09/05/2026
---
*ناول: جسٹ فرینڈ — مکمل کتاب*
*ابواب: 20 | صفحات: 40 | ورژن: سسپنس فل مسالہ — صاف ستھرا*
*انتساب*
_ان ماؤں کے نام جن کی بیٹیاں "بھائی" کے لفظ پر اعتبار کر کے واپس نہ آئیں..._
_اور ان باپوں کے نام جو آج بھی دروازے کی طرف دیکھتے ہیں۔_
---
*باب 1: ہیلو باجی — صفحہ 1-2*
رات کے 11 بج رہے تھے۔ صائمہ کچن سمیٹ کر فارغ ہوئی تو موبائل کی لائٹ جگمگائی۔ واٹس ایپ پر میسج: *"ہیلو باجی، سو گئیں کیا؟"*
نمبر انجان۔ DP پر پھول۔ صائمہ نے اگنور کر دیا۔ شوہر ریاض کمرے میں خراٹے لے رہا تھا۔ 3 بچے سو چکے تھے۔ گھر میں خاموشی، مگر صائمہ کے دل میں شور۔ *ساس کے طعنے، شوہر کی بے رخی، تنہائی۔*
دوسرا میسج: *"باجی ناراض ہو؟ میں تو بس حال پوچھ رہا تھا۔ آپ بہت اچھی لگتی ہیں۔"*
صائمہ نے ٹائپ کیا: _آپ کون؟_
جواب: *"میں آپ کا چھوٹا بھائی۔ نام [ظاہر نہیں]۔ آپ کی آئی ڈی سٹیٹس پر دیکھی۔ سوچا باجی سے دوستی کر لوں۔ جسٹ فرینڈ۔"*
"جسٹ فرینڈ"۔ یہ لفظ۔ صائمہ ہنس دی۔ *6 مہینے ہو گئے تھے کسی نے "آپ" کہہ کر بات نہیں کی تھی۔*
اس نے لکھا: _ٹھیک ہے بھائی۔ مگر دھیان سے۔ میں شادی شدہ ہوں۔ 3 بچے ہیں۔_
جواب: *"ارے باجی، آپ تو بڑی بہن جیسی ہو۔ میں تو بس دکھ سکھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔ میری بھی کوئی بہن نہیں۔"*
*وہ رات صائمہ 2 بجے تک جاگتی رہی۔* پہلی بار لگا کوئی سننے والا ہے۔
*باب 2: جسٹ فرینڈ — صفحہ 3-4*
1 ہفتہ گزر گیا۔ اب روز بات ہوتی۔ "گڈ مارننگ باجی"، "گڈ نائٹ باجی"۔ *لڑکا ہر دکھ سنتا۔* صائمہ بتاتی: "آج ساس نے کہا سالن میں نمک تیز تھا۔" وہ جواب دیتا: *"باجی آپ ٹینشن نہ لو۔ ایک دن اپنے ہاتھ کا کھلاؤ گی؟"*
آہستہ آہستہ "باجی" سے "صائمہ" پر آ گیا۔ صائمہ نے ٹوکا نہیں۔ *کیونکہ دل کو اچھا لگ رہا تھا۔*
ایک رات لڑکے نے وائس نوٹ بھیجا: *"صائمہ، آج میرا دل بہت اداس ہے۔ کاش تم پاس ہوتیں۔"*
صائمہ کا دل پگھل گیا۔ اس نے بھی وائس نوٹ کیا: _پگلے، رو نہیں۔ میں ہوں نا تیری باجی۔_
*اگلے دن لڑکے نے کہا: "صائمہ، ایک بار مل لو۔ صرف 5 منٹ۔ جسٹ فرینڈ۔"*
صائمہ گھبرا گئی: _نہیں، یہ غلط ہے۔ میں شادی شدہ ہوں۔_
*"تو کیا ہوا؟ ہم کوئی گناہ تو نہیں کر رہے۔ تم ڈرتی کیوں ہو مجھ سے؟"*
"ڈر"۔ یہ لفظ۔ صائمہ کو لگا جیسے اس کی عزت پر سوال اٹھا دیا۔ *اس نے ہاں کر دی۔*
