Diamond Blade Runner

Diamond Blade Runner We entertain you with love �

10/02/2026
19/01/2026

پرسنالٹی گرومنگ (Personality Grooming) کی 15 بے رحم اور تلخ حقیقتیں۔
اگر آپ اپنی شخصیت کو واقعی نکھارنا چاہتے ہیں، تو ان میٹھی گولیوں کے بجائے ان کڑوی گولیوں کو نگل لیں۔
۱۔ بدبو دار وجود کی کوئی عزت نہیں
سب سے پہلے نہانا سیکھیں۔ مہنگے کپڑے اور گھڑی پہننے کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ کے منہ سے بدبو آ رہی ہے یا بغلوں سے پسینے کی بو اٹھ رہی ہے۔ لوگ آپ کے کردار تک پہنچنے سے پہلے آپ کی بو سے بھاگ جائیں گے۔ ڈیوڈرینٹ اور ماؤتھ واش آپشن نہیں، مجبوری ہیں۔
۲۔ خیمہ پہننا بند کریں (فٹنگ)
ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن کر آپ ”شریف“ نہیں، بلکہ ”لاپرواہ“ اور ”بے ڈھنگے“ لگتے ہیں۔ درزی کو کپڑا دیتے وقت اسے کہیں کہ کپڑے آپ کے جسم کے مطابق سیے، نہ کہ کسی ہینگر کے لیے۔ کپڑے سستے ہوں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر فٹنگ ٹھیک نہیں، تو آپ کی شخصیت صفر ہے۔
۳۔ ریڑھ کی ہڈی سیدھی رکھیں
کندھے جھکا کر اور پاؤں گھسیٹ کر چلنا بند کریں۔ یہ شکست خوردہ لوگوں کی نشانی ہے۔ سینہ تان کر، سر اٹھا کر اور نظریں ملا کر چلیں۔ آپ کی چال بتاتی ہے کہ آپ لیڈر ہیں یا فالوور۔
۴۔ منہ بند رکھیں (کم بولیں)
ہر موضوع پر رائے دینا ضروری نہیں ہوتا۔ جہاں ضرورت نہ ہو وہاں خاموش رہیں۔ زیادہ بولنے والا انسان اپنی عزت اور وقار کھو دیتا ہے۔ جب آپ کم بولتے ہیں، تو لوگ آپ کو سننے کے لیے ترستے ہیں۔ احمق بول کر اپنا بھرم کھول دیتا ہے۔
۵۔ گالی گلوچ، کمزور دماغ کی نشانی
بات بات پر گالی دینا ”کول“ نہیں، بلکہ ”ذہنی پسماندگی“ ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے اور آپ جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ اپنی زبان کو لگام دیں، ورنہ لوگ آپ کو سڑک چھاپ سمجھیں گے۔
۶۔ روتی صورت مت بنائیں
دنیا کو آپ کے دکھوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہر وقت اپنی مجبوریوں اور بیماریوں کا رونا رو کر ہمدردی سمیٹنا بند کریں۔ مظلومیت (Victim Mentality) آپ کی شخصیت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ مسکرائیں اور مسائل کا سامنا کریں۔
