عنا یت پائپ اینڈ سنیٹری سٹور Inayat pipes & Sanitary

عنا یت پائپ اینڈ سنیٹری سٹور                        Inayat pipes & Sanitary For Further information you can contact on this no.0334 7006650

28/09/2023

شبقدر عوام کیلئےخوشخبری
عنایت پائپ اینڈ سینیٹری سٹور
لا رہا ہے سینیٹری کا اعلیٰ کوالٹی کا سامان
فیصل سینیٹری پیٹنگ
ماسٹر سینیٹری پیٹنگ
منہاس PPRC اینڈ پیٹنگ
اعلیٰ کوالٹی کا کموڈ،بیسن،
ہر سائز کی واٹر ٹینکی
واٹر پمپ
ہر قسم سمرسیبلAc.DC موجود ہے
ہمارے پاس ہر قسم پینسی پیٹنگ کیلئے کاریگر موجود ہے
ایڈرس۔شبقدر بازار میچنئ روڈ بلمقابل عابد شاہ سویٹس
موبائل نمبر۔03347006650
03082555337

11/08/2022

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبھی کوئی خواہش
نہیں کی
ایک دن مچھلی کھانے کو دل چاہا تو اپنے غلام یرکا سے اظہار فرمایا۔۔
یرکا آپ کا بڑا وفادار غلام تھا ایک دن آپ نے فرمایا یرکا آج مچھلی کھانے کو دل کرتا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے آٹھ میل دور جانا پڑے گا دریا کے پاس مچھلی لینے اور آٹھ میل واپس آنا پڑے گا مچھلی لے کے ۔۔
پھر آپ نے فرمایا رہنے دو کھاتے ہی نہیں ایک چھوٹی سی خواہش کیلئے اپنے آپ کو اتنی مشقت میں ڈالنا اچھا نہیں لگتا کہ اٹھ میل جانا اور اٹھ میل واپس آنا صرف میری مچھلی کے لئے؟
چھوڑو یرکا۔۔۔۔۔۔۔ اگر قریب سے ملتی تو اور بات تھی۔
غلام کہتا ہے میں کئی سالوں سے آپ کا خادم تھا لیکن کبھی آپ نے کوئی خواہش کی ہی نہیں تھی پر آج جب خواہش کی ہے
تو میں نے دل میں خیال کیا کہ حضرت عمر فاروق نے پہلی مرتبہ خواہش کی ہے اور میں پوری نہ کروں۔؟
ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔
غلام کہتے ہیں جناب عمرؓ ظہر کی نماز پڑھنے گئے تو مجھے معلوم تھا ان کے پاس کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں عصر انکی وہیں ہوجائے گی۔
غلام کہتا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے پیچھے نماز پڑھی اور دو رکعت سنت نماز پڑھ کرمیں گھوڑے پر بیٹھا عربی نسل کا گھوڑہ تھا دوڑا کر میں دریا پر پہنچ گیا..
عربی نسل کے گھوڑے کو آٹھ میل کیا کہتے ؟؟
وہاں پہنچ کر میں نے ایک ٹوکرا مچھلی کا خریدا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عصر کی نماز ہونے سے پہلے میں واپس بھی آگیا اور گھوڑے کو میں نے ٹھنڈی چھاؤں میں باندھ دیا تاکہ اس کا جو پسینہ آیا ہوا ہے وہ خشک ہو جائے اور کہیں حضرت عمر فاروق دیکھ نا لیں
غلام کہتا ہے کے کہ گھوڑے کا پسینہ تو خشک ہوگیا پر پسینے کی وجہ سے گردوغبار گھوڑے پر جم گیا تھا جو واضح نظر آرہا تھا کہ گھوڑا کہیں سفر پہ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ حضرت عمرؓ فاروق دیکھ نہ لیں ۔۔
پھر میں جلدی سے گھوڑے کو کنویں پر لے گیا اور اسے جلدی سے غسل کرایا اور اسے لا کر چھاؤں میں باندھ دیا۔۔ (جب ہماری خواہشات ہوتی ہیں تو کیا حال ہوتا ہے لیکن یہ خواہش پوری کر کے ڈر رہے ہیں کیونکہ ضمیر زندہ ہے)
فرماتے ہیں جب عصر کی نماز پڑھ کر حضرت عمر فاروق آئے میں نے بھی نماز ان کے پیچھے پڑھی تھی۔

