Awaz Hχος

Awaz Hχος In our page Zafar, We want to share with friends, colleagues and everyone such social, Intellectual and wisdom items to take advantage of it. and to bring

افسر شاہی ؟ نوکر شاہی ؟ یا نوکر عوام ، یا پھر خادم عوام ؟ ہر کسی کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے ۔ کہ اے سی ...
27/08/2026

افسر شاہی ؟ نوکر شاہی ؟ یا نوکر عوام ، یا پھر خادم عوام ؟
ہر کسی کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے ۔ کہ اے سی اور ڈی سی وغیرہ صرف اس بات کی تنخواہ عوام کے محنت و مزدوری اور خون پسینے سے کمائے ہوئے پیسوں سے وصول کرتے ہیں ۔ کہ وہ عوام کی خدمت اور رکھوالی کریں گے ۔ نہ کہ وہ بادشاہوں جیسے رویہ اختیار کریں ۔ اور جن کا کھاتے ہیں ۔ ان پر چیخیں چلائیں گے ۔ اور حکم چلائیں گے ۔ تقریبآ دو درجن کے قریب تنظیمیں ملک کے کونے کونے سے سانحہ بلوچستان کے 34 شہداء کے تعزیتی اجلاس اور سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان مائن ورکرز فیڈریشن کے بلائے گئے گرینڈ جرگے میں شرکت کے لیے ہیڈکوارٹر الپوری میں تشریف لائے تھے ۔ اور جرگے کا مقام الپوری جرگہ ہال مقرر تھا ۔ افسوس کے ان غریب لاچار اور بے کس مزدوروں کے خادم ، نوکر ڈی سی شانگلہ نے جرگہ ہال کے تھالے کھولنے سے انکار کیا ۔ اور یہ غلیظ ترین موقف اپنایا کہ یوتھ شانگلہ اگر اس جرگے میں شرکت کریں گے ۔ تو جرگہ ہال نہیں کھلے گا ۔ اور اگر فیڈریشن ان کی شرکت کو روک دے ۔ تو جرگہ ہال دنوں کے حساب سے استعمال کرسکتے ہو ۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ فیڈریشن نے کسی بھی نام پر کوئی دعوت نامہ جاری نہیں کیا تھا ۔ کھلے عام شرکت کی دعوت تھی ۔ یوتھ شانگلہ نے جوش و جذبے سے جرگے میں شرکت کا بیان جاری کیا تھا ۔ اور فیڈریشن نے خلوص نیت سے خیرمقدم بھی کیا تھا ۔ فیڈریشن کو بالکل بھی علم نہیں تھا ۔۔ کہ یوتھ شانگلہ اور ڈی سی شانگلہ کے مابین کیا اختلافات ہیں ۔ عین وقت پر فیڈریشن نے اصولی موقف اختیار کیا ۔ اور ڈی سی شانگلہ کے یوتھ کے بغیر جرگہ ہال استعمال کرنے سے انکار کیا ۔ اور یوتھ کے سنگت کا انتخاب کیا ۔ اور جرگے کو کچے زمین پر ندی کے کنارے منعقد کرنا بھی قبول کیا ۔ لیکن سلام کرتے ہیں جماعت اسلامی کے ضلعی نظامت کے جنہوں نے مرکز الاسلامی کے دروازے کوئلے کے مزدوروں کے لیئے کھول دئیے ۔ ڈی سی شانگلہ نے جو عوام کی بے لوث خدمت کا حلف اٹھایا ہے ۔ توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا ۔ اور سیاست دانوں سے ملے ہوئے غلامی کے طوق کو گلے میں ڈال دیا ۔ اور ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے کتے کی طرح یوتھ پر بھونکتا رہا ۔ ڈی سی شانگلہ سن لو ! یہ سیاست دان آپ جیسے لوگوں کو ٹشوپیپر کے طرح استعمال کرکے پھینک دیں گے ۔ تم پچھتاؤگے اس دن ۔ جب ان مزدوروں کا ہاتھ آپ کے گریبان تک پہنچے گا ۔ پھر تمھیں بچانے کے لیے کوئی سیاست دان آگے نہیں آئے گا ۔ تم عوام کے خادم ہو ۔ بادشاہ نہیں ہو ۔ جو حکم جاری کرتے ہوں ۔ یوتھ ہمارے ہی بچے ہیں ۔ یہی ہمارا مستقبل بھی ہے ۔ تم اس لیے ان سے شدید اختلاف رکھتے ہو ؟ کہ وہ شفافیت کی بات کرتے ہیں ؟ وہ کرپشن اور رشوت خوری کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں ؟ وہ آپ جیسے بے لگام نوکروں کو لگام ڈالنا چاہتے ہیں ؟ اس لیے ؟ یوتھ شانگلہ کے جوانوں کا موقف درست ثابت ہورہا ہے ۔ اس کے شواہد اب سامنے آرہے ہیں ۔ وہ شانگلہ میں روزگار چاہتے ہیں ۔ کہ پہاڑوں کے نیچے نہ دبے ؟ وہ شانگلہ میں علاج معالجے کے سہولیات چاہتے ہیں ۔ وہ سڑکیں اور بنیادی سہولیات چاہتے ہیں ۔ لیکن کالی بھیڑیں ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں ۔ لیکن اب یہ ممکن نہیں ہے ۔ یوتھ شانگلہ اب سب کا محاسبہ کریں گے ۔ جو درست ہیں ۔ اور حقیقی معنوں میں عوام کے خادم ہیں ۔ ان کے لیے زندہ باد کا نعرہ لگائیں گے ۔ اور جو لوگ لوگ شانگلہ اور شانگلہ کے عوام کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھررہے ہیں ۔ عبرت کا نشان بنادیں گے ۔ خوف یہ بھی ہے ۔ کہ یہ کالی بھیڑیں دن رات یوتھ تحریک کو ناکام بنانے کے لیے تمام حربے استعمال میں لائیں گے ۔ لیکن یوتھ آرگنائزیشن کے لیے مخلصانہ پیغام ہے کہ ثابت قدم رہو ۔ کسی کے جھانسے میں مت آنا ۔ اپنی صفوں کو درست رکھو ۔ کسی ایرے غیرے کو اپنی صفوں میں گھسنے مت دینا ۔ تمھارا مقابلہ جن طاقتوں سے ہیں ۔ وہ تمام تر وسائل پر قابض ہے ۔ تم خالی ہاتھ اور خالی جیب ہو ۔ لیکن تمھارے جذبے اور جنون کے آگے ان کی طاقت اور وسائل ریت کی دیوار ثابت ہونگے ۔ انشاءاللہ ۔ وہ آپ کے خلاف جو بھی حربہ اور طاقت استعمال کریں گے
خود ایکسپوز ہوتے جائیں گے ۔ بس صبر، برداشت استقامت اور فہم و فراست سے کام لینا ۔ بے جا جذبابیت ان کے لیے فائدہ مند اور آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ مواقع بار بار نہیں ملتے ۔ صدیوں میں نصیب ہوتے ہیں ۔ شانگلہ کے عوام خوش قسمت ہیں کہ ان کو یہ موقع نصیب ہوا ہے ۔ کہ ان کالی بھیڑوں کی صفائی کردو ۔ اور اپنے جنت نظیر شانگلہ کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردو ۔ یاد رکھو اس موقع کو غنیمت جانو اور ضائع مت کرو ۔ نکلو شانگلہ کے عوام اور یوتھ کے پشت پر ڈٹ کر کھڑے ہوجاؤ ۔ یہ پلاسٹک کے غیرمعیای پائپ اور پلاسٹک کے ٹینکیوں کے سیاست سے نکل آؤ ۔ اپنے آنے والی نسل کے لیے آنے والی صبح کو روشن کردو ۔ تاریکیوں کا خاتمہ کرو ۔ اجالے کو شانگلہ کے ہر تاریک کونے تک پہنچا دو ۔ یوتھ آگے بڑھتے رہو ۔ غریب عوام اور لاچار مزدور تمھارے ساتھ ہیں ۔ ڈگمگانا مت ۔ گھبرانا مت ۔ ڈرنا مت ۔ کیونکہ جو ڈر گیا ۔ وہ مرگیا ۔ ڈر کے آگے جیت ہے ۔ آپ کا خیر خواہ مزدور لیڈر ۔ علی شیر چمتلوال

23/07/2026
نفرتوں کے جنگل میں ۔ محبت کی درخت کی تلاش جاری ہے
16/07/2026

نفرتوں کے جنگل میں ۔ محبت کی درخت کی تلاش جاری ہے

دنیا جانتی ہے ۔ کہ حدف کے حصول کے لیے راستے کا تعین ہوتا ہے ۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے مستقل مزاجی ، انتھک محنت اور صاف ...
15/07/2026

دنیا جانتی ہے ۔ کہ حدف کے حصول کے لیے راستے کا تعین ہوتا ہے ۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے مستقل مزاجی ، انتھک محنت اور صاف نیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ اجتماعی حدف کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ضد ، انا ، خواہش اور اپنے آپ کو قربان کرنا پڑتا ہے ۔ رکاوٹوں ، تکالیف اور مصائب کا سامنا جوانمردی سے کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے لوگ جو اپنے خواہشات ، ضد اور آنا کے غلام ہوتے ہیں ۔ جن کی ذاتی پسند و ناپسند ہوتی ہے ۔ جو ذاتی وسائل کو جمع کرنے کی خواہش رکھتا ہو ۔ وہ قوم کی کشتی کو ڈبو تو سکتے ہیں ۔ پار نہیں لگا سکتے ۔ نجیب اللہ چمتلوال ایک ایسا نوجوان ہے ۔ جو کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتا ہے ۔ چونکہ وہ مزید تعلیم کے حصول کے لیے کوشاں ہے ۔ تو فی الحال وہ جنرل باڈی کے امور سر انجام دینے سے قاصر ہے ۔ وہ صحیح معنوں میں جنرل باڈی کے اغراض و مقاصد سے آگاہ تھا ۔ اور اکثر کہتا تھا ۔ کہ سب سے پہلے جنرل باڈی کو گاؤں کے ہر فرد کے سامنے مثال بننا ہوگا ۔ جنرل باڈی آرگنائز ہوگی ۔ تو آرگنائزنگ کرسکے گی ۔ جنرل باڈی واقعی آرگنائز نہیں تھی ۔ وہ تعصب جو گاؤں سے ختم کرنے کے لیے جنرل باڈی کا قیام ہوا تھا ۔ وہ تعصب بدرجہ اتم خود جنرل باڈی میں موجود تھا ۔ وہ حدف جو حاصل کیا جانا تھا ۔ خودکش دھماکے سے اڑادیا گیا ۔ جنرل باڈی خود محبت ، بھائی چارے ، صبر وتحمل اور برداشت کا مظاہرہ نہ کرسکی ۔جنرل باڈی فقط اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کے لیے قائم کی گئی تھی ۔ جو گاؤں کے ذرے ذرے اور ہر فرد سے محبت کرے گی ۔ اور خدمت خلق کرے گی ۔ فیصلہ سازی ، اختیارات اور وسائل سے دور رہے گی ۔ ایک مکمل اور مربوط نظام کو قائم رکھنے کے لیے دن رات کام کرے گی ۔ اس بات سے کوسوں دور کہ جو بھی ہوگا ۔ قوم کے ہاتھوں میں ہوگا ۔ اور بہت بڑی مشاورت کے پلیٹ فارم کی ضامن ہوگی ۔ لیکن اختیار ایک ایسا ہتھیار ہے ۔ جو کوئی بھی ہاتھ سے جانے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ افسوس کہ وسائل کو ہر کوئی اپنی در کی لونڈی بنانے کے لیے کوشاں ہے ۔ جنرل باڈی کا حقیقی حدف ایک مربوط نظام کو قائم کرکے کامیابی سے چلانا تھا ۔ نظام بننے سے قوم کے تقدیر بدلنے کی راہ ہموار ہوتی ہے ۔ وسائل اور اختیارات تو جنگ اور نفرت کا سبب ہے ۔ نجیب جیسے نوجوان کا جنرل باڈی سے دور نکل جانے کا انجام سامنے آچکا ہے ۔ اور جنرل باڈی میں دراڑ پڑ چکا ہے ۔ جنرل باڈی اپنے آپ کو منظم نہ رکھ سکی ۔ اور اپنا بوجھ بھی برداشت نہ کرسکی ۔ پورے گاؤں کو ایک نقطے پر جمع کرنا خدمت پسند اور حقیقت پسند لوگوں کا کام ہے ۔ جو اپنے خواہش اور مرضی کو قربان کرنا جانتے ہو ۔ جن کو خود خدمت گاروں کی اشد ضرورت ہو ۔ وہ خاک خدمت کرسکیں گے ؟ جو گاؤں کے لوگوں کو برابر محبت نہ دے سکتا ہو ۔ جو پسند و ناپسند کرتا ہو ۔ وہ خاک انصاف کا بول بالا کرسکیں گے ؟ یہ جگر رکھنے والے لوگوں کا کام ہے ۔ اور انشاءاللہ مستقبل قریب میں ایسے پرجوش اور پرخلوص نوجوان سامنے آئیں گے ۔ کہ وہ اس نظام کو اپنا خون تک عطیہ کریں گے ۔ اور اس نظام کو دوام بخشنے کا سبب بنیں گے ۔ نجیب جیسے نوجوانوں کی شدید ضرورت ہے ۔ نجیب جیسے نوجوان کریڈیٹ لینے کی نہیں دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم نجیب کے کامیابی ، سلامتی اور کامیاب و کامران لوٹنے کے لیے اپنے رب سے دست بدعا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین یارب ۔ سابق جنرل باڈی ممبر علی شیر چمتلوال

Address

Riyadh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awaz Hχος posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Awaz Hχος:

Shortcuts

Share