Babar

Babar کیا کیا ہمارے خواب تھے ، جانے کہاں پہ کھو گئے۔

*افغان وزارت خارجہ کی مسجد اقصی میں نہتے نمازیوں پر حملے کی مذمت* کابل: (الامارہ اردو) امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت ...
06/04/2023

*افغان وزارت خارجہ کی مسجد اقصی میں نہتے نمازیوں پر حملے کی مذمت*

کابل: (الامارہ اردو) امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزارت خارجہ نے مسجد اقصی میں نہتے نمازیوں پر حملے کی شدید مذمت کی۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ:
اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات اسرائیلی فوج کے ہاتھوں تقریباً 100 بے گناہ فلسطینی زخمی اور 400 کو گرفتار کر لیا گیا۔ مظلوم فلسطینیوں کےخلاف اسرائیلی افواج کے اس طرح کےانسانیت سوز اقدامات اورمقدس مقامات کی بے حرمتی بین الاقوامی، اسلامی اورانسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے اقدار اور مقدسات کی توہین ہے۔

کچھ عرصہ قبل تقریباً دو ہزار تک لوگوں کو انفرینڈ کیا تھا ۔۔۔۔اور صرف آپ جیسے  خاص الخاص لوگوں کو ہی چھوڑا تھا۔اب سوچ رہا...
04/03/2023

کچھ عرصہ قبل تقریباً دو ہزار تک لوگوں کو انفرینڈ کیا تھا ۔۔۔۔اور صرف آپ جیسے خاص الخاص لوگوں کو ہی چھوڑا تھا۔

اب سوچ رہا ہوں آپ میں سے جو لوگ میرے ساتھ ایڈ ہیں اور میری ہر پوسٹ اگنور کرتے چلے جا رہے ہیں انہیں بھی انفرینڈ کرنا شروع کردوں۔

کیوں کہ جن کے ہاں ہماری اہمیت نہیں انہیں ہم کیوں اہمیت دیں۔

وما علینا الاالبلاغ۔🙏

جنگ ستمبر کا دوسرا دن تھا ،، 7 ستمبر کی صبح کے پانچ بجے تھے ،،،  F86 سیبر کی کینوپی میں بیٹھے ایم ایم عالم قرآن حکیم کی ...
06/09/2022

جنگ ستمبر کا دوسرا دن تھا ،، 7 ستمبر کی صبح کے پانچ بجے تھے ،،، F86 سیبر کی کینوپی میں بیٹھے ایم ایم عالم قرآن حکیم کی تلاوت تلاوت کرتے کرتے سو گئے ،،، اچانک سرگودھا بیس کی فضاوں میں سائرن کی تیز آواز گونج اٹھی ،،،، ایم ایم عالم کی آنکھ کھلتی ہے ،،، اور اگلے منٹ میں ان کا جہاز سرگودھا کی فضاوں میں حملہ آور انڈئین جہازوں کی فارمیشن ہر بھوکے عقاب کی طرح جھپٹ پڑتا ہے ،،،،، اور پھر فضائ جنگوں کی تاریخ بنتی ہے ،،،، ابتدائ 30 سیکنڈ میں دشمن کے 4 ہنٹر تباہ ہو جاتے ہیں ،،،، اگلے 30 سیکنڈ میں ایک مزہد ہنٹر نشانہ بنتا ہے ،،، یوں ایک منٹ میں دشمن کے 5 طیارے تباہ ہو جاتے ہیں ،،،، گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ایک نئے ریکارڈ کا اضافہ ہو جاتا یے ،،، ایک ایسا ریکارڈ جسے آج تک کوئ توڑ نہ سکا ،،،،، پاک فضائیہ کے اس عظیم سپوت کا وہ کارنامہ کہ جس نے دشمن پر پاک فضائیہ کی دھاک بٹھا دی،،،، جنگ ستمبر ختم ہونے تک انڈئین فضائیہ کے لئے ،، لٹل ڈریگن ،،، ایک ڈراونا خواب بنے رہے ،،،، جنگ کے اختتام پر ایم ایم عالم ،،، 11 کے سکور پر ناٹ اوٹ تھے ،،، دشمن کے 9 جہاز ایم ایم کی بہترین ہوا بازی اور نشانہ بازی کے نتیجے میں مکمل تباہ ہوئے ،، 2 جہاز ،، زخمی حالت ،،، میں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ،،، قوم اپنے عظیم ہیرو کو سلام پیش کرتی ہے