۷۔ کھانے کے آداب (جانور مت بنیں)
کھانا کھاتے وقت چبانے کی آواز نکالنا، منہ کھول کر کھانا یا پلیٹ میں پہاڑ بنا لینا بدتہذیبی کی انتہا ہے۔ اگر آپ ٹیبل مینرز نہیں جانتے، تو آپ کبھی بھی ایلیٹ کلاس یا پڑھے لکھے لوگوں میں نہیں بیٹھ سکتے۔
۸۔ موبائل کو جیب میں رکھیں
جب کسی سے بات کر رہے ہوں اور بار بار فون کی اسکرین دیکھیں، تو یہ اگلے بندے کی تذلیل ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی توجہ کا دورانیہ (Attention Span) ایک مچھر جتنا ہے۔ جس سے مل رہے ہیں، اسے پوری توجہ دیں ورنہ مت ملیں۔
۹۔ جوتے آپ کی اوقات بتاتے ہیں
لوگ چہرہ بعد میں دیکھتے ہیں، جوتے پہلے دیکھتے ہیں۔ ہزاروں کا سوٹ پہن لیں لیکن اگر جوتے گندے یا پھٹے ہوئے ہیں، تو سارا تاثر برباد۔ جوتوں کی صفائی آپ کی باریک بینی کا ثبوت ہے۔
۱۰۔ ناخن تراشیں
بڑھے ہوئے اور میلے ناخن صرف بیماری نہیں پھیلاتے، بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ آپ ذاتی صفائی میں کتنے سست ہیں۔ یہ چھوٹی سی چیز آپ کی پوری گرومنگ پر پانی پھیر سکتی ہے۔
۱۱۔ ”میں“ سے باہر نکلیں
گفتگو میں ہر وقت ”میں نے یہ کیا، میں وہ ہوں“ کرنا بند کریں۔ نرگسیت (Narcissism) دوسروں کو آپ سے دور کر دیتی ہے۔ دوسروں کی بات سنیں اور ان میں دلچسپی لیں۔ خود پرستی کا بت توڑ دیں۔
۱۲۔ توند کم کریں
باہر نکلا ہوا پیٹ دولت کی نہیں، بیماری اور بے ضبطگی کی نشانی ہے۔ اگر آپ اپنے جسم کو کنٹرول نہیں کر سکتے، تو آپ زندگی میں کچھ کنٹرول نہیں کر سکتے۔ فٹنس صرف صحت نہیں، بلکہ ایک ”اسٹیٹمنٹ“ ہے کہ آپ محنتی ہیں۔
۱۳۔ وعدہ خلافی چھوڑ دیں
اگر آپ وقت پر نہیں پہنچ سکتے، تو آپ کی زبان کی کوئی قیمت نہیں۔ ”ٹریفک جام تھا“ کا بہانہ بنانا بند کریں۔ وقت کی پابندی نہ کرنا دراصل دوسروں کے وقت کی چوری ہے۔
۱۴۔ مطالعہ کریں، ورنہ دماغ سکڑ جائے گا
اگر آپ کے پاس ڈگری کے علاوہ کوئی علم نہیں، تو آپ ایک بورنگ انسان ہیں۔ حالات حاضرہ، تاریخ اور نفسیات پڑھیں۔ خالی دماغ کے ساتھ اچھی ڈریسنگ بھی آپ کو صرف ایک ”پتلا“ بناتی ہے۔
۱۵۔ ”ناں“ کہنا سیکھیں
ہر کسی کے لیے دستیاب رہنا بند کریں۔ جو ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ آخر میں خود ذلیل ہوتا ہے۔ اپنی حدود (Boundaries) مقرر کریں اور فضول کاموں کو سختی سے ”ناں“ کہیں۔

