The Sukkur City

The Sukkur City Our Team of Advertising Experts are here to help with personalized recommendations and proposals. We

Marketing and advertisement solutions
right business partner to boost your products or services.

21/07/2021
12/03/2021

Regional Blood Centre Sukkur is looking for Finance Officer.

Education:MBA Finance/ CA / ACCA part qualified or finalist.
Experience: Minimum 2 years.
Position based at Sukkur.
Kindly forward your resume at [email protected] by mentioning applied position in subject line. Share relevant resumes in Ms Word format with current salary details.Candidate who can join immediately will be preferred.
Last Date of Application: 20 March 2021

Icon Departmental Store is selling Expired imported products by removing expiry date.In following images bill & expire d...
06/11/2018


Icon Departmental Store is selling Expired imported products by removing expiry date.
In following images bill & expire date is clearly visible. Check ur products before purchasing.

Weather 1 June 2018
31/05/2018

Weather 1 June 2018

25/08/2017

12 اکتوبر 1999 کا ٹیک اوور کرنے کے بعد مشرف میرے نزدیک ایک انتہائی ناپسندیدہ شخصیت بن کر رہ گیا تھا۔ اس کے بعد ق لیگ، ایم ایم اے اور شوکت عزیز جیسوں کو شریک اقتدار کرنے پر اس پر شدید غصہ آیا۔ بعد میں باجوڑ ڈرون حملہ، افتخار چوہدری کی معطلی، لال مسجد پر حملہ اور 2007 میں دوسری ایمرجینسی کا نفاذ کرنے سے اس کے خلاف نفرت مزید بڑھ گئی۔ یہ وہ کام ہیں جن کا جواز آج سے سو سال بعد بھی نہیں ڈھونڈا جاسکے گا اور تاریخ کے آگے مشرف ہمیشہ جوابدہ رہے گا۔

لیکن ایسا نہیں کہ مشرف نے سب کچھ برا ہی کیا تھا۔

مشرف غالباً پاکستان کی تاریخ کا واحد فورسٹار جرنیل ہے جس نے اب تک لڑی جانیوالی تمام جنگوں میں شمولیت اختیار کی۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ 65 کی جنگ میں مشرف سیالکوٹ اور لاہور کے محاذوں پر اگلے مورچے پر لڑا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اپنے کیمپ میں اکیلا رہ گیا تھا، دشمن کی توپوں کے گولے اور فائرنگ مسلسل ہورہی تھی لیکن مشرف نے اپنا کیمپ نہ چھوڑا اور مقابلہ کرتا رہا تاکہ بھارتی فوجوں کو یہ نہ لگے کہ اس محاذ پر پاکستانی فوج نہیں رہی ورنہ شاید 65 کی جنگ کا نتیجہ ہمارے لئے کافی پریشان کن ہوتا۔ اس وقت مشرف کو گولیاں بھی لگیں اور توپ کے گولوں سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے ذخمی بھی ہوا۔

مشرف کو اس کی اس بہادری پر امتیازی تمغہ بھی ملا اور اس کے کمانڈنگ آفیسر کی سفارش پر اسے سپیشل فورس سکول میں بھیجا گیا جہاں سے وہ سپیشل سروسز گروپ میں کمانڈو ٹریننگ حاصل کرکے نکلا۔

مشرف نے 71 کی جنگ میں بھی پلاننگ کی حد تک حصہ لیا اور لیکن اس کی ڈھاکہ روانگی سے چند گھنٹے قبل معاملہ ختم ہوچکا تھا۔

80 کی دہائی میں جنرل ضیا کو سیاچن کیلئے ایک سخت جان کمانڈر کی ضرورت پڑی تو اس کا انتخاب مشرف ہی ٹھہرا۔ مشرف کو درس و تدریس کا شوق تھا جس کی وجہ سے 80 اور 90 کی دہائی میں مشرف نے پہلے خود پولیٹیکل سائنس پڑھی اور بعد میں ملٹری نوجوانوں کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر ' جنگی حکمت عملی ' بھی پڑھائی۔

2001 میں امریکہ کی طرف سے افغان جنگ شروع کرنے کا اعلان ہوا جس کیلئے پاکستان کی مدد کی ضرورت تھی۔ امریکی وزیرخارجہ نے مشرف کو کال ملائی اور جنگ میں مدد کرنے کی درخواست کی جو کہ مشرف نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر قبول کرلی۔ کہتے ہیں کہ مشرف کی فوری آمادگی سے امریکی وزیرخارجہ اتنا حیران اور خوش ہوا کہ اس نے صدر بش کو آدھی رات کے وقت سوئے ہوئے جگا کر یہ خوشی کی خبر سنائی۔

دوسری طرف پاکستان میں اس وقت نوازشریف کے تنخواہ دار کالم نویس بشمول عرفان صدیقی اور چند دوسرے لفافہ صحافیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ انہوں نے مشرف کو ایک کال پر لیٹ جانے والا بزدل کمانڈو جیسے تحقیر آمیز الفاظ سے یاد کرنا شروع کردیا اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں بھی اس وقت ان کالم نویسوں کی باتوں کو سچ جانتے ہوئے مشرف کو بزدل کمانڈر سمجھنا شروع ہوگیا تھا۔

