Khareedo/Becho

Khareedo/Becho خرید و فروخت کا معیاری اور سچا پلیٹ فارم جس میں آپ اپنی ضرورت کی چیز خرید اور بیچ سکتے ہیں

12/04/2024

تحریر: نیاز احمد کھوسہ ایڈووکیٹ

بھاولنگر واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیئے

بھاولنگر میں پولیس اور فوج کا آپس میں صلح ہوچکی ہے، اب آتے ہیں کہ اصل حقائق کی جانب جس کی وجہ سے مُلک کے دو بڑے ادارے یعنی بڑا بھائی چھوٹے بھائی سے لڑپڑا-

اصل حقائق :

بھاولنگر کے تھانہ مدرسہ کے ایس ایچ او رضوان پہلے پولیس میں سپاہی تھا - گیارہ سال کی نوکری کے بعد ایک امتحان پاس کرکے اے ایس آئی ہوگیا بعد میں ترقی پا کر سب انسپیکٹر ہوگیا !!! اب تک ان کو پولیس میں 24 سال ہوگئے ہیں، کافی تجربہ کار پولیس افسر ہیں کافی تھانوں میں ایس ایچ او رہ چُکے ہیں-

ایس ایچ او رضوان کے پاس ایک سپاہی علی نام کا ہے، علی اور رضوان پولیس میں کانسٹیبل ایک ساتھ بھرتی ہوئے تھے بطور کانسٹیبل گیارہ سال تک ایک ساتھ کام کیا تھا !!!! اسی وجہ سے جہاں بھی کوئی اطلاع یا ریڈ ہوتا ایس ایچ او رضوان، کانسٹیبل علی کو اپنے ساتھ رکھتا تھا

کانسٹیبل علی نے ایک ملزم سے ایک پسٹل برآمد کیا اور ایس ایچ او رضوان نے ملزم سے چالیس ہزار لے کر اُس کو چھوڑ دیا ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ اُس نے یہ پسٹل عمران نامی بندے سے خریدا ہے!!!!

کانسٹیبل علی، عمران کو گرفتار کرکے لاتا ہے اور پوچھ گچھ کے دوران عمران بتاتا ہے کہ اُس نے پسٹل رفاقت نامی شخص سے خریدا ہے!!! ملزم عمران کو بھی ایس ایچ او رضوان چالیس ہزار کی ڈیل کے بعد چھوڑ دیتا ہے !!! اب رفاقت کی گرفتاری اور “ رہائی” کی باری تھی

ایس ایچ او رضوان اور کانسٹیبل علی، رفاقت کو گرفتار کرنے چلے جاتے ہیں !!! رفاقت گھر پر نہیں تھا!!! رفاقت کے بھائی انور سے ایس ایچ او نے ایک لاکھ روپیہ مانگا کہ یا تو رفاقت کو پیش کرو یا ایک لاکھ دو !!!! انور نے حامی بھرلی کہ دوسرے دن وہ ایک لاکھ کا بندوبست کرکے ایس ایچ او رضوان کو تھانہ پر دے آئے گا

دوسرے دن انور سے ایک لاکھ کا بندوبست نہیں ہوسکا اس پر ایس ایچ او صاحب بُہت ناراض ہوئے اور انور اور رفاقت کو گرفتار کرنے اُن کے گھر پر چلے گئے!!! انور کا ایک بھائی پاک فوج میں کمانڈو ہے وہ بھی اُس وقت گھر پر موجود تھا!!! گھر پر ایس ایچ او اور انور والوں کی تقرار ہوگئی!!!
اہل محلہ بھی جمع ہوگئے اُن لوگوں نے ایس ایچ او اور کانسٹیبل علی کو پکڑ کر بٹھا لیا کہ ایک لاکھ روپیہ کس چیز کا لینے آئے ہو !!!! ایس ایچ او رضوان نے 15 پر فون کرلیا !!! 15 سے Elite force کی تین چار گاڑیاں انور کے گھر پہنچیں اور Elite force کے جوانوں نے سب بندوں کو مار مار گاڑیوں میں ڈالا اسی دوران انور کے بزرگ والدہ اور بھابی کو بھی مارا گیا

تھانے آکر ایس ایچ رضوان نے سب کی اچھی طرح سے دُھلائی کی یہاں تک کہ انور ورک اور دوسرے گرفتار شُدہ افراد کو پیچھے سے پیٹرول بھی ڈالا گیا اور سب کے خلاف کار سرکار میں مُداخلت کا پرچہ دے دیا گیا !!! پرچے میں عورتوں کے نام بھی ڈال دیئے گئے