24/08/2022
مہنگائی حتم کرنے کے لئے زیادہ نوٹ کیوں نہیں چھاپے جاتے۔تحریر # بابر علی پلی                        کوئی بھی ملک قرضہ اتا...
24/08/2022

مہنگائی حتم کرنے کے لئے زیادہ نوٹ کیوں نہیں چھاپے
جاتے۔

تحریر # بابر علی پلی

کوئی بھی ملک قرضہ اتارنے کے لیے یا مہنگائی حتم کرنے کے لئے زیادہ نوٹ نہیں چھاپ سکتا یا نہیں چھاپتا کیوں کہ اس سے ملک ترقی کرنے کی بجائے مہنگائی آسمان کو پہنچ جائے گی اور لوگ کوئی چیز خرید نہیں پائیں گے۔ دراصل کرنسی نوٹ کی اپنی کوئی ویلیو نہیں ہوتی، اسے ویلیو ہم دیتے ہیں، کرنسی نوٹ تو محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ ایک سو روپے، ایک ہزار روپے یا پانچ ہزار روپے، یہ ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کی ویلیو حکومت طے کرتی ہے۔

ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ آپ کے پاس ایک ارب روپے ہیں اور آپ زمین سے دور کسی اور سیارے پر کسی گمنام جگہ پر موجود ہیں، جہاں نہ آدم، نہ آدم زاد، آپ کے اردگرد کچھ بھی نہیں بلکل سنسان جگہ ہے تو آپ اس ایک ارب کا کریں گے کیا؟ وہاں تو اس ارب روپے کی پتھر کنکر سے زیادہ اہمیت نہیں ہوگی، بلکہ پتھر سے تو پھر بھی آپ کچھ نہ کچھ کام لے سکتے ہیں، مثلاً کیل ٹھونک سکتے ہیں یا اخروٹ توڑ سکتے ہیں، ارب روپے تو کسی کام کے نہیں ہوں گے۔

یہاں پر کرنسی نوٹ کی ویلیو اس لیے ہے کیونکہ ہم نے اسے ویلیو دے رکھی ہے۔ اگر لوگ کرنسی نوٹ استعمال کرنا چھوڑ دیں، خرید و فروخت کا کوئی نیا طریقہ نکال دیں تو ان کرنسی نوٹس کی کوئی ویلیو باقی نہیں رہے گی اور ویسے بھی اولین زمانے میں لوگ کرنسی نوٹ کے بجائے مختلف اشیا کے ذریعے لین دین کرتے تھے۔

تو پھر پانچ ہزار روپے جیب میں ڈال کر ہم ہفتے بھر کا راشن کیسے خرید لیتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل حکومت ضمانت دیتی ہے کہ اس کاغذ کے بےوقعت ٹکڑے کی اتنی قدر ہے کہ اس سے آٹا، چینی، چاول، دالیں، گوشت سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت اپنی ضمانت واپس لے لے تو پانچ ہزار کے نوٹ کی وہی حیثیت ہو جائے گی جو ردی کاغذ کی ہوتی ہے۔

ہم نے کرنسی کی ویلیو جان لی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی ملک بے پناہ کرنسی نوٹ چھاپ دے تو کیا ہو گا؟ فرض کریں حکومت پاکستان آج کرنسی نوٹ چھاپ کر لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردے تو آپ کیا کریں گے۔ ظاہر ہے آپ بازار کا رخ کریں گے اور دھڑادھڑا چیزیں خریدنا شروع کر دیں گے۔ پورے ملک میں دوسرے لوگ بھی بیک وقت یہی کام کر رہے ہوں گے۔

