19/07/2026
نظام آباد وزیرآباد کا ایک ایسا تاریخی علاقہ جس نے مغل، سکھ، انگریز اور پاکستان کے ادوار اپنی آنکھوں سے دیکھے
وزیرآباد کی تاریخ صرف بازاروں اور قدیم عمارتوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ہر محلے کی اپنی ایک الگ داستان ہے۔ انہی میں سے ایک تاریخی علاقہ نظام آباد ہے، جسے مغل شہنشاہ جہانگیر کے دور میں نظام الدین خان مغل نے آباد کیا۔ نظام الدین خان اپنی غیر معمولی فنی صلاحیت، تعمیراتی مہارت اور ریاضی دانی کی وجہ سے شہنشاہ جہانگیر کے خاص مقربین میں شمار ہوتے تھے، جنہیں "خان" کا خطاب بھی عطا کیا گیا۔
روایت کے مطابق انہوں نے یہاں ایک شاندار نظام باغ تعمیر کروایا، جسے دریائے چناب سے نکالی گئی نہر کے ذریعے سیراب کیا جاتا تھا۔ یہ باغ اندرونی باولی سے لے کر موجودہ جلال پورہ تک پھیلا ہوا تھا، مگر وقت کی گرد نے اس کی بیشتر نشانیاں مٹا دیں۔
سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے بعد افغان حملوں نے اس بستی کو شدید نقصان پہنچایا، مگر رنجیت سنگھ کے دور میں نظام آباد نے دوبارہ زندگی پائی اور یہ برصغیر میں دستکاری، اسلحہ سازی اور کٹلری کی صنعت کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ یہاں تیار ہونے والی تلواریں، نیزے، خنجر، چاقو، بندوقیں اور دیگر ہتھیار پورے ہندوستان میں اپنی مثال آپ سمجھے جاتے تھے، جبکہ مقامی تاجروں کی دکانیں جالندھر سمیت مختلف شہروں میں قائم تھیں۔
برطانوی دور میں نظام آباد کی صنعتی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہاں ریلوے لائن اور ریلوے اسٹیشن قائم کیا گیا۔ 1870ء میں اس بستی میں 415 مکانات، 50 دکانیں اور تقریباً 1,494 افراد آباد تھے۔
نظام آباد صرف صنعت کا مرکز ہی نہیں بلکہ علم، مذہب اور ثقافت کا بھی گہوارہ رہا۔ یہاں موجود عالمگیری مسجد آج بھی مغلیہ دور کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اسی علاقے سے گزرنے والا دھونکل روڈ صدیوں تک قافلوں، تاجروں، صوفیا اور زائرین کی گزرگاہ رہا۔ بیساکھی، دیوالی، بسنت اور "قدموں کا میلہ" جیسے تہوار بھی اسی علاقے کی پہچان تھے
آج بھی نظام آباد وزیرآباد کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہاں سے تیار ہونے والی کٹلری، چاقو، خنجر، تلواریں، چمڑے کی جیکٹس، کوٹ اور دیگر مصنوعات دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں، جبکہ اس علاقے کے کئی صنعتکار امریکہ، برطانیہ، فرانس، کویت اور دیگر ممالک میں اپنے کاروبار کو وسعت دے چکے ہیں
وقت نے اگرچہ نظام آباد کا طرزِ زندگی بدل دیا ہے، مگر اس کے کاریگروں کا ہنر، محنت اور شناخت آج بھی زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظام آباد صرف وزیرآباد کا ایک محلہ نہیں بلکہ اس شہر کی تاریخی، صنعتی اور ثقافتی شناخت کا ایک روشن باب ہے۔
اگر آپ کو وزیرآباد کی تاریخ سے متعلق ایسی مزید مستند معلومات پسند ہیں تو پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ ہماری نئی نسل اپنے شہر کے تاریخی ورثے سے آگاہ ہو سکے۔