13/05/2022
حضرت عائشہؓ فرماتی ھیں کہ الله کے رسولﷺ جوتا گانٹھ رھے تھے اور میں چرخہ کات رھی تھی اس دوران میری نظر جو رسول اللهﷺ کی طرف اٹھی تو کیا دیکھتی ھوں کہ پسینے کے قطرے چہرہ انور پہ جگمگا رھے ھیں ـ ھر قطرے میں ایک نور کا تارا سا بنتا جو پھیلتا چلا جاتا ـ میں اس منظر پہ مبہوت ھو کر رہ گئ اور بس ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم والی کیفیت میں چلی گئ کہ اچانک نبی پاکﷺ کی نظر مجھ پر پڑی اور میری کیفیت دیکھ کر آپۖ بھی چونک گئے ـ پوچھا عائشہؓ یوں کیا گھورے چلی جا رھی ھو ـ؟
میں نے عرض کیا میرے ماں باپ قربان آپﷺ کا چہرہ تاروں کا مسکن بنا ھوا ھے اک نور آ رھا ھے ـ اک جا رھا ھے ـ لگتا ھے بجلیاں کوند رھی ھیں ـ بخدا اگر ابو کبیر ھذلی آج آپﷺ کو دیکھ لیتا تو اسے معلوم ھو جاتا کہ اس کے اشعار کا صحیح مصداق تو آپﷺ ھیں ـ آپﷺ نے فرمایا ھذلی کے وہ اشعار کونسے ھیں ـ؟
حضرت عائشہؓ نے وہ اشعار پڑھ دیئے جن کا ترجمہ ھے کہ ـ!
•میں نے اس کے رخِ تاباں پہ نظر ڈالی تو اس کی شان درخشندگی ایسی تھی ـ کہ گویا بدلی کا کوئی ٹکڑا ھے کہ جس میں بجلیاں کوند رھی ھیں•
یہ سننا تھا کہ آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے سارا سامان ایک طرف رکھ دیا اور صدیقہؓ کی پیشانی کو چوم کر فرمایا "عائش" جو سرور مجھے تیرے کلام نے پہنچایا ھے اس قدر سرور تجھے میرے نظارے سے حاصل نہیں ھوا ھو گا ـ!
یہ وہ ھستیﷺ ھے جس کو الله پاک قرآن میں فرماتا ھے " اے نبیۖ تم ھماری نگاھوں میں بستے ھو " فأنک باعیننا " اور الله پاک فرماتا ھے کہ جب آپﷺ قیام میں ھوں یا سجدہ ریز اصحاب کے درمیان سے گزر کر آ جا رھے ھوں ھم بس آپﷺ کو ھی دیکھتے ھیں ـ " الذی یراک حین تقوم ، وتقلبک فی الساجدین° جس نبیﷺ کی پوری عمر کی قسمیں کھاتا ھے ـ عیب لوگ لگائیں تو صفتیں الله بیان کرتا ھے ـ آپﷺ جب پانی پیتے تو حضرت عائشہؓ کو پہلے پینے کو دیتے اور پھر پانی باقی ھوتا کہ ان سے پانی چھین لیتے اور حضرت عائشہ کو دکھا کر ٹھیک وھاں منہ رکھ کر پانی پیتے جہاں حضرت عائشہ نے منہ لگا کر پانی پیا ھوتا ـ!
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ ﷺ نُّوْرِ الْاَنْوَارِ وَ سِرِّ الْاَسْرَارِ وَ سَیِّدِ الْاَبْرَارَ
محترم غلام عباس کی وال سے۔ ۔۔