_ٹھیک ہے۔ مگر صرف 5 منٹ۔_
*باب 3: جنگل کی کال — صفحہ 5-6*
جگہ: نواحی جنگل۔ وقت: دن 2 بجے۔ *وجہ: "یہاں کوئی نہیں آتا۔ 5 منٹ بات کر کے چلے جائیں گے۔"*
صائمہ نے نیلا سوٹ پہنا۔ عائشہ سے کہا: "امی بازار جا رہی ہوں۔" 12 سالہ عائشہ نے کہا: "امی میرے لیے چپس لانا۔"
رکشہ لیا۔ 20 منٹ بعد جنگل۔ *سامنے کیکر کا درخت۔ اس کے نیچے وہی لڑکا۔* عمر 21 سال۔ ہاتھ میں پھول۔
"صائمہ! تم آ گئیں؟" وہ بھاگ کر آگے آیا۔
صائمہ 2 قدم پیچھے ہٹی: _دیکھو، میں صرف 5 منٹ کے لیے آئی ہوں۔_
*"ارے 5 منٹ میں کیا بات ہو گی؟ چلو وہاں بیٹھتے ہیں۔"*
وہ کیکر کے پاس لے گیا۔ *"صائمہ، تم بہت تھکی ہوئی لگتی ہو۔ کوئی تمہارا خیال نہیں کرتا نا؟"*
صائمہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ لڑکا قریب ہوا: *"صائمہ، میں تم سے..."*
صائمہ کھڑی ہو گئی: _خاموش! میں تمہاری باجی ہوں۔_
*"باجی؟ کیسی باجی؟ 6 مہینے سے رات 2 بجے تک کون سی باجی بات کرتی ہے؟ تمہیں بھی اچھا لگتا تھا نا؟"*
صائمہ کا موبائل بجا۔ ریاض کی کال۔ اس نے کال کاٹ دی۔ *"مجھے جانے دو۔"*
لڑکا ہنسا: *"اب غلط ہے؟ جنگل تک آ کر غلط یاد آیا؟ اگر گئی تو میں تمہارے شوہر کو سب چیٹ دکھا دوں گا۔"*
صائمہ کی سانس رک گئی۔ *"تم بلیک میل کر رہے ہو؟"*
*"نہیں صائمہ۔ میں محبت کر رہا ہوں۔ بھاگ چلو۔ نکاح کروں گا۔"*
_میں نہیں بھاگ سکتی۔ میرے بچے..._
*"تو پھر مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ کیونکہ زندہ گئی تو میری بے عزتی ہو گی۔"*
اس نے جیب سے چاقو نکالا۔ *صائمہ کی چیخ جنگل میں گونج کر رہ گئی۔*
*باب 4: آخری میسج — صفحہ 7-8*
شام 5 بجے۔ عائشہ گیٹ پر کھڑی تھی۔ "امی ابھی تک نہیں آئیں؟ چپس؟"
ریاض فیکٹری سے آیا: "کہاں ہے تیری ماں؟"
_کہہ رہی تھیں بازار جا رہی ہوں۔_
ریاض نے کال کی۔ *نمبر بند۔* رات 10 بجے ساس کا فون: "ریاض، صائمہ یہاں نہیں آئی۔"
*اب ریاض کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔* 11 بجے تھانہ سٹی پہنچا۔ "جناب، میری بیوی لاپتہ ہے۔"
_نیلا سوٹ، قد 5 فٹ 4 انچ، عمر 31 سال۔_
*اسی وقت صائمہ کے موبائل سے آخری لوکیشن ٹریس ہوئی — نواحی جنگل۔*
*گھر میں قیامت۔* عائشہ رو رو کر نڈھال: "بابا، ماما کہاں ہیں؟ انہوں نے چپس کا وعدہ کیا تھا۔"
