Tariq Tanoli

Tariq Tanoli ختم نبوت زندہ باد

چند دن پہلے ایک انگریز لڑکی، ایک پشتون لڑکے سے محبت کر کے خود اس کے گھر چلی آئی۔ نہ صرف پورے خاندان نے اس واقعے کو فخر س...
20/07/2025

چند دن پہلے ایک انگریز لڑکی، ایک پشتون لڑکے سے محبت کر کے خود اس کے گھر چلی آئی۔ نہ صرف پورے خاندان نے اس واقعے کو فخر سے سوشل میڈیا پر دکھایا، بلکہ اردگرد کے مرد، صحافی اور عام لوگ تک اس کے گھر پہنچ کر اس سے ملاقات کرتے رہے۔ نہ کہیں غیرت کا تقاضا کیا گیا، نہ پشتون ولی کا حوالہ دیا گیا، نہ پردے کی پاسداری ہوئی، نہ شرم و حیا کو یاد رکھا گیا۔

دوسری طرف، ڈیڑھ سال پہلے ایک بلوچ لڑکی نے اپنی پسند سے نکاح کیا۔ شرعی پردے میں لپٹی، قرآن ہاتھ میں تھامے، قبیلے کے مسلح افراد کے سامنے کھڑی تھی۔ اسے اس کے شوہر کے سامنے نہایت بے دردی سے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ اور پھر اس کے شوہر کو بھی قتل کر دیا گیا۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ہمارا معاشرہ غیرت مند ہے اور بے غیرتی برداشت نہیں کرتا، تو پہلے واقعے میں غیرت کہاں سوئی رہی؟
اور اگر پہلا واقعہ درست ہے، تو پھر دوسرے واقعے جیسے سانحے کیوں پیش آتے ہیں؟

یہ کہنا کہ کچھ لوگ غیرت مند ہیں اور کچھ نہیں، محض خود فریبی ہے۔ اصل بات غیرت کی نہیں، بلکہ ضد، انا، ہٹ دھرمی اور جھوٹی مردانگی کی ہے۔ ہم نہ قرآن کا مطلب سمجھتے ہیں، نہ اسلام کا اصل پیغام جانتے ہیں۔ جب تک ہماری جھوٹی انا اور رواج پرستی سلامت رہتی ہے، ہم ہر حد پار کر لیتے ہیں۔ مگر جہاں ذاتی ضد کو ٹھیس پہنچے، وہاں ہمیں اچانک اپنی نام نہاد غیرت یاد آ جاتی ہے۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

15/07/2025
آپ جس علاقے (ایریا) میں رہتے ہیں وہاں کے قبرستان میں دفن شدہ کلمہ گو انسان و جنات کو٫قبرستان کے زندہ کلمہ گو جنات کو٫انس...
04/06/2024

آپ جس علاقے (ایریا) میں رہتے ہیں وہاں کے قبرستان میں دفن شدہ کلمہ گو انسان و جنات کو٫قبرستان کے زندہ کلمہ گو جنات کو٫انسان و جنات کے نابالغ فوت شدہ بچوں کو٫قبرستان کی زیر زمین رہنے والی مخلوق کو (زیرِ زمین مخلوق انسان بھی نہیں ہیں اور جنات بھی نہیں ہوتے وہ کوئی اور عالم ہے کوئی اور دنیا ہے.اُن کی زبان اور ہے زمین آسمان اور ہیں.بس وہ جو بھی ہیں آپ سب ہدیہ کر دیا کریں وہ سب دیکھ اور محسوس کر رہے ہوتے ہیں) اور جتنے اولیاء کرام کے مزارات موجود ہیں اُن سب کو حسبِ توفیق

1)بسم اللہ الرحمٰن الرحیم٫
2) درود شریف٫
3)کلمہ طیبہ٫
4)سورہ اخلاص ہر مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے ساتھ٫
5)آیت الکرسی ہر مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے ساتھ.

