Dr sajjad Ahmad

Dr sajjad Ahmad Child Specialist

17/05/2026

بچوں میں سر درد ایک بہت عام شکایت ہے اور ھم اپنے کلینک میں اکثر ایسے بچے دیکھتے ہیں جو سردرد کی شکایت کے ساتھ آتے ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں بچوں کا سر درد کسی معمولی اور بے ضرر وجہ کی بنا پر ہوتا ہے، جیسے نیند کی کمی، پانی کم پینا، زیادہ اسکرین ٹائم، آنکھوں پر زور، اسکول کا دباؤ، امتحانی ٹینشن، یا مائیگرین۔ بعض اوقات بخار، نزلہ زکام، یا سائنسز کا انفیکشن بھی سر درد کا باعث بن سکتا ہے۔ ان وجوہات میں سر درد عموماً عارضی ہوتا ہے اور سادہ احتیاطی تدابیر یا معمولی علاج سے بہتر ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ بات سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ بعض اوقات سر درد کسی خطرناک بیماری کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ایسے کیسز کم ہوتے ہیں، مگر انہیں بروقت پہچاننا بے حد اہم ہے، کیونکہ تاخیر بچے کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے والدین کو سر درد کے ساتھ ظاہر ہونے والی کچھ خاص علامات پر خاص توجہ دینی چاہیے۔

اگر بچے کو اچانک سے بہت شدید سر درد ہو، یا اگر سر درد وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہو اور اس کی شدت یا نوعیت بہت جلدی بدلتی جا رہی ہو، تو یہ تشویش کی بات ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر سر درد صرف صبح اٹھتے ہی ہو، یا رات کو نیند سے جگا دے، یا اس کے ساتھ بار بار قے ہو خاص طور پر بغیر متلی یا دل خراب ہونے کے،تو یہ دماغ کے اندرونی پریشر بڑھنے کی علامت ہو سکتی ہے۔

سر درد کے ساتھ اگر بچے میں دورے یا جھٹکے پڑنے لگیں، جسم کے کسی حصے میں کمزوری آ جائے، چلنے میں لڑکھڑاہٹ ہو، نظر دھندلی ہو، دوہرا دکھائی دے، بولنے میں دقت ہو، یا بچہ الجھن، غنودگی یا رویے میں غیر معمولی تبدیلی دکھائے تو یہ علامات کسی سنجیدہ نیورولوجیکل مسئلے کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر بچہ پہلے کی نسبت پڑھائی میں پیچھے جا رہا ہو، یادداشت کمزور ہو رہی ہو، یا اس کی نشوونما میں کمی یا تنزلی نظر آئے تو ان علامات کے ساتھ ہونے والے سر درد کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

چھوٹے بچوں میں اگر سر درد کے ساتھ سر کے سائز میں بھی اضافہ ہو رہا ہو تو یہ خطرے کی علامت ہے، سر میں پانی یا کوئ رسولی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اگر بخار، گردن میں اکڑاو یا درد، الٹی ، روشنی اور شور سے بے چینی جیسی علامات سر درد کے ساتھ آرہی ہوں تو یہ گردن توڑ بخار کی طرف نشان دہی کرتی ہیں۔

والدین سے گزارش ہے کہ اگر بچے کے سر درد کے ساتھ ایسی کوئی بھی تشویشناک علامت موجود ہو تو خود سے دوا دینے یا غیر ضروری سی ٹی اسکین کروانے کے بجائے فوراً ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ سے رجوع کریں۔ درست تشخیص صرف بچے کی مکمل ہسٹری، تفصیلی جسمانی اور نیورولوجیکل معائنے، اور ضرورت پڑنے پر مناسب ٹیسٹس کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ ہر بچے کو سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی کی ضرورت نہیں ہوتی، اور یہ فیصلہ ہمیشہ ماہر ڈاکٹر کو ہی کرنا چاہیے۔

یاد رکھیں، زیادہ تر بچوں کا سر درد بے ضرر ہوتا ہے، لیکن خطرے کی علامات کو پہچاننا اور بروقت درست ڈاکٹر تک پہنچنا والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ بروقت تشخیص نہ صرف بچے کو غیر ضروری ٹیسٹس اور پریشانی سے بچاتی ہے بلکہ کسی ممکنہ سنگین بیماری کو شروع ہی میں قابو میں لانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