شخصیت بازار سے خریدی گئی کریموں سے نہیں، بلکہ ڈسپلن، صفائی اور شعور سے بنتی ہے۔ شیشے میں دیکھیں اور خود کو ٹھیک کریں، اس سے پہلے کہ دنیا آپ کو مسترد کر دے۔
#

جاوید_تیموری

11/09/2025

کے_وٹامن

لوگوں کو سپیس دیا کریں ۔۔بدگمان ہونےمیں جلدی نہ کیا کریں۔۔۔
تصویرکا ایک رخ دیکھنےپرہی اکتفانہ کی اکریں۔۔۔ظاہری طورپہ جو دیکھا، بس اسی کواپنے فیصلے کی حتمی اورآخری بنیاد نہ بنا لی اکریں۔۔۔ جوکچھ آپ میں ہے وہ دوسروں میں تلاش نہ کیا کریں۔ جس صفت سےاللہ نےآپکو متصف کیا ہے یا جن صلاحیتوں سےاللہ نےآپ کونوازا ہےممکن ہےدوسرےلوگ اسی انداز سے کام کرنےسے قاصر ہوں۔۔۔کمی بیشی ہو جاتی ہے
Over or Under estimation, false prediction or misunderstanding
نےکتنے ہی قیمتی تعلقات کونگل لیا۔۔۔۔اونچ نیچ ہو جاتی ہے۔۔۔ایک بار نہیں بار بار ہو جاتی ہے۔۔۔دل بڑا رکھیں۔۔۔وہ غلطیاں جو آپ سےبھی ہو جاتی ہیں، پھر انھی غلطیوں کےدوسروں سے سرزد ہونے پر کیوں غصے ہوتے ہیں؟؟ وہ بھی تو انسان ہیں۔۔۔
اگر آج آپ میچور ہو چکےہیں یا کل کی نسبت بہتر ہو گئے ہیں تو کیوں بھول گئے ہیں کہ کل آپ بھی تو غیر پختہ تھے۔۔۔ناتجربہ کار تھے۔۔۔غلطیاں کرتے تھے۔۔۔اور غلطیاں کرکےاس بات کی توقع کرتےتھے، تمناکرتےتھےکہ آپ کی غلطیوں کو نظرانداز کر کے معافی دی جائے، بہتری لانے کا موقع اور مزید وقت دیا جائے۔۔۔
ایک وقت تھا جب آپ کی غلطیوں پر آپکی سرزنش ہوتی تو آپ کو دکھ ہوتا۔۔۔آج وہ دکھ دوسروں کو کیوں دینا چاہتے ہیں؟؟
کیا اس وقت آپ دل ہی دل میں یہ نہیں کہتےتھےکہ مجھےڈانٹ نہ پلائ جائے بلکہ پیار سے سمجھایا جائے ؟؟۔۔۔آج جب آپ کو موقع ملا ہےیا آپ کو منصب ملا ہےتوآپ کیوں اپنا ماضی بھول کرخود کو کامل سمجھ بیٹھے؟؟ جیسےیہ سب کچھ آپ نے کبھی کیا ہی نہیں ؟؟؟

یا پھر ایک غلط اندازیہ بھی ہےکہ
#اگر میں یہ کام کرسکتا ہوں تو وہ کیوں نہیں ؟

#میں اتنی تنخواہ میں گزارہ کر سکتا ہوں تو وہ کیوں نہیں؟؟

#میں اتنا چل سکتا ہوں تو وہ کیوں نہیں؟؟

#میں اس صورتحال کو سمجھ سکتا ہوں تو وہ کیوں نہیں؟؟

#میں یوں کرسکتا ہوں تو وہ کیوں نہیں۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

اللہ کے بندو !! اللہ نے ہر ایک کی کیپیسٹی مختلف بنائ، مزاج وطبیعت مختلف بنائے، کام کرنےکا ڈھنگ اور اندازمختلف بنایا، ہرایک کی مجبوریاں الگ الگ، درپیش چیلنجز الگ الگ، منصوبہ بندی الگ الگ، قسمت ونصیب الگ الگ۔۔۔۔ آپ دوسروں کو خودپہ محمول کریں اور سب کواپنےجیسےنتائج دکھانے پر مجبور کریں۔۔۔یہ چھوٹی بچگانہ سوچ ہےآپ کی۔۔۔ اپنی سوچ کوبڑا کریں جیسےاللہ پاک نےآپ کوجسمانی طورپہ Grow کیا، اپنی سوچ کو بھی وسعت دینےکی کوشش کریں اور حالات اور لوگوں سےڈیلنگ یا پرکھ کا ایک ہی زاویہ مت رکھیں۔۔۔چیزوں اور حالات کومختلف اینگلز سےٹیکل کرنا سیکھیں۔۔۔سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جاتا۔
سونے اور کوئلےکوتولنے کے باٹ ایک جیسےنہیں ہوتے۔۔۔ اورنہ ہی ان کی مارکیٹ ایک ہوتی ہے۔۔۔ آپ ہر جگہ مثالی ماحول بنانےکی کوشش میں خودکوتھکا لیں گے۔۔۔کہاں ممکن ہے کہ سب آپ سےاتفاق کرنےوالے ہوں؟
ہرچیز کو ٹھیک کرنےاورہرجگہ الجھنے کی بجائے کمپرومائزنگ نیچر کے ساتھ کچھ چیزوں کو بائ پاس کرنےسےآپ ذہنی وجسمانی طورپہ صحتمند بھی رہیں گےاورپسندیدہ بھی۔۔۔ورنہ آپ کاہرجگہ اورہرماحول میں مصلح یا مجاہد بننےکاشوق تلخیوں کو بڑھائے گا اور سدھار کی بجائےبگاڑ پیدا ہو گا۔۔۔۔اللہ پاک ہم سب کوان باتوں کا ادراک نصیب فرمائے۔۔۔۔ #آمین