پڑھ کر روزانہ بِلا ناغہ نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے اِن سب کی ارواح کو ہدیہ کر دیا کریں.کائنات کا اَن دیکھا غیبی مدد کا نظام آپ کے اور آپ کی نسلوں کے ارد گرد رہنے لگے گا(ان شاءاللہ تعالیٰ) یہ لوگ غیبی نظام کے تحت چل رہے ہوتے ہیں اِنہیں سب رستوں کا پتہ چل چکا ہوتا ہے٫یہ آسمان سے رحمت اور عذاب اُترتا دیکھ لیتے ہیں پھر جو اِن کو ہدیہ کر کے٫ایصالِ ثواب کر کے اِن کی روح خوش اور قبر ٹھنڈی کرتا ہے تو یہ لوگ بھی دعا کرتے ہیں٫فیصلہ کرواتے ہیں٫ نظامِ کائنات کو اُس ہدیہ بھیجنے والے شخص کے موافق کرواتے ہیں.بڑی پُراسرار دنیا ہے.

((( یہ راز ہمیشہ یاد رکھیئے گا کہ اِن روحوں کو جب کوئی مسلسل ہدیہ بھیجتا رہتا ہے تب یہ روحوں ہمیشہ آپ کا اور آپ کی نسلوں کا تعاقب کرتی ہیں.پھر چاہے یہ ہدیہ کرنے والا شخص فوت ہو جائے مگر یہ روحیں اُس شخص کی نسلوں کا ہمیشہ تعاقب کرتی ہیں اور اُس کی نسلوں پر ہمیشہ ٹھنڈی چھاؤں بن کر سایہ کرتی رہتی ہیں اور ایک غیبی مدد کا نظام متوجہ کروا دیتی ہیں)))

اگر آپ کو کوئی چیز چاہئیے تو اِن سب سے عرض کریں کہ آپ سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میرے لئیے دعا کر دیں کہ مجھے یہ چیز کامل برکت٫کامل عافیت٫ کامل سلامتی٫کامل خیر کے ساتھ مل جائے٫بغیر تاخیر کے.

آپ کے علاقے کا جو بھی سارا ظاہری باطنی نظام ہے اُس کا بڑا گہرا تعلق علاقے میں موجود قبرستان اور اولیاء کرام کے مزارات سے ہوتا ہے.

جس علاقے میں آپ کا آفس ہے٫دوکان ہے٫کاروبار ہے٫سکول ہے٫کالج ہے٫فیکٹری ہے٫کارخانہ ہے٫یعنی جس جگہ کا تعلق آپ سے بن جائے چاہے روزانہ کے چند گھنٹوں کا ہی تعلق ہو وہاں بھی یہی عمل کریں اور پھر برکت کا نظام دیکھیں.

جس علاقے میں گھر٫پلاٹ زمین وغیرہ لینا چاہیں وہاں کے قبرستان والوں کے ساتھ اور اولیاء اللہ کے ساتھ یہی محبت بڑھانے والا عمل کریں اور اُن سے عرض کریں کہ پیسے بھی نہیں ہیں اپنا برکت عافیت والا وسیع گھر بھی اِس علاقے میں چاہیے تو آپ لوگ دعا کر کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے گھر لے دیں.یا دوکان لے دیں٫مجھے اِس آفس میں ترقی مل جائے٫تنخواہ بڑھ جائے٫بے اولادی ختم ہو جائے٫بیٹے مل جائیں٫بیٹیوں کی شادی کے مسائل حل ہو جائیں٫ویزے کا مسئلہ حل ہو جائے٫انٹرویو کامیاب ہو جائے٫فلاں جگہ اچھی جاب مل جائے٫وسیع کاروبار مل جائے.بس کیا کیا بتاؤں آپ کو کہ کیا نہیں ملتا.میں نے بہت دعائیں کروائی ہیں.آپ بھی دعائیں کروائیں اور اپنا مقصد پا لیں.مقصد وہی پاتا ہے جو صبر والا مستقل مزاج ہو.*واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لئے میسنجر پر رابطہ کریں*
*اس طرح کی تحریروں کےلئے فالو کریں*
میں قبرستان جب جاتا ہوں تو میں کیڑے مکوڑوں کو چینی ڈال کر دعا کرواتا ہوں کہ اے کیڑے مکوڑو میں آپ کیلئے چینی کا ہدیہ لے کر آیا ہوں یہ کھائیں اور میرے لئیے یہ دعا کر دیں بس بات ختم.پھر قبرستان والوں کو ہدیہ کرتا ہوں اور دعا کی عرض کرتا ہوں اور گھر میں بھی بیٹھ کر ہدیہ کرتا ہوں.آپ یقین کریں ایسے عجیب طریقے سے کام بنتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے بس کوئی صبر والا ہو جلدی پر سوار نہ ہو.

اگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہو رہا اور آپ مسئلے کا جلدی اور مکمل حل چاہتے ہیں تو روزانہ ہدیہ کرتے رہیں اور ہفتے میں کسی بھی ایک دن کسی بھی میٹھی چیز پر (بے شک اچھی کوالٹی کی ٹافیاں لے لیں اُس پر) 40 مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھیں ہر مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے ساتھ اول آخر تین تین مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر نابالغ بچوں میں تقسیم کر کے اِس پڑھائی کا اور تقسیم شدہ میٹھی چیز کا ثواب اِنہیں ہدیہ کر کے دعا کروائیں پھر مدد آتی دیکھیں(ان شاءاللہ تعالیٰ)

آپ نے جلد بازی ہرگز نہیں کرنی.کائنات کا نظام بہت جلد آپ کے اور آپ کی نسلوں کے موافق ہونا شروع ہو جائے گا(ان شاءاللہ تعالیٰ)

‏شہر غربت میں اے موت، دیر سے نہ آیا کرخرچہ تدفین کا —— بیماری پہ لگ جاتا ھے😥.
04/06/2024

‏شہر غربت میں اے موت، دیر سے نہ آیا کر
خرچہ تدفین کا —— بیماری پہ لگ جاتا ھے😥.

23/05/2024

امام اعظیم ابو حنیفہؒ کی علمی بصیرت

خلیفہ ہارون الرشید کے پاس ایک ملحد شخص آیا اور کہنے لگا: ’ اے امیر المومنین ! تیر عہد کے علماءنے اس پر اتفاق کیا ہے کہ اس دنیا کا کوئی خالق ضرور ہے۔ ان میں سے جو عالم وفاضل ہوا، اسے یہاں حاضر ہونے کا حکم دیا جائے ، تاکہ میں آپ کے سامنے اس کے ساتھ بحث کروں اور ثابت کردوں کہ دنیا کا کوئی بنانے والا نہیں۔ ‘

روزنامہ امت کے مطابق چونکہ امام ابو حنیفہؒ کا اس وقت کے علماءمیں بڑا نام اور افضل مقام تھا۔ لہٰذا ہارون رشید نے آپؒ کے پاس پیغام بھیجا اور کہا: ” اے مسلمانوں کے امام! آپ کو اطلاع ہے کہ ہمارے ہاں ایک شخص آیا ہے اور وہ دعویٰ کرتا ہے کہ صانع (کائنات کا بنانے والا ) کوئی نہیں اور وہ آپ کو مناظرے کا چیلنج دیتا ہے ۔ ‘

امام صاحب ؒ نے فرمایا: میں ظہر کے بعد آجاﺅں گا ۔ خلیفہ کا پیغام برآیا اور جو کچھ امام صاحبؒ نے فرمایا، اس کی اطلاع دے دی ۔ خلیفہ نے دوبارہ پیغام بھیجا۔ امام ابو حنیفہؒ اُٹھے اور خلیفہ کے پاس آئے ۔ ہارون رشید نے آپ کا استقبال کیا آپ کو ساتھ لایا اور مقام بلند پر جگہ دی۔ سب دربار میں جمع ہوگئے۔