*رات 3 بجے ریاض کو خواب آیا۔* صائمہ کیکر کے نیچے کھڑی ہے۔ نیلا سوٹ خون سے لال۔ کہہ رہی ہے: *"ریاض، مجھے 'جسٹ فرینڈ' نے مار دیا۔ میری عائشہ کو بچا لینا..."*
*باب 5: کیکر کا سایہ — صفحہ 9-10*
صبح 6 بجے پولیس ٹیم، ریاض جنگل پہنچے۔ *کیکر کا درخت۔* اس کے نیچے زمین تازہ کھدی ہوئی۔ ایک جوتی — نیلے رنگ کی۔
ریاض نے پہچان لی۔ *"یہ صائمہ کی ہے۔"*
کھدائی شروع۔ *اور پھر... ہاتھ۔* عورت کا ہاتھ۔ مہندی لگی ہوئی۔
ریاض وہیں گر گیا۔ *"نہیں... صائمہ..."*
مکمل لاش نکلی۔ نیلا سوٹ، مٹی میں لت پت۔ گلے پر نشان۔ *قتل۔*
ساتھ موبائل ملا۔ ٹوٹا ہوا۔ *اور جیب سے ایک پرچی — "جسٹ فرینڈ"۔*
SHO اسلم خان نے پرچی پڑھی: *"پھر وہی لفظ۔ یہ لفظ اب زہر لگتا ہے۔"*
عائشہ کو خبر ملی۔ وہ دھاڑیں مار کر روئی: *"ماما... آپ وعدہ توڑ کر کیوں چلی گئیں..."*
*مگر قاتل کا کوئی نام نہیں تھا۔* صرف ایک لفظ: "جسٹ فرینڈ"۔
*باب 6: تفتیش شروع — صفحہ 11-12*
SHO اسلم خان — 22 سالہ تجربہ کار۔ اس نے کہا: *"یہ عشق کا نہیں، دھوکے کا قتل ہے۔"*
ٹیم بنائی گئی۔ *صائمہ کا ٹوٹا موبائل فرانزک کو بھیجا۔* رپورٹ: "2,847 چیٹس ریکور۔ سب ایک ہی نمبر سے۔"
نمبر: [ظاہر نہیں]۔ *نام: "بھائی [ظاہر نہیں]" سے سیو۔*
آخری میسج: _میں پہنچ گئی ہوں۔ کیکر کے پاس ہوں۔_
جاوید نے نمبر ٹریس کیا۔ *سم ایک 70 سالہ بوڑھے کے نام پر۔* بوڑھا: "صاحب، میرا شناختی کارڈ 2 سال پہلے گم ہو گیا تھا۔"
*جعلی سم۔*
بشیر نے CCTV کھنگالے۔ دھندلی فوٹیج: *دن 2 بجے۔ ایک لڑکا موٹر سائیکل پر۔ پیچھے برقعے میں عورت۔*
*"یہی ہے قاتل۔"* اسلم نے فوٹو میز پر ماری۔ *"21-22 سال کا۔ مگر نام کیا ہے؟"*
شازیہ نے سہیلیوں سے پوچھا۔ ایک بولی: "باجی کہتی تھی 'بس ایک بھائی ہے، جسٹ فرینڈ ہے'۔"
*SHO اسلم نے کرسی کا ہتھا توڑ دیا۔* "جسٹ فرینڈ... یہ لفظ اب FIR میں لکھوں گا۔"
*باب 7: موبائل کی گواہی — صفحہ 13-14*
فرانزک لیب۔ حامد نے میموری کارڈ لگایا۔ *"سر، 6 مہینے کی پوری کہانی یہاں ہے۔"*
پہلا میسج: _ہیلو باجی_ | آخری: _میں پہنچ گئی ہوں_
*درمیان میں 2,847 میسج۔*
دن 1-30: "باجی آپ بہت اچھی ہیں۔"
دن 91-120: "صائمہ، تم میرے بغیر رہ لو گی؟" "نہیں بھائی۔ عادت ہو گئی ہے۔"
دن 121-150: "ملنا ہے۔ 5 منٹ۔ جسٹ فرینڈ۔" "نہیں، غلط ہے۔" "تو کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو؟"
*دن 151: "ٹھیک ہے آ جاؤں گی۔"*
