Aabi Malik

Aabi Malik Shoping Mall

اُن کی نظریں نہ جان پائیں اچھائیاں ہماری محسنؔ ,,,ہم جو سچ میں خراب ہوتے، تو سوچو کتنے فساد ہوتے
14/11/2024

اُن کی نظریں نہ جان پائیں اچھائیاں ہماری محسنؔ ,,,
ہم جو سچ میں خراب ہوتے، تو سوچو کتنے فساد ہوتے

30/05/2021
🥀 _*خُوشگوار ”شَادِى شُده“ زِندگى كا مُؤثِّر و مُجَرَّب نُسخہ*_ 🥀_خَواتِين كيلِئے ناياب تحرِير !!_کسی جگہ ایک بُوڑهی مگر...
29/05/2021

🥀 _*خُوشگوار ”شَادِى شُده“ زِندگى كا مُؤثِّر و مُجَرَّب نُسخہ*_ 🥀

_خَواتِين كيلِئے ناياب تحرِير !!_

کسی جگہ ایک بُوڑهی مگر سَمجهدار عورت رہتی تھی جس کا خاوَند اُس سے بہت زياده پیار کرتا تھا دونوں میں مَحَبَّت اس قدر شَدِید تھی کہ اُس کا خاوند اُس کیلئے مَحَبَّت بَهری شاعِری کرتا تھا۔ عُمر جتنی زیاده ہو رہی تھی، باہِمی مَحَبَّت اور خُوشی اُتنی ہی زیادہ بڑھ رہی تھی۔ جب اس عورت سے اُس کی دائِمی مَحَبَّت اور خُوشِیوں بَهری زندگی کا راز پوچھا گیا کہ آیا وہ بہت ماہِر کهانا پکانے والی ہے؟
یا وہ بہت ہی حَسِین و جَمِیل ہے؟
یا وہ بہت زیادہ بَچّے پیدا کرنے والی عورت رہی ہے؟
یا اس مَحَبَّت کا کوئی اور راز ہے؟
تو عورت نے یُوں جواب دِیا کہ خُوشِیوں بَهری زندگی کے اَسباب اَللّٰه سُبحٰانَهُ وَتَعٰالىٰ کی ذات کے بعد خُود عَورت کے اپنے ہاتهوں میں ہیں۔
اگر عورت چاہے تو وہ اپنے گهر کو جَنَّت کی چهاؤں بناسکتی ہے اور اگر یہی عورت چاہے تو اپنے گهر کو جَہَنَّم کی دہکتی ہُوئی آگ سے بھی بَهر سکتی ہے مَت سوچِیئے کہ مال و دولت خوشیوں کا ایک سبب ہے۔
تاریخ کتنی مال دار عورتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے خاوند اُن کو اُن کے مال و مَتاع سمیت چَهوڑ کر کِناره کَش ہو گئے اور نہ ہی بہت زیادہ بَچّے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی خُوبی ہے کئی عورتوں نے دَرجَن بَهر بچے پیدا کِئے مگر نہ خاوند اُن کے مَشکُور ہُوئے اور نہ ہی وہ اپنے خاوندوں سے کوئی خُصُوصِی اِلتِفات و مَحَبَّت پا سکِیں بلکہ طَلاق تک نَوبتیں جا پہنچِیں اچهے کهانے پکانا بھی کوئی خُوبی نہیں سارا دن کِچن میں رہ کر مزے مزے کے کھانے پَکا کر بھی عورتیں خاوند کے غَلَط مُعامَلہ کی شِکایَت کرتی نظر آتی ہیں اور خاوند کی نظروں میں اپنی کوئی عِزَّت نہیں بنا پاتِیں
تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پُر سَعادَت اور خُوشِیوں بَهری زندگی کا کیا راز ہے؟
اور آپ اپنے اور خاوند کے درمیان پیش آنے والے مَسائِل و مُشاکِل سے کِس طرح نِپٹا کرتی تھیں؟

اُس نے جواب دِیا:
جس وقت میرا خاوند غُصّے میں آتا تھا اور بِلاشُبہ میرا خاوند بہت ہی غُصِیلا آدمی تھا میں اُن لمحات میں (نہایت ہی اِحتِرام کے ساتھ) مُکَمَّل خاموشی اِختِیار کر لِیا کرتی تھی یہاں ایک بات واضح کر دُوں کہ اِحتِرام کے ساتھ خاموشی کا یہ مطلب ہے کہ آنکھوں سے حِقارَت و نَفرَت نہ جَهلَک رہی ہو اور نہ ہی مَذاق و سخریہ پَن دکھائی دے رہا ہو آدمی بہت عَقلمَند ہوتا ہے ایسی صورتِ حال اور ایسے معاملے کو فوراً بهانپ لِیا کرتا ہے