ملحد نے کہا : اے ابو حنیفہ ! آپ نے آنے میں دیر کیوں کردی؟
امام صاحبؒ نے جواب دیا : مجھے ایک عجیب بات پیش آئی ، اس لیے دیر ہوگئی ۔ وہ یہ کہ میرا گھر دریائے دجلہ کے اس پار ہے۔ میں اپنے گھر سے نکلا اور دجلہ کے کنارے آیا ، تاکہ اسے عبورکروں ۔ میں دجلہ کے کنارے ایک پرانی اور شکستہ کشتی دیکھی ، جس کے تختے بکھر چکے تھے۔ جونہی میری نگاہ اس پر پڑی ، تختوں میں اضطراب آیا، انہوں نے حرکت کی اور خود ہی اکٹھے ہوگئے۔ ایک حصہ دوسرے حصہ سے جڑگیا اور بغیر کسی بڑھئی کے سالم کشتی خوش بخود تیار ہوگئی۔ میں اس کشتی پر بیٹھا اور وہ کشتی بغیر ملاح کے دریا کے دوسرے کنارے کی طرف چلنے لگی۔ اس طرح میں نے دریا عبور کیا اور یہاں آگیا۔

ملحد نے کہا : اے رﺅسائے دربار ! جو کچھ تمہارا امام و یشو اور تمہارے عہد کا افضل انسان کہہ رہا ہے، اسے سنو ! کیا تم نے ایسی جھوٹی بات کبھی سنی ہے؟ شکستہ کشتی بغیر کسی کاریگر کے کبھی خود بھی بنی ہے؟ اور بغیر ملاح نے خود بخود کبھی چلی ہے؟ یہ تو محض جھوٹ ہے۔
امام صاحبؒ نے فرمایا: اے کافر مطلق ! اگر کسی کاریگر یا بڑھئی کے بغیر کشتی ازخود نہیں بن سکتی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود وجود میں آجائے اور جب کسی ملاح کے بغیر کشتی خود چل نہیں سکتی

تو یہ کیسے سمجھ لیا جائے کہ نظام کائنات بغیر کسی چلانے والے کے خود بخود چل رہا ہے۔
امام اعظیم ابو حنیفہؒ کی اس علمی بصیرت اور عجیب استدلال سے جہاں اور لوگوں کا ایمان پکا ہوا ، وہاں وہ ملحد و بے دین بھی راہ راست پر آگیا اور خداتعالیٰ کی ذات و حدہ‘ لا شریک کا دل سے قائل ہوگیا۔

رات کو سب نو ساڑھے نو بجے تک سو جایا کرتے تھے ، رات دیر تک جاگنےکو نحوست تصور کیا جاتا تھا ، صبح آذان کی آواز کانوں میں ...
21/05/2024

رات کو سب نو ساڑھے نو بجے تک سو جایا کرتے تھے ، رات دیر تک جاگنے
کو نحوست تصور کیا جاتا تھا ، صبح آذان کی آواز کانوں میں گونجتی تھی اور
اُس کے بعد گھر یا ہمسایوں کے مرغے أذان دیا کرتے تھے ، گھر میں درخت
موجود ہوتا تھا اور صبح صبح چڑیوں کی آواز کانوں کو سنائی دیتی تھی ۔
گھر کے مرد نماز پڑھنے چلے جاتے تھے اور یوں دن کا آغاز بہت جلدی ہو
جاتا تھا ۔
دوپہر میں اکثر گھروں میں روٹی بنائی جاتی تھی اور ساتھ ، پودینہ ، ٹماٹر
اور پیاز کی چٹنی بنائی جاتی تھی ، اُس کے بعد ظہر کا اہتمام کیا جاتا تھا اور
پھر قیلولہ کیا جاتا تھا ، گھر میں دادا دادی کے وجود کو رحمت سمجھا جاتا تھا
اور اُن کا کہا ہوا حرفِ آخر ہوتا تھا ، محلے داروں کے دُکھ سُکھ سانجھے ہوتے
تھے اور کسی بارات یا فوتگی پہ اتحاد کا جذبہ دیکھنے کے قابل ہوتا تھا ۔
نا کوئی بیرا ہوتا تھا اور نا ہی شادی ہال ، محلے کے تمام لوگ مل کر شادی
کی ساری تیاریاں کرتے تھے اور فوتگی پہ ہمسائے بھی کئی کئی دن چولہا نہیں
جلاتے تھے ۔
پھر🧡🍁🍂🧡
دیواریں اونچی ہونا شروع ہوئیں ، درخت ختم ہوئے ، پرندے اڑ گئے ،*واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں*
*اس طرح کی تحریروں کےلئے فالو کریں*
مرغ پولٹری فارمز میں چلے گئے اور دیواریں اتنی اونچی ہو گئیں کہ مسجد کے
لاؤڈ سپیکر کی آواز بھی کم آنے لگی ، ایک وقت میں کئی کھانے کھانے کی ٹیبل
کی زینت بننے لگے ، برکت ختم ہو گئی اور ایک گھر میں رہتے لوگ بھی ایک
دوسرے سے انجانے ہو گئے ، پرائیویسی کے نام پر علیحدہ علیحدہ رومز بن گئے
اور گھر میں رہتے ہوئے رابطے موبائلز پر ہونے لگے ، شادی ہالز میں
ہونے لگیں اور محلے میں فوتگی پر منہ دکھانے کی رسم چل نکلی ۔
کہیں سالوں کے اس سفر میں ہم نے سب کچھ کھو دیا ، پایا کچھ نہیں ۔
""ہمارے زمانے بڑے سہانے"

