بزم نایاب

آزردگیاں ہمارے دِلوں پر وحشیانہ تشدد لیے اتری ہیں ، ہماری روح کا سود و زیاں تو بڑا ہیبت ناک ہو گا '
03/14/2026

آزردگیاں ہمارے دِلوں پر وحشیانہ تشدد لیے اتری ہیں ، ہماری روح کا سود و زیاں تو بڑا ہیبت ناک ہو گا '

میں جانتا ہوں کہ تم میرے ملک سے نہیں ہو، لیکن میں تمہیں تمہارے ملک کے دکھ دے رہا ہوں۔ یہی سب کچھ تھا جس کے لیے ہم نے اپن...
04/09/2025

میں جانتا ہوں کہ تم میرے ملک سے نہیں ہو، لیکن میں تمہیں تمہارے ملک کے دکھ دے رہا ہوں۔ یہی سب کچھ تھا جس کے لیے ہم نے اپنی زندگیوں کا سودا کیا۔ یہ جو تمہیں آزادی کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں، یہ وہ خواب ہیں جو ہم نے اپنی تکالیف اور خون سے سینچے ہیں۔ یہ تمہیں آسانی سے مل گیا ہے، لیکن یاد رکھو، آزادی کی حقیقت کچھ اور ہوتی ہے، یہ تمہیں اپنی شناخت اور تاریخ کو گہرا کر دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ آزادی کا مطلب صرف سرحدوں کی کھولنا نہیں، یہ دل کی گہرائیوں میں ایک انجمن کا قائم کرنا ہوتا ہے، جہاں تمام انسانیت کا احترام ہوتا ہے

-محمود درویش

سارے کھیل روحوں کے ہوتے ہیں مٹی کے جسم میں کشش تب  ہی جاگتی ہے ، جب روح کا ٹکراؤ اپنی من پسند ساتھی روح سے ہوتا ہے ، ورن...
08/15/2024

سارے کھیل روحوں کے ہوتے ہیں مٹی کے جسم میں کشش تب ہی جاگتی ہے ، جب روح کا ٹکراؤ اپنی من پسند ساتھی روح سے ہوتا ہے ، ورنہ یہاں تو حسین و جمیل لوگ بھی دل کو نہیں بھاتے اور کبھی سادہ سا انسان بھی جان سے پیارا ہو جاتا ہے ❤️

10/08/2022

😏

10/30/2021

University HO ya Ghar
Har jaga Lraiya hi chal rhi Meri
Lagta hay Sitary gardish m hn mery 🙂

09/24/2021
*نہ جانے کون سے لمحے**ہم  مٹی میں مل جائیں**چلو کچھ کام کر جائیں**کسی کے کام آ جائیں**کوئی رستہ سُجھا جائیں**کوئی بستہ ت...
09/24/2021

*نہ جانے کون سے لمحے*
*ہم مٹی میں مل جائیں*

*چلو کچھ کام کر جائیں*
*کسی کے کام آ جائیں*
*کوئی رستہ سُجھا جائیں*
*کوئی بستہ تھما جائیں*
*کسی کی رھنمائی اور*
*کسی کا گھر بنا جائیں*
*کہیں فکری ضرورت ھے*
*کہیں عملی ضرورت ھے*
*نئی فکریں جگا جائیں*
*چلو کچھ کام کر جائیں*

*ابھی بھی وقت ھے یارو*
*اے علم و فن کے ہرکارو*
*جو سیکھا ھے سکھا جاؤ*
*جو دیکھا ھے دِکھا جاؤ*
*رسائی سوچ کی اپنی*
*گلی کوچوں میں پھیلاؤ*
*فروغ نسل کی خاطر*
*ذرا سا وقت دے جاؤ*
*کوئی تبدیلی لے آئیں*
*چلو کچھ کام کر جائیں*

*من و سلویٰ نہ آئے گا*
*زمانہ نوچ کھائے گا*
*خودی کو جو جگائے گا*
*وہی تو آگے آئے گا*
*محض باتوں سے تبدیلی*
*کوئی بھی لا نہ پائے گا*
*تم ہی امید ِ اوّل ہو*
*تم ہی سے رنگ آئے گا*
*سبق آموز ھو جائیں*
*چلو کچھ کام کر جائیں* 🖤🖤🖤

09/19/2021

09/19/2021
وه لڑکی ایک زیست عام سیایک قصہ ناتمام سینہ لہجہ بے مثال ہےنہ بات میں کمال ہےہے دکھنے میں عام سیاداسیوں کی شام سیجیسے ایک...
09/15/2021

وه لڑکی ایک زیست عام سی
ایک قصہ ناتمام سی
نہ لہجہ بے مثال ہے
نہ بات میں کمال ہے
ہے دکھنے میں عام سی
اداسیوں کی شام سی
جیسے ایک راز ہوں
خود سے بےنیاز ہو
نہ دلکشی سے رابطہ
نہ شہرتوں کا ظابطہ
مجنوں ہوں نہ ہیر ہوں
مرشد ہوں نہ پیر ہوں
میں پیکر اخلاص ہوں
وفا دعا اور آس ہوں
وہ بس ایک خودشناس سی
اب تم کرو فیصلہ
وه ہے بہت عام سی
اداسیوں کی شام سی

Address

New York, NY

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بزم نایاب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share