اچھا تو آپ ایسی صورتِ حال میں کمرے سے باہِر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟

اُس نے کہا:
خَبَردار! ایسی حرکت مَت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا تم اُس سے فَرار چاہتی ہو اور اُس کا نُقطۂ نَظَر نہیں جاننا چاہتی. خاموشی تو ضُرُوری ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے نہ صرف یہ کہ سُننا بلکہ اُس کے کہے سے اِتِّفاق کرنا بھی اُتنا ہی اَشد ضُرُوری ہے۔ میرا خاوند جب اپنی باتیں پُوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہِر چلی جایا کرتی تھی کیونکہ اس ساری چِیخ و پُکار اور شَور شَرابے والی گُفتگُو کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہوتی تھی کمرے سے باہر نکل کر میں اپنے روزمرّہ کے گھریلو کام کاج میں مَشغُول ہو جاتی تھی بچوں کے کام کرتی کھانا پکانے اور کپڑے دھونے میں وقت گزارتی اور اپنے دِماغ کو اُس جَنگ سے دُور بَهگانے کی کوشش کرتی جو میرے خاوند نے میرے ساتھ کی تھی
تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟
کئی دنوں کیلئے لا تَعَلُّقِی اِختِیار کر لینا اور خاوند سے ہفتہ دَس دن کیلئے بَول چال چَهوڑ دینا وغیرہ؟
اُس نے کہا:
نہیں! ہَرگِز نہیں بول چال چَهوڑ دینے کی عادت اِنتِہائی گَهٹِیا فعل اور خاوند کے ساتھ تعلقات کو بِگاڑنے کیلئے دَو رُخِی تَلوار کی مانِند ہے اگر تم اپنے خاوند سے بولنا چَهوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع شروع میں اُس کیلئے یہ بہت ہی تکلِیف دَه عمل ہو شروع میں وہ تم سے بولنا چاہے گا اور بولنے کی کوشش بھی کرے گا لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چَهوڑو گی تو اُس میں تم سے دَو ہفتوں تک نہ بولنے کی اِستِعداد آ جائے گی، اور ہو سکتا ہے کہ تُمہارے بَغیر بهی رہنا سِیکھ لے خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ وه تُمہارے بَغیر اپنا دَم گُهٹتا ہُوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے آکسِیجن کی مانِند ہو اور تم وہ پانی ہو جس کو پِی کر وہ زِنده رہ رہا ہے اگر ہَوا بننا ہے تو ٹَهنڈی اور لَطِیف ہَوا بَنو نہ کہ گَرد آلُود اور تَیز آندِهی۔

اُس کے بعد آپ کیا کِیا کرتی تھیں؟
اُس عورت نے کہا:
میں دو گهنٹوں یا اس سے کچھ زیادہ دير کے بعد جُوس کا ایک گِلاس یا پھر گَرم چائے کا ایک کَپ بنا کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت ہی سَلِیقے سے کہتی، ”لِیجِئے، چائے پِیجِئے!“
مجھے یَقِین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جُوس کا مُتَمَنِّی ہوتا تھا۔ میرا یہ عَمَل اور اپنے خاوند کے ساتھ گُفتگُو اس طرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غُصّے یا لڑائی والی بات ہُوئی ہی نہیں جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے بار بار پُوچهتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں؟
جبکہ میرا ہر بار اُس سے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہَرگِز ناراض نہیں ہُوں اس کے بعد وہ ہمیشہ اپنے دُرُست رَوَیّے کی مَعذِرَت کرتا تھا اور مجھ سے گهنٹوں پیار بَهری باتیں کرتا تھا۔
تو کیا آپ اُس کی ان پیار بَهری باتوں پر یَقِین کر لیتی تھیں؟

ہاں! بِالکُل، میں اُن باتوں پر بِالکُل یَقِین کرتی تھی میں جاہِل نہیں ہُوں! کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یَقِین کر لُوں جو وہ مجھ سے غُصّے میں کہہ ڈالتا تھا اور اُن باتوں پر یَقِین نہ کروں جو وہ مجھ سے پُر سُکُون حالت میں کرتا تھا؟