06/09/2025

آپ کا ٹریکٹر ہے،دودھ دینے والے متعدد جانور ہیں، آسائش سے بھرا گھر ہے، حویلی ہے، زمینوں پر فصل لہلہاتی ہے۔ گھر سامان سے بھرا پڑا ہے۔ اناج ہے،چارہ ہے ،چودھراہٹ ہے،دس پچاس لوگوں پرحکم چلتا ہے اور پھر یکایک ایک اونچا ریلا آتا ہے اور سب کچھ بہا کے لے جاتا ہے۔ آپ بمشکل اپنوں کی جانیں بچا پاتے ہیں،جو کچھ بھی تھا، سب بہہ گیا، حویلی پانی ہو گئی، گھر ڈھے گیا، جانور جانے کہاں گم ہو گئے، صرف زمینیں بچی ہیں اور وہ بھی ایک ایسے پانی میں چھپ چکی ہیں۔ جو جانے کب اترے گا اور کب خشک ہوگا۔
ایسی چودھراہٹ اور ایسی بے بسی ۔۔ ایسی ہزار کہانیاں پنجاب میں بکھری پڑی ہوں گی۔ سیلاب سہنا آسان نہیں ہوتے۔ سیلاب اتر بھی جائیں تو زندگی کو زندگی کے مقام تک لے جاتے ہوئے زندگی لگ جاتی ہے۔ اللہ سے بہت رحم مانگئے،اپنے لئے، متاثرین کیلئے۔

کائنات ارضی کے ایک ٹکڑے پر اختیار رکھنے والے خدا مت بنیں،
ارض و سمال کا مالک پل پر میں فقیر بنا دیتا ہے۔۔۔

29/08/2025

اس
صدی کی کمزور ترین نسل
ایک سخت مگر سچائی سے بھرپور آئینہ۔۔۔
وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی۔۔۔
آج 23، 24 سال کی عمر میں ہے۔۔۔
مگر یہ انسانی تاریخ کی سب سے کمزور، ناتواں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار نسل ہوچکی ہے۔
جسمانی طور پر لاغر۔۔۔
ذہنی طور پر منتشر۔۔۔
اور تربیت سوشل میڈیا سے حاصل کی گئی ہے، نہ کہ بزرگوں سے۔
📱 ہر وقت موبائل فون، اسکرین، ٹک ٹاک، انسٹاگرام۔۔۔
📉 نتیجہ؟
گردن میں خم
آنکھوں میں کمزوری
جسم میں طاقت کی کمی
رشتوں میں برداشت کی عدم موجودگی
اور صفر جذباتی ذہانت (EQ)
💥 یہ وہ نسل ہے جو پانچ کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتی،
دھوپ میں آدھا گھنٹہ کھڑے ہو کر گزار نہیں سکتی،
چھوٹا سا اختلاف ہو تو بلاک، ان فالو، اور رشتہ ختم۔
🧠 سب کچھ فوری چاہئے ۔۔۔
صبر صفر، غصہ 100%
👈 مغرب میں انہیں Boomerang Generation کہا جا رہا ہے۔
کیونکہ یہ باہر رہ کر زندہ نہیں رہ سکتے، اور واپس ماں باپ کے گھروں میں آرہے ہیں۔
پاک و ہند میں یہ نسل TikTok Generation کہلاتی ہے۔۔۔
جنہیں نہ تہذیب، نہ زبان، نہ مقصد، نہ غیرت، نہ ایمان کی فکر ہے۔
اور ذرا سوچیں۔۔۔
اگر اللّٰہ نہ کرے، قوم پر کبھی غزہ، شام، عراق، یا یمن جیسی آزمائش آگئی۔۔۔
تو کیا یہ نسل زندہ رہ سکے گی؟
🔥 لکڑی سے آگ جلانا تو دور،
انہیں مشرق اور مغرب کا فرق بھی نہیں پتہ،
یہ سروائیول تو چھوڑیں، سوشل میڈیا ڈاؤن ہوجائے تو پاگل ہوجاتے ہیں!
ابھی وقت ہے بیداری کا،
💪 اپنی نسل کو بچائیں
📚 انہیں قرآن، سیرت، غیرت، حیا، قربانی اور جدوجہد سکھائیں. مقصد دیں، ورنہ یہ دنیا انہیں گمراہی کردے گی۔
شکریہ