*SHO اسلم نے میز پر مکا مارا۔* "یہ 'ڈرتی ہو' پر پھنسایا۔"
وائس نوٹ: لڑکا — "صائمہ، بھاگ چلو۔"
صائمہ — "نہیں، میرے بچے۔"
لڑکا — "تو پھر مرنا ہو گا۔"
*کمرے میں سناٹا۔* شازیہ کی آنکھوں میں آنسو۔ "سر، اس نے پلان کر کے مارا۔"
اسلم: "اس نمبر کی لوکیشن نکالو۔"
نقشہ سامنے۔ *90% لوکیشن: "نواحی جنگل"۔ 10%: "موبائل مارکیٹ"۔*
*"مل گیا۔ قاتل موبائل مارکیٹ میں کام کرتا ہے۔"*
*باب 8: گرفتاری — صفحہ 15-16*
موبائل مارکیٹ۔ 200 دکانیں۔ SHO اسلم سادہ کپڑوں میں۔ ہر دکان پر: "یہ لڑکی کو جانتے ہو؟"
100 دکان۔ "مو-بائل ریپیرنگ"۔ اندر 21 سالہ لڑکا۔ ہاتھ میں سولڈرنگ گن۔
اسلم نے فوٹو آگے کی: "بیٹا، اس باجی کو جانتے ہو؟"
*لڑکے کا چہرہ سفید پڑا:* "ن... نہیں جناب۔"
*مگر ہاتھ کانپ رہے تھے۔*
اسلم باہر نکلا۔ ٹیم بلائی۔ *"ہاتھ اوپر! پولیس!"*
لڑکا بھاگا۔ جاوید نے ٹانگ ماری۔ گرا۔ ہتھکڑی۔
تھانے میں تلاشی۔ جیب سے 3 سمیں۔ *ایک سم وہی — صائمہ والا۔* دوسری جیب سے چاقو۔ *خون کے دھبے۔*
SHO اسلم: *"یہ خون کس کا ہے بیٹا؟"*
لڑکا: "ب... بکرے کا۔ عید پر..."
*"عید 6 مہینے پہلے تھی۔ خون تازہ ہے۔"*
لڑکا گر گیا۔ *"صاحب... غلطی ہو گئی..."*
*"غلطی؟ 3 بچوں کی ماں کو دبا دینا غلطی ہے؟ کیوں مارا؟"*
لڑکا روتے بولا: *"صاحب... وہ مان نہیں رہی تھی... کہتی تھی بچوں کے پاس جاؤں گی... میں ڈر گیا... سوچا اگر گئی تو سب کو بتا دے گی... میری عزت..."*
*باب 9: اعتراف — صفحہ 17-18*
تفتیشی کمرہ۔ رات 2 بجے۔ کیمرہ آن۔
"نام؟" _[...ظاہر نہیں...]_ "عمر؟" _21 سال۔_
*"صائمہ کو کیسے جانتے ہو؟"*
لڑکا رویا: *"صاحب، 6 مہینے پہلے اس کا موبائل ریپیر آیا تھا۔ نمبر سیو کر لیا۔ سٹیٹس دیکھا۔ 'اداس ہوں' لکھا تھا۔ میں نے 'ہیلو باجی' لکھ دیا۔"*
"پھر؟"
*"پھر روز بات۔ وہ سب بتاتی تھی۔ میں ہمدردی جتاتا۔ آہستہ آہستہ 'باجی' سے 'صائمہ' پر آ گیا۔"*
"ملنے کیوں بلایا؟"
*"صاحب، 6 مہینے ہو گئے تھے۔ کہا '5 منٹ ملو، جسٹ فرینڈ'۔ وہ آ گئی۔"*
"پھر؟"
*"میں نے کہا 'بھاگ چلو'۔ وہ نہ مانی۔ میں نے چاقو... چاقو مار دیا۔ ڈر لگا۔ دبا دیا۔"*
"موبائل کیوں توڑا؟"
*"تاکہ ٹریس نہ ہو۔ مگر میموری کارڈ یاد نہیں رہا۔"*
*"اور پرچی 'جسٹ فرینڈ'؟"*
_وہ میں نے خود لکھی تھی۔ پولیس کو گمراہ کرنے۔_
*SHO اسلم نے فائل بند کی۔* "تم نے 'جسٹ فرینڈ' کے نام پر 3 بچوں کی ماں مار دی۔ اب قانون تمہیں 'قاتل' کہے گا۔"
