Naveed Composing Point

Naveed Composing Point Our heard working is our prize

09/11/2025

اپنی اکیڈمی،سکول ،کالج کے پیپرز، نوٹس اور ٹیسٹ سیشن کے پیپرز کمپوز کروانے کےلیے رابطہ کریں۔
انتہائی مناسب قیمت میں
واٹس ایپ 03039349119

اسکے علاوہ کمپوزنگ کروائیں ۔لاگو ڈیزائن کروائیں۔۔۔۔ابھی رابطہ کریں
04/01/2023

اسکے علاوہ کمپوزنگ کروائیں ۔لاگو ڈیزائن کروائیں۔۔۔۔
ابھی رابطہ کریں

اپنے سکول، اکیڈمی کے پیپرز، نوٹس اور دیگر ڈاکومنٹس کی کمپوزنگ نہایت ہی مناسب ریٹس میں کروانے کے لیے ہم سے فوری رابطہ کری...
01/04/2021

اپنے سکول، اکیڈمی کے پیپرز، نوٹس اور دیگر ڈاکومنٹس کی کمپوزنگ نہایت ہی مناسب ریٹس میں کروانے کے لیے ہم سے فوری رابطہ کریں۔
Whatsapp: 0303-9349119
Sample::

کسی بھائی نے اپنے سکول کے لیے پیپر یا ٹیسٹ کمپوز کروانے ہوں تو مجھ سے رابطہ کریں۔ انتہائی مناسب ریٹس پر آپکی پسند کے مطا...
23/03/2021

کسی بھائی نے اپنے سکول کے لیے پیپر یا ٹیسٹ کمپوز کروانے ہوں تو مجھ سے رابطہ کریں۔ انتہائی مناسب ریٹس پر آپکی پسند کے مطابق زبردست کمپوزنگ کرکے دینگے اس کے علاوہ اپنے نوٹس وغیرہ بھی کمپوز کروا سکتے ہیں۔
واٹس ایپ::: 03039349119

31/10/2020

جناب قاسم علی شاہ کی بہت زبردست موٹیویشنل سپیچ

پچیس تیس سال پرانی بات ہے کہ ہم ایک ٹیچر سے میتھس پڑھا کرتے تھے ۔میں نے ایک دفعہ ان سے عرض کی:’’سر! اگرمجھے فیس میں کچھ ...
30/10/2020

پچیس تیس سال پرانی بات ہے کہ ہم ایک ٹیچر سے میتھس پڑھا کرتے تھے ۔میں نے ایک دفعہ ان سے عرض کی:
’’سر! اگرمجھے فیس میں کچھ رعایت مل جائے تومیرے لیے بڑی آسانی رہے گی ۔‘‘انہوں نے کہا :’’چھٹی کے بعد بات کریں گے۔‘‘چھٹی کے بعد جب ہم بیٹھے تو انہوں نے کہا:
’’ اگر میں ساری فیس ہی معاف کردوں تو؟‘‘میں نے کہا:’’ سر اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟‘‘انہوں نے کہا:’’لیکن شرط یہ ہے کہ آپ نے پھر اس کو واپس کر نا ہوگا۔‘‘میں نے کہا: ’’کیاواپس کرنا ہو گا؟‘‘انہوں نے کہا:’’ آپ نے بھی زندگی میں کسی کو اس طرح پڑھادیناہے۔‘‘میں نے کہا: ’’بالکل ٹھیک ہے ۔ اگر مجھے موقع ملا تو میں ضرور پڑھادوں گا۔‘‘

ہم اس وقت کلاس میں پانچ لڑکے تھے ۔ہمارے استاد کچھ عرصہ زندہ رہے پھر اللہ کو پیارے ہوگئے. جنازے کے وقت میں نے دیکھا تو میرے باقی چار طلبہ ساتھی بھی رورہے تھے اور ہم پانچوں کواسی دِن پتہ لگا کہ فیس ہم میں سے کوئی بھی نہیں دے رہا تھا۔
انسان کی اصل کمائی اس کی ’’یاد ‘‘ ہے جس کے ساتھ وہ دنیا میں زندہ رہتا ہے۔بحیثیت استاد ہمیں یہ نہیں پتا ہوتا کہ چند سال بعد ہماری فزکس اور کیمسٹری کسی کو یاد نہیں رہتی بلکہ وہ رویہ یاد رہتا ہے جو ہم نے کسے کے ساتھ اپنایا ہوتا ہے ۔