ڈی پی او صاحب کو بتایاگیا کہ ڈکیتوں کا ایک گروپ پکڑا گیا ہے، ڈی پی او صاحب نے ایس ایچ او رضوان کو کہا کہ ان کو تُن کے رکھو !!!! ڈی پی او صاحب کے ایسے ایس ایچ او “ کمائو پتر “ ہوتے ہیں اور اُن کو ڈی پی او صاحب کی غیر مشروط حمایت حاصل ہوتی ہے

پولیس کے بے پناھ تشدد کی وجہ سے انور اور دیگر ساتھیوں جس میں فوج کے حاضر سروس جوان بھی تھے اُن کی حالت خراب ہوگئی!!! دوسرے دن انور کے رشتیداروں نے ایس ایچ او رضوان سے رابطہ کیا !!! رضوان نے مُبینہ طور پر اُن سے پانچ لاکھ روپیہ کا مطالبا کیا !!!! تھانے سے مایوس ہوکر انور کے رشتداروں نے ہائیکورٹ میں پٹیشن داخل کردی: ہائیکورٹ نے ایس ایچ او کو نوٹس کردیا کہ ملزمان کو ہائیکورٹ میں پیش کیا جائے !!!!

ایس ایچ او رضوان نے ڈی پی او کو بتایا کہ عدالت کا ریڈ نہ ہوجائے اور ڈی پی او کی رضامندی سے ملزمان کو تخت محل تھانہ میں منتقل کردیا گیا !!!!
تھانہ تخت محل کے ایس ایچ او نے جب دیکھا کہ ملزمان کی حالت خراب ہے اور سارے لوگ پولیس کے تشدد کی وجہ سے زخمی ہیں تو ایس ایچ او تخت محل نے ملزمان کو سول ہسپتال بھاولنگر میں چھوڑ کر چلا گیا:
جیساکہ پولیس تشدد کی وجہ سے زخمیوں میں فوج کے جوان بھی تھے انھوں نے ہسپتال سے اپنے یونٹ کمانڈر سے فون پر رابطہ کیا اور یونٹ کمانڈر سول ہسپتال پہنچ گیا اور اُس کو ساری صورت حال کا وہاں پتہ چلا اور اُس نے اپنے سینئر کمانڈ کو ساری صورت حال کا بتایا !!!!

فوج کے سینئر افسران نے ہسپتال میں زخمیوں سے معلومات لیں اور انور کی والدہ، والد اور بہن کو Elite کے جوانوں زردکوب کیا تھا اور اُن کو لاتین ماری گئی تھیں اُن سے بھی پوچھ گچھ کی گئی اور بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ ان کا بھی وہی حشر کیا جائے جس طرح پولیس نے کیا ہے !!!!!

اُس کے بعد فوج کا کیا ردعمل آیا اُس کے متعلق کچھ لکھنے کی اسلیئے ضرورت نہیں کہ لوگ سوشل میڈیا پر سب کچھ دیکھ چُکے ہیں:!!!!

ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے !!!! اب یہ فیصلہ قارئین نے کرنا ہے کہ قصور وار کون ہے !!!! ایسے واقعات ایسے اضلا میں ہوتے ہیں جہاں کے ڈی پی او یا ایس ایس پی صآحبان سائلوں سے دور بھاگتے ہیںُ- تھانے کا ایس ایچ او یہ سب کچھ کررہا ہے اور اُس کو روکنے ٹوکنے اور لغام دینے والا ڈی پی او آگر اُس کے ساتھ کھڑا ہو تو اس قسم کا ردعمل آنا قدرتی بات ہے!!!!