گھر آئے تو میں نے کہا حضور اللہ نے آپ کی خواہش پوری کردی ہے۔
مچھلی کا بندوبست ہوگیا ہےاور بس تھوڑی دیر میں مچھلی پکا کے پیش کرتا ہوں۔
کہتا ہے میں نے یہ لفظ کہے تو جناب عمر فاروق اٹھے اور گھوڑے کے پاس چلے گئے گھوڑے کی پشت پہ ہاتھ پھیرا،
اس کی ٹانگوں پہ ہاتھ پھیرا اور پھر اس کے کانوں کے پاس گئے اور گھوڑے کا پھر ایک کان اٹھایا اور کہنے لگے یرکا تو نے سارا گھوڑا تو دھو دیا لیکن کانوں کے پیچھے سے پسینہ صاف کرنا تجھے یاد ہی نہیں رہا۔۔
اور یہاں تو پانی ڈالنا بھول گیا۔۔
حضرت عمرؓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے
"اوہ یار یرکا ادھر آ تیری وفا میں مجھے کوئی شک نہیں ہے
اور میں کوئی زیادہ نیک آدمی بھی نہیں ہوں،
کوئی پرہیز گار بھی نہیں ہوں ،
میں تو دعائیں مانگتا ہوں
اے اللہ میری نیکیاں اور برائیاں برابر کرکے مجھے معاف فرما دے۔۔
میں نے کوئی زیادہ تقوی اختیار نہیں کیا اور بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمانے لگے یار اک بات تو بتا اگر یہ گھوڑا قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرے کہ یا اللہ عمر نے مجھے اپنی ایک خواہش پوری کرنے کے لیے 16 میل کا سفر طے کرایا
اے اللہ میں جانور تھا،
بےزبان تھا
16 میل کا سفر ایک خواہش پوری کرنے کیلئے
تو پھر یرکا تو بتا میرے جیسا وجود کا کمزور آدمی مالک کے حضور گھوڑے کے سوال کا جواب کیسے دے گا؟"
یرکا کہتا ہے میں اپنے باپ کے فوت ہونے پر اتنا نہیں رویا تھا جتنا آج رویا میں تڑپ اٹھا کے حضور یہ والی سوچ (یہاں تولوگ اپنے ملازم کو نیچا دکھا کر اپنا افسر ہونا ظاہر کرتے ہیں)غلام رونے لگا حضرت عمرؓ فاروق کہنے لگے اب اس طرح کر گھوڑے کو تھوڑا چارہ اضافی ڈال دے اور یہ جو مچھلی لے کے آئے ہو اسے مدینے کے غریب گھروں میں تقسیم کر دو اور انہیں یہ مچھلی دے کر کہنا کے تیری بخشش کی بھی دعا کریں اور عمر کی معافی کی بھی دعا کریں

پیکر عدل وانصاف💙💙💙

10/08/2022

*شادیوں کے اوقات پر عورتوں کا حد سے نکلنا*،

دلہن کا نیم برہنہ لباس، نامحرم مردوں کا عورتوں کو مختلف زاؤیوں سے فوکس کر کر کے کمرے میں بند کر کے فلمیں بنانا اور باپ ، بھائی کی غیرت کے کان پر جوں تک نہ رینگنا، اور تو اور بعض دیندار گھرانوں میں بھی اس موقع پر حیا کا جنازہ اٹھتا نظر آتا ھے کہ دل خوف سے کانپ جاتا ھے،،،

🎬 مووی میکر‘ فوٹو گرافر ایسے بن ٹھن کر شادی کے پروگرام میں آتے ہیں جیسے شادی ھی ان کی ھو‘
نا جانے آپ کی عزت کیسے گوارہ کر جاتی ھے کہ ایک غیر مرد آپ کی نئی نویلی دلہن کو آپ سے پہلے دیکھے اور مختلف سٹائلوں سے اس کا فوٹو سیشن کرے ؟؟؟

