Hazir Janab

Hazir Janab Poetry,naat, and hestory

23/01/2026

سدا نہ باراں وقت بہاراں چَھم چَھم لاسن جَھڑیاں
سدا نہ رہسن باغاں اُتے روپ حُسن دیاں گھڑیاں

سدا نہ شوخی رنگ گلاباں خوبی تے محبوبی
سدا نہ حُسن بہار پُھلاں تے سدا نہ دل مرغوبی

سدا نہ بوسے لے لے بلبل سوز مٹاسی من دے
سدا نہ یار پیارے رل کے کرسن سیر چمن دے

سدا نہ پُھلیں پَھلیں بھریاں ہوسن شاخاں ہریاں
سدا نہ ترنجن رل کے پھرسن جیونکر ٹولے پریاں

سدا نہ پَنکھی بنھ قطاراں پھرسن وچ گلزاراں
سدا نہ بُلبل بھور چمن وچ لٹسن عیش بہاراں

سدا نہ مجلس لا کے بہسن رل مل یار پیارے
سدا نہ وصل پیالے پیسن عاشق بیٹھ کنارے

سدا نہ پھرسن اس گلی وچ جوبن دے ونجارے
سدا نہ گاہک حُسن دے پھرسن جیونکر مدھ متوارے

سدا نہ لٹ لٹ لاٹ شمع دی مجلس اندر بلسی
سدا نہ جان پتنگاں والی سوز عشق تھیں جلسی

سدا نہ ہوسن رونق مجلس سُندر مکھ محبوباں
سدا نہ مست ہوون گے عاشق تک تک چہرے خوباں

سدا نہ رل کے یار پیارے پیسن جام صبوحی
سدا نہ عاشق مکھ محبوبوں فیض اٹھاسن روحی

سدا نہ طرے زلف معنبر وا صبا دی چُمسی
سدا نہ دور تیکر خوشبوئی زلف سجن دی دھمسی

سدا نہ سوہنے قد محبوباں جیونکر سرو چمن دے
سدا نہ ملک حُسن دے اندر حکم کریسن من دے

سدا نہ جَعد مسلسل کاکل کستوری رنگ کالے
سدا نہ سینے تے ول کھاسن جیونکر ناگ ڈنگالے

سدا نہ ایہہ پیشانی جانی وانگوں بدر نورانی
ملک دلاں نوں روشن کرسی فیض بخش روحانی

سدا نہ ابرو محراباں ول عاشق سیس نواسن
سدا نہ جُرّے باز نیناں دے طمعہ دل دا کھاسن

سدا نہ بینی تیغ برہنہ ذبح کرے عشاقاں
سدا نہ ایہہ رخسار گلابی دل موہسن مشتاقاں

سدا نہ ایہہ دند موتی لڑیاں سدا نہ مِٹھے ہاسے
سدا نہ سرخی پوڈر غازے سدا نہ رنگ دنداسے

سدا نہ باتاں مِٹھیاں مِٹھیاں سدا نہ بول رسیلے
سدا نہ نغمے خوش الحانی سدا نہ سُخن رنگیلے

سدا نہ غبغب چاہ ذقن وچ مَچھ حسن دے ترسن
سدا نہ سیب ولایت والے ہاروں ہالے بھرسن

سدا نہ گردن لمی گوری لئے خراج کلنگوں
سدا نہ کھاسی شرم صراحی حسن الہی رنگوں

سدا نہ لٹکن گوش آ دھرنے کانٹے کھیلاں بندے
سدا نہ جھک جھک بوسے لیسن جَعد مسلسل گندے

سدا نہ ونگاں اندر گجرے بازو بند سوہاسن
سدا نہ پوہنچیاں دھاگے پا کے بازو لٹک وکھاسن