لڑکا دھاڑیں مار کر رونے لگا: *"صاحب، مجھے پھانسی دے دو... مگر میری ماں کو نہ بتانا... وہ کہتی تھی 'بیٹا، کسی کی بہن بیٹی پر نظر نہ ڈالنا'..."*
*باب 10: ماں کا بین — صفحہ 19-20*
اگلی صبح۔ زبیدہ بی — صائمہ کی ماں — تھانے آئی۔ 65 سال۔ *"اسلم پُتر، میری دھی کا قاتل پھڑیا گیا؟"*
"مائی، ہاں۔ اعتراف کر لیا۔"
*"کون ہے اوہ؟ کس ماں دا پُتر اے؟"*
_مائی، 21 سال کا ہے۔_
*"ہائے... میرا پوتا وی 12 سال دا اے..."*
وہ حوالات گئی۔ سلاخیں پکڑیں: *"اوئے ظالما... توں میری دھی نوں کیوں ماریا؟ اوہ تے تینوں 'بھائی' کہندی سی... توں 'بھائی' بن کے کیوں آیا؟ قصائی بن کے کیوں آیا؟"*
لڑکا گھٹنوں کے بل: *"مائی... معاف کر دے... موبائل نے مروا دیا..."*
*"موبائل تے ڈبہ اے۔ ہتھ تیرا سی۔ نیت تیری سی۔ چاقو تیرا سی۔"*
وہ روئی: *"ہائے میری صائمہ... میں تینوں کیوں نہیں دسیا کہ 'غیر محرم بھرا نہیں ہوندا'... ہائے میں سمجھی گیم کھیڈدی اے... اوہ گیم نئیں سی... موت سی..."*
*پورا تھانہ خاموش۔*
زبیدہ بی نے اسلم کا ہاتھ پکڑا: *"پُتر، اس نوں پھانسی دے۔ مگر اوہدی ویڈیو بنا۔ سارے پاکستان نوں دکھا۔ کہے کہ 'ماواں، اپنے پُتراں نوں دسو کہ ہر دھی بہن ہوندی اے'۔"*
*باب 11: جنگل کا راز — صفحہ 21-22*
1 ہفتے بعد۔ SHO اسلم دوبارہ جنگل گیا۔ *کیکر کا درخت۔*
اسلم: "جاوید، یہاں کھدائی کرو۔ 10 فٹ دور۔"
_سر، کیوں؟_
*"دل نہیں مان رہا۔ یہ پہلا شکار نہیں لگتا۔"*
کھدائی۔ *3 فٹ پر... ہڈی۔* انسانی۔ پرانی۔
لیب رپورٹ: "ہڈی 2 سال پرانی۔ عورت، عمر 25-30 سال۔"
*اسلم نے ملزم کی ریمانڈ لی۔* سامنے ہڈی رکھی: *"یہ کون ہے؟"*
لڑکے کا رنگ فق۔ _صاحب... میں نہیں جانتا..._
*"جھوٹ!"*
لڑکا ٹوٹ گیا: *"صاحب، 2 سال پہلے... ایک اور تھی... اسے بھی 'جسٹ فرینڈ' کہا تھا... وہ بھی نہیں مانی تھی... میں نے یہیں دبایا تھا..."*
*"یہ سیریل ہے۔ جنگل اس کا قبرستان ہے۔"*
اسلم نے میڈیا کال کی۔ *"خبر چلاؤ۔ نواحی جنگل میں 2 سال سے لڑکیاں غائب ہو رہی ہیں۔"*
*شام تک 3 خاندان تھانے آ گئے۔* ہر تصویر پر تاریخ: "2022 سے لاپتہ"، "2023 سے لاپتہ"۔
*جنگل نے راز اگلنا شروع کر دیا تھا۔*
*باب 12: عدالت کا کٹہرا — صفحہ 23-24 [ٹویسٹ]*
6 مہینے بعد۔ سیشن کورٹ۔ *"جسٹ فرینڈ قاتل" کیس۔*