19/08/2025

چڑھتے سورج کی طرف دوڑ کر جانے والے لوگ ۔۔۔۔ڈھلتے وقت اتنی ہی تیزی سے الٹے پاؤں بھاگتے ہیں۔۔۔۔یہ معاشرے کے کمزور اور پست کردار لوگ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کردار کی قدر نہیں کرتے اقتدار کی پوجا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ہر گاؤں ہر شہر اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں اور ہر جگہ انکا طرزِعمل ایک جیسا ہوتا ہے

ایسے پست کردار لوگوں کی کوئی اہمیت اور کوئی وزن نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے لوگوں کے پاس ایک ہی ہتھیار ہوتا ہے۔۔خوشامد اور قصیدہ گوئی کا ہتھیار۔۔۔۔۔
چوہدریوں نے اس قماش کے مراثی رکھے ہوتے ہیں اور وہ انہیں گاہے بگاہے انعام شنام بھی دیتے رہتے ہیں

سونا اور ھیرے تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو کڑی دھوپ میں ڈٹ کر کھڑے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے لوگ اقتدار کی نہیں کردار کی قدر کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ایسے لوگ غروب ِ آفتاب کے وقت بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوتے۔

ایسے ٹھوس اور مضبوط کردار کے لوگ ہی اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔۔۔افراد کا بھی اور قوموں کا بھی

19/08/2025

🚨 *دنیا میں مستقبل قریب میں ہونے والی کچھ تبدیلیاں:*

* جیسے ویڈیو فلموں کی دکانیں غائب ہو گئیں، ویسے ہی پٹرول اسٹیشن بھی ختم ہو جائیں گے۔

1. کاروں کی مرمت کی دکانیں، اور آئل، ایکزاسٹ، اور ریڈی ایٹرز کی دکانیں ختم ہو جائیں گی۔

2. پٹرول/ڈیزل کے انجن میں 20,000 پرزے ہوتے ہیں جبکہ الیکٹرک کار کے انجن میں صرف 20 پرزے ہوتے ہیں۔ ان کو زندگی بھر کی ضمانت کے ساتھ بیچا جاتا ہے اور یہ وارنٹی کے تحت ڈیلر کے پاس ٹھیک ہوتے ہیں۔ ان کا انجن اتار کر تبدیل کرنا صرف 10 منٹ کا کام ہوتا ہے۔

3. الیکٹرک کار کے خراب انجن کو ایک ریجنل ورکشاپ میں روبوٹکس کی مدد سے ٹھیک کیا جائے گا۔

4. جب آپ کی الیکٹرک کار کا انجن خراب ہو جائے گا، آپ ایک کار واش اسٹیشن کی طرح کی جگہ جائیں گے، اپنی کار دے کر کافی پئیں گے اور کار نئے انجن کے ساتھ واپس ملے گی۔

5. پٹرول پمپ ختم ہو جائیں گے۔

6. سڑکوں پر بجلی کی تقسیم کے میٹر اور الیکٹرک چارجنگ اسٹیشن نصب کیے جائیں گے (پہلے دنیا کے پہلے درجے کے ممالک میں شروع ہو چکے ہیں)۔

7. بڑی بڑی سمارٹ کار کمپنیوں نے صرف الیکٹرک کاریں بنانے کے لئے فیکٹریاں بنانے کے لئے فنڈ مختص کیے ہیں۔

8. کوئلے کی صنعتیں ختم ہو جائیں گی۔ پٹرول/آئل کمپنیاں بند ہو جائیں گی۔ آئل کی تلاش اور کھدائی رک جائے گی۔