اس سے کیا ہو گا کہ چیزوں کی طلب یعنی ڈیمانڈ بڑھ جائے گی۔ معاشیات کا اصول ہے کہ جب چیزوں کی طلب بڑھتی ہے تو ان کی قیمت خود بخود بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ فرض کیا کل کو اگر سائنس دان اعلان کرتے ہیں کہ لوبیا کھانے سے کرونا ختم ہو جاتا ہے تو لوگ دکانوں پر ٹوٹ پڑیں گے اور آج اگر لوبیا 50 روپے کلو ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے ایک پھر دو سو، اور چار سو کا ہو جائے گا۔

ظاہر ہے ملک میں ایک خاص مقدار میں لوبیا پیدا ہوتا ہے، اس لیے اس کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی، ساتھ ہی ساتھ طلب بڑھتی جائے گی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی قیمت ہزاروں تک چلی جائے گی۔ اسی چیز کو افراطِ زر کہتے ہیں، یعنی دولت کی فراوانی۔ معیشت کا دوسرا اصول یہ ہے کہ جس چیز کی کثرت ہو اس کی قیمت کم ہوتی جاتی ہے۔

اگر ہر شخص امیر ہو جائے تو عین یہی کام ہو گا کہ جو چیز پہلے ایک ہزار روپے کی مل رہی تھی وہ دو ہزار کی ملنا شروع ہو جائے گی، اور اسی طرح سے چیزوں کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی، لوگ کوئی چیز خرید نہیں پائیں گے۔ کسی بھی ملک میں جتنے پیسے ہوتے ہیں اس پیسوں کے مطابق ہی چیزوں کی قیمتیں طے ہوتی ہیں۔

معاشیات کے اس سادہ اصول کے باوجود ہنگری، زمبابوے اور دیگر ممالک نوٹ چھاپنے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ ان ملکوں نے بھی بغیر سوچے سمجھے نوٹ چھاپنا شروع کر دیے جس کا نتیجہ ابھی آپ کو بتاتا ہوں۔

یہ بات ہے وسطی یورپ میں واقع ملک ہنگری کی۔ ہنگری کی حکومت نے 46-1945 میں بے پناہ کرنسی نوٹ چھاپ دیے۔ زیادہ نوٹ چھاپنے کی وجہ سے ہنگری کو تاریخ کی سب سے بدترین ہائپرانفلیشن (مہنگائی کی بلند شرح) کا سامنا کرنا پڑا۔ مہنگائی حد سے زیادہ بڑھنے کے نتیجے میں ہنگری نے تاریخ کا سب سے بڑا یعنی 10 کروڑ ارب پینگو کا نوٹ چھاپا۔ اس کے بعد بھی جب مہنگائی کنٹرول نہ ہو سکی تو ہنگری کو پرانی کرنسی چھوڑ کر کسی دوسری کرنسی پر منتقل ہونا پڑا۔

ایسی ہی ایک اور مثال ہمارے پاس زمبابوے کی موجود ہے۔ کسی بھی ملک کا انفلیشن ریٹ اگر 50 فی صد سے بھی بڑھ جائے تو وہ ہائپرانفلیشن میں شمار ہوتا ہے اور وہ اُس ملک کے لیے شدید ترین پریشانی کا باعث بن جائے گا لیکن 2008 میں زمبابوے کا انفلیشن ریٹ 79.6 ارب فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ اسی صورت حال کے مدنظر زمبابوے حکومت نے ایک سو کھرب زمبابوے ڈالر کا نوٹ چھاپ ڈالا لیکن اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا، مہنگائی نے ساری حدیں پار کر دیں۔ زمبابوے کی کرنسی کی قدر اتنی گر گئی کہ اس کے قابلے پر ایک سادہ کاغذ بھی زیادہ قیمتی ہو گیا۔

ثابت یہ ہوا کہ کوئی بھی ملک زیادہ نوٹ چھاپنے سے ترقی تو نہیں کر سکتا ہاں البتہ اس ملک کا ہنگری اور زمبابوے جیسا حال ضرور ہو سکتا ہے۔

حصہ دوئم
(تثوف)

آپ کی جیب میں موجود کرنسی نوٹ پر لکھی تحریر
"حامل ہذ ا کو مطالبے پر ادا کرے گا"
کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی حکومت آپ کے مطالبے پر اس نوٹ کے برابر سونا ادا کرنے کی پابند ہے.