💧 افسوس
اب تو ایسے رنج و غم کا وقت ھے کہ کس کس چیز کو رویا جائے؟؟ دلہا میاں خود مووی میکر‘ فوٹو گرافر کو گائیڈ لائن دے رہا ھوتا ھے یہ میری بہن ھے‘ میری کزن‘ میری خالہ اور یہ دلہن کی بہن‘ اماں‘ خالہ وغیرہ وغیرہ ہیں اور ساتھ ھی اسے سختی سے کہتا ھے کہ سب لیڈیز کی تصویر ٹھیک سے بنانا،،،

💰💰 لمحہ فکریہ تو یہ ھے کہ جو بندہ جتنا غریب ھے وہ اُتنا ھی زیادہ پیسہ ان گناہ کی رسموں پر خرچ کرتا ھے خواہ اُدھار ھی کیوں نہ لینا پڑے،،،،

🔥🔥🔥 پوچھو تو یہ لوگ کہتے ہیں ہماری برادری میں ایسا کرنا رواج ھے‘ خاندان میں ناک کٹ جائے گی‘ لوگ کہیں گے فلاں کی شادی پر ناچ گانا‘ فحش عورتوں کا ڈانس‘ آتش بازی‘ فائرنگ نہیں ھوئی شادی میں جانے کا مزہ نہیں آیا،

✋ یاد رکھو!!!

⬅ جن لوگوں کو دکھانے کیلئے آپ یہ سب بے جا رسمیں ادا کرتے ہیں اُن کو آپ کے بیٹے‘ بیٹی کی طلاق سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ اُن لوگوں کو کوئی پروا نہیں کہ آپ نے پیسہ اُدھار لیا ھے یا دن دیہاڑے ڈاکہ مارا ھے‘ یہی لوگ آپ کی اُولاد کے طلاق کے موقع پر کہتے ہیں اتنی فحاشی تو پھیلائی تھی ان لوگوں نے شادی کے موقع پر توانجام تو برا ھی ھونا تھا،،

🌀 بھئی! دنیا نہیں جینے دیتی دنیا کو نہیں دیکھو اپنی جیب کو دیکھو اسلام کی حدود کو دیکھو‘اسلام نے تو شادی کو انتہائی آسان بنایا ھے۔ان مٹی کے پتلوں (انسانوں) کو ناجائز خوش کرنے کیلئے گنہگار مت بنو‘اللہ تعالیٰ کو خوش کرو گے تو آپ کی شادی کامیاب ہو گی انشاءاللہ

📯 بہت سے لوگ شادیوں کے موقع پر گھروں‘ پلاٹوں‘ سڑکوں پر ٹینٹ لگا لیتے ہیں اور عورتوں کا ناچ دیکھتے ہیں نکاح کا ان ناچنے والی عورتوں سے کیا تعلق ھے؟؟؟

🎊 بہت سی شادیوں میں دیکھا ھے گھروں کے بزرگ بھی ان فحش محفلوں میں شامل ھوتے ہیں اور ان فحش عورتوں سے فحش حرکات سرعام کرتے ہیں، اور بہت سی جگہوں پر دیکھنے میں آیا ھے کہ ’’دلہا میاں‘‘ خود ان فحش عورتوں کے ساتھ رقص کے ساتھ ساتھ فحش حرکات کرنا بھی ضروری سمجھتا ھے۔ آپ خود فیصلہ کرو یہ شادی کے موقع پر آپ اللہ کے عذاب کو دعوت دے رھے ھو کہ نہیں؟ ایسی شادی میں برکت کیسے آ سکتی ھے؟؟؟

📝 تحریر کا مقصد صرف یہ ھے کہ شادی کو آسان بناؤ اور طلاق و خلع کے رواج کو اپنے سماج سے ختم کرو۔ فضول رسم و رواج کے جھنجٹ کی وجہ سے بہت سے غریب گھروں کے نوجوان لڑکے‘ لڑکیاں بھی غیر شادی شدہ بیٹھے ہیں،

🙏 بزرگوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے ان فضول رسم و رواج کو اپنی زندگی ھی میں ختم کر جائیں‘ نہیں تو قبروں میں عذاب کا باعث بنے گا!!


