03/05/2026
خاموش اذیت: وہ بہو جسے کچھ کرنے نہیں دیا جاتا"
ہمارے معاشرے میں مسائل کی کمی نہیں، مگر کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو دکھائی نہیں دیتے—صرف محسوس کیے جاتے ہیں۔
ایسا ہی ایک خاموش مسئلہ وہ ہے جسے اکثر لوگ "نیکی" کا نام دے دیتے ہیں۔
یہ کہانی اس بہو کی ہے…
جسے کام نہیں کرنے دیا جاتا۔
جی ہاں، بظاہر یہ ایک سہولت لگتی ہے۔
ایک آسائش، ایک آسانی… مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔
وہ کچن کے دروازے تک آتی ہے، مگر اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
اسے بتایا جاتا ہے کہ "یہ گھر ہمارے ہاتھ کے ذائقے کا عادی ہے"۔
کبھی کہا جاتا ہے کہ "تم سے چیزیں ضائع ہو جائیں گی"۔
اور کبھی خاموشی سے اس کے ہاتھ روک دیے جاتے ہیں۔
مگر پھر…
انہی ہاتھوں کی نااہلی کے قصے ہر محفل میں سنائے جاتے ہیں۔
وہ بہو جو کبھی چولہے تک نہ پہنچ سکی،
اسے کھانا نہ بنا سکنے والی قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہ کیسا انصاف ہے؟
بات یہیں ختم نہیں ہوتی…
اس کی دنیا، اس کا کمرہ، اس کی الماری—
یہ سب بھی اس کے اپنے نہیں رہتے۔
اس کی غیر موجودگی میں اس کے راز کھولے جاتے ہیں،
اس کی چیزیں ترتیب دی جاتی ہیں،
اور پھر انہی چیزوں کو موضوعِ گفتگو بنا دیا جاتا ہے۔
وہ خاموش رہتی ہے…
کیونکہ اسے سکھایا گیا ہے کہ صبر ہی حل ہے۔
مگر کیا واقعی؟
کیا کسی کی حدود میں مداخلت،
اس کی شناخت کو مٹانا،
اور پھر اسے ہی قصوروار ٹھہرانا—
یہ سب "نیکی" کہلاتا ہے؟
یہ وہ اذیت ہے جس کا کوئی شور نہیں،
کوئی ثبوت نہیں،
اور اسی لیے کوئی شنوائی بھی نہیں۔
یہ مسئلہ عام ہے… مگر نارمل نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ
ہم اس خاموش ظلم کو پہچانیں،
اس پر بات کریں،
اور جہاں ممکن ہو، حکمت کے ساتھ اسے روکنے کی کوشش کریں۔
کیونکہ صبر تب خوبصورت ہوتا ہے
جب انصاف زندہ ہو۔
ورنہ صبر… صرف ایک اور خاموشی بن جاتا ہے۔