تو پھر آپ کی ”عِزَّت“ اور ”عِزَّتِ نَفس“ کہاں گئی؟

کاہے کی ”عِزَّت“ اور کون سی ”عِزَّتِ نَفس؟“ کیا ”عِزَّت“ اسی کا نام ہے کہ تم غُصّے میں آئے ہُوئے ایک شخص کی تَلخ و تُرش باتوں پر تو یَقِین کر کے اُسے اپنی ”عِزَّتِ نَفس“ کا مَسئلہ بنا لو، مگر اُس کی اُن باتوں کو کوئی اَہمِیَّت نہ دو، جو وہ تمہیں پیار بَهرے اور پُر سُکُون ماحول میں کہہ رہا ہے؟
میں فوراً ہی غُصّے کی حالت میں دِی ہُوئی گالِیوں اور تَلخ و تُرش باتوں کو بُهلا کر اُن کی مَحَبَّت بَهری اور مُفِید باتوں کو غَور سے سُنتِی تهی۔

جِی ہاں! خُوشگوار اور مَحَبَّت بَهری زندگی کا راز عورت کی عَقل ميں مَوجُود تو ہے، مگر یہ راز اُس کی زَبان سے بَندها ہُوا ہے

29/05/2021

جب بھی آپ گناہ کرنے لگتے ھیں تو آپ نے دیکھا ھوگا کہ آپ کا دل زور زور سے دھڑکنا شروع ھو جاتا ھے.. یہ خالق کل کی طرف سے دیا گیا ایک "سگنل" ھوتا ھے کہ "اے میرے بندے ! یہ کام غلط ھے.. اس سے باز آجا.." یہ الگ بات ھے کہ ھمارے دل گناہ کر کرکے اتنے سیاہ ھوچکے ھیں کہ ھم ایسے "سگنلز" کو اپنی کمزوری یا ایک فطری عمل سمجھ کر ایک اور گناہ کر ڈالتے ھیں..
ایک دوست نے بتایا کہ
ایک رات ھم سب کمرے والے کافی دیر تک اللہ رب العزت اور اس کے پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح بیان کرتے رھے.. اسی دوران ایک دوست کہنے لگا.. "مجھے کافی مرتبہ میت کے لیے قبر کھودنے کا اتفاق ھوا ھے.. ایک مرتبہ ھم چار دوست قبر کھود رھے تھے..
جب قبر کی کھدائی مکمل ھو چکی تو ھم میں سے ایک دوست نے کہا کہ میں اس قبر میں لیٹ کے چیک کرتا ھوں کہ اگر بڑی چھوٹی ھوئی تو ٹھیک کر لیں گے.. ھم نے کہا کہ ٹھیک ھے.. تم اندر لیٹ کے چیک کرلو..
وہ قبر کے اندر داخل ھوا اور لیٹ گیا.. جیسے ھی وہ لیٹا ' قبر کی دونوں دیواریں بیٹھ گئیں اور قبر بند سی ھو گئی.. اندر سے اس کے چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں.. ھم نے جلدی سے اوپر سے مٹی ھٹائی اور اسے باھر نکالا.. اس کی آنکھیں خوف سے باھر آنے کو تھیں اور اپنی پسلیوں پہ ھاتھ رکھے کراہ رھا تھا.. ھم نے گاڑی منگوائی اور اسے جلدی جلدی ھسپتال لے گۓ.. وھاں جا کے پتہ چلا کہ اس کی کچھ پسلیاں ٹوٹ گئ ھیں..
اس واقعے نے ھمیں کافی خوفزدہ کر دیا تھا کہ قبر کا عذاب واقعی بڑا سخت ھے.. جب ھمارا وہ دوست کچھ بہتر ھوا تو ھمیں کہنے لگا.. "یہ مجھے میرے گناھوں کی سزا اور رب العزت کی جانب سے راہ راست بر آنے کا اشارہ ملا ھے.. میں شراب اور دوسرے بہت سے گناھوں میں مبتلا ھو چکا تھا.. اس لیے شاید مجھے دنیا میں ھی قبر کی ھولناکیاں دکھائی گئی ھیں تاکہ راہ راست پر آجاؤں_____!!"
موت ایک کڑوا سچ ھے جسے ھر ذی نفس نے برداشت کرنا ھے.. اور اس "کڑوے سچ" کا پہلا مرحلہ قبر ھے جہاں نہ بجلی ھے کہ کوئی بلب جلا کے روشنی مل جاۓ گی اور نہ پانی ھے کہ گھبراھٹ میں بندہ دو گھونٹ پی کے تھوڑا حوصلے میں آجاتا ھے.. وہ ایک اوپر نیچے ' دائیں بائیں سے بند گڑھا ھے جس میں نہ کوئی روشنی کا ذریعہ ھے اور نہ کوئی ھوا کا.. اوپر منوں مٹی_____ نہ کوئی فریاد سن سکتا ھے نہ کوئی وھاں آپ کی حالت دیکھ سکتا ھے.. وھاں اللہ کی رحمت اور دنیا میں کیے گئے نیک اعمال ھی ھیں جو آپ کی تسکین کا ذریعہ بن سکتے ھیں..
آپ سب سے التجا کروں گا کہ دیکھیں ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا.. ابھی بھی وقت ھے.. آئیں توبہ کر لیتے ھیں.. ھمارا کریم اللہ تو ھماری بخشش کے بہانے تلاش کرتا ھے.. اس نے ایک بار پھر ھمیں بخشش کا موقع دیا ھے.. اسے ضائع نہ ھونے دیں.. رحمت ' مغفرت اور دوزخ سے آزادی کا ھمیں آج سے پھر ایک بار سنہری موقع مل رھا ھے..
کتنے ھی ھم میں سے ایسے تھے جو پچھلے سال ھمارے ساتھ تھے مگر اس بار ھمارے ساتھ نہیں ھیں ' لقمئہ اجل بن گۓ ھیں..
خدارا ان ساعتوں کو غنیمت جانیں.. ان میں ھی اپنے رحیم رب کو راضی کر لیں.. اسی میں ھی ھماری دنیا اور آخرت کی بھلائی ھے....!!!