گھر کے اندر مرد نگران ھے،، اس کی بنیادی ذمہ داری ھے کہ وہ اپنی اور گھر والوں کے لیے صحیح تعلیم🖋️🖋️ کا بندوبست کرے

جو مرد غیرت کا پیکر بنا ھوتا ھے ، اس کی غیرت بھی ایسے موقعوں پر پتہ نہیں کہاں غائب ھو جاتی ھے،،

اکثر نے بس یہی بات رٹی ہوتی ھے، کون سا شادی روز روز ھو گی،،🤔🤔

بہت سے لوگوں کو میری بات سے اختلاف ھو گا ، لیکن جو سچ تھا ، جو آج کل ھو رہا ھے اس کی طرف توجہ دلانا بہت ضروری تھا!!!
(اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں ان فالتو رسم ورواج سے بچنے کی اور سننت کی مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرماۓ)🤲🤲🤲
✍️💓❤️

10/08/2022

میاں بیوی کی (عجیب کہانی)

تم اور میں کبھی بیوی اور شوہر تھے
پھر
تم ماں بن گئیں اور میں باپ بن کے رہ گیا

تم نے گھر کا نظام سنبھالا اور میں نے زریعہ معاش کا
اور پھر تم
"گھر سنبھالنے والی ماں" بن گئیں اور میں کمانے والا باپ بن کر رہ گیا۔۔۔۔

بچوں کو چوٹ لگی تو تم نے گلے لگایا اور میں نے سمجھایا
تم محبت کرنے والی ماں بن گئیں اور میں صرف سمجھانے والا باپ ہی رہ گیا۔۔

بچوں نے غلطیاں کیں تم ان کی حمایت کر کے "understanding mom" بن گئیں اور میں
"نہ سمجھنے والا" باپ بن کے رہ گیا۔۔۔۔

"بابا ناراض ہوں گے" یہ کہہ کر تم اپنے بچوں کی"best friend" بن گئیں۔۔۔ اور میں غصہ کرنے والا باپ بن کے رہ گیا....

تم سارا دن بچوں سے راز و نیاز کرتے ہوئے اپنا مستقبل محفوظ بناتے ہوئے بچوں کے ذہنوں میں گھر کرتی چلی گئیں۔۔۔
اور میں فقط گھر کا مستقبل بنانے کے لیے اپنا آج برباد کرتا چلا گیا

تمہارے آنسوؤں میں ماں کا پیار نظر آنے لگا اور میں بچوں کی انکھوں میں فقط بے رحم باپ بن کے رہ گیا۔۔۔۔

تم چاند کی چاندنی بنتی چلی گئیں اور پتہ نہیں کب میں سورج کی طرح آگ اگلتا باپ بن کر رہ گیا۔۔۔

تم ایک "رحم دل اور شفیق ماں" بنتی گئیں اور میں تم سب لوگوں کی زندگی کا بوجھ اٹھانے والا صرف ایک باپ بن کر رہ گیا

یہ ایک انتہائی تلخ معاشرتی تصویر ہے

بہت کم ایسی مائیں ملیں گی جو اپنے بچوں کے سامنے اُنکے باپ کا مقام بُلند کرکے رکھتی ہیں جو بچوں کو یہ بتاتی ہیں کہ کیسے اُنکا باپ اپنے آگے کا نوالہ اپنے بچوں کو کھلا کر خود بھوکا رہ جاتا ہے۔ کیسے ایک باپ سارا دن اپنے بچوں کے رزق کیلئے مارا مارا پھرتا ہے
اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے کیا کیا قربانیاں دیتا ہے اور کن کن تکالیف کا سامنا کرتا ہے- کسطرح اُنکو اُنکے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے اپنے آپ کو برباد کر لیتا ہے خود کو ختم کر لیتا ہے۔ تب کہیں جاکر اولاد کسی قابل بنتی ہے
مگر اولاد کو یہ بتانے اور سمجھانے والی مائیں اُنکو یہ نہیں بتا پاتیں۔ اسی لیئے اولاد اُس وقت تک اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتی جب تک وہ خود باپ نہ بن جائے اور تب تک بہت دیر ہو چُکی ہوتی ہے