کٹہرے میں وہی لڑکا۔ سامنے 3 خاندان۔ بائیں طرف برقعے والی عورت۔
صفائی کا وکیل: *"محترمہ، نقاب اتاریں۔"*
برقعے والی نے نقاب ہٹایا۔
*"یا اللہ..."* ریاض گر گیا۔ *"یہ تو..."*
*وہ صائمہ تھی۔ صائمہ زندہ تھی۔*
*سناٹا۔*
صفائی کا وکیل: *"جناب، جس کے قتل کا الزام ہے، وہ زندہ ہے۔ میرا موکل بے گناہ ہے!"*
SHO اسلم: *"ناممکن۔ ہم نے لاش نکالی تھی۔ DNA میچ تھا۔"*
صائمہ آگے آئی: *"جج صاحب، میں صائمہ ہوں۔ مگر کیکر کے نیچے جو لاش ملی... وہ میں نہیں تھی۔"*
"تو پھر کون؟"
صائمہ نے لڑکے کی طرف دیکھا: *"اس سے پوچھیں۔ وہ لاش... اس کی سگی بہن کی تھی۔"*
*دھماکہ۔* لڑکا گر گیا: *"نہیں... مت بتاؤ..."*
صائمہ: *"2 سال پہلے یہ اپنی بہن کو 'غیرت' کے نام پر مار چکا ہے۔ کیونکہ وہ کسی سے 'جسٹ فرینڈ' تھی۔ مجھے جنگل لے گیا تھا مارنے، مگر جب میں نے بہن کا نام لیا تو رک گیا۔ کہا 'بھاگ جاؤ'۔ میں 6 مہینے روپوش رہی۔"*
*ٹویسٹ:* SHO اسلم: *"DNA رپورٹ: کیکر والی لاش کا DNA اس ملزم کی ماں سے 99.9% میچ۔ یعنی وہ اس کی بہن تھی۔"*
لڑکا رونے لگا: *"ہاں! میں نے ماری تھی! میری بہن... اس نے کہا 'بھائی، وہ بس دوست ہے'... میں نے غیرت میں..."*
*اور دوسرا دھماکہ:* پیچھے سے بوڑھی عورت: *"نہیں! میری دھی کو اس نے نہیں، میں نے مارا تھا! میرا پُتر بے گناہ ہے..."*
*جج: "عدالت ملتوی۔"*
*سسپنس: قاتل کون؟ بیٹا؟ ماں؟ یا صائمہ جھوٹ بول رہی ہے؟*
*باب 13: DNA کا دھماکہ — صفحہ 25-26*
اگلی پیشی۔ لیب ڈائریکٹر گواہ۔ *"جناب، نئی رپورٹ۔ کیکر سے 3 لاشیں ملی ہیں۔*
*1. 2 سال پرانی — ملزم کی سگی بہن۔ گلا گھونٹ کر قتل۔*
*2. 8 مہینے پرانی — [نام ظاہر نہیں]، 22 سالہ۔ چاقو کے وار۔*
*3. 2 مہینے پرانی — [نام ظاہر نہیں]، 26 سالہ۔ سر پر چوٹ۔*
*تینوں کے موبائل سے 'بھائی [ظاہر نہیں]' نمبر ملا۔"*
*جج: "یعنی 3 قتل کنفرم؟"*
"جی۔ مگر..." لیب ڈائریکٹر رکا۔ *"...صائمہ زندہ ہے۔ تو 'نیلا سوٹ' والی لاش کس کی تھی؟"*
*ٹویسٹ:* صائمہ کھڑی ہوئی: *"جج صاحب، وہ لاش... وہ میری ہم شکل کزن تھی۔ اسی دن اس نے مجھ سے کپڑے بدلے تھے۔ یہ سمجھا میں ہوں، اسے مار دیا۔"*
*کمرہ عدالت میں چیخیں۔*
لڑکا: *"نہیں! میں نے صائمہ کو مارا تھا! میں نے!"*
ماں: *"نہیں! میں نے ماری تھی! میرا پُتر بچاؤ!"*
*سسپنس: کون سچ بول رہا ہے؟*
*باب 14: صائمہ کا 6 مہینے کا راز — صفحہ 27-28*