23/06/2023

امیر باپ غریب باپ کتاب آپکے لیے کیا کریگی

1 اس تصور کے پرخچے اڑا دیگی کہ آپکو امیر بننے کیلئے بہت زیادہ آمدنی کمانے کی ضرورت ہے،
2 اس اعتقاد کو چیلنج کریگی کہ آپ کا گھر ایک سرمایہ ہے،
3 والدین کو یہ باور کروائیگی کہ انہیں اپنے بچوں کو دولت کے بارے میں سکھانے کے لئے سکول کے نظام پر انحصار نہیں کرنا چاہیے ،
4"ہمیشہ کے لیے ایک سرمایہ اور ایک ذمہداری کی تعریف سر نجام دیگی،
5"آپکو یہ درس دیگی کہ آپکو بچوں کو دولت کے بارے میں کیا سکھانا ہے تاکہ وہ مستقبل میں مالیاتی کامیابی سے ہم کنار ہو سکیں

23/06/2023

لوگ آمدنی میں اضافے کے حوالے سے جو جدوجہد کرتے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ برس ہا برس سکول میں گزارتے تو ہیں لیکن دولت کے بارے میں کچھ سیکھ نہیں پاتے،اسکے نتیجے میں لوگ دولت کمانے کے لیے کام کرنا تو سیکھ جاتے ہیں ، لیکن یہ کبھی نہیں سیکھ پاتے کہ دولت ان کے لیے کیسے کام کریگی

رابرٹ کایوساکی

23/06/2023

امیر باپ غریب باپ کتاب کسی بھی ایسے فرد کیلئے ایک نکتہ آغاز ہے جو اپنے مالی مستقبل پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا خواہاں ہے

یو ایس اے ٹوڈے

کتاب کا نام ، امیر باپ غریب باپ
23/06/2023

کتاب کا نام ، امیر باپ غریب باپ

23/06/2023

دولت کمانے کے وہ کون سے گر ہیں جو امیر طبقہ اپنے بچوں کو سکھاتا ہے ،
جبکہ غریب اور متوسط طبقہ ایسا کرنے سے محروم ہو جاتا ہے

23/06/2023

السلام علیکم دوستو

06/05/2023
06/05/2023

قابل غور
سوات میں آڑو کا سیزن شروع ہو چکا ہے اور ہر باغ تک قا د یا نیو ں کا کارٹن پہنچ چکا ہے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ قا د یا نی کارٹن سے بائیکاٹ کیا جائے اور اس کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے -

اٽو 64 رپيا ڪلو ۾ وٺو, وڌيڪ اگھ نـ ڏيو, اگر ڪو دڪاندار, چڪي مالڪ يا مل مالڪ اٽو منھنگو وڪرو ڪري تـ پوء توھان انھن جي خلا...
23/09/2022

اٽو 64 رپيا ڪلو ۾ وٺو, وڌيڪ اگھ نـ ڏيو, اگر ڪو دڪاندار, چڪي مالڪ يا مل مالڪ اٽو منھنگو وڪرو ڪري تـ پوء توھان انھن جي خلاف تر جي ڪنزيومر پروٽيڪشن ڪورٽ/جيوڊيشل ميجسٽريٽ وٽ سنڌي ۾ درخواست لکي انھن نوٽيفيڪيشن کي ساڻ ڪري اھو لکي جمع ڪرايو,

تـ سرڪار اٽي جو اگھ 64 رپيا مقرر ڪيو آھي پر دڪاندار/مل/چڪي مالڪ انھي کي وڌيڪ اگھ ۾ وڪرو ڪري رھيو آھي, آئون رياست جو شھري آھيان مونسان انصاف ڪيو وڃي ۽ اٽو وڪرو ڪندڙ جي خلاف قانوني ڪاروائي ڪئي وڃي,

انھن درخواست لاء وڪيل ڪرڻ جي بـ ضرورت ڪونھي, درخواست سنڌي ۾ لکي سڌو جج وٽ پيش ٿيو,

پنھنجي حقن لاء آواز اٿاريو, اڳتي اچو, پنھنجا قانوني حق گھرو, توھان سنڌ واسين کي قانوني رستو آئون ٻڌائينداس,

سنڌ جي ھر شھر ۽ ھر ڳوٺ جي دڪاندران ۽ مل مالڪن جي خلاف اھڙا ڪيس داخل ڪريو تـ اٽو سستو ملي,

اٽي جي کوٽ جي فڪر نـ ڪريو, پاڪستان جي آئين جي آرٽيڪل 09 جي تحت سرڪار پابند آھي اٽو ڪنھن بـ ٻاھرين ملڪ مان گھرائي توھان تائين پھچائيندي, اٽي ۽ ڪڻڪ جي ھٿرادو کوٽ نـ ٿيندي, بس توھان اڳتي اچي اٽو منھنگو وڪڻڻ واري جي خلاف درخواستون جمع ڪرايو.

Address

Hydrabad Road Tando Adam
Tando Adam
68050

Telephone

+923163768799

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khareedo/Becho posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Khareedo/Becho:

Share