سدا نہ نازک انگلیاں تے مہندی سرخ سہاسی
سدا نہ تلیاں رانگلیاں تے موجاں جام مناسی

سدا نہ سینے صندل اُتے موج انار وکھاسن
سدا نہ سیباں مالٹیاں تھیں روگی روگ گنواسن

سدا نہ ریشم لچھے اچھے شِکم ولوں شرماسن
سدا نہ قاقم ینفے نافوں صدقے ہو ہو جاسن

سدا نہ نازک چَم شِکم دا لیسی باج حریروں
سدا نہ نرم ملائم ہوسی ودھ کاغذ کشمیروں

سدا نہ بانکی چال چکوراں مات کریسی فیلاں
سدا نہ شاہی ملک حسن دی سدا نہ عرض اپیلاں

سدا نہ نخرے ناز ادائیں سدا نہ چال گمانی
سدا نہ روپ حُسن دیاں لہراں سدا نہ موج جوانی

سدا نہ حُسن خماروں ہوسی مست نگاہ مستانی
سدا نہ تک تک جوبن اُجلا ہوسی خلق دیوانی

سدا نہ بحر حُسن دے اندر جوبن دیسی لہراں
سدا مجید نہ شمس حُسن تے رہیسی وقت دوپہراں

(✍️___مولانا الحافظ محمد عبدالمجیدؒ ساکن کڑی، جہلم)
جنم 1885ء / وفات1962

24/04/2025

‏پنجابی لفظ "وٹ" کی وسعت!😄
ایک انگریز کو پنجابی سیکھنےکا بہت شوق تھا کسی نےاسے بتایاکہ چک نمبر 136کےقدیم بزرگ بابا بخشی پنجابی کی بہترین تعلیم دیتےہیں
انکے پاس چلےجاؤ.
انگریز نےبس پر سوار ہو کر 136چک کی راہ لی
‏انگریز بس سےاترکر چک نمبر136 کی طرف پیدل چل پڑا ابھی تھوڑی دور ہی گیاتھا کہ اس نےدیکھا کہ ایک شخص چارپائی کا بان بنا رہاتھا
انگریز نے پوچھاoh man تم یہ کیا کرتا؟
اس آدمی نےجواب دیا:گورا صاب!
میں وان "وٹ" رہا ہوں انگریز نےحساب لگایا کہ ٹوئسٹ کرنا کو پنجابی میں "وٹ" کہتے ہیں
‏انگریز اس شخص کو چھوڑ کر آگےچلا تو کیا دیکھتا ہےکہ ایک دکاندار اداس بیٹھا ہے
انگریز نے پوچھا:oh man تم اداس کیوں بیٹھا؟
دکاندار بولا: گورا صاب.! سویر دا کج وی نئیں"وٹیا" انگریز سوچ میں پڑگیا کہ پنجابی میں پیسےکمانے کو "وٹ" کہتےہیں😕
خیر انگریز کچھ اور آگےچلا تو ایک شخص کو
‏دیکھا, جو پریشانی کےعالم میں آسمان کیطرف دیکھ رہاتھا
انگریز نےپوچھا:oh man کیا ہوا؟
وہ شخص بولا: گورا صاب ہوا بند اے تےبڑا "وٹ" لگیا اے,انگریز سوچنےلگا کہ پنجابی میں مرطوب موسم کو بھی "وٹ کہتےہیں
انگریز اسےچھوڑ کر آگےچلا
سامنےچودھری کا بیٹا کلف لگےکپڑے پہنے چلا آ رہا تھا
‏انگریز اس سےگلے ملنےکیلئے آگےبڑھا
وہ لڑکا بولا: گورا صاب..! ذرا آرام نال، کپڑیاں نوں "وٹ" ناں پا دینا.
انگریز سر پر ہاتھ پھیرنےلگا کہ شکنوں کو بھی"وٹ" ہی کہا جاتا ہے😬
کچھ آگےجا کر انگریز کو ایک شخص پریشانی کےعالم میں لوٹا پکڑے کھیتوں کیطرف بھاگتا ہوا نظرآیا
انگریز نے کہا
‏کہا:oh man ذرا بات تو سنو
وہ شخص بولا گورا صاب واپس آ کے سنداں، ڈڈھ اچ بڑےزور دا "وٹ" پھریا اے
انگریز کو پسینہ آنےلگا یعنی پنجابی میں پیٹ میں گڑبڑ ہو تو اسے"وٹ " کہتےہیں😦
تھوڑا آگےجانے پر انگریز کو ایک بزرگ حقہ پکڑےسامنےسےآتا دکھائی دیا
قریب آنے پر انگریز نے پوچھا: oh man
‏یہ 136چک کتنی دور ہے؟
وہ بولا "وٹو وٹ" ٹری جاؤ زیادہ دور نئیں اے
انگریز کو غش آتےبچاکہ پنجابی میں راستہ بھی"وٹ"کہلاتاھے
کچھ اور آگےگیا تو دیکھا دو آدمی آپس میں لڑ رہےہیں
گورا لڑائی چھڑانےکیلئےآگےبڑھا
ان میں سےایک بولا, گورا صاب تسی وچ نہ آؤ میں اج ایدھےسارے"وٹ"کڈ دیاں گا
‏انگریز پریشان ہوگیا کہ کسی کی طبیعت صاف کرنا بھی"وٹ نکالنا"
ہوتا ہے
انگریز نےلڑائی بند کرانےکی غرض
سےدوسرےآدمی کو سمجھانےکی کوشش کی تو وہ بولا, او جان دیو بادشاؤ، مینوں تےآپ ایدھےتے بڑا "وٹ" اے
انگریز ششدر رہ گیا کہ غصہ کو بھی پنجابی میں"وٹ" کہا جاتا ہے
قریب ایک آدمی کھڑا
‏لڑائی دیکھ رہاتھا
وہ بولا, گورا صاب! تسی اینوں لڑن دیو ,ایدھےنال پنگا لیا تےتہانوں وی "وٹ" کےچپیڑ کڈ مارےگا
انگریز ہکا بکا ہوکر اس آدمی کا منہ دیکھنےلگا
انگریز آگےچل دیا, تھوڑی دور گیا تو کیا دیکھا کہ ایک شخص گم سم بیٹھاھے
انگریز نےپوچھا
یہ آدمی کس سوچ میں ڈوباھے؟
جواب ملا
‏گورا صاب.! یہ بڑا میسنا ہے، یہ دڑ "وٹ" کےبیٹھا ہے😖
انگریز سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا
کچھ دیر بعد طبیعت کچھ بحال ہوئی, تو اس نےیہ کہتےہوئے واپسی کی راہ لی کہ
I can never learn it in my short life .🤣🤣

باؤباب baobab درخت جو ہزاروں لیٹر پانی اپنے تنے میں ذخیرہ کرسکتا ہے۔باؤباب baobab درخت بر اعظم افریقہ میں  اُگنے والے  ب...
17/04/2025

باؤباب baobab درخت جو ہزاروں لیٹر پانی اپنے تنے میں ذخیرہ کرسکتا ہے۔

باؤباب baobab درخت بر اعظم افریقہ میں اُگنے والے بہت حاص درختوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ درخت زمین پر قدیم ترین درختوں میں سے ہیں۔ سوانا (افریقہ) میں اب و ہوا بہت زیادہ خشک ہوتی ہے۔جہاں پر دوسرے درخت مشکل سے اُگتے ہے۔وہاں پر باؤباب درخت کامیابی کے ساتھ موجود ہیں۔

برسات کے موسم میں باؤباب درخت اپنے وسیع تنے میں پانی کو جذب اور ذخیرہ کرتا ہے۔ایک مکمل درخت اپنے اندر ہزاروں لیٹر پانی ذخیرہ کرسکتا ہے۔ان کے تنوں میں جمع ہونے والا پانی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ یہ درخت اس پانی کی بدولت برسوں کی خشک سالی میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

باؤباب درخت 30 میٹر تک اونچا ہوسکتا ہے۔اور یہ پانچ ہزار سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔باؤباب کے درخت جانوروں اور انسانوں کے لیے پناہ گاہ، خوراک اور پانی فراہم کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بہت سی سوانا برادریوں نے اپنے گھر باؤباب کے درختوں کے قریب بنا لیے ہیں۔اور اس درخت کو زندگی کا درخت مانا جاتا ہے۔

اس درخت کا پھل بھی غیرمعمولی طور پر غذائی اجزاء اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔
باؤباب کا پھل دنیا کا واحد پھل ہے جو اپنی شاخ پر قدرتی طور پر سوکھتا ہے۔ گرنے اور خراب ہونے کے بجائے، یہ شاخ پر رہتا ہے اور 6 ماہ تک دھوپ میں پکتا ہے -پھل کا گودا مکمل طور پر سوکھ جاتا ہے۔
اس کی سبز مخملی کوٹنگ کو ناریل جیسے سخت خ*ل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اپنی قدرتی شکل میں 100فیصد خالص پھل ہے۔ حیرت انگیز طور پر، پھل کی قدرتی شیلف لائف 3 سال ہوتی ہے۔ تھکاوٹ،ہاضمہ،بیماروں سے تحفظ،اور انفیکشن کے علاوہ جلد کی خوبصورتی کے لئے اسکا استعمال سالوں سے ہورہا ہے۔

اس درخت کی چھال سے رسیاں بنائی جاتی ہے۔ جبکہ اسکے پتے مویشی شوق سے کھاتے ہیں۔اور اس کے تنے میں موجود صاف پانی کو پیا بھی جاسکتا ہے۔جبکہ اس کے پھل کے بیجوں سے بنایا گیا تیل کاسمیٹکس میں استعمال ہوتا ہے۔جس کی مارکیٹ میں ویلیو بہت زیادہ ہے۔

باؤباب کے درخت دیہی افریقہ کے سب سے خشک، دور دراز اور غریب ترین حصوں میں اگتے ہیں۔نیشنل جیوگرافک کے رپورٹ کے مطابق اپنی منفرد حصوصیات کی وجہ سے اس درخت کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

05/04/2025

مٹی اگ تے پانی چُپ اے
تاں ہوا مر جانی چُپ اے

ایہدا مطلب کیہ سمجھاں میں
تند ٹُٹی تے تانی چپ اے

کیہ بولاں تے کیہ نہ بولاں
میری اصل کہانی چپ اے

رِڑکن والے دھوکے وچ نیں
پانی وچ مدھانی چپ اے

تیرے نال سی پائلاں پاؤندی
ہُن اے جِند نمانی چپ اے

بول رہی اے اکھاں والی
انّھی، بولی، کانی چپ اے

چپ دے اگے چُپ اے طاؔہرہ
کد تک ہور ہنڈانی چپ اے

طاہرہ سرا

30/03/2025
سورج بہت زیادہ شور پیدا کرتا ہے، لیکن ہم اسے سن نہیں سکتے کیونکہ آواز کی لہریں خلا میں سفر نہیں کر سکتیں۔ خلا میں کوئی ہ...
29/03/2025

سورج بہت زیادہ شور پیدا کرتا ہے، لیکن ہم اسے سن نہیں سکتے کیونکہ آواز کی لہریں خلا میں سفر نہیں کر سکتیں۔ خلا میں کوئی ہوا یا مادہ نہیں ہوتا جو آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکے۔
سورج کی آواز کتنی ہوسکتی ہے؟

اگر ہم کسی طرح سورج کی آواز سن سکتے تو یہ تقریباً 290 ڈیسیبل (dB) کے برابر ہوتی۔ یہ اتنی شدید آواز ہے کہ اس کا موازنہ زمین پر کسی بھی چیز سے نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر:

عام انسانی گفتگو: 60 dB

ٹریفک کا شور: 85 dB

جیٹ انجن (قریب سے): 130 dB

راکٹ کا لانچ: 180 dB

سورج کا شور (اگر سنائی دے): 290 dB

کیا سورج کے شور سے انسان بہرا ہوسکتا ہے؟

اگر کوئی 290 ڈیسیبل کی آواز سن لے، تو نہ صرف وہ فوری طور پر بہرا ہو جائے گا بلکہ اس کے جسم پر بھی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ اتنی تیز آواز ہوا میں دباؤ کی شدید لہریں پیدا کرے گی، جو کانوں کے پردے (eardrums) کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کے اندرونی اعضاء کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
خوش قسمتی سے، خلا کی وجہ سے ہم سورج کے اس خوفناک شور سے محفوظ ہیں!

رُستمِ زماں گاما پہلوان – اپنی زوجہ وزیر بیگم کے ساتھ گاما پہلوان، جن کا اصل نام غلام محمد بخش تھا، 22 مئی 1878 کو امرتس...
29/03/2025

رُستمِ زماں گاما پہلوان – اپنی زوجہ وزیر بیگم کے ساتھ

گاما پہلوان، جن کا اصل نام غلام محمد بخش تھا، 22 مئی 1878 کو امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ برصغیر کے عظیم ترین پہلوانوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور عالمی سطح پر پہلوانی کی تاریخ کے ناقابلِ شکست چیمپئن مانے جاتے ہیں۔ ان کا لقب "رستمِ زماں" (دنیا کا چیمپئن) تھا، جو ان کی غیرمعمولی فتوحات اور ناقابلِ تسخیر ریکارڈ کا اعتراف تھا۔

ناقابلِ شکست کیریئر

گاما پہلوان کا پہلوانی کی دنیا میں ایسا دبدبہ تھا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک بھی کشتی نہیں ہاری۔ انہوں نے 5000 سے زائد دنگلوں میں فتح حاصل کی، جن میں برصغیر کے ساتھ ساتھ یورپ کے مشہور پہلوانوں کے خلاف بھی شاندار کامیابیاں شامل تھیں۔ 1910 میں انہوں نے لندن ورلڈ چیمپئن شپ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے ناقابلِ یقین داؤ پیچ اور غیرمعمولی طاقت سے عالمی سطح کے پہلوانوں کو شکست دی، اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

مشہور مقابلے

1. 1888 میں پہلی بڑی کامیابی – جب وہ صرف 10 سال کے تھے، تو ایک دنگل مقابلے میں 400 پہلوانوں کو شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

2. 1910 میں یورپی پہلوانوں کو چیلنج – لندن میں گاما نے عالمی چیمپئن بینجامن رولر جیسے مضبوط پہلوانوں کو شکست دی اور پہلوانی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔

3. 1911 میں عالمی چیمپئن اسٹینسلاس زبِشکو کو شکست – زبِشکو کے ساتھ ان کی کشتی برصغیر کے پہلوانی حلقوں میں ایک یادگار مقابلہ بنی۔

ناقابلِ یقین فٹنس اور ورزش

گاما پہلوان کی غیرمعمولی طاقت اور برداشت کا راز ان کی سخت ٹریننگ تھی۔ روزانہ وہ:

5000 بیٹھکیں (squats) اور 3000 ڈنڈ (push-ups) لگاتے تھے۔

ان کی خوراک میں 2 گیلن دودھ، 1.5 کلو بادام، اور دیسی گھی سے بنی خوراک شامل تھی۔

وہ روزانہ بھاری پتھروں کو اٹھانے اور مٹی کے اکھاڑے میں کشتی لڑنے کی مشق کرتے تھے۔

قیامِ پاکستان اور آخری ایام

1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد گاما پہلوان پاکستان منتقل ہو گئے اور لاہور میں سکونت اختیار کی۔ تاہم، قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات اور مالی مشکلات کے باعث وہ مشکلات کا شکار ہو گئے۔ حکومتِ پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی مدد کی، لیکن زندگی کے آخری ایام میں وہ گمنامی میں چلے گئے۔