10/08/2022

"بچوں کو حق لینا سکھائیے "
کل والدہ محترمہ چھوٹی بہن کو ڈانٹ رہی تھیں تو میں نے پوچھا کیا ہو گیا ہے امی ؟ خیریت تو ہے نا؟
" ہاں یہ تمہاری بہن کو بھی تمہاری طرح پھڈے ڈالنے اور پنگے لینے کی عادت پڑ گئی ہے۔ کہہ رہی ہے کہ اپنی ٹیچر کے خلاف پرنسپل صاحبہ کو درخواست دوں گی"
اف۔۔ اب یہ الزام بھی میرے سر ؟ ویسے کشف آپ ابھی ساتویں جماعت میں ہیں اور ابھی سے ٹیچر کے خلاف ایپلیکیشن؟ کوئی خاص وجہ؟ کہنے لگی " بھیا آپ ہی سے سیکھا ہے کہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے اور پراپر چینل کا استعمال کرنا چاہیے؟" ۔ جی بالکل کشف! لیکن میں نے ساتھ یہ بھی سمجھایا تھا کہ ادب واحترام کے ساتھ ، پختہ دلیل پیش کرنا بہترین طریقہ ہوتا ہے۔ ورنہ جن لوگوں کے پاس دلائل نہ ہوں وہ صرف بدتمیزی کرتے ہیں یا پھر فضول جملوں کا استعمال کرتے ہیں ۔۔۔۔

" جی بھیا! مجھے یاد ہے۔ دیکھیں پہلے ہماری کلاس انچارج کے پاس صرف دو سبجیکٹ تھے لیکن اب میم نے باقی تین ٹیچرز کے سبجیکٹ بھی خود لے لیے ہیں۔ ہماری انچارج کا ایم فل اردو میں ہے اور وہ اب ہمیں کمپیوٹر اور میتھ کے ساتھ سائنس بھی پڑھا رہی ہیں تو کیا یہ غلط نہیں ہے؟ یہ ہمارے ساتھ ناانصافی نہیں ہے؟ فلاں ٹیچر بہت اچھا میتھ سمجھاتی تھیں لیکن اب ہماری کلاس انچارج گائڈ سے دیکھ کر ہمیں میتھ سمجھاتی ہیں اور طریقہ بھی بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ ہم نے پہلے اپنی ٹیچر سے مہذبانہ انداز میں ریکویسٹ کی ہے مگر انہوں نے ہم سب کی ایک نہیں سنی۔۔ تب جا کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں پرنسپل صاحبہ کو درخواست دوں گی یہ ہمارا حق ہے بھیا۔۔ اب بتائیں؟"

ارے واہ ❤️ ماشاءاللہ ۔۔ آپ کے پاس واقعی دلائل موجود ہیں اور آپ حق پر ہیں۔ بدتمیزی کبھی نہیں کرنی وہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ دلائل کے ساتھ اپنی بات پیش کرنا کوئی بے ادبی یا گستاخی نہیں ہے یہ آپ لوگوں کا حق ہے۔ لیکن پرنسپل صاحبہ کے پاس جانے سے بھی مسئلہ حل نہ ہوا تو آپ کیا کریں گی؟
" تو پھر آپ ہیں نا ۔۔ پھر آپ ہی کچھ کیجیے گا" ۔ ۔ نہیں ہرگز نہیں ۔ یہ آپ لوگوں کی کلاس کا مسئلہ ہے۔ اگر کلاس کی باقی لڑکیاں بھی اس بات پر متفق ہیں اس کے بعد آپ اپنی کلاس کی باقی لڑکیوں سے بات کرنا اور گروپ کی شکل میں پرنسپل صاحبہ کے پاس پیش ہو کر اپنا مدعا بیان کرنا کہ میم یہ ہمارا اجتماعی مسئلہ ہے برائے مہربانی اس پر غور کیجیے ۔۔ پھر بھی سنوائی نہ ہو تو میں حاضر ہوں میری بہن! ❤️ ۔۔
"ٹھیک ہے بھیا ایسا ہی کروں گی ۔ بہت شکریہ ❤️"
خوش آمدید بہنا ۔۔ نیک خواہشات 🌹

تو بات یہ ہے احباب کہ بچوں کو بتائیں کہ بات کس طرح کرنی ہے؟ اگر آپ کے ساتھ کوئی ناانصافی ہو تو اپنے حق کے لیے کیسے آواز بلند کریں؟ ہم اپنے بچوں کو بے ادبی اور گستاخی کا سبق پڑھا کر خاموش کروا دیتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ بنا بدتمیزی کیے مناسب طریقے سے اپنی بات کرنا گستاخی نہیں کہلاتا ۔۔
محبتیں سلامت رہیں 🌹

