائی کب آئے بوا؟"

ابھی آئے ہیں عادل صاحب

مالا بھاگ کہ اٹھی اور واش روم چلی گئی اگلے پندرہ منٹ بعد وہ نیچے تھی

"بھاااااائیییییییی آپ آ گئے کتنا انتظار کیا میں نے آپ رامین آپی کی شادی پہ بھی نہ پہنچے"

"ارے میری جان گڑیا پتا تو ہے آپ کو کہ کام میں پھنس گیا تھا اور سناؤ کالج کب جانا ہے؟"

"پرسوں سے جانا ہے"

"اچھا گڈ اور آپ میرے ساتھ رامین کے گھر آئیں گی"

"نہیں بھائی مجھے جانا ہے کالج کی بکس وغیرہ لینے میں اور عینہ جائیں گے"

"چلیں ٹھیک ہے جائیں آپ"

ΔΔΔΔΔΔΔΔ .

عینہ جناح سوپر میں کھڑی مالا کا انتظار کر رہی تھی جب مالا گاڑی سے نکلی

اس نے کالے رنگ کا فراک نیچے کالے رنگ کے سنیکرز پہنے تھی سر پہ دوپٹا اچھی طرح کیا ہوا تھا ساتھ کالے ہی رنگ کی سویڑ پہنی تھی اس نے

"یار مالا خدا کا خوف کرو اتنی دیر کر دی تم نے میری کلفی جم گئی ہے"

"معزرت یار دیر ہو گئی بھائی آئے تھے تو باتیں کرتے وقت گزر گیا چلو بکس لیتے ہیں"

مالا یہ کہ کے مڑی ہی تھی کے دو لڑکے ان کے ساتھ چلنے لگے ان میں سے ایک مالا کے آگے آیا اور کہنے لگا

"آپ کا نام کیا ہے؟"

"مالا حسن" مگر جواب مالا نے نہیں کسی اور نے دیا تھا مالا اور عینہ نے مڑ کے پیچھے دیکھا

اس کو دیکھتے ہی مالا کے ہوش گم ہو گئے

"ولائے آپ؟"

"جی میں آپ کا ولائے"

بے ہودہ انسان مالا کو نہ جانے کس بات پہ اس پہ اتنا غصہ تھا

"ہاں جی کسے مسئلہ ہے مالا کے نام کا بتانا پسند فرمائیں گے"

"تو کون ہوتا ہے ہم سے پوچھنے والا یہاں سے بھاگ"

ان لڑکوں میں سے اک نے جواب دیا

"ارے یار میری بات سنو اگر تم لوگ یہاں سے نہ گئے تو میں جو حشر کروں گا وہ تمہارے وہم وگماں میں بھی نہ ہو گا اور آج تو ہمت کر لی لیکن اگر آئندہ مجھے تم لوگ مالا کے آس پاس بھی نظر آئے تو آنکھیں نکال لوں گا اب دفع ہو یہاں سے"

ولائے کا غصہ دیکھ کے وہ وہاں سے چلے گئے مگر مالا نے خوف سے رونا شروع کر دیا

"مالا یار کیوں رو رہی ہو وہ چلے گئے یہاں سے "عینہ نے سمجھاتے ہوئے کہا

اف اک تو اس بےوقوف کے رونے کی "عادت لڑکی تم ولائے حیدر کی جی ایف ہو اور ایسی بزدل کیوں ہو"

"کون جی ایف؟" مالا ہلکا سا غرآئی

"تم اور کون دیکھو مالا تم جانتی تو ہو نہ کہ محبت کر بیٹھا ہوں تم سے اور ہاں میرے علاوہ تمہیں دیکھنے کا بھی کوئی حق نہیں رکھتا اور مجھے یہ برداشت بھی نہیں ہو گا اور ہاں اب سیدھا گھر جاؤ یہاں نظر مت آو مجھے سمجھ آئی"