23 مئی 1960 کو لاہور میں 82 سال کی عمر میں گاما پہلوان کا انتقال ہو گیا۔

وراثت اور پہلوانی کی دنیا پر اثر

گاما پہلوان صرف ایک فرد نہیں، بلکہ ایک عہد کا نام تھا۔ آج بھی ان کے داؤ پیچ، فٹنس اور محنت کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ ان کا نام ہمیشہ پہلوانی کی دنیا کے سب سے بڑے لیجنڈز میں شمار کیا جائے گا۔

رُستمِ زماں گاما پہلوان آج بھی ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو محنت، لگن، اور ناقابلِ شکست عزم کے ساتھ اپنی منزل حاصل کرنا چاہتا ہے۔

حضرت ڈاکٹر عبد الحئی عارفی رحمتہ اللہ علیہ پیشہ کے اعتبار سے ہومیوپیتھک معالج تھے اور مطب (کلینک) کرتے تھے۔ جید علماء ان...
28/03/2025

حضرت ڈاکٹر عبد الحئی عارفی رحمتہ اللہ علیہ پیشہ کے اعتبار سے ہومیوپیتھک معالج تھے اور مطب (کلینک) کرتے تھے۔
جید علماء ان سے بیعت ہوئے، جیسے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب وغیرہ، ڈاکٹر صاحب سے بیعت ہوئے۔

مشہور کتاب اسوۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ڈاکٹر صاحب ہی کی لکھی ہوئی ہے۔

ایک دفعہ حاضرین مجلس سے فرمانے لگے؛
آپ کہاں لمبے لمبے مراقبے اور وظائف کرو گے۔ میں تمہیں اللہ کے قرب کا مختصر راستہ بتائے دیتا ہوں۔ کچھ دن کر لو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے، قرب کی منزلیں کیسے طے ہوتی ہیں:

1 ____ اللہ پاک سے چُپکے چُپکے باتیں کرنے کی عادت ڈالو۔ وہ اس طرح کہ جب بھی کوئی جائز کام کرنے لگو دل میں یہ کہا کرو؛

اللہ جی۔۔

(ا) اس کام میں میری مدد فرمائیں۔۔
(ب) میرے لئے آسان فرما دیں۔۔
(ج) عافیت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔۔
(د) اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیں۔۔
یہ چار مختصر جملے ہیں، مگر دن میں سینکڑوں دفعہ اللہ کی طرف رجوع ہو جائیگا اور یہ ہی مومن کا مطلوب ہے کہ اسکا تعلق ہر وقت اللہ سے قائم رہے۔

2 ____ انسان کو روز مرہ زندگی میں چار حالتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔
(ا)۔ طبیعت کے مطابق۔
(ب)۔ طبیعت کے خلاف۔
(ج)۔ ماضی کی غلطیاں اور نقصان کی یاد۔
(د)۔ مستقبل کے خطرات اور اندیشے۔

جو معاملہ طبیعت کے مطابق ہو جائے اس پر ​اللهم لَكَ الحَمدُ ولَكَ الشُّكر​ کہنے کی عادت ڈالو۔
جو معاملہ طبیعت کے خلاف ہو جائے تو ​انا لله وانا اليه راجعون​ کہو۔
ماضی کی لغزش یاد آجائے تو فورا ​استغفراللہ​ کہو۔
مستقبل کے خطرات سامنے ہوں تو کہو
​اللهم اِنّى أعوذ بكَ مِن جَمِيعِ الفِتَنِ ما ظَهَرَ مِنها وما بَطَن​۔

شکر سے موجودہ نعمت محفوظ ہو گئی۔
نقصان پر صبر سے اجر محفوظ ہو گیا اور اللہ کی معیت نصیب ہو گی۔۔
استغفار سے ماضی صاف ہو گیا۔۔
اور اللهم انى أعوذ بك سے مستقبل کی حفاظت ہوگئی۔۔

3 ____ شریعت کے فرائض و واجبات کا علم حاصل کر کے وہ ادا کرتے رہو اور گناہِ کبیرہ سے بچتے رہو۔

4 ____ تھوڑی دیر کوئی بھی مسنون ذکر کر کے اللہ پاک سے یہ درخواست کر لیا کرو؛
اللہ جی۔۔۔ میں آپ کا بننا چاھتا ہوں، مجھے اپنا بنا لیں، اپنی محبت اور معرفت عطا فرما دیں۔

​چند دن یہ نسخہ استعمال کرو پھر دیکھو کیا سے کیا ہوتا ہے اور قرب کی منزلیں کیسے تیزی سے طے ہوتی ہیں۔۔!!