نمبر ایکمسجد بھی کیا عجیب جگہ ہے. جہاں غریب باہر اور امیر اندر بھیک مانگتا ہےنمبر دوبارات میں دولہا پیچھے اور دنیا آگے چ...
17/05/2021

نمبر ایک
مسجد بھی کیا عجیب جگہ ہے. جہاں غریب باہر اور امیر اندر بھیک مانگتا ہے

نمبر دو
بارات میں دولہا پیچھے اور دنیا آگے چلتی ہے جبکہ میت میں جنازہ آگے اور دنیا پیچھے چلتی ہے. یعنی دنیا خوشی میں آگے اور غم میں پیچھے ہو جاتی ہے ..!

نمبر تین
موم بتی جلا کر مُردوں کو یاد کرنا اور موم بتی بجھا کر سالگرہ منانا ..!

نمبر چار
عمر بھر بوجھ اٹھایا ایک کیل نے اور لوگ تعریف تصویر کی کرتے رہے.

نمبرپانچ
پازیب ہزاروں روپے میں آتی ہے، پر پیروں میں پہنی جاتی ہے اور بِندیا 1 روپے میں آتی ہے مگر پیشانی پر سجائی جاتی ہے. اس لئے قیمت معنی نہیں رکھتی قسمت معنی رکھتی ہے.

نمبر چھ
نیم کی طرح کڑوا علم دینے والا ہی سچا دوست ہوتا ہے،
میٹھی بات کرنے والے تو چاپلوس بھی ہوتے ہیں. تاریخ گواہ ہے کہ آج تک نیم میں کبھی کیڑے نہیں پڑے اور مٹھائی میں تو اکثر کیڑے پڑ جایا کرتے ہیں.

نمبر سات
اچھے راستے پر کم لوگ چلتے ہیں لیکن برے راستے پر اکثریت چلتی ہے
نمبر آٹھ سب سے پیاری بات جو مجھے بہت پسند آی
شراب بیچنے والا کہیں نہیں جاتا،
پر دودھ بیچنے والے کو گھر گھر اور گلی کوچے بھٹکنا پڑتا ہے
دودھ والے سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ دودھ میں پانی تو نہیں ڈالا؟
جبکہ شراب میں خود ہاتھوں سے پانی ملا ملا کر پیتے ہیں.

سوچئے گا ضرور.

31/01/2021

Address

Talagang

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aabi Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aabi Malik:

Share