مالا غصے سے گاڑی کی طرف گئی اور گھر روانہ ہو گئی

ΔΔΔΔΔΔΔΔ
مالا اپنے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال سنوار رہی تھی مگر اس کا دھیان کہیں اور تھا یہ وہ نہ جانتی تھی کہ وہ کیوں لگاتار ولائے کے بارے میں سوچ رہی ہے مگر اسے خوشی ہو رہی تھی اس کے بارے میں ایسے سوچ کے

وہ یادوں کے حصار میں تھی کہ اس کا موبائیل بجنا شروع ہوا نمبر انجان تھا مگر وہ شاید واقف تھی

"ہیلو کون"

"اس بار آپ کا عاشق کہنے والی غلطی نہیں کروں گا"

"یہ تو بتائیں کہ نمبر کہاں سے ملا آپ کو میرا "

"جو محبت کرتے ہیں ان کو سب مل جاتا ہے"

"فضول کے ڈائیلاگ مارنا بند کریں گے آپ"

"تم میری محبت کی توہین کر رہی ہو مالا"

"آپ اپنے پاس رکھیں اس محبت کو"

یار پیار ہو گیا تم سے تو اب کیا کروں تم کیا نہیں کرتی پیار مجھ سے؟"

نہیں میں نہیں کرتی پیار

تو میرے بارے میں سوچ کیوں رہی تھی تم ولائے نے ہوا میں تیر چھوڑا جو شاید نشانے پہ لگا تھا

مالا نے آس پاس دیکھا اور بولی آپ کو کیسے پتا لگا بتائیں؟ مالا نے حیرت سے پوچھا

ہاہاہاہاہا مطلب میں سہی سوچ رہا تھا تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے

مالا اتنی confuse ہو گئی کہ اس نے کال بند کر دی مگر آج اسے ولائے کی بات پر غصہ نہ آیا اور وہ اسی سوچ میں گم ہو گئی کہ وہ لڑکوں سے اتنی نفرت کرتی تھی اور یہ ولائے اس کی باتیں کیوں نہ برئی لگی

ΔΔΔΔΔΔΔΔ

ولائے نے بند موبائیل کو دیکھا وہ جان چکا تھا کہ مالا کا دل پگھلنا شروع ہو چکا ہے اس کے دل کے کسی گوشے سے آواز آئی کہ وہ بہت معصوم ہے اس کے ساتھ محبت کا یہ کھیل اسے مکمل تباہ کر دے گا

مگر پھر اسے مالا کا تھپڑ یاد آیا

کاش مالا کاش تم مجھے وہ تھپڑ نہ مارتی تو آج تم سے بدلہ نہ لیتا

شاید ولائے کے اپنےدل میں بھی اس کے لیے محبت جاگ رہی تھی مگر ولائے حیدر جیسے پلے بوائے کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل تھا اور ساتھ بدلے کی آگ نے اس کی دل کی آواز دبا دی اور شاید وہ یہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ آنے والا وقت اس کے اپنے ساتھ کیا کھیل کھیلنے والا ہے یہ بدلا صرف مالا کو ہی نہیں بلکہ اسے بھی کس دوراہے پر لا کر کھڑا کرے گا اس سے وہ بھی انجان تھا

ΔΔΔΔΔΔΔΔ
جاری

ناول:  از قلم:  قسط نمبر 2مالا سکن کلر کی قمیض پاجاما ساتھ لال رنگ کا دوپٹا کیے وہ بے حد معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی آج...
20/01/2020