09-08-22

10/08/2022

ایک آدمی سمندر سے ایک مچھلی پکڑ کے لایا اور اسے اپنے گھر میں موجود کنویں میں ڈال دیا.
اس کنویں میں مینڈکوں کی حکومت تھی۔ مینڈکوں نے جب ایک نئی چیز دیکھی تو پہلے تو وہ ڈرے گھبرائے دور دور گھومنے لگے۔ آخر ایک بڑے مینڈک نے ہمت دکھائی اور مچھلی کے تھوڑا قریب گیا اور پوچھا: تم کون ہو ؟
میں مچھلی ہوں ! مچھلی نے جواب دیا
مینڈک : تم کہاں سے آئی ہو ؟
مچھلی : سمندر سے
مینڈک : وہ کیا ہوتا ہے ؟
مچھلی : وہ بہت بڑا ہوتا ہے اور اس میں پانی ہوتا ہے.
مینڈک نے کہا : کتنا بڑا ؟
مچھلی : بہت بڑا
یہ سن کر مینڈک نے اپنے گرد چھوٹا سا گول چکر کاٹا اور پھر مچھلی سے پوچھا : کیا اتنا بڑا ہوتا ہے ؟
مچھلی مسکرائی اور بولی نہیں بڑا ہوتا ہے
مینڈک نے تھوڑا بڑا چکر لگایا اور کہا اتنا بڑا ؟
مچھلی ہنسی اور کہا نہیں بڑا ہوتا ہے
مینڈک اب جوش میں آ گیا اور اس نے آدھے کنویں کا چکر لگا کر مچھلی کی طرف دیکھا، جیسے پوچھ رہا ہو کہ اب ؟
مچھلی نے پھر نفی میں سر ہلایا
اب تو مینڈک نے پوری رفتار سے پورے کنویں کا چکر لگایا اور مچھلی سے کہا کہ اب اس سے بڑی تو کوئی چیز نہیں ہے
مچھلی مسکرائی اور مینڈک سے کہا : تمہارا قصور نہیں ہے کہ تمہاری سوچ ہی اس کنویں تک ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔اسی طرح ہمارے معاشرے میں کُچھ لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جن کی سوچ اس کنویں کے مینڈک کے برابر ہوتی ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ وہی اپنے عقائد اور نظریات میں سچے اور کھرے ہیں۔ ایسے لوگوں سے لڑائی یا بحث کرنے کے بجائے ان کو ان کے حال پر چھوڑیں اور ان کی سوچ پر مسکرا کر آگے بڑھ جایئں 

10/08/2022

1) ایک محترمہ ٹیکسی ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ کر سفر کررھی ھے حالانکہ پچھلی سیٹیں خالی ھیں!

2) ایک شخص مسجد کے آگے سے گزررھاھے ، جب کہ لوگ نماز پڑھ رھے ھیں۔ اور وہ نماز ادا کیے بغیر آگے گزر جاتاھے!

3) آپ ایک آدمی کے پاس سے گزرتے ھیں اور اسے سلام کرتے ھیں مگر وہ جواب نہیں دیتا!

1) محترمہ، ٹیکسی چلانے والے کی اھلیہ ھیں۔

2) اس آدمی نے دوسری مسجد میں نماز پڑھ لی ھے۔

3) اس شخص نے آپ کے سلام کی آواز سنی ھی نہیں ھے۔

ایک بزرگ فرماتے ھیں کہ اگر میں کسی بھائی کواس حال میں دیکھوں کہ اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رھے ھیں تو میں یہی حسن ظن رکھوں گا کہ کسی اور نے اس کی داڑھی کے اوپر شراب انڈیلی ھے۔۔۔

اور اگر کسی بھائی کو پہاڑ کی چوٹی پر یہ پکارتے ھوئے سنوں: "انا ربکم الاعلی"(میں تمھارا عظیم ترین رب ھوں)... تو میں یہی گمان کروں گا کہ وہ قرآن کی تلاوت کررھاھے۔

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ھیں کہ انسان کے لیے خود اپنے اعمال کی نیتوں کو جاننا مشکل ھے اوروہ دسروں کی نیتوں کے بارے میں فیصلے صادر کرتا پھرتا ہے

اکثر دفعہ آپ معاملے کے صرف ایک رخ کو دیکھتے ھیں لہذا دوسرے رخ کو آپ مثبت طرح سے لیں. تاکہ لوگوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی حق تلفی نہ ھو۔

دوسروں سے متعلق ھمیشہ نیک گمان رکھیں.

