Muhammad Tahir Rajput

  • Home
  • Muhammad Tahir Rajput

Muhammad Tahir Rajput Without motivation, our potential remains hidden.

✨ The Connection:
Positive emotions fuel motivation, and strong motivation helps us control emotions.

🔥 Official Page of Muhammad Tahir
📍 Saudi Arabia 🇸🇦
⚡ Safety Officer | HSSE Content Creator
🎥 Daily Life • Safety Awareness • Motivation
🦺 NEBOSH IGC | IOSH Managing Safely
💡 Learn • Grow • Stay Safe
📩 Follow for Professional & Real Life Content 🌸 Emotions & Motivation 💫 🌸

Life is not just about breathing, it’s about how our emotions and motivation shape our journey.

💡 Emotions:
They are the fee

lings in our heart — happiness, sadness, anger, fear, and love. Emotions influence our thoughts, decisions, and relationships.

🚀 Motivation:
It is the inner drive that pushes us to move forward, achieve our dreams, and face challenges with courage. Balance between the two is the secret to success.

🌟 Lesson:
Understand your emotions, keep them positive, and let motivation be the driving force of your life. That’s how you reach your goals. 💯

27/10/2025

7 Secrets You Must Keep to Yourself | Motivational Speech by Billy Graham

Discover the 7 powerful secrets that can transform your life when you keep them to yourself. In this inspiring motivational speech by Billy Graham, learn the importance of silence, wisdom, and inner strength on the path to success.
💬 Watch till the end your mindset will never be the same again!

27/10/2025

7 Signs God Just Sent the Right Person Into Your Life | Billy Graham

When God sends the right person into your life, everything starts to make sense. 💫
In this powerful message by Billy Graham, discover 7 divine signs that reveal when someone is truly meant for you.
Watch carefully this could change how you see love, faith, and destiny forever. 🙏❤️

💔 عنوان: "وہ لندن چلی گئی"وہ اُس سے دو سال تک محبت کرتا رہا — سچی، خالص اور بے غرض محبت۔وہ غریب تھا، لیکن دل کا امیر…وقت...
25/10/2025

💔 عنوان: "وہ لندن چلی گئی"

وہ اُس سے دو سال تک محبت کرتا رہا — سچی، خالص اور بے غرض محبت۔
وہ غریب تھا، لیکن دل کا امیر…
وقت دیا، خیال رکھا، خواب سجائے — سب کچھ۔

وہ اکثر کہتی تھی،

> "مجھے دولت نہیں چاہیے، بس تم چاہیے۔"
اور اُس نے یقین کر لیا۔

دونوں نے مستقبل کے خواب دیکھے —
ایک چھوٹا سا گھر، بڑی محبت، سادہ زندگی۔

مگر ایک دن سب بدل گیا۔
اُس کے میسج کم ہونے لگے، کالز رک گئیں، لہجے بدل گئے۔

پھر ایک رات اُس نے کہا،

> "میں تم سے شادی نہیں کر سکتی… میری منگنی لندن میں رہنے والے ایک لڑکے سے ہو رہی ہے۔"

وہ خاموش رہ گیا۔
وہی لڑکی جو کبھی اُس کے بغیر سانس نہیں لیتی تھی،
آج کسی اور کی دولت میں سکون ڈھونڈنے جا رہی تھی۔

اُس نے بس اتنا کہا،

> "میں دعا کرتا ہوں، وہ تمہیں سب کچھ دے جو میں نہیں دے سکا…
لیکن یاد رکھنا، تمہیں میری جیسی محبت کوئی نہیں دے گا۔"

وہ لندن چلی گئی۔
اور وہ؟
اب بھی وہیں ہے — یادوں میں، درد میں،
اُس محبت کے ساتھ جس کی کوئی قیمت نہیں۔ 💔

#محبت #دھوکہ #یادیں #زندگی

28/09/2025

تمہاری یاد کا چراغ

رات کی خاموشی گہری ہو رہی تھی۔ بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے پر تھپتھپا رہی تھیں۔ کمرے میں مدھم روشنی جل رہی تھی اور وہ میز پر جھکا ہوا ایک پرانا خط پڑھ رہا تھا۔ خط پر کچھ الفاظ مدہم ہو چکے تھے، لیکن ہر جملے میں ایک ایسی شدت تھی جو دل کے زخم پھر سے ہرا کر دیتی۔

خط میں صرف یہ لکھا تھا:
"اگر قسمت نے چاہا تو ہم دوبارہ ملیں گے، ورنہ تمہاری یاد میرا آخری سہارا ہوگی۔"

یہ خط عائشہ نے لکھا تھا۔ وہی عائشہ جس کی مسکراہٹ نے اس کی زندگی کو رنگین بنایا اور جس کی جدائی نے سب کچھ سیاہ کر دیا۔

پہلی ملاقات

وہ دونوں پہلی بار یونیورسٹی کی لائبریری میں ملے تھے۔ وہ کتابوں کے ڈھیر میں بیٹھی ہوئی تھی، بالوں کی ایک لٹ بار بار اس کی آنکھوں پر آ رہی تھی اور وہ بار بار جھٹک دیتی۔ اس نے ہمت کی اور بات شروع کی۔
"اگر اجازت دو تو یہ کتاب میں رکھ دوں، بالوں سے زیادہ سنبھال لے گی۔"