بناؤ سنگھار عورت کی فطرت میں ہے اور اسکا حق بھی ہے ۔لیکن موجودہ دور میں فیشن کے نام پر بےحیائی کو فروغ مل رہا ہے ۔ اس لئ...
18/05/2024

بناؤ سنگھار عورت کی فطرت میں ہے اور اسکا حق بھی ہے ۔لیکن موجودہ دور میں فیشن کے نام پر بےحیائی کو فروغ مل رہا ہے ۔ اس لئے تمام سب سے گزارش ہے کہ اس قسم کے لباس سے اجتناب کریں اور بالخصوص وہ عورتیں جو شادی شدہ ہیں اور جوائنٹ فیملی میں رہتی ہیں کیوں کہ اسی گھر میں دیور بھی ہوتے ہیں جو کہ غیر محرم ہیں اور بہت جلدی متوجہ ہوسکتے ہیں ۔ غیر شادی لڑکیاں بھی خیال کریں کیوں کہ گھر میں بھائی اور والد ہوتے ہیں وہ ہیں تو محرم لیکن اپ کے ستر کو ان سے بھی چھپانا فرض ہے۔ بیشک مہنگا لباس پہن لیں لیکن ایسا نہ ہو جس کے پہننے کے باوجود بھی جسم کے نشیب و فراز واضح ہوں۔ اگر کسی کو میری بات بری لگی ہو تو معذرت چاہتا ہوں... اور تصویر کے لٸے معافی چاہتا ہوں شکریہ

  ⚠بیوی کی بہن⚠یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ بیوی کی بہن کے لئے ہمارے معاشرے میں لفظ "سالی" مستعمل ہے۔۔۔۔لفظ اگرچہ کچھ مناسب ...
15/05/2024


