17/05/2026
بچوں میں سر درد ایک بہت عام شکایت ہے اور ھم اپنے کلینک میں اکثر ایسے بچے دیکھتے ہیں جو سردرد کی شکایت کے ساتھ آتے ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں بچوں کا سر درد کسی معمولی اور بے ضرر وجہ کی بنا پر ہوتا ہے، جیسے نیند کی کمی، پانی کم پینا، زیادہ اسکرین ٹائم، آنکھوں پر زور، اسکول کا دباؤ، امتحانی ٹینشن، یا مائیگرین۔ بعض اوقات بخار، نزلہ زکام، یا سائنسز کا انفیکشن بھی سر درد کا باعث بن سکتا ہے۔ ان وجوہات میں سر درد عموماً عارضی ہوتا ہے اور سادہ احتیاطی تدابیر یا معمولی علاج سے بہتر ہو جاتا ہے۔
لیکن یہ بات سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ بعض اوقات سر درد کسی خطرناک بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ایسے کیسز کم ہوتے ہیں، مگر انہیں بروقت پہچاننا بے حد اہم ہے، کیونکہ تاخیر بچے کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے والدین کو سر درد کے ساتھ ظاہر ہونے والی کچھ خاص علامات پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
اگر بچے کو اچانک سے بہت شدید سر درد ہو، یا اگر سر درد وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہو اور اس کی شدت یا نوعیت بہت جلدی بدلتی جا رہی ہو، تو یہ تشویش کی بات ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر سر درد صرف صبح اٹھتے ہی ہو، یا رات کو نیند سے جگا دے، یا اس کے ساتھ بار بار قے ہو خاص طور پر بغیر متلی یا دل خراب ہونے کے،تو یہ دماغ کے اندرونی پریشر بڑھنے کی علامت ہو سکتی ہے۔
سر درد کے ساتھ اگر بچے میں دورے یا جھٹکے پڑنے لگیں، جسم کے کسی حصے میں کمزوری آ جائے، چلنے میں لڑکھڑاہٹ ہو، نظر دھندلی ہو، دوہرا دکھائی دے، بولنے میں دقت ہو، یا بچہ الجھن، غنودگی یا رویے میں غیر معمولی تبدیلی دکھائے تو یہ علامات کسی سنجیدہ نیورولوجیکل مسئلے کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر بچہ پہلے کی نسبت پڑھائی میں پیچھے جا رہا ہو، یادداشت کمزور ہو رہی ہو، یا اس کی نشوونما میں کمی یا تنزلی نظر آئے تو ان علامات کے ساتھ ہونے والے سر درد کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
چھوٹے بچوں میں اگر سر درد کے ساتھ سر کے سائز میں بھی اضافہ ہو رہا ہو تو یہ خطرے کی علامت ہے، سر میں پانی یا کوئ رسولی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر بخار، گردن میں اکڑاو یا درد، الٹی ، روشنی اور شور سے بے چینی جیسی علامات سر درد کے ساتھ آرہی ہوں تو یہ گردن توڑ بخار کی طرف نشان دہی کرتی ہیں۔
والدین سے گزارش ہے کہ اگر بچے کے سر درد کے ساتھ ایسی کوئی بھی تشویشناک علامت موجود ہو تو خود سے دوا دینے یا غیر ضروری سی ٹی اسکین کروانے کے بجائے فوراً ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کریں۔ درست تشخیص صرف بچے کی مکمل ہسٹری، تفصیلی جسمانی اور نیورولوجیکل معائنے، اور ضرورت پڑنے پر مناسب ٹیسٹس کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ ہر بچے کو سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی کی ضرورت نہیں ہوتی، اور یہ فیصلہ ہمیشہ ماہر ڈاکٹر کو ہی کرنا چاہیے۔
یاد رکھیں، زیادہ تر بچوں کا سر درد بے ضرر ہوتا ہے، لیکن خطرے کی علامات کو پہچاننا اور بروقت درست ڈاکٹر تک پہنچنا والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ بروقت تشخیص نہ صرف بچے کو غیر ضروری ٹیسٹس اور پریشانی سے بچاتی ہے بلکہ کسی ممکنہ سنگین بیماری کو شروع ہی میں قابو میں لانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی