27/08/2026
تقریبا چند سال پہلے تین بھائیوں کو قتل کرنے کے حقائق۔۔۔
تحریر: سید زاہد علی چشتی
ضلع چارسدہ کے علاقے عمرزئی میں تقریبا چند سال قبل تین بھائیوں کے قتل کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس نے علاقے میں گہرا صدمہ پیدا کیا۔ یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس میں ملزم کی گرفتاری اور اسے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پولیس نے بھرپور کوششیں کیں۔
اس وقت کے ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان نے واقعے کی تفتیش اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس میں ایس پی انویسٹی گیشن نذیر خان، سابق ڈی ایس پی تنگی ایاز محمود خان اور سابق ایس ایچ او عمرزئی فضل داؤد خان شامل تھے۔
پولیس ٹیم نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی آگے بڑھائی۔ ملزم بیرونِ ملک، یعنی ملیشیا میں موجود تھا، جسے گرفتار کرکے قانونی کارروائی کے بعد پاکستان لایا گیا۔ بعد ازاں اسے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں مقدمے کی قانونی کارروائی جاری رہی۔
ملزم نے ایک طویل عرصہ جیل میں گزارا۔ تاہم بعد میں مقتولین کے ورثا کی جانب سے عدالت میں راضی نامہ پیش کیا گیا، جس کے نتیجے میں قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ملزم جیل سے رہا ہوگیا۔۔۔
یہاں ایک اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی قتل کے مقدمے میں مقتولین کے ورثا خود اپنے فریقِ مخالف کے ساتھ عدالت میں راضی نامہ پیش کر دیں تو اس معاملے میں پولیس یا عدلیہ کو موردِ الزام ٹھہرانا کہاں تک درست ہے؟ قانون میں بعض جرائم کے حوالے سے صلح اور راضی نامے کی گنجائش موجود ہوتی ہے، جبکہ عدالت فیصلہ کرتے وقت متعلقہ قانونی تقاضوں اور حالات کو مدنظر رکھتی ہے۔
ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات لوگ مکمل حقائق اور قانونی پس منظر جانے بغیر پولیس اور عدلیہ پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی بھی مقدمے پر رائے قائم کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پولیس نے اپنی ذمہ داری کس حد تک پوری کی، تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی، ملزم کو کس طرح گرفتار کیا گیا اور عدالت کے سامنے مقدمہ کس قانونی طریقے سے آگے بڑھا۔
اس کیس کے حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق سابق ڈی پی او چارسدہ عرفان اللہ خان، سابق ایس پی انویسٹی گیشن نذیر خان، سابق ڈی ایس پی تنگی ایاز محمود خان اور سابق ایس ایچ او عمرزئی فضل داؤد خان نے ملزم کی گرفتاری اور اسے قانون کے سامنے لانے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کیں۔
کسی بھی واقعے کے اصل حقائق جانے بغیر اداروں یا افسران پر الزام لگانا مناسب نہیں۔ انصاف صرف گرفتاری تک محدود نہیں بلکہ اس کے بعد معاملہ عدالت کے سامنے قانون کے مطابق چلتا ہے۔ اگر مقتولین کے ورثا اپنی مرضی اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے راضی نامہ اختیار کریں تو اس کے قانونی اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم جذبات کے بجائے حقائق، قانون اور مکمل پس منظر کو سامنے رکھ کر کسی بھی مقدمے کے بارے میں رائے قائم کریں۔ عمرزئی کے تین بھائیوں کے قتل کا یہ واقعہ بھی اسی بات کی مثال ہے کہ پولیس کی محنت، تفتیش اور ملزم کی گرفتاری اپنی جگہ، جبکہ مقدمے کا حتمی قانونی انجام عدالت اور متعلقہ فریقین کے قانونی اقدامات سے وابستہ ہوتا ہے۔۔