ناول:
از قلم:
قسط نمبر 2

مالا سکن کلر کی قمیض پاجاما ساتھ لال رنگ کا دوپٹا کیے وہ بے حد معصوم اور خوبصورت لگ رہی تھی آج مالا نے پھول نہیں اٹھائے تھے اسے اب بھی کل والا واقع یاد تھا وہ سٹیج پہ بیٹھ کے تصویریں بنا رہی تھی جب اس نے ولائے کو اندر آتے دیکھا وہ ڈارک بلیو کلر کی قمیض نیچے چاجاما اوپر واسکٹ پہنے تھا مالا اٹھی اور نیچے اتر گئی اس کا موڈ آف ہو چکا تھا
مالا چپ کھڑی تھی اور صبا اس سے باتیں کرنے میں لگی تھی کہ اچانک مالا کا موبائیل بجا کسی انجان نمبر سے کال تھی
"ہیلو کون؟" مالا نے لاپرواہی سے کہا
"جی میں آپ کا عاشق" آگے سے آواز آئی
مالا گھبرا گئی
" کون ہیں آپ اور یہ کس قسم کہ بے ہودہ بات کی آپ نے."
"ہاہاہاہا ارے یار تم کیا واقع معصوم ہو یا بنتی ہو لیکن کہنا پڑے گا آج کمال لگ رہی ہو میری پھول ہاہاہاہاہا."
مالا کو اس کی ہنسی سے کچھ یاد آیا مگر وہ انکار کر رہی تھی کہ ایسا کیسے ہو سکتا وہ یہ حرکت کیوں کرے گا مگر اسے یقین تھا کہ یہ اور کوئی نہیں بلکہ ولائے حیدر ہے مالا غصے میں ولائے کے پاس جا رہی تھی اور صبا بغیر کچھ سمجے اس کے پیچھے کو لپکی مالا کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے سفیر نے اسے آتا دیکھ ولائے کو اشارہ کیا مالا نے ولائے کے پاس پہنچتے ہی بغیر کچھ پوچھے اس کے منہ پہ تھپڑ مارا حیدر عباس کے بیٹے کے لیے یہ تھپڑ اس کی بےعزتی کے سوا کچھ نہ تھا اس کا دل کیا کہ مالا کو یہیں دفن کر دے مگر سفیر اور علی نے اسے روک لیا
"صبا مالا کو لے کہ جاؤ یہاں سے پلیز." سفیر نے صبا سے التجائیہ انداز میں کہا اور وہ اسے لے گئی ولائے وہاں سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھا اور یہ جا وہ جا.................................................
"مالا کہاں کھو گئی تم؟" صبا نے اسے جھنجوڑا جو نہ جانے کب سے گم تھی.
"کہیں نہیں تم سناؤ سفیر بھائی کیسے ہیں اور تمہارا بیٹا؟" مالا نے گھوئے ہوئے انداز میں کہا.
"واہ یاد آگیا تجھے کہ شادی ہو گئی میری اور مہارانی آئی بھی نہیں یار مالا میں صرف تمہاری کزن نہیں بلکہ بیسٹ فرینڈ بھی تھی"
"یار گلے کرنا بند کرو جانتی تھی نہ تم میرے حالات"
"ہاں جانتی تھی کہ میڈم یو ایس ہیں"
"گھومنے نہیں گئی تھی وہاں گلا ایسے کر رہی ہو جیسے گھومنے گئی تھی میں" مالا نے چیڑتے ہوئے جواب دیا
"مالا کیسی ہو؟* ولائے کی آواز پر مالا نے چونک کر دیکھا
"جی اللہ کا شکر آپ سنائیں"
"میں بھی ٹھیک کہاں گم ہو کوئی نظر نہیں آئی"
"میں آجکل یوایس" مالا نے شانے اچکائے اور صبا سے باتیں کرنے میں مصروف ہو گئی اس نے ولائے کو ایسے نظر انداز کیا جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو
ولائے کے جانے کہ بعد صبا نے مالا سے کہا:
"مالا کیا تم ابھی تک نہیں بھولی وہ سب اور معاف نہیں کیا اسے یہاں تک کہ یہ بچارہ سزا بھگت رہا ہے اس کی"
