27/08/2026
افسر شاہی ؟ نوکر شاہی ؟ یا نوکر عوام ، یا پھر خادم عوام ؟
ہر کسی کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے ۔ کہ اے سی اور ڈی سی وغیرہ صرف اس بات کی تنخواہ عوام کے محنت و مزدوری اور خون پسینے سے کمائے ہوئے پیسوں سے وصول کرتے ہیں ۔ کہ وہ عوام کی خدمت اور رکھوالی کریں گے ۔ نہ کہ وہ بادشاہوں جیسے رویہ اختیار کریں ۔ اور جن کا کھاتے ہیں ۔ ان پر چیخیں چلائیں گے ۔ اور حکم چلائیں گے ۔ تقریبآ دو درجن کے قریب تنظیمیں ملک کے کونے کونے سے سانحہ بلوچستان کے 34 شہداء کے تعزیتی اجلاس اور سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان مائن ورکرز فیڈریشن کے بلائے گئے گرینڈ جرگے میں شرکت کے لیے ہیڈکوارٹر الپوری میں تشریف لائے تھے ۔ اور جرگے کا مقام الپوری جرگہ ہال مقرر تھا ۔ افسوس کے ان غریب لاچار اور بے کس مزدوروں کے خادم ، نوکر ڈی سی شانگلہ نے جرگہ ہال کے تھالے کھولنے سے انکار کیا ۔ اور یہ غلیظ ترین موقف اپنایا کہ یوتھ شانگلہ اگر اس جرگے میں شرکت کریں گے ۔ تو جرگہ ہال نہیں کھلے گا ۔ اور اگر فیڈریشن ان کی شرکت کو روک دے ۔ تو جرگہ ہال دنوں کے حساب سے استعمال کرسکتے ہو ۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ فیڈریشن نے کسی بھی نام پر کوئی دعوت نامہ جاری نہیں کیا تھا ۔ کھلے عام شرکت کی دعوت تھی ۔ یوتھ شانگلہ نے جوش و جذبے سے جرگے میں شرکت کا بیان جاری کیا تھا ۔ اور فیڈریشن نے خلوص نیت سے خیرمقدم بھی کیا تھا ۔ فیڈریشن کو بالکل بھی علم نہیں تھا ۔۔ کہ یوتھ شانگلہ اور ڈی سی شانگلہ کے مابین کیا اختلافات ہیں ۔ عین وقت پر فیڈریشن نے اصولی موقف اختیار کیا ۔ اور ڈی سی شانگلہ کے یوتھ کے بغیر جرگہ ہال استعمال کرنے سے انکار کیا ۔ اور یوتھ کے سنگت کا انتخاب کیا ۔ اور جرگے کو کچے زمین پر ندی کے کنارے منعقد کرنا بھی قبول کیا ۔ لیکن سلام کرتے ہیں جماعت اسلامی کے ضلعی نظامت کے جنہوں نے مرکز الاسلامی کے دروازے کوئلے کے مزدوروں کے لیئے کھول دئیے ۔ ڈی سی شانگلہ نے جو عوام کی بے لوث خدمت کا حلف اٹھایا ہے ۔ توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا ۔ اور سیاست دانوں سے ملے ہوئے غلامی کے طوق کو گلے میں ڈال دیا ۔ اور ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے کتے کی طرح یوتھ پر بھونکتا رہا ۔ ڈی سی شانگلہ سن لو ! یہ سیاست دان آپ جیسے لوگوں کو ٹشوپیپر کے طرح استعمال کرکے پھینک دیں گے ۔ تم پچھتاؤگے اس دن ۔ جب ان مزدوروں کا ہاتھ آپ کے گریبان تک پہنچے گا ۔ پھر تمھیں بچانے کے لیے کوئی سیاست دان آگے نہیں آئے گا ۔ تم عوام کے خادم ہو ۔ بادشاہ نہیں ہو ۔ جو حکم جاری کرتے ہوں ۔ یوتھ ہمارے ہی بچے ہیں ۔ یہی ہمارا مستقبل بھی ہے ۔ تم اس لیے ان سے شدید اختلاف رکھتے ہو ؟ کہ وہ شفافیت کی بات کرتے ہیں ؟ وہ کرپشن اور رشوت خوری کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں ؟ وہ آپ جیسے بے لگام نوکروں کو لگام ڈالنا چاہتے ہیں ؟ اس لیے ؟ یوتھ شانگلہ کے جوانوں کا موقف درست ثابت ہورہا ہے ۔ اس کے شواہد اب سامنے آرہے ہیں ۔ وہ شانگلہ میں روزگار چاہتے ہیں ۔ کہ پہاڑوں کے نیچے نہ دبے ؟ وہ شانگلہ میں علاج معالجے کے سہولیات چاہتے ہیں ۔ وہ سڑکیں اور بنیادی سہولیات چاہتے ہیں ۔ لیکن کالی بھیڑیں ان کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں ۔ لیکن اب یہ ممکن نہیں ہے ۔ یوتھ شانگلہ اب سب کا محاسبہ کریں گے ۔ جو درست ہیں ۔ اور حقیقی معنوں میں عوام کے خادم ہیں ۔ ان کے لیے زندہ باد کا نعرہ لگائیں گے ۔ اور جو لوگ لوگ شانگلہ اور شانگلہ کے عوام کو لوٹ کر اپنی تجوریاں بھررہے ہیں ۔ عبرت کا نشان بنادیں گے ۔ خوف یہ بھی ہے ۔ کہ یہ کالی بھیڑیں دن رات یوتھ تحریک کو ناکام بنانے کے لیے تمام حربے استعمال میں لائیں گے ۔ لیکن یوتھ آرگنائزیشن کے لیے مخلصانہ پیغام ہے کہ ثابت قدم رہو ۔ کسی کے جھانسے میں مت آنا ۔ اپنی صفوں کو درست رکھو ۔ کسی ایرے غیرے کو اپنی صفوں میں گھسنے مت دینا ۔ تمھارا مقابلہ جن طاقتوں سے ہیں ۔ وہ تمام تر وسائل پر قابض ہے ۔ تم خالی ہاتھ اور خالی جیب ہو ۔ لیکن تمھارے جذبے اور جنون کے آگے ان کی طاقت اور وسائل ریت کی دیوار ثابت ہونگے ۔ انشاءاللہ ۔ وہ آپ کے خلاف جو بھی حربہ اور طاقت استعمال کریں گے
خود ایکسپوز ہوتے جائیں گے ۔ بس صبر، برداشت استقامت اور فہم و فراست سے کام لینا ۔ بے جا جذبابیت ان کے لیے فائدہ مند اور آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ مواقع بار بار نہیں ملتے ۔ صدیوں میں نصیب ہوتے ہیں ۔ شانگلہ کے عوام خوش قسمت ہیں کہ ان کو یہ موقع نصیب ہوا ہے ۔ کہ ان کالی بھیڑوں کی صفائی کردو ۔ اور اپنے جنت نظیر شانگلہ کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردو ۔ یاد رکھو اس موقع کو غنیمت جانو اور ضائع مت کرو ۔ نکلو شانگلہ کے عوام اور یوتھ کے پشت پر ڈٹ کر کھڑے ہوجاؤ ۔ یہ پلاسٹک کے غیرمعیای پائپ اور پلاسٹک کے ٹینکیوں کے سیاست سے نکل آؤ ۔ اپنے آنے والی نسل کے لیے آنے والی صبح کو روشن کردو ۔ تاریکیوں کا خاتمہ کرو ۔ اجالے کو شانگلہ کے ہر تاریک کونے تک پہنچا دو ۔ یوتھ آگے بڑھتے رہو ۔ غریب عوام اور لاچار مزدور تمھارے ساتھ ہیں ۔ ڈگمگانا مت ۔ گھبرانا مت ۔ ڈرنا مت ۔ کیونکہ جو ڈر گیا ۔ وہ مرگیا ۔ ڈر کے آگے جیت ہے ۔ آپ کا خیر خواہ مزدور لیڈر ۔ علی شیر چمتلوال