9. گھروں میں دن کے وقت بجلی پیدا کر کے ذخیرہ کی جائے گی تاکہ رات کو استعمال اور نیٹ ورک کو فروخت کی جا سکے۔ نیٹ ورک اسے ذخیرہ کر کے زیادہ بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں کو فراہم کرے گا۔ کیا کسی نے Tesla کا چھت دیکھا ہے؟

10. آج کے بچے موجودہ کاریں میوزیم میں دیکھیں گے۔ مستقبل ہماری توقعات سے زیادہ تیزی سے آ رہا ہے۔

11. 1998 میں، کوڈاک کے 170000 ملازمین تھے اور یہ دنیا بھر میں 85٪ فوٹو پیپر فروخت کرتا تھا۔ دو سالوں میں ان کا بزنس ماڈل ختم ہو گیا اور وہ دیوالیہ ہو گئے۔ کس نے سوچا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے؟

12. جو کچھ کوڈاک اور پولاروئڈ کے ساتھ ہوا، ویسا ہی اگلے 5-10 سالوں میں کئی صنعتوں کے ساتھ ہوگا۔

13. کیا آپ نے 1998 میں سوچا تھا کہ تین سالوں کے بعد، کوئی بھی فلم پر تصاویر نہیں لے گا؟ اسمارٹ فونز کی وجہ سے، آج کل کون کیمرہ رکھتا ہے؟

14. 1975 میں ڈیجیٹل کیمرے ایجاد ہوئے۔ پہلے کیمرے میں 10000 پکسلز تھے، لیکن انہوں نے مور کے قانون کی پیروی کی۔ جیسے ہر ٹیکنالوجی کے ساتھ ہوتا ہے، پہلے تو توقعات پر پورے نہیں اترے، لیکن پھر بہت بہتر ہو گئے اور غالب آ گئے۔

15. یہ دوبارہ ہوگا (تیزی سے) مصنوعی ذہانت، صحت، خود کار گاڑیاں، الیکٹرک کاریں، تعلیم، تھری ڈی پرنٹنگ، زراعت، اور نوکریوں کے ساتھ۔

16. کتاب "Future Shock" کے مصنف نے کہا: "خوش آمدید چوتھی صنعتی انقلاب میں"۔

17. سافٹ ویئر نے اور کرے گا اگلے 5-10 سالوں میں زیادہ تر روایتی صنعتوں کو متاثر۔

18. اوبر سافٹ ویئر کے پاس کوئی گاڑی نہیں، اور یہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسی کمپنی ہے! کس نے سوچا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے؟

19. اب ایئربی این بی دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل کمپنی ہے، جبکہ اس کے پاس کوئی جائداد نہیں۔ کیا آپ نے کبھی ہلٹن ہوٹلز کو ایسا سوچا؟

20. مصنوعی ذہانت: کمپیوٹر دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے لگے ہیں۔ اس سال ایک کمپیوٹر نے دنیا کے بہترین کھلاڑی کو شکست دی (متوقع سے 10 سال پہلے)۔

21. امریکہ کے نوجوان وکلاء کو نوکریاں نہیں مل رہیں کیونکہ IBM کا واٹسن، جو آپ کو سیکنڈز میں قانونی مشورے دیتا ہے 90٪ کی درستگی کے ساتھ، جبکہ انسانوں کی درستگی 70٪ ہوتی ہے۔ لہذا اگر آپ قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تو فوراً رک جائیں۔ مستقبل میں وکلاء کی تعداد 90٪ کم ہو جائے گی اور صرف ماہرین رہیں گے۔

22. واٹسن ڈاکٹروں کی مدد کر رہا ہے کینسر کی تشخیص میں (ڈاکٹروں کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ درست)۔

23. فیس بک کے پاس اب چہرے کی شناخت کا پروگرام ہے (انسانوں سے بہتر)۔ 2030 تک کمپیوٹر انسانوں سے زیادہ ذہین ہو جائیں گے۔