ج: "صائمہ، تم 6 مہینے کہاں تھیں؟"
صائمہ: *"جنگل سے بھاگ کر میں دربار چلی گئی تھی۔ وہاں ایک عورت نے پناہ دی۔ میں نے ٹی وی پر اپنی 'موت' کی خبر دیکھی۔ سوچا... سوچا اگر مر گئی ہوں تو بچے سکون سے رہ لیں گے۔ ریاض دوسری شادی کر لے گا۔"*
ریاض چلایا: *"تم زندہ ہو کر بھی مردہ بنی رہیں؟ عائشہ ہر رات روتی تھی!"*
صائمہ گری: *"معاف کر دو ریاض۔ میں ڈر گئی تھی۔ یہ کہتا تھا 'اگر بولی تو تیرے بچوں کو مار دوں گا'۔"*
*ٹویسٹ:* SHO اسلم کھڑا ہوا: *"جناب، صائمہ کے بیان میں جھول ہے۔ دربار والی عورت کہتی ہے صائمہ 3 مہینے پہلے آئی، 6 مہینے نہیں۔ 3 مہینے وہ کہاں تھی؟"*
صائمہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
*باب 15: اصل شکاری — صفحہ 29-30*
جج: "صائمہ، سچ بولو۔ 3 مہینے کہاں تھیں؟"
صائمہ ٹوٹ گئی: *"میں... میں اس کے ساتھ تھی۔"*
*سناٹا۔*
"کس کے ساتھ؟"
*"اس کے۔"* اس نے کٹہرے والے لڑکے کی طرف نہیں، *بلکہ سرکاری وکیل کی طرف اشارہ کیا۔*
*دھماکہ نمبر 3۔*
پورا کمرہ عدالت اٹھ کھڑا ہوا۔ سرکاری وکیل کا چہرہ سفید۔ *"یہ... یہ جھوٹ ہے!"*
صائمہ چلائی: *"یہی اصل 'جسٹ فرینڈ' ہے! یہی دماغ ہے! کٹہرے والا لڑکا تو صرف موبائل دیتا تھا۔ شکار یہ پھنساتا تھا۔ مجھے اس نے کہا تھا '6 مہینے روپوش رہو، پھر تمہیں نئی زندگی دوں گا'۔ 3 مہینے اس کے فارم ہاؤس پر قید رہی۔"*
SHO اسلم نے وکیل کو گرفتار کر لیا۔ تلاشی۔ *جیب سے 20 سمیں۔ ایک سم 'بھائی [ظاہر نہیں]'۔*
*اصل قاتل، اصل ماسٹر مائنڈ — سرکاری وکیل۔*
کٹہرے والا لڑکا چلایا: *"ہاں! یہی مجھ سے کام کراتا تھا! کہتا تھا 'لڑکیاں پھنساؤ، کمیشن دوں گا'! میری بہن کو بھی اسی نے..."*
*باب 16: ماں کی قربانی — صفحہ 31-32*
وکیل کی ماں عدالت آئی۔ *"میرا بیٹا نہیں... میرا بیٹا ڈاکٹر ہے... یہ سب جھوٹ ہے..."*
SHO اسلم نے لیپ ٹاپ کھولا۔ *وکیل کے فارم ہاؤس کی ویڈیو۔* تہ خانہ۔ دیواروں پر خون۔ *"یہ کیا ہے؟"*
وکیل گر گیا: *"بس... بس... میں ہار گیا۔"*
اس نے اعتراف کیا: *"میں 10 سال سے یہ کھیل کھیل رہا ہوں۔ 17 لڑکیاں۔ سب 'جسٹ فرینڈ'۔ کٹہرے والا لڑکا، رکشے والا، دکاندار... یہ سب میرے مہرے۔ میں شکار چنتا، یہ مارتے۔ لاشیں کیکر کے نیچے۔"*
*ماں نے زہر کھا لیا۔* "میرے بیٹے نے 17 ماؤں کی کوکھ اجاڑی... میں جی کر کیا کروں گی..."
