Al Huda

Al Huda For more information about Qualified Quran Teachers please inbox
Thankew

21/05/2024

*"اللّٰه نے بڑا صبر رکھا ہے انسان میں، مگر آزمائشیں سب کی ایک سی نہیں ہوتی، اللّٰه کسی کو اس کی جان سے زیادہ بوجھ نہیں دیتا نہ ہی اس کے صبر کا امتحان اس کی ہمت سے زیادہ لیتا ہے، وہ اپنے جس بندے کو اپنے جتنا قریب کرنا چاہتا ہے اس کے مطابق اس کا امتحان لیتا ہے ان کے صبر کے پیمانے ٹوٹنے سے پہلے انہیں تھام لیتا ہے، روتی ہوئی آنکھوں کو خشک کر دیتا ہے، ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیتا ہے، بےسکون روح کو قرار دے دیتا ہے، وہ ہرگز ضائع نہیں کرتا اپنے بندے کا ایک بھی آنسو اور دعا، وہ تھام لیتا ہے سنوار دیتا ہے مگر ہرگز اکیلا نہیں چھوڑتا۔"*
*بس تم صبر بنائے رکھو۔* ♥️🌼

06/06/2021
28/05/2021
07/09/2019

I m offering online Quran classes to teach you and your kids the “Correct way of reading Quran” in their comfort of their own homes using the latest communication technologies like WhatsApp etc.i m dedicated and knowledgeable teacher and i feel my responsibility to teach not only Quran but the correct way of reading Quran and masnoon DUAs , Namaz wudu n islamic rhymes. online Quran classes is for any one of any age. Our beloved last Prophet (ﷺ) said: ‏خيركم من تعلم القرآن وعلمه‏
“The best among you (Muslims) are those who learn the Quran and teach it” (Al-Bukhari)
I get your kids to read in the right pronunciation & rules. You can rest assured that your kids are reading and learning Quran in the correct way..It's paid class and fees is negotiable 😊 jazakillahu khaira
For more info..
Inbox please

16/05/2019

03/04/2019

شب معراج کی حقیقت

الحمدللّٰہ رب العالمین،والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد ﷺ،وعلی آلہ وصحبہ ومن دعا بدعوتہ الی یوم الدین ۔أما بعد

جس رات نبی کریمﷺ کو معراج کروایا گیا اس رات کی تعیین کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔اور اس رات کی تعیین کے سلسلے میں جو کچھ بھی وارد ہے اہل علم بالحدیث کے نزدیک وہ نبی کریمﷺ سے ثابت نہیں ہے۔اس رات کو بھلا دینے میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت ہے۔

اور اگر اس رات کی تعیین ثابت بھی ہو جائے تو تب بھی مسلمانوں کے لئے اس رات میں کوئی خاص عبادت کرنا یا محافل منعقد کرنا جائز نہیں ہے۔کیونکہ محافل منعقد کرنا اگر کوئی شرعی امر ہوتا تو نبی کریم ﷺ اپنی امت کے لئے قول یا فعل سے ضرور اس کو بیان فرما دیتے اور صحابہ کرام اس عمل کو ہم تک ضرور نقل کرتے۔کیونکہ صحابہ کرام نے نبی کریمﷺ سے ہر اس چیز کو بحفظ وامان ہم تک پہنچا دیا ہے جس کی امت محتاج تھی اور اس سلسلے میں انہوں کوئی کوتاہی نہیں کی ۔بلکہ وہ خیر میں سبقت لے جانیوالے تھے اگر اس رات کو محافل منعقد کرنا مشروع ہوتا تو صحابہ کرام سب سے پہلے اس کام کو کرتے۔

نبی کریمﷺ لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ خیر خواہ تھے اور انہوں نے رسالت کوکامل واکمل حالت میں ہم تک پہنچا دیا اور اپنی امانت ادا کر دی۔اگر اس رات کی تعظیم کرنا یا اس رات میں محافل منعقد کرنا دین ہوتا تو نبی کریمﷺ اس رات سے ہرگز غفلت نہ برتتے اور اس کو ہرگز نہ چھپاتے ۔جب اس رات کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ سے کچھ ثابت ہی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ اس رات کی تعظیم کرنا یا محافل منعقد کرنااسلام میں سے نہیں ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے اپنے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت اسلام پوری کر دی ہے۔اور اس دینمیں نئی چیز گھڑنے والے پر رد کیا ہے،جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

((اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلٰمَ دِیْناً))[المائدۃ:۳]

’’آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیااور تم پر اپنا انعام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہو گیا ۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا:

((أَمْ لَھُمْ شُرَکَآئُ شَرَعُوْا لَھُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَأْذَنْ بِہٖ اللّٰہُ وَلَوْ لَا کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ))[الشوری:۲۱]

’’کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے)شریک (مقرر کر رکھے)ہیں جنہوں نے ایسے (احکام )دین مقرر کر دئیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو (ابھی ہی)ان میں فیصلہ کر دیا جاتا ۔یقینا ان ظالموں کے لئے ہی درد ناک عذاب ہے۔‘‘