اگر آج ہی پاکستان کی کل آبادی سٹیٹ بنک کو نوٹ واپس کر کے سونا لینا شروع کر دے تو صرف بیس فیصد نوٹ قابلِ استعمال ہونگے. باقی اسی فیصد نوٹوں کی قیمت تیرہ روپے فی کلو ہے. کیوں کہ باقی نوٹوں کا سونا موجود ہی نہیں اس لیئے ان کی قیمت وہی ہے جو ردی کوڑے کی ہوتی ہے.

دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کے لوگ لکڑی کی جگہ کرنسی نوٹ جلاتے تھے. کیوں کہ لکڑی کی قیمت کرنسی سے زیادہ ہو گئی تھی.

مہنگائی بڑھنے کی شرح جسے انفلیشن یا افراط زر کہتے ہیں کا کانسیپٹ صرف سو سال پرانا ہے.

ایک مرغی کی قیمت فرعون کے دور میں دو درہم تھی جو کی انیسویں صدی کہ آخر تک دو درہم ہی رہی. اگر ہم غور کریں تو آج بھی اس کی قیمت دو درہم ہی بنتی ہے. مطلب صفر فیصد انفلیشن.

پچھلے صرف 100 سالوں کے دوران کاغزی کرنسی کی قیمت کئی سو گناہ گر چکی ہے.

انفلیشن دراصل ایک ٹیکس ہے جو امیر اور غریب بغیر کسی تفریق کے برابر ادا کرتے ہیں.

آج غربت اور افلاس کی سب سے بڑی وجہ ہی پیپر کرنسی اور اس پر دیا جانے والا سود ہے.

جب ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے ہیں تو اصل میں ڈالرز ہمارے پاس منتقل نہیں ہوتے. بلکہ امریکہ میں ہی کسی بینک میں موجود ایک اکاؤنٹ میں صرف کمپیوٹر کے زریعے ٹرانزیکشن ہوتی ہے. اس اکاؤنٹ میں بھی ڈالرز منتقل نہیں ہوتے.

آج تک دنیا میں موجود ڈالرز کا صرف تین فیصد چھاپا گیا ہے. باقی ستانوے فیصد ڈالرز صرف کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈسکس میں محفوظ ہیں.(اور امریکہ کے پاس اتنا سونا ہی نہیں کہ جتنے ڈالر وہ چھاپ یا شو رہا ہے، یا جتنے ڈالر کمپیوٹر ٹرانزیکشن میں ادھر سے ادھر ہو رہے ہیں)

آئی ایم ایف کے چارٹر میں یہ بات تحریر ہے کہ کوئی ملک سونے اور چاندی کے سکے جاری نہیں کر سکتا. اگر کرے گا تو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک ایسے ملک کو قرضہ نہیں دیں گے.

امریکہ سمیت دنیا میں کئی سربراہ مملکت اس بات پر قتل ہو چکے ہیں کیوں کہ انہوں نے اپنی کرنسی یا سونے اور چاندی کے سکے جاری کرنے کی کوشش کی۔۔

اس ملک کی حکومت وزیرِ خزانہ اور سیکریٹری فائیننس آئی ایم ایف کی اجازت کے بغیر نہیں لگا سکتی.

آئی ایم ایف قرضہ دیتے ہوئے سب سے پہلی شرط پرائیویٹائیزیشن کی رکھتا ہے اور اس کے بعد قرض دیا جاتا ہے. کبھی غور کیجئیے گا کہ ایسا کیوں ہے.

سعودی عرب اور ایران سمیت تمام پٹرول برآمد کرنے والے ملک اس بات کے پابند ہیں کہ پٹرول صرف ڈالرز کے بدلے بیچا جائے گا نہ کہ بیچنے یا خریدنے والے ملک کی کرنسی میں۔۔

انسانی تاریخ میں کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکا. یہ انسان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے.

Address

Shewa
Swabi

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923181953840

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Babar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Babar:

Share