اب آجائیں 2001 میں امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کی ' بزدل مشرف ' کو کی گئی کال کے اصل احوال پر۔

جب کولن پاول نے مشرف کو کال کرکے افغان وار میں شمولیت کا کہا تو اس وقت مشرف ایک ہاتھ میں سگار تھامے اور سامنے کافی کا کپ رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کی ٹیبل پر ' سٹریٹیجی آن وار فئیرز ' کی کتابیں رکھی تھیں اور دماغ میں مستقبل کا نقشہ ترتیب پارہا تھا۔

کولن پاول کو آپ ایک کیرئیر ڈپلومیٹ سمجھ لیں، باوجود اس کے کہ وہ ملٹری امور میں بھی اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا ہوگا لیکن وہ مشرف کی اس فوراً ' ہاں ' کا بیک گراؤنڈ نہ سمجھ سکا اور افغان وار شروع کردی۔

میرے ذاتی تجزئے کے مطابق امریکہ کو افغانستان میں گھیر کر لانے والا پرویز مشرف تھا۔ طبیعت کے اعتبار سے مشرف ایم مہم جو انسان ہے، اس کے ذہن میں گوریلا وار کا پورا نقشہ ترتیب پاچکا تھا اور اسے لگا کہ وہ افغانستان کو امریکہ کے گلے کی ہڈی بنا کر رکھ سکتا ہے، قدرت ایسے مواقع صدیوں بعد دیتی ہے، چنانچہ مشرف نے بھی اسی ایسا ہی موقع جانا اور اپنا داؤ کھیل دیا۔

آج افغان وار شروع ہوئے 16 برس ہوچکے ہیں۔ امریکہ سرکاری طور پر اس جنگ میں 900 بلین ڈالر جھونک چکا ہے جبکہ اگر تمام اخراجات شامل کئے جائیں تو یہ تخمینہ ہولناک طور پر 3 سے 5 ٹریلین ڈالرز تک جاپہنچا ہے۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہے اور اس سے بھی بڑا نقصان ' ریپوٹیشن ڈیمیج ' کی صورت میں ہوا کہ افغانیوں جیسے تباہ حال اور پتھروں کے دور میں رہنے والوں سے ابھی تک امریکہ جنگ نہ جیت سکا۔

مشرف نے ابتدا میں طالبان کے چند لوگ گرفتار کروائے لیکن بعد میں طالبان جس طرح امریکی راڈارز سے غائب ہو کر منظم ہونا شروع ہوئے، اس سے امریکہ بوکھلا کر رہ گیا۔ امریکہ کے پاس وسائل موجود تھے لیکن ذہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی، مشرف نے امریکہ کو اپنی ذہانت سے افغانستان میں پھنسا دیا اور اب وہ جو مرضی کرلے، یہاں سے نکل نہیں سکتا۔

آپ افغانستان کو امریکہ کا ' نوازشریف ' سمجھ لیں، جو ہر سال سینکڑوں ارب ڈالر کھارہا ہے اور امریکہ کچھ نہیں کرسکتا۔

اگر آج ٹرمپ پاکستان کے خلاف کاروائی کی دھمکی دیتا ہے تو یاد رکھیں، یہ سوائے دھمکی کے اور کچھ نہیں۔ امریکہ اس جنگ میں اپنا سب کچھ کھوچکا جبکہ پاکستان کیلئے ابھی بھی پانے کیلئے بہت کچھ باقی ہے۔

اگر کسی کو شک ہو تو جنرل باجوہ کی امریکیوں کے ساتھ جاری کردی کل کی تصویر ملاحظہ کرلیں۔ جنرل باجوہ سر پر ٹوپی رکھے بغیر، ٹانگ پر ٹانگ رکھے، اپنی پشت کرسی سے لگائے انتہائی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ امریکی مہمان کو دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تصویر پینٹاگون نے بھی دیکھی ہے اور اب وہ ایک مرتبہ پھر اپنا سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔

آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ ٹرمپ پاکستان کی اہمیت کا اعتراف بھی کرے گا اور اپنی تقریر سے پیدا ہونے والے تاثر کی نفی کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔

میں نے پوسٹ کے آغاز میں لکھا تھا کہ مشرف وہ واحد جرنیل ہے جس نے تمام جنگوں میں حصہ لیا، آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان میں 65، 71، سیاچن، روس کے خلاف افغان وار اور کارگل کی جنگیں شامل ہیں۔

ان میں امریکی افغان وار بھی شامل کرلیں۔ مشرف یہ جنگ افغانستان کی طرف سے امریکہ کے خلاف لڑا اور اکیلا ہی اس پر بھاری پڑ گیا!!!

Address

Sukkur Lines
Sukkur
65200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Sukkur City posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share