10/08/2022

﷽*

⭕ *درودِ پاک کا ایک حیرتِ انگیز واقعہ*
must read all members جزاك اللهُ‎

ایک بہن کہتی ہیں کہ میری ایک سہیلی تھی، اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے، اچھی زندگی گزر رہی تھی کہ اچانک اس کو ایک بیماری لگ گٸ بیماری اتنی شدید تھی کہ بڑھتی جارہی تھی، اس بیماری کو کینسر بھی کہہ سکتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے سر کے بال وغیرہ بھی اترنے لگے تھے وہ بہت زیادہ لاغر اور کمزور ہوچکی تھی، ڈاکٹر کو دکھایا علاج چل رہا تھا مگر امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی تھی۔

ایک دن حسبِ معمول چیک اپ کے لۓ ڈاکٹر کے پاس گٸ، ٹیسٹ ہوۓ تو رپورٹس وہی منفی آٸیں بلکہ اس بار ڈاکٹر نے اسے کوٸ تسلّی دینے کے بجاۓ انتہائی دل ہلا دینے والی بات کہی کہ آپ کے پاس صرف چھ مہینے باقی رہ گئے ہیں آپ کی بیماری ناقابلِ علاج ہے، اور اگر ادویات دی جائیں تو زیادہ سے زیادہ آٹھ ماہ آپ زندہ رہ سکتی ہیں۔

یہ سن کر وہ سکتے میں آگٸ اور اتنا روئی، اتنا روئی کہ اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے، گھر آکر اس نے مجھے فون کیا اور تمام بات بتائی، لیکن وہ فون پر بھی اتنا رو رہی تھی کہ مجھ سے بھی برداشت نہیں ہوا اور فون بند کرنے کے بعد میں سیدھا اس کے گھر پہنچ گٸ، وہ مستقل اپنے معصوم بچوں کو دیکھ دیکھ کر رو رہی تھی، میں نے اسے بہت تسلّی دی، پھر روتے ہوۓ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کبھی تم پر کوئی مشکل وقت آیا ہو تو تم نے کیا کیا؟ میں نے اس سے فوراً کہا کہ تم درود شریف پڑھو۔

اس نے میری بات سنی تو مگر وہ چاہتی تھی کہ فوراً سے کوئیل معجزہ ہوجاۓ اور میں بلکل ٹھیک ہوجاٶں، میں اس سے یہی کہتی رہی کہ تم درود شریف بھیجو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، دیکھنا تم بلکل ٹھیک ہوجاٶ گی۔

اس نے میری بات پر عمل کرنا شروع کردیا اور روز جتنا ہوسکتا درود شریف بھیجتی سرورِ کونین خاتم الانبیاء حضرت مُحَمَّد ﷺ پر۔

کچھ دنوں بعد اس کو اپنے اندر کچھ بہتری محسوس ہونے لگی، وہ سمجھی کہ دواٶں کی وجہ سے میری طبیعت ٹھیک ہورہی ہے، تین ماہ بعد وہ ڈاکٹر کو واپس چیک اپ کروانے کے لۓ گئی، اس نے جانے سے پہلے پھر مجھے فون کیا اور وہ بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھی کہ پتہ نہیں اب کیا رپوٹس میں آۓ گا، میں نے اسے پھر تسلّی دی کہ تم نبی پاک ﷺ پر درود بھیجتی ہو، دیکھنا درود پاک کی برکتوں سے سب بہتر ہوگا ان شاء اللہ، پھر اس کے ٹیسٹ ہوۓ اور ڈاکٹر نے اسے ایڈمٹ کرلیا اور کہا کہ رپوٹس دس گھنٹے کے بعد آئیں گی، دس گھنٹے کے بعد رپوٹس آئیں تو مزید اسے تین گھنٹے انتظار کے لۓ کہا گیا۔