🖋Organophosphate poisoning🖋Food poisoning (foodborne illness)🖋Atropine poisoning🖋Digoxin poisoning🖋Opioid poisoning🖋Benz...
13/05/2026

🖋Organophosphate poisoning
🖋Food poisoning (foodborne illness)
🖋Atropine poisoning
🖋Digoxin poisoning
🖋Opioid poisoning
🖋Benzodiazepine poisoning

27/04/2026

ہماری نیورولوجی کلینک میں اکثر والدین یہ سوال لے کر آتے ہیں کہ اگر ان کا بچہ سی پی (Cerebral Palsy) ہے، تو کیا وہ دوسرا بچہ کریں؟ کیا اگلے بچے میں بھی یہی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں؟ اور کیا کوئی ٹیسٹ ہے جو والدین کے جینز میں ممکنہ مسئلے کی نشاندہی کرے؟

سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ سی پی ایک وسیع اور پیچیدہ حالت ہے، جو بچے کے دماغ کو ماں کے پیٹ میں، پیدائش کے دوران، یا زندگی کے پہلے تین سال کے دوران پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں ہو سکتی ہے۔ اگر دماغ کو جو نقصان پہنچا ہے وہ ایک بار ہوا اور عمر کے ساتھ بڑھتا نہیں، تو یہ سی پی کہلاتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کسی بچے کو گردن توڑ بخار، فالج، یا پیدائش کے دوران کسی بیماری یا پیچیدگی کی وجہ سے دماغی نقصان پہنچا اور اس کے نتیجے میں جسم کے ایک یا زیادہ حصے کمزور رہ گئے، تو یہ سی پی میں آتا ہے۔ اسی طرح پیدائشی وجوہات جیسے بچہ پر میچور پیدا ہونا، کم پیدائشی وزن، پیدائش پر دل کی دھڑکن میں کمی یا عارضی بندش، بچے کا پیدائش پر پھنس جانا، یا شدید یرقان ہونا، سب بچے میں سی پی پیدا کرنے کے امکانات رکھتے ہیں۔ ایسے کیسز میں جینیٹک ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں ہوتی، اور اگلے بچے میں سی پی ہونے کے امکانات بھی زیادہ نہیں ہوتے۔

دوسری طرف، اگر بچے میں کوئی واضح پیدائشی یا ابتدائی مسئلہ نہیں ہوا، لیکن سی پی کی علامات موجود ہیں، اور والدین کزن ہیں یا خاندان میں پہلے بھی ایسے بچے پیدا ہو چکے ہیں، یا سابقہ حمل ضائع ہو چکے ہیں، تو ایسے حالات میں ڈاکٹر بنیادی بلڈ ٹیسٹ کروائیں گے۔ اگر اس میں کوئی غیر معمولی نتائج آئیں، تو والدین اور بچے کے لیے جینیٹک ٹیسٹنگ کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اگلے بچوں میں سی پی کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر سی پی بچے کے لیے جینیٹک ٹیسٹ کرنا ضروری نہیں ہوتا اور یہ مہنگا بھی ہو سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود سے تشخیص کرنے کی کوشش نہ کریں اور ہر صورت میں ماہرِ چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کریں تاکہ بچے کی صحیح تشخیص اور رہنمائی ممکن ہو سکے۔

والدین کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ وہ اپنے پہلے بچے کی صورتحال کو سمجھیں، گھر میں مناسب نگہداشت اور تھراپی فراہم کریں، اور نئے بچوں کے حوالے سے ڈاکٹر کی مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کریں۔ بروقت رہنمائی، تشخیص اور ماہر کی ہدایات سے بچوں کے مسائل کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور والدین کے لیے فیصلہ آسان ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