عائشہ نے چونک کر اوپر دیکھا، پھر ہنس پڑی۔ "کتنی پرانی باتیں کرتے ہو، جیسے کسی ناول کا کردار ہو۔"

یہی وہ لمحہ تھا جب کہانی شروع ہوئی۔ ایک چھوٹی سی بات نے دل کے دروازے کھول دیے۔

بڑھتی قربت

دن گزرتے گئے۔ دونوں کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ کبھی کلاس کے بعد چائے کے اسٹال پر، کبھی پارک کی بینچ پر۔ عائشہ کی آنکھوں میں خواب تھے، اور وہ خواب اسے بھی اپنی دنیا کا حصہ بنانے لگے۔

ایک دن عائشہ نے کہا:
"کبھی سوچا ہے، اگر ہم ایک دوسرے کو نہ ملتے تو زندگی کیسی ہوتی؟"

اس نے مسکرا کر جواب دیا:
"پھر یہ دنیا ادھوری ہوتی، جیسے بارش بغیر بادل کے۔"

عائشہ نے نظریں جھکا لیں۔ شاید دل نے جواب مان لیا تھا۔

اچانک جدائی

لیکن محبت کے سفر میں قسمت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔ ایک دن اچانک عائشہ نے اسے بلایا۔ اس کی آنکھوں میں نمی اور چہرے پر عجیب سکون تھا۔

"ہمیں یہ سب ختم کرنا ہوگا،" عائشہ نے آہستہ کہا۔

"کیا مطلب؟" اس کا دل دھڑکنے لگا۔

"میری شادی طے ہو گئی ہے۔"

یہ الفاظ اس کے دل پر بجلی بن کر گرے۔ وہ کچھ بول نہ سکا۔ صرف اتنا کہا:
"اور ہمارا رشتہ؟"

عائشہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "محبت کبھی ختم نہیں ہوتی، بس وقت ہمیں الگ کر دیتا ہے۔"

خط اور یادیں

شادی کے بعد عائشہ شہر چھوڑ گئی۔ اس نے صرف ایک خط دیا تھا جس میں لکھا تھا:
"اگر قسمت نے چاہا تو ہم دوبارہ ملیں گے، ورنہ تمہاری یاد میرا آخری سہارا ہوگی۔"

وہ خط اس کی زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ بن گیا۔ وہ دن رات اسی کے سہارے جیتا رہا۔

سسپنس کا موڑ

پانچ سال گزر گئے۔ ایک دن وہ شہر کے ہسپتال گیا کسی دوست کی عیادت کے لیے۔ کوریڈور میں اچانک ایک مانوس چہرہ نظر آیا۔ یہ عائشہ تھی۔

لیکن وہ کمزور لگ رہی تھی، آنکھوں کے گرد سائے تھے۔ اس نے کانپتی آواز میں کہا:
"کیا یہ واقعی تم ہو؟"

وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر آہستہ بولا:
"ہاں، میں ہوں… تمہارے خوابوں کا ادھورا ساتھی۔"

عائشہ کے ہونٹ لرز گئے۔ "میں بیمار ہوں… شاید زیادہ وقت باقی نہیں۔"

یہ سن کر اس کا دل ٹوٹ گیا۔

آخری دن

اگلے چند ہفتے وہ روز ہسپتال جاتا۔ دونوں پرانی یادوں میں کھو جاتے۔ عائشہ کہتی:
"کاش وقت پلٹ سکتا، میں سب کچھ چھوڑ کر تمہارے پاس آ جاتی۔"

لیکن قسمت کسی کا لحاظ نہیں کرتی۔ ایک صبح جب وہ ہسپتال پہنچا تو عائشہ کی بیڈ خالی تھی۔ نرس نے بتایا:
"وہ رات کو ہمیشہ کے لیے سو گئی۔"

اس کی دنیا ایک لمحے میں بکھر گئی۔

انجام

وہ اب بھی تنہا رہتا ہے۔ ہر رات وہی خط نکال کر پڑھتا ہے اور کھڑکی کے باہر بارش کی بوندوں کو دیکھتا ہے۔ اس کے دل میں ایک ہی سوال رہ گیا:

"کیا محبت واقعی ختم ہو جاتی ہے یا یادوں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے؟"

شاید اس کا جواب صرف عائشہ ہی دے سکتی تھی۔

20/09/2025

🌹 ادھورا خط – ایک سسپنس بھری محبت کی کہانی 🌹

✨Presented by Emotions & Motivation 💫✨

زندگی کبھی کبھی ایسی کہانیاں لکھ دیتی ہے جو انسان کے تخیل سے بھی آگے نکل جاتی ہیں۔ یہ کہانی ہے **عریشہ اور حمزہ** کی — دو دلوں کی، جو محبت کے رشتے میں بندھے مگر تقدیر نے انہیں جدا کر دیا۔