24. خودکار گاڑیاں: پہلی خودکار گاڑی سامنے آ چکی ہے۔ دو سال میں پوری صنعت بدل جائے گی۔ آپ کار کی مالکیت نہیں چاہیں گے کیونکہ آپ ایک کار کو فون کریں گے اور وہ آ کر آپ کو آپ کی منزل تک لے جائے گی۔

25. آپ اپنی کار پارک نہیں کریں گے بلکہ سفر کی مسافت کے حساب سے ادائیگی کریں گے۔ آپ سفر کے دوران بھی کام کریں گے۔ آج کے بچے ڈرائیونگ لائسنس نہیں لیں گے اور نہ ہی کبھی گاڑی کے مالک ہوں گے۔

26. اس سے ہمارے شہر بدل جائیں گے۔ ہمیں 90-95٪ کم گاڑیاں چاہئیں ہوں گی۔ پارکنگ کے پرانے مقامات سبز باغات میں تبدیل ہو جائیں گے۔

27. ہر سال 1.2 ملین لوگ گاڑی حادثات میں مر جاتے ہیں، جس میں شرابی ڈرائیونگ اور تیز رفتاری شامل ہے۔ اب ہر 60,000 میل میں ایک حادثہ ہوتا ہے۔ خودکار گاڑیوں کے ساتھ، یہ حادثات ہر 6 ملین میل پر ایک تک کم ہو جائیں گے۔ اس سے سالانہ ایک ملین لوگوں کی جان بچائی جائے گی۔

28. روایتی کار کمپنیاں دیوالیہ ہو جائیں گی۔ وہ انقلابی انداز میں ایک بہتر کار بنانے کی کوشش کریں گی، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں (Tesla، Apple، Google) ایک انقلابی انداز میں پہیے پر کمپیوٹر بنائیں گی (ذہین الیکٹرک گاڑیاں)۔

29. Volvo نے اب اپنے گاڑیوں میں انٹرنل کمبسشن انجن کو ختم کر کے، صرف الیکٹرک اور ہائبرڈ انجنوں سے تبدیل کر دیا ہے۔

30. Volkswagen اور Audi کے انجینئرز (Tesla) سے پوری طرح خوفزدہ ہیں اور انہیں ہونا چاہیے۔ الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی تمام کمپنیوں کو دیکھیں۔ کچھ سال پہلے یہ معلوم نہیں تھا۔

31. انشورنس کمپنیاں بڑے مسائل کا سامنا کریں گی کیونکہ بغیر حادثات کے اخراجات سستے ہو جائیں گے۔ کار انشورنس کا کاروباری ماڈل ختم ہو جائے گا۔

32. جائداد میں تبدیلی آئے گی۔ کیونکہ سفر کے دوران کام کرنے کی وجہ سے، لوگ اپنی اونچی عمارتیں چھوڑ دیں گے اور زیادہ خوبصورت اور سستے علاقوں میں منتقل ہو جائیں گے۔

33. 2030 تک الیکٹرک گاڑیاں عام ہو جائیں گی۔ شہر کم شور والے اور ہوا زیادہ صاف ہو جائے گی۔

34. بجلی بے حد سستی اور ناقابل یقین حد تک صاف ہو جائے گی۔ سولر پاور کی پیداوار بڑھتی جا رہی ہے۔

35. فوسل فیول انرجی کمپنیاں (آئل) گھریلو سولر پاور انسٹالیشنز کو نیٹ ورک تک رسائی محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ مقابلے کو روکا جا سکے، لیکن یہ ممکن نہیں - ٹیکنالوجی آ رہی ہے۔
سبز توانائی، چاہے وہ سبز ہائیڈروجن سے ہو یا ماحول دوست ذرائع سے، اور سبز شہر آئیں گے، اور زیادہ تر ممالک میں نیوکلیئر ری ایکٹرز ختم ہو جائیں گے۔

