03/05/2026
بریکنگ نیوز: اسرائیل کی امریکہ سے F-35 اور F-15 اسٹیلتھ طیاروں کے مزید 2 سکواڈرنز خریدنے کی منظوری – ایران جنگ کے بعد تل ابیب کا بڑا فیصلہ! 🚨🇮🇱🇺🇸✈️🔥
ایران کے ساتھ حالیہ 40 روزہ جنگ (آپریشن رورنگ لائن) سے سبق سیکھتے ہوئے، اسرائیل نے اپنی فضائی قوت کو مزید مہلک بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ اربوں شیکلز کے نئے دفاعی معاہدوں کی منظوری دے دی ہے۔ 📉🕵️♂️
⃣ جدید ترین طیاروں کی خریداری: 🚀🛡️
اسرائیلی وزارتِ دفاع نے لاک ہیڈ مارٹن سے F-35I (چوتھا سکواڈرن) اور بوئنگ سے F-15IA (دوسرا سکواڈرن) خریدنے کا پلان فائنل کر لیا ہے۔ اس سے اسرائیل کے پاس F-35 طیاروں کی کل تعداد 100 اور F-15IA کی تعداد 50 ہو جائے گی۔
️⃣ امریکہ سے اسلحے کا سمندر پہنچ گیا: 🚢📦
صرف گزشتہ ایک ہفتے میں امریکہ سے 6,500 ٹن وزنی فوجی ساز و سامان اسرائیل پہنچا ہے، جس میں ہزاروں گراؤنڈ اور ایئر گولہ بارود، فوجی ٹرک اور جدید بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔ 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1,15,600 ٹن سے زائد اسلحہ 403 پروازوں اور 10 بحری جہازوں کے ذریعے اسرائیل پہنچ چکا ہے۔
️⃣ ایران جنگ کے اسباق: ⚠️🗺️
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ مہم نے فضائی برتری کی اہمیت ثابت کر دی ہے۔ ان طیاروں کی خریداری کا مقصد اگلے کئی عشروں تک خطے میں اسرائیل کی فوجی برتری (Military Edge) کو برقرار رکھنا ہے۔
تجزیہ: کیا اسرائیل دوبارہ حملے کی تیاری کر رہا ہے؟ 🤔🌍
وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹر جنرل امیر بارم کے مطابق، یہ خریداری اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ اسرائیلی فوج کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ دوبارہ "پوری قوت" کے ساتھ کارروائی کے لیے تیار رہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر اسلحے کی آمد ظاہر کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئی اور بڑی لہر کی تیاری کی جا رہی ہے۔ 🌍⚖️
بڑا سوال: 🤔🏛️
کیا امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو ان جدید ترین طیاروں اور ہزاروں ٹن اسلحے کی فراہمی مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر دے گی؟ کیا ایران اس نئی صف بندی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے؟