13/06/2019
{ ھو الظاہر ھو الباطن }
ظاہر بھی اَللہ ہے اور باطن بھی اَللہ ہے ۔ اَللہ پاک موجود ہے اور ساتھ باطن کے موجود ہے ۔جو کچھ بھی ظاہر میں ہے اور جو کچھ ظاہر کے اندر چھپا ہوا ہے ہر طرف اَللہ ہی اَللہ ہے ۔بندہ ظاہر ہے اَللہ کی محبت اُس کے باطن میں ہے۔ عشق اور مشک چھپ کر نہیں رہ سکتے وہ ظاہر میں بھی نظر آتے ہیں ۔ اِسی طرح سورج ہے تو اُسے چھپایا نہیں جا سکتا ہے ۔ اثرات سے پتہ چلتا ہے کہ مشک یعنی خوشبو روح کو طمانیت اور فرحت دیتی ہے ۔ سورج سے زندگی بحال ہوتی ہے ۔ عشق میں فرحت و طمانیت دونوں سے بڑھ کر مسرتیں اور عطائیںہوتی ہیں ۔
اَللہ جہاں ظاہر ہے وہاں چھپا ہوا بھی ہے باطن میں بھی موجود ہے اور ظاہر میں بھی موجود ہے ۔
فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْ ا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہْ
’’پس تم جدھر بھی رخ کرو اُدھر ہی اَللہ کی توجہ ہے یعنی ہر سمت ہی اَللہ کی ذات جلوہ گر ہے ۔‘‘ (البقرۃ : ۱۱۵ )
جہاں تم ہو وہیں تمہارے ساتھ ہے ۔ جو نظرآ رہا ہے عالمِ موجودات میں وہ، وہی ہے کہ جو موجود ہے اور اس کا کچھ مقصود بھی ہے ۔
لا مطلوب الا اللّٰہ ۔لا محبوب الا اللّٰہ
لا موجود الا اللّٰہ ۔لا مقصود الا اللّٰہ
بندہ اَللہ سے محبت کرتا رہتا ہے ۔ کرتا چلا جاتا ہے اور اُس کی محبت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مطلوب اُس پر ظاہر ہو جاتا ہے ۔ سمجھ نہیں ہوتی تو شور کرتا ہے سمجھ آ جائے تو چپ لگ جاتی ہے ۔ارشادِ نبوی ﷺ ہے :
اِذَا تَمَّ الْفَقْرَ فَقَدْ کَلَّ لِسَانَہ‘
’’ جب فقر (اللہ کی پہچان ) ہو جاتی ہے توزبان خاموش ہو جاتی ہے۔‘‘
قلندر تو عشق کی بات کرتا ہے اور ہمارا طریقہ وحدت ہے کہ
اِذَا تَمَّ الْفَقْرَ فَھُوَ اللّٰہْ
ترجمہ : ’’جب فقر نقطہ کمال کو پہنچتا ہے تو وہ اللہ ہی ہے۔‘‘
اول بھی وہی ہے آخر بھی وہی ہے۔ ظاہر بھی وہی ہے باطن بھی وہی ہے ۔ عیاں بھی وہی ہے نہاں بھی وہی ہے ۔اَزل سے ہے اَبد الآباد ہے ۔ اُس کے اَنوار ظاہر پر چمکیں تو حسنِ اَعمال نظر آئے گا ۔اعمالِ صالحہ ، عبادت،ریاضت ، اطاعت ، بندگی نظر آئے گی ۔ شریعت نظر آئے گی ، دین نظر آئے گا ، سنتِ محبوبِ خدا ﷺ کی پیروی نظر آئے گی ۔ اور جب باطن پر اُس کا راز آشکارہ ہو جائے تو یہ بباطن اُس کا ہونا ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا گیا تو مٹی کے پتلے کو نہیں بلکہ جب بباطن وہ خود اس پتلے میں ظہور پذیر ہوا تو فرمایا :
نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ‘ السٰجِدِیْنَ
’’ اور جب میں اس میں اپنی روح پھو نک دوں تو تم سب اُس کے حضور سجدہ میں گر پڑنا ۔‘‘ (الحجر : ۲۹)
ملائکہ کو سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا یہ سجدہ ریزیاں بباطن اُس کے اُسی وجود کو تھیںاور فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
قَالَ اِنِّیْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ
’’جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ۔‘‘(البقرۃ : ۳۰)
جسم بدبو دار مٹی سے بنا کر اُس میں نفسانی ، حیوانی خصلتیں رکھ دیں ۔
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمِ ثُمَّ رَدَدْنٰہ‘ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ
مگر اُس تن کے اندر من ہے اور اُس من میں نور کا چراغ رکھ دیا جس میں اَپنے حسن کی تجلی ڈال دی۔ نور کی شمع دی اور حکم صادر فرمایا کہ جب یہ شمع روشن ہو جائے جب نور کے چراغ جل پڑیں تو پھر ظاہراً مٹی کے وجود کو نہ دیکھنا اُس روشن باطن کو دیکھنا۔ اُس میں موجود رب کی روشن تجلی کو دیکھنا اور جان لینا کہ اُس کے باطن میں اللہ ہے ۔ یہ انسان مظہرِ حق ہے۔مظہرِ خدا ہے ۔
بابا بلّھے شاہ ؒ نے فرمایاہے :
گل سمجھ لئی تے رولا کی
اے رام رحیم تے مولا کی