12/06/2026
آپ یہ سمجھ لیں یہ تحریر پڑھنا آپ پہ فرض ہے
دور حاضر سولر انرجی سسٹم کا ہے اس وقت بہت سارے دوسرے شعبوں سے لوگ نکل کر اس سولر انرجی کے شعبے میں ایڈجسٹ ھو رہے ہیں صرف اس لیے کے ان کے پاس انویسٹمنٹ ہونے کے ساتھ اپنے ایلکٹریشنز بھی ہیں
اگر ایک سولر سسٹم کی کم از کم کوسٹ 1 ملین ہے تو ہم خود یہ انویسٹ رسک پہ لگا رہے ہیں نان پروفیشنل اور ان کمپیٹینٹ لوگوں کے ھاتھوں میں دے کے
کیا ہم نے کبھی پوچھا آپ کی تعلیم اور تجربہ کتنا ہے
کیا آپ نے کبھی ان لوگوں سے پوچھا کہ آپ پچھلے کتنے سال سے کام کر رہے ہیں
کیا ہم نے کبھی ان سولر انسٹالرز سے ان کی کلائنٹ لسٹ لی ہے جس سے ہم صرف یہ دیکھ سکیں کہ ان کے پرانے پراجیکٹ کیسے چل رہے ہے
کیا وہ کامیاب بھی ہیں کیا ان کے کلائنٹس ان سے مطمئن بھی ہیں
کیا یہ انسٹالرز لوگ آفٹر سیل سروسسز بھی دیتے ہیں یا اپنی پراڈکٹ کم داموں سیل کر کے چلے جاتے ہیں
کیا آپ نے کبھی یہ سوچا یہ کوالٹی سولر سسٹم لینڈنگ کوسٹ سے کم قیمت میں کیسے لگا دیتے ہیں
کیا یہ زمہ داری کلائنٹ کی نہیں کے وہ اپنی انویسٹ محفوظ بنانے کے لیے یہ ساری ویریفیکیشن خود کرے
یہاں پر کلائنٹ کوالٹی صرف کوٹیشن کی حد تک لیتا ہے دس دس کوٹیشنز لے کر جب آپ پرائیس کمپئیر کریں گے کیسے ممکن ہے کہ کوالٹی سولر سسٹم آپ خرید سکیں گے
کیا کلائنٹ کی صرف یہی زمہ داری ہے کہ وہ یوٹیوب اور فیس بک کے علم پر ہی مطمئن ہو جائے یوٹیوب اور فیس بک پر صرف ریٹنگ کے لیے بلنڈرز کیے جاتے ہیں
کیا آپ جانتے ہیں فیس بک پر ہر بندہ سولر سسٹم یا صرف پینلز ہی کیوں سیل کر رھا ہے ؟
اصل بات یہ ہے کہ بہت سارے ایکسپورٹر باہر کے ممالک سے ملنے والی پیمنٹ پاکستان نہیں لاتے کیونکہ اس پر ٹیکسیز اور جواب دہ ہونا پڑتا ہے گورنمنٹ آف پاکستان کو
لہزا وہ یہ پیمنٹ چائنا بیجھ کے وھاں سے سب سٹینڈرڈ کوالٹی کے سولر پینلز بنواتے ہیں اور یہ سولر پینلز پاکستان میں لا کر بیچ کر دوہرے طریقے سے پیسے کماتے ہیں
کیا وجہ ہے کہ یہ سب سٹینڈرڈز پینل ہی کیوں بنواتے ہیں صرف اس لیے کہ سب سٹینڈرڈ پینل پر پرافٹ مارجن اچھا ہے اور کوالٹی پینلز پر نہ ہونے کے برابر
کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ سولر پینل کافی سستے ہونے کے اشتہار آ رہے ہیں وہ سب یہی پینلز ہیں کیونکہ کوالٹی سولر پینلز ابھی بھی مہنگے ہیں کیوں کہ جب ایل سی تین سو روپے پلس لگے گی کیسے ممکن ہے سولر پینل سستے امپورٹ ہو جائیں اور جن کمپنیز نے مہنگے داموں سولر امپورٹ کیا ہے کیا وہ گھاٹا کھا کے سیل کر رہے ہیں ؟ بلکل بھی ایسا نہیں اے گریڈ سولر پینلز تب اپنی اصل قیمت پہ نہیں آئیں گے جب تک پاکستان میں ڈالرز اویلیبل نہ ہوں جب تک ڈالر 160 روپے تک نہ آ جائے
اس وقت اصل ریٹ سے کم پیسوں میں بکنے والے سولر پینلز انتہائ ناقص کوالٹی کے ہیں
ان سولر پینلز کی زندگی صرف چار سے پانچ سال ہے
پاکستان میں سستے سولر پینل بکنے کی وجہ کلائنٹ کو اوئیرنس کا نہ ہونا سٹیکر والا یا سٹاک لاٹ مال خریدنا ہے سٹیکر والا مال سستا کیسے ملتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر 510 واٹ کا پینل ہے تو اس پر سٹیکر 545 یا 550 کا لگا دیا جاتا ہے اور کلائنٹ سے پیسے 550 کے چارج کیے جاتے ہیں عام مارکیٹ سے کم ریٹ پر
بلکل اسی طرح سولر انورٹر ہیں جو افغانستان کے رستے آ رہے ہیں جو ڈسٹریبیوٹر چین کو بائ پاس کر کے منگوائے جاتے ہیں پھر وہ انورٹر سستے بکنے کے بعد وارنٹی کلیم نہیں ہوتے
اس کے علاؤہ اور بھی درجنوں طریقے ہیں جن سے دو نمبری ہو رہی ہے
لہزا کوالٹی سولر سسٹم لگوانے کی پہلی زمہ داری کلائنٹ کی ہے کہ وہ کم پیسوں کی کوٹیشن ڈونڈھنے کی بجائے کوالٹی پراڈکٹ ڈونڈھے
یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب آپ سولر سسٹم لگانے والی کمپنی کے بارے ان کے پرانے کلائنٹس سے ملیں اور ان کے دو تین پراجیکٹ خود جا کر وزٹ کریں
جب تک سولر سسٹم لگانے والے ٹیکنیکل سٹاف کو سولر پراجیکٹ کی ڈیزائننگ نہیں آتی ہو گی یہ بھی ایک مکمل سبجیکٹ ہے جو بغیر تعلیم اور بغیر ٹریننگ حاصل کرنا ممکن نہیں لہزا پروفیشنل اور کمپیٹینٹ کمپنیز سے ہی سولر سسٹم انسٹال کروائیں تا کے عوام کا سولر سسٹم پر اعتماد برقرار رہے کہیں یہ شعبہ بھی جنریٹر اور سی این جی کی طرح زبوں حالی کا شکار نہ ہو جائے
کلائنٹ کا رائٹ ہے کہ وہ کوٹیشن کمپئیر کرے دوسروں سے لیکن کوالٹی اور کوانٹٹی کو مدنظر رکھنا بھی کلائنٹ ہی کی زمہ داری ہے
اتنی لمبی تحریر صرف آپ کی انویسٹ سیونگ اور کوالٹی سسٹم کو پرموٹ کرنے کے لیے لکھی گئی ہے
یہ تحریر کراؤن سولر انرجی پرائیویٹ لمیٹیڈ کی ٹیکنیکل ٹیم کی معاونت سے لکھی گئ ہے
#03135533204