27/04/2026

آج نیورالوجی او پی ڈی فاطمہ میموریل ہسپتال میں ایک دس سالہ بچی کو چیک کیا۔ والدین کی سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ بچی کو چلنے میں دشواری پیش آ رہی ہے اور وہ بار بار گر جاتی ہے۔ ساتھ ہی وہ بار بار یہ شکایت بھی دہراتے رہے کہ "ڈاکٹر صاحب، ہماری بچی کے پاؤں چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔" مزید پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ اس بچی کے ایک بھائی اور ایک بہن کو بھی بالکل اسی طرح کی علامات تقریباً سات سال کی عمر سے شروع ہوئیں، اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کے بھی پاؤں چھوٹے دکھائی دینے لگے۔
معائنے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بچی کی ٹانگوں کے پٹھوں میں سختی (spasticity) موجود تھی، جس کی وجہ سے اس کے قدم آسانی سے نہیں اٹھتے تھے۔ یہی سختی چلنے میں رکاوٹ ڈالتی اور بار بار گرنے کا باعث بنتی تھی۔ تاہم، بازوؤں کے پٹھے بالکل نارمل تھے اور ان میں کوئی کمزوری یا سختی محسوس نہیں ہوئی۔
یہ تمام علامات اس بیماری کی طرف اشارہ کرتی ہیں جسے Hereditary Spastic Paraplegia (HSP) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک موروثی مرض ہے جو جینیاتی طور پر والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس بیماری میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو ٹانگوں کی حرکت اور پٹھوں کی نرمی کو قابو میں رکھتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر مریض میں ٹانگوں کی سختی، کمزوری، چلنے میں دشواری اور بار بار گرنے جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ والدین کو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے بچوں کے پاؤں "چھوٹے ہو رہے ہیں"، جبکہ حقیقت میں یہ پٹھوں کے سکڑاؤ (contractures) اور ٹانگوں کی غیر فطری سختی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اگرچہ اس بیماری کا مکمل علاج فی الحال موجود نہیں، لیکن فزیوتھراپی، اسٹریچنگ ورزشیں، اور بعض اوقات مخصوص دوائیں علامات کو کم کرنے اور بچے کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ صحیح تشخیص والدین کی بے چینی کو کم کرنے کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ اکثر اوقات علاج ممکن نہ ہونے کے باوجود صرف بیماری کی شناخت اور والدین کو درست و جامع معلومات فراہم کرنا ان کی بڑی تشویش دور کر دیتا ہے۔ یہ جان لینا کہ آخر بچے کو کیا بیماری ہے، اور مستقبل میں اس کے ساتھ کیا توقع رکھنی چاہیے، والدین کے ذہنی دباؤ کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے اور انہیں بحالی کے اقدامات میں اعتماد بخشتا ہے۔
یہ کیس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ والدین کی بظاہر غیر معمولی یا عجیب لگنے والی شکایات کو ہمیشہ سنجیدگی سے لینا چاہیے، کیونکہ انہی میں اکثر کسی بڑے مرض کی اصل حقیقت چھپی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

11/04/2026

بچپن میں جب بچہ چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو شروع کے دنوں میں پنجوں کے بل چلنا ایک عام اور فطری بات ہے۔ اس مرحلے پر بچے کا توازن، پٹھے اور اعصابی نظام ابھی نشوونما کے عمل میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بچے چند ہی مہینوں میں آہستہ آہستہ پورا پاؤں زمین پر رکھ کر چلنا سیکھ لیتے ہیں اور یہ عادت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
البتہ بعض بچوں میں پنجوں کے بل چلنا عارضی عادت کے بجائے کسی جسمانی یا اعصابی مسئلے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایک عام وجہ ایڑی کے پٹھے، جسے ایکیلیز ٹینڈن کہا جاتا ہے، کا غیر معمولی طور پر چھوٹا ہونا ہے۔ ایسی صورت میں بچے کی ایڑی زمین تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتی اور وہ مجبوری میں پنجوں پر چلتا ہے۔
عمومی طور پر دو سال کی عمر کے بعد بچے کو پورے پاؤں کے ساتھ چلنا شروع کر دینا چاہیے۔ اگر دو سال کے بعد بھی بچہ مسلسل پنجوں کے بل چلتا رہے، یا وقت کے ساتھ یہ عادت بڑھتی جائے، تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ کیفیت بعض اوقات اندرونی بیماری یا اعصابی کمزوری کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔
اس کی ممکنہ وجوہات میں پٹھوں کی پیدائشی بیماریاں، دماغی کمزوری یا سیریبرل پالسی، ایکیلیز ٹینڈن کا چھوٹا ہونا، آٹزم، یا دیگر نیورولوجیکل مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض بچوں میں یہ صرف ایک عادت بھی ہو سکتی ہے، لیکن درست فرق جاننا بہت ضروری ہے۔
علاج اور نگہداشت بچے کی وجہ کے مطابق کی جاتی ہے۔ زیادہ تر کیسز میں ابتدائی معائنہ، فزیوتھراپی اور مخصوص ورزشوں سے واضح بہتری آ جاتی ہے۔ بعض بچوں کو خاص جوتوں یا سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت کم اور پیچیدہ صورتوں میں سرجری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اہم پیغام والدین کے لیے:
اگر آپ کا بچہ دو سال کی عمر کے بعد بھی مسلسل پنجوں کے بل چل رہا ہو، یا ساتھ میں چلنے میں لڑکھڑاہٹ، کمزوری، یا نشوونما میں تاخیر نظر آئے، تو خود اندازے لگانے کے بجائے لازمی طور پر چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کریں۔ بروقت تشخیص سے علاج آسان اور مؤثر ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