نبی کریمﷺ سے صحیح أحادیث میں ثابت ہے کہ بدعت سے بچو کیونکہ بدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنھاسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

((من أحدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد))[متفق علیہ]
’’جس نے ہمارے دین میں نئی چیز گھڑ لی وہ مردود ہے‘‘

دوسری جگہ فرمایا:

((من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھو رد))[مسلم]
’’جس شخص نے ایسا کام کیا جو ہمارے دین میں نہیں ہے ، وہ مردود ہے۔‘‘

حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے ہر خطبہ جمعۃ المبارک میں کہا کرتے تھے:

((أما بعد:فان خیر الحدیث کتاب اللّٰہ ،وخیر الھدی ھدی محمد ﷺ،وشر الامور محدثاتھا ،وکل بدعۃ ضلالۃ))[مسلم]

’’بے شک بہترین بات اللہ کی کتاب ہے،اور بہترین ہدایت نبی کریمﷺ کی ہدایت ہے،اور بد ترین امور بدعات ہیں،اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘
حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ہمیں فصیح وبلیغ وعظ کیا جس سے دل کانپ اٹھے اور آنکھیں بہنے لگیں۔پس ہم نے کہا: یا رسول اللہ ! گویا کہ یہ الوداع کرنے والے کاوعظ ہے،پس آپ ہمیں کوئی وصیت کیجئیے!تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

((أوصیکم بتقوی اللّٰہ ، والسمع والطاعۃ، وان تأمر علیکم عبد فانہ من یعش منکم فسیری اختلافا کثیرا ،فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین من بعدی ،تمسکوا بھا،وعضوا علیھا بالنواجذ ،وایاکم ومحدثات الأمور،فان کل محدثۃ بدعۃ،وکل بدعۃ ضلالۃ))[رواہ اہل السنن]

’’میں تمہیں اطاعت و فرمانبرداری اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں،اگرچہ تم پر کسی غلام کو ہی امیر مقرر کر دیاگیا ہو،تم میں سے جوشخص بھی زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت زیادہ اختلاف کو دیکھے گا ،میرے بعد میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو لازم پکڑ لینا،اور اس کو مضبوطی سے تھام لینا،دین میں نئی نئی چیزیں گھڑنے سے بچو! بیشک ہر نئی گھڑی ہوئی چیز بدعت ہے ،اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

اس معنی کی اور بہت ساری احادیث موجود ہیں۔

صحابہ کرامث اور سلف صالحین سے ثابت ہے کہ بدعت سے بچنا اور دور رہنا چاہئیے جو در حقیقت دین میں اضافہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔اور اللہ کے دشمن یہود ونصاری کی مشابہت ہے جنہوں نے اپنے دین میں اضافہ کر لیا اور اپنے پاس سے نئی نئی چیزیں گھڑ لیں۔بدعت سے یہ لازم آتا ہے کہ دین اسلام ناقص اور نا مکمل ہے ،حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے: ((اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ))[المائدۃ:۳]’’آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا۔‘‘اس سے ثابت ہوا کہ بدعت قرآن اور سنت دونوں کے صریح مخالف اور متضاد ہے۔

امید ہے کہ متلاشیان حق کے لئے یہی دلائل کافی وشافی ہوں گے اور بدعات کی حقیقت واضح ہو جائے گی ۔جن میں سے ایک بدعت ’’شب معراج کو محافل منعقد کرنا‘‘بھی ہے۔جس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔مسلمانوں کی خیر خواہی کے وجوب اور کتمان علم کی حرمت کی وجہ سے میں نے ضروری سمجھا کہ اس بدعت کی وضاحت کر دی جائے ،جس کو ہمارے بعض بھائیوں نے دین سمجھ لیا ہے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ لوگوں کے احوال کی اصلاح فرمائے اور تفقہ فی الدین کی توفیق دے۔اور ہم سب کو حق پر عمل کرنے والا اور حق کے خلاف کو چھوڑنے والا بنائے۔آمین

ماخوذ از فتاوی سماحۃ الشیخ/ عبد العزیز بن عبد اللّٰہ بن باز ؒ

05/03/2019

I m offering online Quran classes to teach you and your kids the “Correct way of reading Quran” in their comfort of their own homes using the latest communication technologies like WhatsApp etc.i m dedicated and knowledgeable teacher and i feel my responsibility to teach not only Quran but the correct way of reading Quran and masnoon DUAs , Namaz wudu n islamic rhymes. online Quran classes is for any one of any age. Our beloved last Prophet (ﷺ) said: ‏خيركم من تعلم القرآن وعلمه‏
“The best among you (Muslims) are those who learn the Quran and teach it” (Al-Bukhari)
I get your kids to read in the right pronunciation & rules. You can rest assured that your kids are reading and learning Quran in the correct way.. 😊 jazakillahu khaira
For more info..
Inbox

❤️❤️
11/01/2019

❤️❤️

10/01/2019

👌👌

Address

Sialkot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Huda posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share