عید میلادالنبی مبارک ۔۔۔
29/10/2020

عید میلادالنبی مبارک ۔۔۔

29/10/2020

آج کی کہانی
ڈاکٹر جمیل جالبی
بچو!یہ اُس چیل کی کہانی ہے جو کئی دن سے ایک بڑے سے کبوتر خانے کے چاروں طرف منڈلا رہی تھی اور تاک میں تھی کہ اُرتے کبوتر پر جھپٹا مارے اور اسے لے جائے لیکن کبوتر بھی بہت پھرتیلے،ہوشیار اور تیز اُران اُرنے والے تھے۔
جب بھی وہ کسی کو پکڑنے کی کوشش کرتی وہ پھرتی سے بچ کر نکل جاتا۔چیل بہت پریشان تھی کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔
آخر اُس نے سوچا کہ کبوتر بہت چالاک،پھرتیلے اور تیز اُران کے حامل ہیں۔کوئی اور چال چلنی چاہیے۔کوئی ایسی ترکیب کرنی چاہیے کہ وہ آسانی سے اس کا شکار ہو سکیں۔
چیل کئی دن تک سوچتی رہی۔آخر اس کی سمجھ میں ایک ترکیب آئی۔وہ کبوتروں کے پاس گئی۔ کچھ دیر اسی طرح بیٹھی رہی اور پھر پیار سے بولی:بھائیو!اور بہنو!میں تمہاری طرح دو پیروں اور دو پروں والا پرندہ ہوں۔
تم بھی آسمان پر اُر سکتے ہو۔
میں بھی آسمان پر اُڑ سکتی ہوں۔فرق یہ ہے کہ میں بڑی ہوں اور تم چھوٹے ہو۔میں طاقتور ہوں اور تم میرے مقابلے میں کمزور ہو۔میں دوسروں کا شکار کرتی ہوں،تم نہیں کر سکتے۔میں بلی کو حملہ کرکے زخمی کر سکتی ہوں ور اُسے اپنی نوکیلی چونچ اور تیز پنجوں سے مار بھی سکتی ہوں۔
تم یہ نہیں کر سکتے۔تم ہر وقت دشمن کی زد میں رہتے ہو۔میں چاہتی ہوں کہ پوری طرح تمہاری حفاظت کروں ،تاکہ تم ہنسی خوشی ،آرام اور اطمینان کے ساتھ اُسی طرح رہ سکو۔جس طرح پہلے زمانے میں رہتے تھے۔آزادی تمہارا پیدائشی حق ہے اور آزادی کی حفاظت میرا فرض ہے۔
میں تمہارے لئے ہر وقت پریشان رہتی ہوں۔تم ہر وقت باہر کے خطرے سے ڈرے سہمے رہتے ہو۔مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ تم سب مجھ سے ڈرتے ہو۔
بھائیو!اور بہنو!میں ظلم کے خلاف ہوں۔انصاف اور بھائی چارے کی حامی ہوں۔میں چاہتی ہوں کہ انصاف کی حکومت قائم ہو۔
دشمن کا منہ پھیر دیا جائے اور تم سب ہر خوف سے آزاد اطمینان اور سکون کی زندگی بسر کر سکو۔میں چاہتی ہوں کہ تمہارے میرے درمیان ایک سمجھوتا ہو۔ہم سب عہد کریں کہ ہم مل کر امن کے ساتھ رہیں گے۔مل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے اور آزادی کی زندگی بسر کریں گے ،لیکن یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ تم دل وجان سے مجھے اپنا بادشاہ مان لو۔
جب تم مجھے اپنا بادشاہ مان لو گے اور مجھے ہی حقوق اور پورا اختیار دے دو گے تو پھر تمہاری حفاظت اور تمہاری آزادی پوری طرح میری ذمہ داری ہوگی۔تم ابھی سمجھ نہیں سکتے کہ پھرتم کتنے آزاد اور کتنے خوش و خرم رہو گے۔اسی کے ساتھ آزادی چین اور سکون کی نئی زندگی شروع ہو گی۔
چیل روز وہاں آتی اور بار بار بڑے پیار محبت سے اُن باتوں کو طرح طرح سے دہراتی۔رفتہ رفتہ کبوتر اس کی اچھی اور میٹھی میٹھی باتوں پر یقین کرنے لگے۔ایک دن کبوتروں نے آپس میں بہت دیر مشورہ کیا اور طے کرکے اسے اپنا بادشاہ مان لیا۔