02/04/2026

بچے فطری طور پر بہت ایکٹو ہوتے ہیں، اسی وجہ سے گھر میں بستر، سیڑھیوں، فرنیچر یا چھت وغیرہ سے گرنے کے واقعات عام ہیں۔ گرنے کی صورت میں سب سے زیادہ تشویش سر پر لگنے والی چوٹ کی ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے زیادہ تر بچوں میں جسم کی لچک اور کھوپڑی کی ساخت کی وجہ سے سنگین چوٹ نہیں لگتی، لیکن بعض حالات میں سر کی چوٹ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ کن علامات کی موجودگی میں فوراً ایمرجنسی میں بچے کو دکھانا چاہیے۔

اس پوسٹ میں ہم ان خطرے کی علامات پر بات کریں گے جنہیں گھر پر گرنے کے بعد والدین کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ عمومی اصول یہ ہے کہ سر پر چوٹ لگنے کی صورت میں ہر بچے کو ماہرِ اطفال کو دکھانا بہتر ہوتا ہے، لیکن اگر درج ذیل میں سے کوئی علامت موجود ہو تو فوری ایمرجنسی چیک اپ ضروری ہے۔ ایسے کیسز میں میں خود بھی ہمیشہ چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کرتا ہوں تاکہ بچے کی دماغی حالت اور علامات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

اگر گرنے کے بعد بچے کو جھٹکے (fits) لگنا شروع ہو جائیں، بچے کا ہوش کم ہو جائے یا وہ غیر معمولی طور پر بے جان نظر آئے، بچے کے جسم کا کوئی حصہ کام نہ کرے یا سن ہو جائے، یا ایک سال سے کم عمر کے بچے میں سر پر پانچ سینٹی میٹر سے زیادہ نیل پڑ جائے یا کٹ لگ جائے، تو یہ خطرے کی علامات ہیں اور فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح اگر سر کو ہاتھ لگانے پر فریکچر محسوس ہو، یا ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں سر کا نرم حصہ (فونٹینیلا) ابھرا ہوا محسوس ہو، تو یہ بھی تشویشناک ہے۔ سر کی ہڈی کے فریکچر کی کچھ خاص نشانیاں بھی ہوتی ہیں، جیسے آنکھوں کے گرد نیلاہٹ، کان کے پیچھے نیلاہٹ، کان سے خون آنا، یا ناک سے صاف پانی جیسا مائع آنا۔ یہ علامات اس بات کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں کہ دماغ کو اندرونی چوٹ لگی ہے۔

اگر کسی بچے میں گرنے کے بعد مندرجہ بالا علامات موجود ہوں تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ بچے کو دماغی انجری ہوئی ہے، جو بعض اوقات جان لیوا بھی ہو سکتی ہے، جیسے دماغ کے اندر خون کی نالی کا پھٹ جانا۔ ایسے حالات میں ایمرجنسی میں دماغ کا سی ٹی اسکین کروانا ضروری ہو جاتا ہے۔

ان واضح علامات کے علاوہ کچھ اور نشانیاں بھی ہیں جو اگر ایک سے زیادہ اکٹھی نظر آئیں تو دماغی انجری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بچہ غیر معمولی غنودگی کا شکار ہو، تین یا اس سے زیادہ بار الٹی کرے، گرنے کے بعد پانچ منٹ یا اس سے زیادہ بے ہوش رہے، یا گرنے کے بعد پانچ منٹ سے زیادہ یادداشت متاثر رہے۔ اسی طرح اگر بچے کو خون جمنے کی کوئی بیماری ہو جیسے ہیموفیلیا، یا وہ خون پتلا کرنے والی دوائیں استعمال کر رہا ہو (جیسے ڈسپرین یا وارفرین)، تو معمولی چوٹ بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں والدین کے لیے یہی پیغام ہے کہ بچے کے گرنے کو کبھی بھی مکمل طور پر نظر انداز نہ کریں۔ بروقت پہچان اور صحیح وقت پر ایمرجنسی میں رجوع کرنا بچے کی جان بچا سکتا ہے۔ شک کی صورت میں انتظار کرنے کے بجائے فوراً ماہرِ اطفال یا ایمرجنسی سروس سے رابطہ کریں۔