1705ء دو مرتبہ دفن ہونے والی آئیرش خاتون مارگوری میکالملیریا سے دم توڑنے کے بعد مارگوری کو جلد قبر میں دفن کر دیا گیا کہ...
21/03/2025

1705ء دو مرتبہ دفن ہونے والی آئیرش خاتون مارگوری میکال
ملیریا سے دم توڑنے کے بعد مارگوری کو جلد قبر میں دفن کر دیا گیا کہ اس کی لاش سے وبا پھیلنے سے روکا جا سکے۔
اُس کے شوہر نے مارگوری کو شادی پہ ایک قیمتی انگوٹھی تحفتاً دی تھی. اس کی موت کے بعد اس کا خاوند اس کے جسم پر سوجن ہو جانے کی بنا اتارنے میں ناکام رہا۔ مارگوری کی قبر قیمتی انگوٹھی کی وجہ سے چوروں کا ہدف بن گئی. مارگوری کی تدفین کے بعد اسی شاماس کی قبر پر چور پہنچ گئے قبر کی کھدائی شروع کر دی۔ جتن کے باوجود وہ اس لاش کی انگلی سے انگوٹھی نہ نکال سکے. انہوں نے انگلی کاٹنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے انگلی کاٹی تو خون کی َایک دھار نکلی. مردہ لاش میں حرکت ہوئی اور لاش چیخنے لگی۔ ڈاکو خوف سے بھاگ نکلے۔
مارگوری قبر سے باہر آ کر گھر چلی گئی۔ اس اس کا شوہر، فیملی ڈاکٹر اور اس کے بچے گھر میں سوگوار بیٹھے تھے۔ مارگوری نے اپنے گھر کے دروازے پہ دستک دی. اس کے شوہر دستک پہچانتے ہوئے کہا:
" اگر آپ کی والدہ ابھی زندہ ہوتی تو، میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ اس کی دستک ہوتی"
دروازہ کھولا گیا تو سامنے اس کی بیوی کفن میں ملبوس کھڑی تھی۔ اس کی انگلی سے خون ٹپک رہا تھا مگر وہ زندہ لگ رہی تھی. اس کا شوہر یہ دیکھ کر فرش پر گرا. اس پہ دل کا دورہ پڑا وہ موقع پر ہی فوت ہو گیا.
مارگوری نے دوسری شادی کی اس کے کئی بچے پیدا ہوئے۔ جب اس کی قدرتی موت ہو گئی تو اسے آئر لینڈ "شنکیل قبرستان" میں دفنایا گیا. اس کی قبر پر کندہ ہے:
"زندگی ایک مرتبہ موت دو مرتبہ Lived Once Burried Twice"

میری نظر ایک پرانی سی دکان پر لگے بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا دلوں کا علاج اور مرمتحیرت ہوئی میں اندر چلا گیا دیکھا کہ ای...
20/03/2025