عریشہ ایک خاموش اور حساس لڑکی تھی۔ اس کی سب سے بڑی عادت خط لکھنا تھی۔ وہ مانتی تھی کہ الفاظ جب کاغذ پر لکھے جاتے ہیں تو وہ صرف جملے نہیں رہتے بلکہ جذبات کی خوشبو اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔

حمزہ ایک خوابوں کا تعاقب کرنے والا نوجوان تھا۔ بڑے مقصد، بڑی خواہشات، مگر دل کے کسی کونے میں عریشہ اس کی سب سے بڑی سکون گاہ تھی۔ دونوں کی محبت شور شرابے والی نہیں تھی بلکہ خاموش اشاروں، چھوٹے چھوٹے تحفوں اور شام کے وقت ہونے والی طویل باتوں میں پنپتی گئی۔

لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔

ایک دن اچانک حمزہ کو ایک کال موصول ہوئی۔ اسے فوراً ملک چھوڑ کر جانا تھا، ایک ایسی نوکری کے لیے جو اس کی زندگی بدل سکتی تھی۔ جانے سے پہلے اس نے عریشہ سے وعدہ کیا:
*"میں ہر ہفتے تمہیں ایک خط لکھوں گا، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔"*

شروع کے دن خوبصورت تھے۔ ہر ہفتے خط آتا، جس میں حمزہ اپنی مشکلات، خوابوں اور محبت کے تذکرے کرتا۔ عریشہ ان خطوط کو ایسے پڑھتی جیسے کوئی کتاب دل کی دھڑکنوں سے لکھی گئی ہو۔

مگر پھر خط آنا بند ہو گئے۔

پہلے ایک ہفتہ، پھر دو، پھر مہینے بیت گئے۔ عریشہ ہر صبح ڈاکیہ کے آنے کا انتظار کرتی، مگر اس کا خط خانہ خالی رہتا۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ کوئی کہتا: *“وہ تمہیں بھول گیا ہے”*، کوئی کہتا: *“اس نے کسی اور کو چن لیا ہے۔”*

لیکن عریشہ کا دل کہتا: *“حمزہ مجھے یوں چھوڑ نہیں سکتا۔”*

بارش کی ایک شام، جب شہر بجلی کی کڑک اور بوندوں کے شور میں ڈوبا ہوا تھا، ڈاکیہ ایک پرانا، آدھا بھیگا ہوا لفافہ لایا۔ لفافہ پھٹا ہوا تھا اور اس پر بھیجنے والے کا کوئی نام نہیں تھا۔ عریشہ نے کانپتے ہاتھوں سے اسے کھولا۔

اندر ایک خط تھا — مگر ادھورا۔
آدھے الفاظ بارش میں بہہ چکے تھے، آدھی سطریں غائب تھیں۔

اس میں لکھا تھا:
*"عریشہ… مجھے معاف کر دینا۔ میں کبھی اس طرح دور نہیں جانا چاہتا تھا۔ کچھ راز ہیں جو میں لکھ نہیں سکتا۔ اگر قسمت نے چاہا تو ہم دوبارہ ملیں گے۔ تب تک… یہ جان لو کہ میری محبت زندہ ہے، چاہے میں نہ بھی رہوں۔"*

عریشہ کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
اس کا مطلب کیا تھا؟
کیا وہ کسی خطرے میں تھا؟
کیا وہ زندہ تھا یا یہ اس کی آخری نشانی تھی؟

وہ الفاظ — *“چاہے میں نہ بھی رہوں…”* — اس کے دل میں گونجتے رہے۔

وقت گزرتا گیا، سال بیت گئے۔ مگر عریشہ نے کبھی شادی نہ کی، کبھی امید نہ چھوڑی۔ ہر شام وہ سورج کو ڈوبتے دیکھتی اور سوچتی کہ شاید حمزہ کا وعدہ ایک دن پورا ہو جائے۔

پھر ایک دن، برسوں بعد، جب وہ ایک پرانی لائبریری گئی، تو سب سے اونچے شیلف پر ایک پرانی کتاب ملی۔ اس کتاب کے صفحات کے درمیان ایک خط چھپا ہوا تھا — اور وہ خط حمزہ کی ہی لکھائی میں تھا۔

خط میں لکھا تھا:
*"اگر تم یہ پڑھ رہی ہو تو سمجھ لو کہ محبت کبھی نہیں مرتی۔ فاصلے، وقت، حتیٰ کہ موت بھی سچی محبت کو ختم نہیں کر سکتی۔ ہماری کہانی ہر دھڑکن، ہر آنسو اور ہر خاموشی میں زندہ رہے گی۔"*

عریشہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، مگر لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ حمزہ زندہ ہے یا نہیں، مگر وہ جان گئی کہ ان کی محبت ہمیشہ کے لیے امر ہو چکی ہے۔

کیونکہ کچھ کہانیاں ختم ہونے کے لیے نہیں ہوتیں… وہ صرف محسوس کرنے کے لیے لکھی جاتی ہیں۔ 💔

✨ Presented by Emotions & Motivation 💫✨

#محبت #کہانی #سسپنس

Address

Punjab

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+447856131411

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Tahir Rajput posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Tahir Rajput:

  • Want your business to be the top-listed Business?

Share