اس کے دو دن بعد تخت نشینی کی بڑی شان دار تقریب ہوئی۔چیل نے بڑی شان سے حلف اٹھایا اور سب کبوتروں کی آزادی حفاظت اور ہر ایک سے انصاف کرنے کی قسم کھائی۔جواب میں کبوتروں نے پوری طرح حکم ماننے اور بادشاہ چیل سے پوری طرح وفا دار رہنے کی دل سے قسم کھائی۔

بچو!پھر یہ ہوا کہ کچھ دنوں تک چیل کبوتر خانے کی طرف اُسی طرح آتی رہی اور ان کی خوب دیکھ بھال کرتی رہی۔ایک دن بادشاہ چیل نے ایک بلے کو وہاں دیکھا تو اس پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسا زبردست حملہ کیا کہ بلا ڈر کر بھاگ گیا۔
چیل اکثر اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے کبوتروں کو لبھاتی اور انہیں حفاظت اور آزادی کا احساس دلاتی۔اسی طرح کچھ وقت اور گزر گیا۔کبوتر اب بغیر ڈرے اس کے پاس چلے جاتے۔وہ سب آزادی اور حفاظت کے خیال سے بہت خوش اور مطمئن تھے۔
ایک دن صبح کے وقت جب کبوتر دانہ چگ رہے تھے تو چیل اُن کے پاس آئی۔
وہ کمزور دکھائی دے رہی تھی۔معلوم ہوتا تھا جیسے وہ بیمار ہے۔کچھ دیر وہ چپ چاپ بیٹھی رہی اور پھر شاہانہ آواز میں بولی”بھائیو!اور بہنو!میں تمہاری حکمران ہوں۔تم نے سوچ سمجھ کر مجھے اپنا بادشاہ بنایا ہے۔میں تمہاری حفاظت کرتی ہوں اور تم چین اور امن سے رہتے ہو۔
تم جانتے ہو کہ میری بھی کچھ ضرورتیں ہیں۔
یہ میرا شاہی اختیار ہے کہ جب میرا جی چاہے میں اپنی مرضی سے تم میں سے ایک کو پکڑوں اور اپنے پیٹ کی آگ بجھاؤں۔میں آخر کب تک بغیر کھائے اور پیئے زندہ رہ سکتی ہوں؟میں کب تک تمہاری خدمت اور تمہاری حفاظت کر سکتی ہوں؟یہ صرف میرا ہی حق نہیں ہے کہ میں تم میں سے جس کو چاہوں پکڑوں اور کھا جاؤ،بلکہ یہ میرے سارے شاہی خاندان کا حق ہے۔
آخر وہ بھی تو میرے ساتھ مل کر تمہاری آزادی کی حفاظت کرتے ہیں۔اُس دن اگر اُس بڑے سے بلے پر میں اور میرے خاندان والے مل کر حملہ نہ کرتے تو وہ بلا نہ معلوم تم میں سے کتنوں کو کھا جاتا اور کتنوں کو زخمی کر دیتا۔”یہ کہہ کر بادشاہ چیل قریب آئی اور ایک موٹے سے کبوترکوپنجوں میں دبوچ کر لے گئی۔
سارے کبوتر منہ دیکھتے رہ گئے۔
اب بادشاہ چیل اور اس کے خاندان والے روز آتے اور اپنی پسند کے کبوتر کو پنجوں میں دجوچ کر لے جاتے۔اس تباہی سے کبوتر اب ہر وقت پریشان اور خوف زدہ رہنے لگے۔ان کا چین اور سکون مٹ گیا تھا۔اُن کی آزادی ختم ہو گئی۔
وہ اب خود کو پہلے سے بھی زیادہ غیر محفوظ سمجھنے لگے اور کہنے لگے۔“ہماری بے وقوفی کی یہی سزا ہے۔آخر ہم نے چیل کو اپنا بادشاہ کیوں بنایا تھا؟اب کیا ہو سکتا ہے؟
تو پیارے بچو جو بھی کام کرو اس میں عقل کا استعمال بے حد ضروری ہے۔