⚠بیوی کی بہن⚠

یہ تو ہم سب جانتے ہیں
کہ بیوی کی بہن کے لئے ہمارے معاشرے میں لفظ "سالی" مستعمل ہے۔۔۔۔
لفظ اگرچہ کچھ مناسب نہیں لگتا
لیکن اسی نام سے بات شروع کرتے ہیں۔۔۔
عموماًبیوی کی بڑی بہنیں شادی شدہ ہوتی ہیں اور اگر غیر شادی شدہ بھی ہوں تو وقت کے ساتھ طبیعت میں سنجیدگی اور بردباری آچکی ہوتی ہے۔۔۔۔
جبکہ بیوی کی چھوٹی بہنیں عمر کے اس مرحلے میں ہوتی ہیں جب زندگی کا ہر رُخ خوبصورت اور ہر موڑ دلکش معلوم ہوتا ہے۔۔۔
ایسے میں بہن کا شادی ہونا اور ایک نئے فرد یعنی بہنوئی کا گھر سے تعلق ہونا بھی ایک منفرد رنگ لئے ہوتا ہے۔۔۔
معاشرے کے عام چلن کی وجہ سے عموماًیہ چھوٹی سالیا ں اپنے بہنوئی سے ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی ہیں اور اپنے بہنوئی کا خیال بھی بہت رکھتی ہیں۔۔۔
جب کبھی بہن کا اپنے میکے جا نا ہو
تو اکثر یہی سالیاں بہن اور بہنوئی کو بوریت سے بچانے کے لئے ان کو مکمل وقت دیتی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مرد کے رُخ سے کچھ بات ہوجائے۔۔۔
ہمارے معاشرے میں ایک محاورہ مشہور ہے۔۔۔
سالی۔۔۔
آدھے گھر والی۔۔۔
اکثر مرد جب اپنے عزیز دوستوں میں بیٹھتے ہیں تو چھوٹی سالیوں کے نام پر ایک عجیب مسکراہٹ ان کے چہرے پر آجاتت احباب بھی ذومعنی جملوں سے اس مسکراہٹ کو مزید گہرا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔۔۔
یہ حقیقت عجیب صحیح لیکن بہر حال معاشرے میں موجود ہے۔۔۔
اپنے بہنوئی کے اس رُخ سے ان کی سالیاں بھی اکثربے خبر ہوتی ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اسلام کے رُخ سے اس پہلو کو دیکھتے ہیں۔۔۔
اسلام کی رُو سے بہنوئی سالی کا آپس میں شرعی پردہ ہے۔۔۔
بہنوئی،سالی کا نامحرم ہے اور گھر کے اندر گاہے بگاہے اس کی موجودگی کی وجہ سے اس پردے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔۔۔
یہ ایسی حقیقت ہے جس سے لڑکی کے ماں باپ بھی آنکھیں بند کئے رکھتے ہیں۔۔۔
اکثر بہنوئی بھی اس پردے کو اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔۔۔
اور سالیا ں "ہمارے بہنوئی تو ہمارے بھائی جیسے ہیں" کی سوچ کے ساتھ اس سے صرفِ نظر کرتی ہیں۔۔۔

اور یہ میلان کی خطرناک حد بہنوئی کے علاوہ کسی کے علم میں بھی نہ ہو گی۔۔۔
اور وہ بہنوئی کبھی اپنی بیوی کو بھی اس میلان کانہیں بتائے گا۔۔۔
یہ ایسا خاموش زہر ہے جس سے یا تو وہ مرد واقف ہے یا الله تعالیٰ کی ذات اس کے دل کا حال جانتی ہے۔۔۔
نہ مردوں میں اتنی ایمانی قوت ہے کہ وہ اپنی اس حرکت کو تسلیم کرسکیں۔۔۔
خدارا!اس امتحان میں نہ پڑیں۔۔۔
بیوی کے ماں باپ سے گزارش ہے کہ اپنی دیگر بیٹیوں کو داماد سے شرعی پردہ کروائیں۔۔۔*واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لئے پر رابطہ کریں*
*اس طرح کی تحریروں کےلئے فالو کریں*
بیوی کی بہنوں سے گزارش ہے کہ خود ہی پیچھے پیچھے رہا کریں تاکہ بہنوئی کو یہ باور ہو کہ میری سالیاں جھجھک اور شرم والی ہیں۔۔۔
اور مرد حضرات سے گزارش ہے کہ اس نسبی تعلق کے ساتھ مالِ مفت دل ِبے رحم والا معاملہ نہ کریں اور دل کے اندر گھٹیا اور فضول خواہشات پالنے سے گریز کریں۔۔۔
الله تعالیٰ ہمیں اس باریک مسئلے کی حقیقت کا ادراک کرنے والا بنا دے آمین۔
Tariq Tanoli

دنیا میں کسی جانور،کسی مخلوق نے انسان کا اتنا شکار نہیں کیا جتناانسان نےانسان  کا کیا ہے ۔انسان نے انسان کو جنگوں میں ما...
14/05/2024