اسی اثناء میں وہاں سے لیب ٹیسٹ والوں کا گزر ہوا تو انھوں نے اس کو دیکھا اور ایک دم رک کر اس کا نام پوچھا اور پھر اس کے شوہر کا نام پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلادیا، پھر وہ حیرت سے آپس میں سرگوشی میں کچھ کہنے لگے کہ یہ رپوٹس تو انہی کی ہیں اور اس سے کہا کہ آپ میرے ساتھ اندر ڈاکٹرکے پاس آئیں۔

وہ اندر گٸ تو ڈاکٹر نے اس کی رپوٹس کی اسکینگ کی اور اسے بغور دیکھنے لگے، پھر اس سے کہا کہ آپ اس طرف آکر بیٹھیں وہ ڈاکٹر کے قریب والی کرسی پر جاکر بیٹھ گٸ، ڈاکٹر بہت غور سے اور حیرت زدہ ہوکر کبھی اس کو دیکھتا اور کبھی اس کی رپوٹس کو، پھر ڈاکٹر نے پوچھا کہ آپ کہیں اور سے بھی علاج کروا رہی ہیں کیا؟ اس نے کہا نہیں! یہاں سے علاج ہورہا ہے اور بس اسلام آباد میں ایک جگہ دیکھایا تھا تو انھوں نے آپ کے پاس بھیج دیا۔

پھر ڈاکٹر نے کہا کہ اچھا کہیں سے انجیکشن لگوا رہی ہیں؟ تو اس نے کہا کہ نہیں! میں کہیں سے انجیکشن بھی نہیں لگوارہی۔
اب وہ بہت گھبرا گٸ اور اس نے ڈاکٹر سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کیا بات ہے؟ آپ مجھے کیوں کنفیوز کر رہے ہیں؟ تو ڈاکٹر نے کہا کہ میں آپ کی پرانی رپوٹس دیکھ رہا ہوں جس پر آپ کو چھ سے آٹھ ماہ تک کا ٹائم دیا ہوا ہے اور اس پر آپ کے دستخط بھی ہیں اس نے کہا جی مجھے معلوم ہے۔

پھر ڈاکٹر نے کہا کہ اب میں آپ کی نٸ رپوٹس دیکھ رہا ہوں جس میں ہر چیز پازیٹیو آرہی ہے یعنی کہ اس بیماری کا کوئی وجود ہی نہیں ہے آپ میں۔

وہ کہتی ہے کہ میں نے اس وقت کچھ نہیں دیکھا کہ میں ڈاکٹر کے پاس بیٹھی ہوں یا ہاسپٹل میں ہوں۔ میں اسی وقت کرسی سے اٹھی اور وہیں زمین پر سجدے میں گِر گٸ اور اتنا روئی اتنا روئی کہ جب رو رو کر میرے آنسو تھم گۓ تو مجھے تسلّی دے کر سب نے اٹھایا۔

پھر میں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ ڈاکٹر صاحب مجھے میری دوست نے کہا تھا کہ تم درود شریف پڑھو تو میں رات کو سونے سے پہلے تین سو بار نبی پاک حضرت مُحَمَّد مصطفٰی ﷺ پر درود بھیج کر سوتی تھی،
اور یہ سب درود کی برکتوں سے مجھے اس جان لیوا بیماری سے شفا ملی ہے۔

اب وہ الحَمْدُ ِلله مکمل صحت یاب ہے، اسے کوئی تکلیف نہیں ہے، گھر کے کام بھی باقاعدگی سے کرتی ہے اور بچوں کو بھی سنبھال رہی ہے۔ جیسے اسے کوئی بیماری تھی ہی نہیں۔

20/06/2022
اپ سب کیلئے ایک نصیحتبرائے مہربانی اپنے بچوں کے سامنے نفرت انگیز باتوں سے پرہیز کرے،
16/05/2022

اپ سب کیلئے ایک نصیحت
برائے مہربانی اپنے بچوں کے سامنے نفرت انگیز باتوں سے پرہیز کرے،

Address

Shabqadar

Telephone

+923347006650

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عنا یت پائپ اینڈ سنیٹری سٹور Inayat pipes & Sanitary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share