28/10/2020

”نئی کہانی“
حماد اپنے گاؤں کے سکول کی آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ایک قابل ،محنتی اور والدین و اساتذہ کا تابعدار طالب علم تھا۔والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ ان کی نصیحت بڑے غور سے سنتا اور عمل کرتا تھا۔
ان کا تعلق گاؤں کے ایک غریب گھرانے سے تھا اس کے والدین اس کو ایک کامیاب انسان بنانا چاہتے تھے۔ایک دن امی سے کہنے لگا امی جان میرے سارے کلاس فیلوز کے پاس کتابوں کا اچھا بیگ ہوتا ہے قلم کاپیاں اور دیگر ضروری اشیاء ہر دن نئے نئے لاتے ہیں اور خاص کر ان کا نہایت ہی اعلیٰ اور عمدہ کھانوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس میرے پاس اس جیسی اشیاء نہیں ہوتیں اور لنچ بھی معمولی ہوتا ہے۔
احمد نے امی سے شکوے کے انداز میں کہا۔
یہ سن کر شفقت سے امی کی آنکھیں بھر آئیں۔
لیکن پھر حوصلہ کرکے تسلی دینی شروع ہوئیں اور بولی بیٹا!ہمیں آپ کا احساس ہے کہ اس طرح تمہیں تعلیم کی سہولیات نہیں ہونی چاہئے مگر تم دیکھتے ہو کہ یہ پیسہ تمہارے والد کے خون پسینے کی کمائی ہے ہم یہ بچا بچا کر تمہارے سکول کی فیس اور دیگر تعلیمی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں یہاں کچھ دیر کے لئے اس کی امی پانی پیتے خاموش ہو گئی۔

حماد امی کی بات غور سے سن رہا تھا۔
اس کی امی پھر بولیں۔”بیٹا تم ناشکری نہ کرو بلکہ اس کھانے پر اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ”اگر تم شکر کرو گے تو تم کو زیادہ نعمت دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔
”شکر کیا ہے؟امی جان حماد نے بے چینی سے پوچھا۔
خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ ”نعمت کو غیر مناسب جگہ خرچ مت کرو۔یہ ناشکری ہے“امی نے جواب دیا۔
حماد نے یہ سن کر وعدہ کیا کہ آئندہ میں کبھی کسی بھی نعمت کی ناشکری اور اس قسم کی باتیں نہیں کروں گا تو امی نے شفقت سے اس کی پیشانی کو بوسہ دے کر گھر کے کام کاج میں لگ گئی کچھ ہی عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اللہ نے حماد کے والد کو ایک اچھی جگہ نوکری عطا کی جس کی وجہ سے حماد کی وہ شکایت خود بخود دور ہو گئی اور بقیہ زندگی خوشی کے ساتھ بسر کرتے رہے۔

پیارے بچو!تم بھی حماد کی طرح اگر شکر گزاری کے ساتھ زندگی گزارو گے تو تمہاری زندگی بھی خوشگوار بن جائے گی

28/10/2020

تمام لوگوں کو گروپ میں خوش آمدید کہتے ہیں۔۔۔
اس پیج میں آپ کو ہر قسم کی انٹرٹینمنٹ اور علمی معلومات
دی جائینگی۔۔۔

Address

Shakargarr

Telephone

+923404334619

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naveed Composing Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share