دنیا میں کسی جانور،کسی مخلوق نے انسان کا اتنا شکار نہیں کیا جتناانسان نےانسان کا کیا ہے ۔انسان نے انسان کو جنگوں میں مارا، رشتوں میں مارا،محبت میں مارا، دھوکے سے مارا، یہ انسان اتنے رنگ بدلتا ہے کہ کوئی مخلوق نہیں بدلتی اور یہ اپنی ہی نسل کا شکار کرنا پسند کرتا ہے۔
کوئی دوست کے روپ میں دشمن ہے کوئی مسافر کے روپ میں لٹیرا ہے۔ جو سچائی کی قسم کھا رہا ہے وہ سچ سے ہی دور ہے، جسے ایمانداری کا غرور ہے وہ برتری کے احساس کا غلام ہے ۔
انسان نے سب بن کر رہنا سیکھا ہے,ایک انسان بن کر رہنا ہی اس کے لیے مشکل ہے

ایک عورت سڑک پر ایک آدمی کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے؛ "معاف کیجئے جناب، میں ایک چھوٹا سا سروے کر رہی ہوں، کیا میں آپ سے کچ...
12/05/2024

ایک عورت سڑک پر ایک آدمی کے پاس آتی ہے اور کہتی ہے؛
"معاف کیجئے جناب،
میں ایک چھوٹا سا سروے کر رہی ہوں،
کیا میں آپ سے کچھ سوال کر سکتی ہوں؟"

آدمی: "جی بالکل."

عورت: "فرض کریں کہ آپ بس میں بیٹھے ہیں اور ایک خاتون بس میں سوار ہوئی
اور اس کے پاس سیٹ دستیاب نہیں ہے،
کیا آپ اس کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ دیں گے؟"

آدمی - "نہیں۔"

اس عورت نے اپنے پاس موجود پیپر پر نظر دوڑاتے ہوئے "بےادب" کے خانہ پر ٹک کرتے ہوئے
دوسرا سوال کیا: "اگر بس میں سوار خاتون حاملہ ہو تو کیا آپ اپنی سیٹ چھوڑ دیتے؟"

آدمی: "نہیں۔"

اب کی بار "خود غرض" پر ٹک کرتے ہوئے اگلا سوال کیا:
"اور اگر وہ خاتون جو بس میں سوار ہوئی وہ ایک بزرگ خاتون ہوں تو کیا آپ اسے اپنی سیٹ دیں گے؟"

آدمی: "نہیں۔"

عورت: (غصے سے) "تم ایک نہایت خود غرض اور بے حس آدمی ہو
جس کو خواتین کا ، بڑے اور ضعیف افراد کے آداب نہیں سکھائے گئے"

یہ کہتے ہوئے عورت آگے چلی گئی۔

پاس کھڑے دوسرا آدمی جو یہ بات چیت سن رہا تھا،
اس بندے سے پوچھتا ہے کہ اس عورت نے تمہیں اتنی باتیں سنائیں تم نے کوئی جواب کیوں نہیں دیا ؟
*واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لئے میسنجر پر رابطہ کریں*
*اس طرح کی تحریروں کےلئے فالو کریں*
تو اس آدمی نے جواب دیا:
"یہ عورت اپنی چھوٹی سوچ اور آدھی معلومات کی بنا پر سروے کر کے لوگوں کا کردار طے کرتی پھر رہی ہے،
اگر یہ مجھ سے سیٹ نا چھوڑنے کی وجہ پوچھتی تو میں اسے بتاتا کہ

میں ایک "بس ڈرائیور" ہوں۔۔!!😂😂😂

ھمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ھے کہ ھم ادھوری معلومات سے ھی دوسروں کو جانچنے کی کوشش کرتے ھیں

(چار بیویاں)✨ایک شخص کی چار بیویاں تھیں،چوتھی بیوی سے وہ بہت محبت کرتا تھا اور اس کو بنانے سنوارنے میں ہر وقت لگا رہتا ت...
12/05/2024