*عدالت میں کہرام۔*
*باب 17: تیسری فائل سے سترہویں فائل — صفحہ 33-34*
SHO اسلم نے فائل کھولی۔ *"17 لاپتہ لڑکیاں۔ 2008 سے 2026۔ سب کی آخری لوکیشن: نواحی جنگل۔"*
کھدائی شروع۔ *کیکر کے ارد گرد 17 قبریں۔*
*پورا شہر امڈ آیا۔* 17 مائیں، 17 باپ۔ ہر قبر پر بین۔
ریاض نے صائمہ کا ہاتھ پکڑا: *"تم زندہ ہو... مگر 17 مائیں... ان کا کیا؟"*
صائمہ نے عائشہ کو گلے لگایا: *"بیٹا، وعدہ کرو کبھی 'جسٹ فرینڈ' نہیں بناؤ گی۔"*
عائشہ: *"ماما، وعدہ۔ مگر آپ بھی وعدہ کرو کبھی جھوٹ نہیں بولو گی۔"*
*باب 18: اعترافِ جرم — صفحہ 35-36*
آخری پیشی۔ کٹہرے میں سرکاری وکیل۔ ہتھکڑی۔ *ساتھ 5 مہرے — موبائل والا لڑکا، رکشے والا، چائے والا...*
جج: "آخری بیان؟"
وکیل ہنسا: *"ج صاحب، آپ مجھے پھانسی دو گے۔ ٹھیک ہے۔ مگر کل نیا وکیل آئے گا۔ نیا 'بھائی'۔ نیا 'جسٹ فرینڈ'۔ کیونکہ جب تک ماں باپ بچوں کو ٹائم نہیں دیں گے، تنہائی نہیں مٹے گی۔ جب تک 'غیرت' کے نام پر بہنیں ماریں گے، بھائی نہیں مٹیں گے۔ آپ لاش گن لو گے، وجہ نہیں۔"*
*جج نے فیصلہ سنایا: "تمام 6 مجرموں کو سزائے موت۔"*
وکیل نے جاتے جاتے کہا: *"میری قبر پر لکھ دینا: 'یہاں ایک سسٹم دفن ہے'۔"*
*باب 19: جنگل کی آخری سرگوشی — صفحہ 37-38*
1 سال بعد۔ SHO اسلم ریٹائر ہو رہا ہے۔ آخری بار جنگل آیا۔ *کیکر کا درخت کٹ چکا۔* جگہ پر پارک بن گیا۔ *"شہداء پارک — 17 بیٹیاں"*۔
17 پودے۔ ہر پودے پر نام کی تختی۔ بیچ میں بورڈ:
*"یہاں 17 بیٹیاں سو رہی ہیں۔ وجہ: موبائل + تنہائی + 'جسٹ فرینڈ'۔*
*اے گزرنے والے، اپنی بہن بیٹی سے آج پوچھنا: 'بیٹا، کوئی پریشان تو نہیں؟'*
*کیونکہ اگلی تختی... شاید تمہارے گھر کی ہو۔"*
اسلم نے تسبیح کے 108 دانے 17 قبروں پر بکھیر دیے۔ *"حساب برابر۔ کیس بند۔"*
ہوا چلی۔ 17 پودے سرسرائے۔ *جیسے 17 بیٹیاں کہہ رہی ہوں: "انکل شکریہ۔"*
*باب 20: آخری پیغام — صفحہ 39-40*
*6 مہینے بعد — 3 گھر۔*
*1. ریاض کا گھر:* عائشہ اب 13 سال کی۔ سکول سے آئی۔ موبائل میز پر۔ میسج: _Hi Dear_۔ عائشہ نے نمبر بلاک کیا۔ باپ کو دکھایا: *"بابا، 'جسٹ فرینڈ' آیا تھا۔ میں نے بلاک کر دیا۔"* ریاض نے بیٹی کو گلے لگا لیا۔ *"شاباش بیٹا۔ ماما کو بتا دینا۔"*
*2. زبیدہ بی:* اب نانی سکول جاتی ہے۔ لڑکیوں کو لیکچر: *"پُترو، غیر محرم بھرا نہیں ہوندا۔ تے موبائل وچ بندہ نہیں، شیطان بولدا اے۔"*
*3. قاتل کی ماں کی قبر:* وہاں اب کتبہ ہے: *"ایک ماں جس نے بیٹی مار دی، بیٹا بچانے۔ دونوں چلے گئے۔ سبق: غیرت اندھی ہو تو قبرستان بھر جاتی ہے۔"*
*اختتامیہ:*
SHO اسلم نے ریٹائرمنٹ پر کتاب لکھی: *"جسٹ فرینڈ — 17 قبریں، 1 سچ"*۔
پہلا صفحہ: *"یہ ناول نہیں، نوحہ ہے۔ پڑھ کر رونا نہیں، جاگنا ہے۔*
*1. بیٹی کا موبائل چیک کرو۔ ڈانٹو نہیں، دوست بنو۔*
*2. بیوی کو ٹائم دو۔ ورنہ کوئی اور دے دے گا۔*
*3. بیٹے کو سکھاؤ: ہر لڑکی بہن ہے۔ 'نہ' کا مطلب 'نہ' ہے۔*
**کیون