"کوئی اور بات کریں اور بات رہی معافی کی تو میں نے اسے کب کا معاف کر دیا"
ΔΔΔΔΔΔΔΔ
ولائے اپنے کمرے میں بےچینی سے ٹہل رہا تھا مالا کو دیکھنے کے بعد بے چینی اور بڑھ گئی تھی وہ سمجھتا تھا کہ شاید اسے سکون ملے گا مگر وہ غلط تھا یا پھر مالا کہ بے رخی نے ولائے کو بے چین کر دیا تھا وہ بازو میں چہرہ چھپائے رونے لگا..................................................
ولائے کافی غصے کے عالم میں کاڑی چلا رہا تھا اس کو لگا کہ اس کو مالا نے قتل کیا کیونک آج تک اسے کسی لڑکی نےتھپڑ نہ مارا تھا آج تک لڑکیاں اس کے پہچھے ہی بھاگیں تھیں مگر پہلی بار اس کو اتنی بری طرح ریجکٹ کیا گیا تھا اس نے ٹھان لی کہ اب وہ مالا سے اس بات کا بدلہ ضرور لے گا
ΔΔΔΔΔΔΔΔ
مالا لائیٹ پنک کلر کی قمیض اور شلوار پہنے اوپر گولڈن رنگ کا دوپٹا اور نیچے کھوسا پہنے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ولیمے پہ وہ رامین اور زین کے ساتھ سٹیج پہ بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب ولائے سٹیج پہ آیا
مالا اسے دیکھ کے غصے سے اٹھنے لگی جب ولائے نے اسے کہا
"میڈم آپ بیٹھیں اور میں دفع ہو جاتا ہوں کہیں پھر منہ اٹھا کر تھپڑ نہ مار دیں آپ"
"آپ اپنی حرکتیں درست کریں میں نہیں ماروں گی"
مالا کہتی اٹھ گئی
مالا کونے والی ٹیبل پہ چپ چاپ بیٹھی تھی ولائے اس کے پاس آکے بیٹھ گیا
Mala can we talk if you"
dn't mind"
مالا غصے میں اٹھنے لگی جب ولائے نے کہا
"No we can't"
مالا نے نے کھڑے ہوتے کہا
"Yarr i love you nahh"
ولائے نے بے باکی سے کہا
مالا کو اس کی یہ بےباکی پسند نہ آئی اور اس نے اسے دوبارہ تھپڑ مارنے کو ہاتھ اٹھایا جو ولائے نے پکڑ لیا
"نہ یار ہر بات پہ تھپڑ کال کروں تو تھپڑ اب محبت کا اقرار کروں تو تھپڑ واہ اچھا چلو آزما لو مجھے اگر میں جیتا تو تمہیں مجھ سے شادی کرنی پڑے گی اور ہارا تو کبھی نظر نہیں آوں گا"
"نہیں مجھے نہیں آزمانا آپ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں میں جا رہی ہوں"
مالا کہ کر اٹھ گئی
"میری جان جو بھی کر لو پاس تو آنا پڑے گا نہیں آو گی تو بدلا کیسے پورا ہوگا میرا"
ΔΔΔΔΔΔΔΔ
جاری ہے

19/01/2020

ویسے ایک عجیب بات آج تک دیکھنے کو ملی ہے جس کو بھی دیکھ لیا جائے یا اسکا درد سن لیا جائے تو ایک ہی بات سماعتوں کی نظر ہوتی ہے کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ,میرے ساتھ بے وفائی کی گئی ہے آج تک وہ شخص نہی ملا جو یہ کہے کہ میں نے دھوکہ دیا ہے یا میں نے بے وفائی کی ہے .سب دھوکہ کھائے ہوے لوگ یہاں ہیں تو پھر دھوکہ دینے والے کہاں ہیں ؟؟؟؟؟

Address

Punjab
Sargodha
92

Telephone

+923054526008

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sheikh Waheed Home Interior posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sheikh Waheed Home Interior:

Share