(چار بیویاں)✨
ایک شخص کی چار بیویاں تھیں،
چوتھی بیوی سے وہ بہت محبت کرتا تھا اور اس کو بنانے سنوارنے میں ہر وقت لگا رہتا تھا۔
تیسری بیوی سے بھی وہ محبت کرتا تھا کیونکہ وہ بہت خوبصورت تھی جو اسے دیکھتا گرویدہ ہو جاتا اسی لئے اس کو یہ خوف لگا رہتا تھا کہ یہ کسی اور کی نہ ہو جائے
اس لئے اسے چھپا چھپا کر رکھتا تھا۔
دوسری سے بھی اسے بہت محبت تھی اس لئے کہ وہ اسکی ساری پریشانیوں کا حل اسے بتاتی اور ہمیشہ اس کی مدد کرتی رہتی۔
مگر پہلی!!! پہلی سے وہ محبت نہیں کرتا تھا لیکن وہ اس سے بدستور محبت کرتی تھی۔
------اب ہوا یہ کہ -----
ایک دن وہ شخص اتنا بیمار ہوا کہ مرنے کے قریب ہوگیا،
اس نے سوچا میرے پاس چار بیویاں ہیں کسی ایک کو تو مرتے ہوئے ساتھ لے جاؤں۔
اس نے چوتھی بیوی سے کہا کہ تم میرے ساتھ چلو----
میں نے تم پر اتنی توجہ دی اور اپنا مال بھی تم پر سب سے زیادہ خرچ کیا----
★--جواب میں اس نے صاف صاف انکار کردیا۔
تیسری بیوی سے کہا تو اس نے جواب دیا کہ---
★--دنیا میں ابھی میرے چاہنے والے بہت ہیں میں کسی کی بھی ہو جاؤں گی
دوسری بیوی نے کہا کہ---
★---میں صرف قبر تک تو ساتھ آجاؤں گی مگر اس سے آگے میں نہیں آسکتی۔
اب یہ بڑا پریشان ہوا اچانک پیچھے سے آواز آئی کہ میں تمہارے ساتھ قبر تک چلوں گی،
*واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں*
*اس طرح کی تحریروں کےلئے فالو کریں*
★---اگرچہ تم نے کبھی میری طرف توجہ نہیں کی
جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی پہلی بیوی تھی
جو عدم توجہی اور غذا کی کمی کی وجہ سے بالکل کمزور ہوچکی تھی۔
جس کے سبب قبر میں اس کے کسی کام کی نہ تھی
اب یہ افسوس کرتا رہا کہ---
میں نے سمجھنے میں غلطی کی
اگر میں اس پر توجہ دیتا تو آج یہ قبر میں میری اچھی رفیق اور ساتھی ہوتی۔
🌹🌹 وضاحت---🌹🌹
چوتھی بیوی سے مراد----- ہمارے اعضاء تھے
جن کو بنانے سنوارنے میں تو ہم لگے رہتے ہیں
مگر مرتے ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
تیسری بیوی سے مراد-----
ہمارا مال و منال دولت جائیداد وغیرہ ھے-------
★---کہ ساری زندگی لوگوں سے چھپا کر رکھا
مگر مرنے کے بعد یہ دوسروں کے ہو جاتے ہیں
دوسری بیوی سے مراد-----
ہمارے اہل وعیال رشتے دار اور دوست احباب ہیں،
دنیا میں یہی لوگ ہمارے کام آتے ہمارے مسائل حل کرواتے ہم ان سے جتنی اور جیسی چاہیں مدد لیتے رہیں مگر یہ لوگ بھی زیادہ سے زیادہ قبر تک ہمارے ساتھ رہتے ہیں
پہلی بیوی سے مراد----
★----ہمارے اعمال ہیں-
جو قبر میں
*واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لئے میسنجر پر رابطہ کریں*
*اس طرح کی تحریروں کےلئے فالو کریں*

Address

Swabi

Telephone

+923150911313

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tariq Tanoli posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tariq Tanoli:

Share