36. صحت: Tricorder X کی قیمت کا اعلان اس سال کیا جائے گا۔ کچھ کمپنیاں ایک طبی آلہ بنائیں گی (جس کا نام "Tricorder" ہے Star Trek سے لیا گیا)، جو آپ کے فون کے ساتھ کام کرتا ہے، جو آپ کی آنکھ کی ریٹینا کا معائنہ کرے گا، آپ کے خون کا نمونہ لے گا، اور آپ کی سانس کی جانچ کرے گا۔ اور 54 بائیولوجیکل مارکرز کی تشخیص کرے گا جو تقریباً کسی بھی بیماری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ فی الحال مختلف مقاصد کے لئے درجنوں فون ایپلی کیشنز دستیاب ہیں۔
37. تو آئیں ایک نئی دنیا کا استقبال کریں۔
38. خوش آمدید نیو ورلڈ🌹🌹
منقول

01/08/2025

پیسہ کامیابی کی دلیل نہیں، آزمائش ہے

جو لوگ 20 سے 30 سال کی عمر کے درمیان کامیاب ہو جاتے ہیں، وہ اکثر اپنے بارے میں کچھ زیادہ ہی سوچنے لگتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے باقی دنیا کی سمجھ بوجھ ختم ہو گئی ہے، اور صرف وہی سب کچھ جانتے ہیں۔ وہ خود کو “ملینئر” یا “بلینئر” کہہ کر باقی سب کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔

لیکن یاد رکھیں، کامیابی کا معیار صرف دولت نہیں ہوتا۔ جس کے پاس پیسہ ہے، وہ کامیاب نہیں، بلکہ آزمائش میں ہے۔

اکثر لوگ دولت ملنے کے بعد فرعون کی طرح بن جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کی بات سننا چھوڑ دیتے ہیں، خود کو سب سے افضل سمجھتے ہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے، وہ آپ کی محنت کا پھل ضرور ہو سکتا ہے، مگر صرف محنت کی بنیاد پر اللہ کسی کو کامیاب نہیں کرتا — کیونکہ محنت تو ہر کوئی کر رہا ہے، پھر سب کو وہ مقام کیوں نہیں ملتا؟

شاید اللہ کو آپ کی کوئی ادا پسند آئی ہو، کوئی نیت، کوئی عمل… اور اسی وجہ سے آپ کو نواز دیا گیا ہو۔

لیکن اگر آپ غرور کے ساتھ زمین پر چلتے ہیں، لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں، تو یہ مت بھولیں کہ یہ دنیا فانی ہے۔ یہاں ہر شے عارضی ہے۔ بڑے بڑے لوگ آئے اور چلے گئے، کچھ کو دنیا نے یاد رکھا، کچھ کو نہیں — فرق صرف “اخلاق” کا تھا۔

دولت سے انسان بڑا نہیں بنتا۔ جو چیز انسان کو بلند کرتی ہے، وہ ہے:
• اس کی عقل
• اس کا اخلاق
• اس کا دل
• اس کی عاجزی
• اور اس کی زبان کا وزن

اس لیے بڑے ہو کر غرور نہ کریں، بلکہ عاجزی کو اپنائیں۔ بڑے سے سیکھیں، چھوٹے سے سیکھیں۔ سب کی عزت کریں۔ پیسہ صرف ایک ذریعہ ہے، اصل طاقت اخلاق، کردار اور نیت کی ہے۔

یاد رکھیں، جس کے دل میں اللہ نے رحم رکھا ہو، وہی اصل میں کامیاب ہے۔

زندگی میں اگر واقعی کامیاب ہونا ہے تو دولت نہیں — نرمی، سچائی اور عزت کا راستہ اپنائیں

ترنول کے قریب جتنا بھی بڑے اور مشہور ترین کھانے پینے والے ہوٹلز موجود ہیں ان سب پر کئی سالوں سے بڑے گوشت کے نام پر گدھے ...
27/07/2025

ترنول کے قریب جتنا بھی بڑے اور مشہور ترین کھانے پینے والے ہوٹلز موجود ہیں ان سب پر کئی سالوں سے بڑے گوشت کے نام پر گدھے کا گوشت کھلایا جارہا تھا
🤣تفتیشی ٹیم کا انکشاف 🤣باوثوق ذرائع
سامنے آئیں وہ مجاہدین جو یہاں باقاعدہ طور پر شینواری
کھاتے ہیں یا بیف پلاؤ اور نہاری بونگ پائے اور بہت کچھ

Address

Wazirabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Diamond Blade Runner posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Diamond Blade Runner:

Share