ہمیشہ یاد رکھیں: اگر آپ کے بچے کو گرنے کے بعد کوئی غیر معمولی علامات محسوس ہوں تو خود تشخیص نہ کریں اور خود علاج شروع نہ کریں۔ ایسے کیسز میں ہمیشہ چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کریں۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

02/04/2026

آج ہماری نیورولوجی او پی ڈی میں ایک چھے سالہ بچی آئی، جسے نیند سے جاگتے ہی اچانک عجیب و غریب چیزیں نظر آناشروع ہو گئیں۔ بچی کے مطابق اس کے ہاتھ، جسم کے دوسرے حصے اور آس پاس کی چیزیں غیر معمولی طور پر چھوٹی چھوٹی نظر آنے لگیں۔ کبھی کبھی چیزیں بڑی بھی محسوس ہوئیں۔ یہ حالت تقریباً ایک گھنٹے تک رہی اور پھر اسے سر میں درد شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ بچے کو کوئی جھٹکے، چکر، یا کمزوری نہیں ہوئی، اور وہ عام طور پر بالکل ٹھیک محسوس کر رہی تھی، لیکن والدین بہت پریشان تھے۔

یہ علامات Alice in Wonderland Syndrome کے مطابق ہیں، جو ایک بہت کم دیکھی جانے والی دماغی کیفیت ہے۔ اس میں بچے کو اپنی آنکھوں سے چیزوں کا سائز یا شکل ابنارمل نظر آتا ہے، یا اپنے جسم کے سائز کے بارے میں عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اھم چیز یہ ہیں کہ بچے کو چیزیں چھوٹی یا بڑی دکھائی دیں، یا ہاتھ اور پاؤں کا سائز بدلتا ہوا محسوس ہو۔ کبھی کبھی فاصلے یا وقت کا اندازہ بھی غلط ہو جاتا ہے۔ یہ کیفیت عام طور پر عارضی ہوتی ہے اور خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن بعض اوقات یہ بار بار بھی ہو سکتی ہے۔

اس کیفیت کے پیچھے مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، مگر بچوں میں سب سے زیادہ عام وجہ مائیگرین ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مرگی، یا دیگر دماغی مسائل بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے اگر بچے کو بار بار ایسی چیزیں آئیں یا اس کے ساتھ شدید سر درد ہو، تو اس کی مناسب جانچ ضروری ہے۔

زیادہ تر کیسز میں یہ علامات خود ختم ہو جاتی ہیں، مگر اگر یہ بار بار ہو یا ساتھ میں دیگر علامات ہوں تو پھر مزید ٹیسٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تشخیص کے لیے بچے کی مکمل ہسٹری اور جسمانی معائنہ ضروری ہوتا ہے۔ بعض اوقات دماغ کا سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی (CT /MRI) اور ای ای جی (EEG) بھی کرایا جاتا ہے تاکہ بنیادی مسئلے کو دیکھا جا سکے۔

علاج بنیادی طور پر وجہ پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر ما ئیگرین ہو تو اسکی کی دوائیں، اگر انفیکشن ہو تو اس کا علاج، اور اگر مرگی ہو تو مرگی کی دوائیں دی جاتی ہیں۔ بعض بچوں میں صرف نیند، خوراک اور روزمرہ کی عادات میں تبدیلی سے بھی بہت فرق آ جاتا ہے۔

والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسی صورت میں خود سے تشخیص نہ کریں اور خود علاج نہ کریں۔ اگر بچے میں بصری تبدیلیاں یا عجیب احساسات ہوں تو چائلڈ نیورولوجسٹ سے ضرور رجوع کریں تاکہ درست تشخیص اور علاج ہو سکے۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

02/04/2026
🧬 Lujan–Fryns Syndrome: More Than Just Tall StatureA rare but important genetic condition that every clinician should re...
29/03/2026

🧬 Lujan–Fryns Syndrome: More Than Just Tall Stature

A rare but important genetic condition that every clinician should recognize.

