26/08/2026
12 ربیع الاول اور ہمارا اصول — دین دلیل سے ہے، رسم و رواج سے نہیں
اگر 12 ربیع الاول کو باقاعدہ دینی تہوار، جشن یا مخصوص عبادت قرار دینے کے لیے قرآن و صحیح سنت سے دلیل طلب کی جاتی ہے، تو یہی اصول ہر مکتبِ فکر پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
سوال یہ نہیں کہ کون سا گروہ کیا کرتا ہے؛
اصل سوال یہ ہے:
کیا نبی ﷺ نے یہ عمل کیا؟
کیا صحابہؓ نے کیا؟
کیا اس کی شرعی حیثیت قرآن و صحیح حدیث میں ثابت ہے؟
اگر 12 ربیع الاول کو نبی ﷺ، صحابہؓ اور خیر القرون نے اس مخصوص طریقے سے نہیں منایا، تو اسے دین کا لازمی حصہ یا مخصوص ثواب والی عبادت بنانا دلیل کا محتاج ہے۔
اور یہی اصول ان اعمال کے بارے میں بھی ہونا چاہیے جو بعض دوسرے حلقوں میں رائج ہیں۔
مثلاً:
🔹شب جمعہ، 3 دن، 40 دن یا مخصوص مدت کے لیے دینی جماعتی سفر کواور مخصوص علماء کے خود ساختہ بناۓ ہوۓ چھ نمبر کی تبلیغ اگر کوئی لازم، مخصوص شرعی طریقہ یا سنتِ مقررہ سمجھتا ہے تو اس دعوے کے لیے واضح دلیل چاہیے۔
🔹 کسی مخصوص تعداد، مخصوص مدت یا مخصوص اجتماع کو دین میں مقرر کرنا، اگر نبی ﷺ سے ثابت نہ ہو، تو اسے نبی ﷺ کی سنت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
🔹 دین میں اصل یہ ہے کہ عبادت وہی ہے جس کی دلیل ہو؛ محض نیک مقصد ہونا کسی نئے طریقۂ عبادت کو سنت نہیں بنا دیتا۔
🔹 اسی لئے بریلوی ہی نہیں صرف بلکہ بے تحاشہ جگہ دیو بندی حضرات بھی بدعت میں مبتلا ہیں دین سمھج کر اسکو کرتے ہیں۔
🔹 اصل معیار شخصیت یا جماعت نہیں بلکہ قرآن اور صحیح سنت ہے۔
لہٰذا اگر ہم دوسروں سے پوچھتے ہیں:
"12 ربیع الاول کہاں ثابت ہے؟"
تو ہمیں اپنے اعمال کے بارے میں بھی یہی سوال قبول کرنا چاہیے:
"یہ مخصوص طریقہ، مخصوص دن، مخصوص تعداد اور مخصوص فضیلت نبی ﷺ سے کہاں ثابت ہے؟"
نہ بریلوی کو صرف اس لیے صحیح مانیں کہ وہ بریلوی ہے،
نہ دیوبندی کو صرف اس لیے صحیح مانیں کہ وہ دیوبندی ہے،
نہ کسی امام اور مبلغ کی ہر بات کو وحی سمجھیں، اسکی ہر بات کو قرآن و حدیث کے پیمانے پر رکھیں تو معلوم ہوگا سچ کیا ہے ، دین کیا ہے اصل ؟ اور کہانی کیا ہے جو ہمیں دوسروں کو گندا سمجھنے کے لئے بتائی جاتی ہے۔
حق وہی ہے جو قرآن و صحیح سنت سے ثابت ہو۔
نوٹ: یہ ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی برتھ ڈے اور سالگرہ کا دن ہے۔۔ بےحد باعث خوشی ہے مگر اسکو منانا بھی سنت طریقے بسے ہونا چاہئے جو کہ اس دن روزہ رکھنا ثابت ہے صحیح حدیث میں اور اسکے ساتھ درودوسلام اور سیرت النبی صہ گھر والوں کو سکھائ اور پڑھائی جاۓ نا کہ جھنڈے لائٹیں اور جلوس نکال کر جو نیکی کا باعث نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شخصیت پرستی، جماعت پرستی اور رسم و رواج سے اوپر اٹھ کر کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کو معیار بنانے کی توفیق دے۔ آمین۔