میری نظر ایک پرانی سی دکان پر لگے بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا دلوں کا علاج اور مرمت
حیرت ہوئی میں اندر چلا گیا دیکھا کہ ایک بابا جی بیٹھے ہیں لمبی داڑھی اور چہرے پر نور مجھے دیکھ کر مسکرا دیے جب دیکھا کہ میں وہ تحریر بار بار پڑھ رہا ہوں
ہنس کر بولے
ہاں بیٹا میں دلوں کا علاج بھی کرتا ہوں اور انہیں جوڑتا بھی ہوں پھر میرا ہاتھ پکڑ کر بولے آ ادھر آ قریب آ
پھر اپنا کان میرے دل پر رکھ کر چند لمحے چپ رہے پھر کہنے لگے
بیٹے تیرے دل کی دھڑکن کچھ تیز ہے گھبرا مت علاج بہت آسان ہے یہاں ہم دلوں کا علاج کرتے ہیں اور دلوں کی قسمیں بہت ہوتی ہیں
میں نے کہا بابا جی مجھے ذرا سمجھائیں تو سہی
بابا جی ہنسے پھر سنجیدہ ہو کر کہنے لگے
بیٹا میرے دادا حکیم تھے ان سے میرے ابا نے سیکھا اور مجھ تک بات پہنچی
دنیا میں دل کئی طرح کے ہوتے ہیں
کوئی دل زخمی ہوتا ہے
کوئی دل ٹوٹا ہوا
کوئی دل ادھڑا ہوا
کوئی دل نرم مثل پھول
کوئی دل اندھیروں میں گم
کوئی دل جلتا انگارہ
کوئی دل غم میں ڈوبا ہوا
کوئی دل بھیگا ہوا
کوئی دل صدموں میں ٹوٹا ہوا
کوئی دل صحت مند
کوئی دل بیمار
کوئی دل لاغر
کوئی دل سخی
کوئی دل بے قابو جذبوں والا
کوئی دل مغرور
کوئی دل خوشحال
اور فہرست لمبی ہے سبحان اللہ دلوں کو پلٹانے والا رب ہی بہتر جانتا ہے
میں ہنس پڑا اور کہا بابا جی میں تو ایک الجھن لے کر آیا تھا آپ نے تو ہزاروں الجھنیں بتا دیں
بابا جی مسکرائے وہ مسکراہٹ جیسے کسی درویش کی ہو
پھر کہنے لگے
بیٹا پریشان نہ ہو میرے پاس سب کے لیے ایک ہی نسخہ ہے جس نے بھی اپنایا اللہ کے کرم سے شفا ملی
لے قلم اور کاغذ نکال اور میرے کہنے پر لکھ

بیٹا رزق اللہ نے بانٹ رکھا ہے زیادہ دوڑ دھوپ نہ کر
تقدیر لکھی جا چکی ہے تو بےصبری نہ کر
دوست بے بس ہوتا ہے اس سے زیادہ امید نہ رکھ
دشمن کمزور ہے اس سے خوف نہ کھا

اپنے دل کو تین چیزوں سے پاک کر
نفرت حسد اور دکھاوا

اور دل کو تین چیزوں سے سجا
سچائی اخلاص اور پرہیزگاری

دل میں تین باتیں پختہ کر لے
اللہ پر مکمل یقین
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق
اور ہر حال میں اللہ کا شکر

دنیا والوں کو اللہ پر چھوڑ دے اپنی ذات کی اصلاح کر اور دوسروں کے حال میں دخل نہ دے

اور بیٹا تین چیزیں ہمیشہ رکھ
زبان ذکر میں مصروف
جسم صبر میں مضبوط
اور دماغ سمجھدار غوروفکر والا

اور تین چیزوں سے بچ کے رہ
لوگوں کی غیبت
لوگوں کی خواہشات کے پیچھے جانا
اور بےکار لوگوں کی صحبت

یاد رکھ جو لوگ ہر وقت دوسروں کی باتوں میں لگے رہیں وہ دل کے فقیر بن جاتے ہیں

یہ ہے تیرا علاج اور شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے

اللہ کی قسم مجھے لگا جیسے میں کسی بزرگ کے حجرے سے نکل کر نئے انسان کی طرح واپس جا رہا ہوں
میں نے بابا جی کے ہاتھ چومے دعائیں لیں اور دل ہی دل میں سوچا کہ واقعی اسی میں میرے دل کا سکون اور زندگی کا چین ہے

اور پھر بابا جی نے جاتے ہوئے کہا بیٹا جاتے ہوئے درود پاک پڑھ لینا

Address

Jeddah Rabigh City
Rabigh
25724

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hazir Janab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hazir Janab:

Share