What is it?
Lujan–Fryns syndrome is an X-linked genetic disorder, primarily affecting males, characterized by a combination of intellectual disability, marfanoid body features, and behavioral challenges.

Neurological & Behavioral Features
• Mild to moderate intellectual disability
• Speech delay
• Autism spectrum traits
• Hyperactivity / aggression
• Psychiatric disorders (including psychosis)

Marfanoid Habitus (Marfan-like but genetically different)
• Tall, slender build
• Long limbs (dolichostenomelia)
• Long fingers (arachnodactyly)

Characteristic Facial Features
• Long, narrow face
• Prominent forehead
• High nasal bridge
• Small chin (micrognathia)

Other Associated Findings
• Congenital heart defects (occasionally)
• Hypotonia
• Joint laxity

Genetics
• Caused by mutation in MED12 gene
• Inheritance: X-linked recessive
• Carrier females are often asymptomatic or mildly affected

Diagnosis
• Clinical suspicion (marfanoid features + ID)
• Confirmed by genetic testing (MED12 mutation)

Management
No definitive cure — focus is on supportive care:
• Special education
• Behavioral therapy
• Psychiatric support
• Cardiac evaluation when indicated

Key Differentials
• Marfan syndrome → aortic root dilation, lens dislocation
• Homocystinuria → thromboembolism, downward lens dislocation

Exam Pearls
• X-linked → mainly affects males
• MED12 mutation
• Marfanoid habitus + intellectual disability
• Prominent behavioral / psychiatric features

27/03/2026

ہمارے کلینکس میں بہت سے ایسے بچے لائے جاتے ہیں جن کے بارے میں والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بول چال میں تاخیر ہے۔ حیرت انگیز طور پر، ان میں سے بہت سے کیسز میں وجہ کوئی بیماری نہیں ہوتی بلکہ ایک نہایت سادہ مگر نظر انداز کی جانے والی حقیقت ہوتی ہے، یعنی والدین کا بچوں کو مناسب وقت نہ دے پانا۔

اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ والدین مصروفیت کی وجہ سے بچے کو موبائل، ٹی وی یا کارٹون کے سامنے بٹھا دیتے ہیں اور خود اس سے بات چیت کم کر دیتے ہیں۔ بچے زبان اسکرین سے نہیں سیکھتے بلکہ انسانوں سے سیکھتے ہیں۔ جب ایسے بچوں کے والدین کو سمجھایا جاتا ہے کہ وہ روزانہ بچے کے ساتھ بات کریں، اس سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کریں، اس کے ساتھ کھیلیں اور اس کے الفاظ کو توجہ سے سنیں، تو بہت سے بچوں میں چند ہی ہفتوں یا مہینوں میں نمایاں بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے۔

زندگی کے پہلے دو سال بچے کی زبان، سمجھ اور شخصیت کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس دوران والدین کی آواز، لمس، توجہ اور وقت بچے کے دماغ کے لیے سب سے قیمتی محرک ہوتے ہیں۔ موبائل، ٹی وی اور کارٹون اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے، بلکہ بعض اوقات بول چال میں مزید تاخیر کا سبب بن جاتے ہیں۔

اس کے باوجود یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہر بولنے میں تاخیر کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر بچہ عمر کے مطابق الفاظ نہیں بول رہا، آوازوں پر ردِعمل کم ہے، یا بات چیت میں دلچسپی نہیں لیتا، تو صرف انتظار کرنے کے بجائے بروقت کسی ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بعض بچوں میں بولنے کی تاخیر کسی نیورولوجیکل، سماعت کے مسئلے یا نشوونما کے عارضے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

لہٰذا اگر آپ کو اپنے بچے کی بول چال کے بارے میں کوئی بھی تشویش ہو تو ضرور کسی مستند چائلڈ نیورولوجسٹ یا ماہرِ اطفال سے مشورہ کریں۔ بروقت تشخیص اور رہنمائی بچے کے مستقبل پر گہرے مثبت اثرات ڈال سکتی ہے۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

✒️Henoch-Schönlein Purpura (HSP)
26/03/2026

✒️Henoch-Schönlein Purpura (HSP)

Address

Cricket Stadium Sheikhupura Shop No 63
Sheikhupura
39650

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr sajjad Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share